پہلا جشن آزادی اور بابڑہ کی لال داستان
12 اگست کا دن، 1948 کا سال، پاکستان کے وجود میں آنے کی سالگرہ میں دو دن باقی، جشن آزادی کی تیاریاں۔
انگریزوں کی سالہا سال کی غلامی سے ہندوستان آزاد کروانے کے بعد مسلمانوں کو پاکستان نصیب ہوا تھا۔ خوشی کا موقع تھا۔ ایسے وقت میں ہندوستان کو انگریز کے ہاتھوں سے نکالنے والے، آزادی کے لئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے، اپنی تن و من اور اپنے لوگوں کی خون کی قربانیاں دینے والے چند لوگوں میں سے ایک وہ انسان جو اب پاکستان کو اپنا ملک تسلیم کر کے اپنی خدمت کی مثال جاری رکھنا چاہتا تھا۔ وہ اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں جیل میں تھا۔ وہ تھا خان عبدالغفار خان، خدائی خدمتگار، باچا خان۔
باچا خان اور ان کے ساتھیوں کو پختونخوا کے جنوبی اضلاع کے دورے کے دوران قیوم خان کے آرڈر پر گرفتار کیا گیا تھا۔ پختونخوا جو اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبے کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، اس میں ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے ڈاکٹر خان صاحب کی اکثریت کی نمائندگی کو ختم کر کے مسلم لیگ کے قیوم خان کو وزیر اعلی کا عہدہ بغیر کسی انتخاب کے دے دیا گیا تھا۔ یہ اسمبلی کو تحلیل کر کے کیا گیا تھا۔ اس وعدے پر کہ پھر سے انتخابات ہوں گے۔ لیکن اسمبلی میں خدائی خدمتگار جماعت کی اکثریت اتنی تھی کہ کسی بھی کوشش سے یہ ممکن نہیں تھا کہ انتخابات کروا کر اکثریت کی نمائندگی مسلم لیگ یا قیوم خان کو جا سکتی تھی۔
قیوم خان کو اپنی کمزوری کا احساس اور مرکز سے نہایت بے انصافی اور بہت آسانی سے دی گئی طاقت کا بخوبی احساس تھا اور اس سے فائدہ اٹھانے میں اس نے کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا تھا۔ اس نے ایک آرڈیننس جاری کیا جس کے مطابق خدائی خدمتگار تحریک سے تعلق رکھنے والے کسی بھی رکن کو گرفتار کرنے کا آرڈر تھا۔
باچا خان اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے خدائی خدمتگار تحریک میں شامل پختون چاہتے تھے کہ جشن آزادی کے موقع پر اس آزادی کو ممکن بنانے والے، ان کے رہنما باچا خان اور ان کے ساتھی بھی اس خوشی کا حصہ ہونے چاہئیں۔ ان کے جیل میں ہونے کے خلاف پختونوں نے ایک پرامن احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ احتجاج کے لئے چارسدہ کے بابڑہ کے علاقے میں تقریباً ایک کلومیٹر کے راستے سے ہوتے ہوئے جلوس کے ایک میدان میں اکٹھے ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس پر قیوم خان نے پولیس اور ملیشیا ( Special Services) کی پوری مسلح طاقت کو وہاں بھجوایا، اور ان کو روکنے، گرفتاریوں اور اسلحہ استعمال کرنے کا پورا اختیار دیا۔ پولیس نے ہر طرف سے گھیراؤ کر لیا۔ راستے میں ایک قبرستان اور مسجد تھی۔ قبرستان کی دیوار کے ساتھ، اور مسجد کی چھت پر پوری فورس جمع ہوئی اور مشین گنز سے نشانے لیے گئے۔ خدائی خدمتگاروں کے جو افراد جلوس کی رہنمائی کر رہے تھے۔ انہوں نے سفید جھنڈے اٹھا رکھے تھے، یہ باور کرانے کے لئے کہ ہم پرامن احتجاج کریں گے۔ یہ سارے وہی خدائی خدمتگار تھے، جنھوں نے باچا خان کی خدائی خدمتگار تحریک کے عدم تشدد کے مینڈیٹ کے مطابق یہ حلف اٹھایا تھا کہ ہمارے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں ہو گا۔
باچا خان نے خدائی خدمتگار تحریک 1926 میں شروع کی تھی، اور وہ اس تحریک کے عدم تشدد کے اصول کے بہت پابند تھے۔ وہ کہتے تھے میں نے پختونوں کے ہاتھوں سے بندوق لے کر قلم پکڑانے میں بہت محنت کی ہے اور جو کوئی بھی اس عدم تشدد کے فلسفے کے خلاف ہو، وہ ان کی تحریک کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ بچوں اور خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینا ان کی تحریک کا اہم حصہ تھا۔ جس کے لئے انہوں نے ان علاقوں میں 137 آزاد سکول بنائے تھے۔ اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ دوسروں کے بچوں کو اپنے بچوں کے برابر سمجھتے ہیں، انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم بھی انہی آزاد سکولوں میں کرائی۔
ابھی جلوس بابڑہ کے میدان میں پہنچا ہی تھا کہ پولیس نے ان پر گولیوں کی بارش شروع کردی۔ جلوس میں شریک افراد کے سینوں پر گولیاں لگتی گئیں اور وہ میدان میں گرتے رہے۔ رتوایت کیا جاتا ہے کہ اتنی گولیاں چلیں کہ بابڑہ کا میدان شہید ہونے والوں کے خون سے لال ہو گیا۔ ایک سفید جھنڈا ہاتھ میں اٹھائے کارکن کو پچاس گولیاں لگیں تھیں۔ جب گولیوں کی بارش رک نہیں رہی تھی تو قریب کے گھروں سے خواتین سر پر قرآن رکھ کر نکل آئیں اور گولیاں چلانے والوں کو خدا کا واسطہ دینے لگیں کہ گولیاں برسانا بند کر دیں۔ لیکن فائرنگ جاری رہی اور کئی خواتین شہید ہوئیں اور ساتھ میں ان کے ہاتھ میں قرآن بھی گولیوں کا نشانہ بنے۔
600 سے زیادہ خدائی خدمتگار اس دن شہید ہوئے، اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ عورتوں نے اپنے دوپٹوں اور چادروں کو پھاڑ کر زخمیوں کی مریم پٹی کی۔
قیوم خان نے جھوٹی کہانی گڑتے ہوئے اعلان کروایا کہ دشمن ملک کے ایجنٹس کے ساتھ پولیس کا مقابلہ ہوا۔ اور 25 لوگ مارے گئے۔ قیوم خان نے بعد میں یہ بھی کہا تھا کہ یہ تو گولیاں ختم ہو گئیں ورنہ میں نے ایک کو بھی نہیں چھوڑنا تھا۔
یہاں یہ وضاحت رہے، یہ کہیں دور کی سنی سنائی کہانیاں نہیں۔ اس وحشت کی کہانی کی گونج اس علاقے کی فضا میں شامل ہے۔ اپنے پیاروں کے گولیوں سے چھلنی جسم دفنانے والوں کے خاندان ابھی بھی وہاں آباد ہیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ناانصافی اور ظلم کی یہ داستان ان کی نسلوں کی یادداشت کا مستقل حصہ بنی رہے گی۔ اس واقعے کو دوسرا کربلا کہا جاتا ہے۔ کربلا تو یہ یقیناً تھا۔ لیکن کچھ مختلف، کیونکہ یہاں کسی کے ہاتھ میں کوئی تلوار، کوئی بندوق، یا اپنے بچاؤ کا کوئی سامان نہیں تھا۔ ان کے ہاتھ میں صرف سفید اور لال جھنڈے تھے۔ اور ہمت تھی۔
آج بابڑہ کے اس سانحے کو 76 سال ہو چکے ہیں، پاکستان کی ہر سالگرہ سے دو دن پہلے ان انسانوں کے خون کی برسی ہوتی ہے۔ اور اس بات کی یاد دہانی ہوتی ہے۔ کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک میں پہلی سالگرہ سے پہلے، اپنے ہی مسلمان ہم وطنوں کے ہاتھوں یہ ظلم کی پہلی داستان تھی۔ اس کہانی کو دبانے کی موثر کوشش کی گئی۔ اور آج تک پختونخوا سے باہر ان شہیدوں کے خون کی کہانی کم ہی لوگوں کو یاد آتی ہے۔ اور بہت سوں کو اس کا علم ہی نہیں۔
باچا خان برطانوی راج سے ہندوستان کو آزاد کرانے کی جنگ کا اہم حصہ تھے۔ انہوں نے انگریز راج کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ جس کے لئے انہیں بہت صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ انہوں نے 37 سال قید میں گزارے۔ جن میں سے 18 سال پاکستان بننے کے بعد کی قید کے ہیں۔ اگر چہ وہ انگریزوں سے آزادی کے بعد تقسیم ہند کے حق میں نہیں تھے، لیکن جب تقسیم ہند ہوئی اور پاکستان وجود میں آیا تو انہوں نے پورے خلوص سے اس بات کا حلف اٹھایا کہ اب ہم دل و جان سے پاکستان کا حصہ ہیں۔ پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس ملک میں رہ کر ہم اپنی پختون قوم کے حقوق اور بہتری کی نمائندگی کریں گے۔
قیوم خان 1945 تک کانگرس میں شامل تھا۔ اور باچا خان کا بڑا مداح تھا۔ اور پختونخوا صوبے میں مختلف عہدوں پر ڈاکٹر خان صاحب کے ساتھ کام کرتا رہا۔ اس نے ایک کتاب بھی Guns and gold on the Pathan frontier کے نام سے لکھی۔ جس میں باچا خان کی تحریک اور نظریے کو بہت سراہا۔ اور دو قومی نظریے کی مخالفت کی۔ لیکن آنے والے الیکشن میں پارٹی کی طرف سے مرکزی اسمبلی کے لئے نامزد نہ ہونے پر وہ سخت ناراض ہوا۔ اور اس نے کانگرس چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ اور خدائی خدمت گار تحریک کی مخالفت پر اتر آیا۔ اور اپنی کتاب کو ban کیا۔ لیکن کتاب پھر بھی پڑھنے والوں تک پہنچتی رہی۔
اس نے خدائی خدمتگار تحریک کے خلاف ایک بھر پور مہم شروع کی۔ ان پر غداری کا پراپیگنڈا شروع کیا اور اس تحریک میں شامل جتنے کارکن ہاتھ لگے، سب کو جیل میں ڈالا۔ اور ان کی جائیدادیں ضبط کیں۔

باچا خان اور خدائی خدمتگار اپنی تحریک اور اس خطے کے امن اور ترقی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے رہے۔ سچائی، خلوص اور انسانیت دوستی اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔ اور اس کی روشنی دنیا کو نظر آ جاتی ہے۔ آج باچا خان پر دنیا بھر میں نو پی ایچ ڈی اور بیشمار ایم فل کے مقالے لکھے جا چکے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ، پانچ پی ایچ ڈی آکسفورڈ، کیمبرج، سویڈن اور جرمنی میں ہو چکی ہیں۔ انہیں نوبل پرائز کے لئے بھی نامزد کیا گیا۔ جبکہ قیوم خان کا نام تک کسی کو یاد نہیں۔ اور اگر کہیں اس کا نام آتا ہے تو بابڑہ کی خونریزی کے ضمن میں آتا ہے۔
پاکستان کے لئے یہ فخر کا مقام ہے کہ اس ملک کی سرزمین پر باچا خان جیسے لوگ رہے اور خدمت کرتے رہے ہیں۔ آج ہمیں ماننا پڑے گا کہ باچا خان اپنے ملک کے خیر خواہ تو تھے ہی، لیکن ساتھ ساتھ وہ پورے خطے اور ساری دنیا کے نیک خواہ بھی تھے۔ یہی فلسفہ ان کے بیٹے ولی خان کا بھی اصول رہنمائی بنا رہا۔ وہ پڑوسی ملکوں سے قرابت داریاں بڑھانے کے خواہاں تھے۔ اور انہوں نے کبھی نفرت، دشمنی یا تشدد کی سیاست نہیں کی بلکہ امن، محبت، ہم سری اور خود داری پر زور دیا۔ کیونکہ ان کے گھر میں عدم تشدد کا فلسفہ پہلے سے موجود تھا۔ اس لئے وہ سیاست میں نفرت، تفرقے، کشیدگی، اور تشدد کے خلاف تھے۔
امن اور عدم تشدد کے فلسفے کا ہی اثر تھا کہ جب باچا خان کے بڑے بیٹے غنی خان کے اکلوتے جوان بیٹے کی جان کسی تنازع میں اپنے گاؤں کے ایک شخص کے ہاتھوں چلی گئی، تو ہر قسم کی طاقت رکھنے کے باوجود وقت آنے پر بیٹے کے قاتل کو یہ کہہ کر معاف کر دیا کہ میں کسی ماں کے بیٹے کی جان نہیں لے سکتا۔ اور خود اس دکھ کو آخری سانس تک جھیلتے رہے۔
خیبر پختونخوا کی سرزمیں کربلاؤں کی زد میں آتی رہی ہے اور ابھی بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ سینکڑوں داستانیں ہیں۔ جو اس خطے کی لہو رنگ تاریخ کو اٹھائے ہمیشہ کے لئے انسانیت کے سامنے سوال بنی رہیں گیں۔ اور طاقت اور ناانصافی کے زور سے بے گناہ انسان اپنی جانوں سے جاتے رہیں گے۔ سینکڑوں مثالوں میں ایک آرمی پبلک سکول کی کہانی بھی ہے۔ جو یہ بتاتی ہے کہ ظلم کی حد کا تعین کرنا ناممکن ہے۔




