آٹھویں نگران وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری


سابق سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے 76 یوم آزادی کے دن ملک کے آٹھویں نگران وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ ان کی حلف برداری کی تقریب گزشتہ روز ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہوئی جہاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان سے حلف لیا جس میں سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے علاوہ سابق وفاقی وزراء اور اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ نئے نامزد شدہ وزیر اعظم نے حلف اٹھانے سے پہلے سینیٹ اور اپنی پارٹی بلوچستان عوامی پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے جس کا مقصد بطور نگران وزیر اعظم عام انتخابات میں غیر جانبدار رہنا ہے۔ سیاسی حلقوں نے ان کے اس اقدام کو سراہا ہے کیونکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اپنی پارٹی اور سینیٹ سے مستعفی ہونے کے حوالے سے ان پر کوئی قانونی یا آئینی پابندی نہیں تھی لیکن انہوں نے بطور خود اخلاقی ذمہ داری سمجھ کر خود کو حقیقی معنوں میں غیرجانبداری ثابت کرنے کی غرض سے ان دونوں فورمز سے استعفیٰ دیا ہے۔

واضح رہے کہ انوار الحق کاکڑ پاکستان کے بلوچستان سے نامزد ہونے والے بحیثیت مجموعی دوسرے البتہ بطور پختون بلوچستان کے پہلے نگران وزیر اعظم ہیں، یہ بات دلچسپ ہے کہ چند روز پہلے تک نگران وزیر اعظم کے لئے جن ڈیڑھ درجن سے زائد افراد کے نام لیے جا رہے تھے ان میں انوارالحق کاکڑ کا نام گرامی شامل نہیں تھا۔ نگران وزیر اعظم کے حوالے اب تک زیادہ تر جو نام لیے جا رہے تھے ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) سے اور کچھ کا سول بیوروکریسی اور عدلیہ سے تھا تاہم اسلام آباد کے ایک معتبر ذریعے نے ایک روز قبل انکشاف کیا تھا کہ کیئر ٹیکر پی ایم کے حوالے سے شہباز شریف سرپرائز دے سکتے ہیں اور پھر ایک روز میں شہباز شریف نے سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا نام تجویز کر کے واقعی ایک بڑا سرپرائز دے دیا۔ یہ بات بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگی کہ انوارالحق کاکڑ پاکستان کے اب تک کے کم عمر ترین نگران وزیراعظم ہیں ان کے والد احتشام الحق کاکڑ نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور تحصیلدار کیا تھا جس کے بعد وہ مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہے، انوارالحق کاکڑ کے دادا قیام پاکستان سے قبل خان آف قلات کے معالج (فزیشن) کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

سیاسی اعتبار سے انوار الحق کاکڑ کا شمار بلوچستان عوامی پارٹی کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی 2018 انتخابات کے موقع پر منصہ شہود پر آئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں بلوچستان کے صف اول کے وہ سیاستدان شامل ہو گئے تھے جنہیں ہماری عمومی سیاسی اصطلاح میں الیکٹبلز کہا جاتا ہے۔ راتوں رات وجود میں آنے والی اس نوزائیدہ پارٹی نے بلوچستان میں دہائیوں سے سیاست کرنے والی نامی گرامی جماعتوں کو پچھاڑ کر جب 2018 میں بلوچستان میں مخلوط حکومت قائم کی اور مرکز میں یہ جماعت پی ٹی آئی کی ہمرکاب بنی تو اسے بعض حلقوں کی جانب سے اسٹبلشمنٹ کی پیداوار کے طعنے بھی سننے پڑے لیکن سینیٹ اور بلوچستان میں اپنی کارکردگی سے یہ جماعت کافی حد تک نہ صرف یہ داغ دھونے میں کامیاب رہی بلکہ اب اس کا شمار بلوچستان کی مقبول جماعتوں میں ہوتا ہے جس کا واضح ثبوت اس پارٹی سے وابستہ انوار الحق کاکڑ کا ملک کا آٹھواں نگران وزیر اعظم بننا ہے جو اگر ایک طرف شورش زدہ بلوچستان کے لیے خوش آئند ہے تو دوسری جانب یہ ایک نوزائیدہ پارٹی (باپ) کے لیے بھی خوش کن امر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان میں شورش کے بعد جس صورتحال نے جنم لیا اس میں انوارالحق کاکڑ ریاستی بیانیے کی بھرپور وکالت کرتے رہے اور وہ ریاستی بیانیے کے حوالے سے تمام تر دباؤ کے باوجود توانا آواز ثابت ہوئے۔

انوارالحق کاکڑ 2018 ء میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ ملک کے علمی، ادبی طبقات اور سماجی تعلقات کے حلقوں کے لئے انوارالحق کاکڑ معروف شناخت کے ساتھ صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے دھیمے مزاج اور بلوچستان کے سماجی و سیاسی مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لئے مدلل اور قابل عمل تجاویز کو ہمیشہ قومی حلقوں میں سراہا گیا۔ انوار الحق کاکڑ بلوچستان کی سیاست میں پہلی بار 2008 میں اس وقت منظر عام پر آئے تھے جب انہوں نے ق لیگ کے ٹکٹ پر کوئٹہ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا جس میں انہیں کامیابی نہیں مل سکی تھی اس کے بعد وہ مسلم لیگ نون میں شامل ہوئے اور کافی وقت تک پارٹی میں متحرک رہے، 2015 سے 2017 تک مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری کے ساتھ بلوچستان حکومت کے ترجمان رہے، وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانی کے چیئرمین اور وائس آف بلوچستان کے نام سے ایک این جی او بھی چلاتے رہے ہیں جس کے پلیٹ فارم سے وہ بلوچستان کے نوجوانوں کی ذہنی بالیدگی اور تعلیم کے ذریعے انہیں ترقی کے قومی دھارے میں شامل ہونے کی ترغیب دینے میں پیش پیش رہے ہیں۔ ان کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ پڑھے لکھے، اچھی سوجھ بوجھ اور سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک ہیں، وہ سینیٹ کی خارجہ تعلقات اور دفاعی امور کمیٹی میں بھی بہترین تجاویز کے ساتھ قومی مسائل پر گفتگو میں شامل رہے ہیں۔ وہ فلاسفی، انگلش لٹریچر، فارسی، اردو، پشتو ادب پر عبور رکھتے ہیں۔ وہ سی پیک کے ایک بڑے سپورٹر مانے جاتے ہیں جب کہ وہ مسنگ پرسنز، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں شدت پسندی اور دہشت گردی کے معاملات کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں لہٰذا توقع ہے کہ ان مسائل کے حل میں ان کا تجربہ ریاست کے لیے معاون ثابت ہو گا۔

Facebook Comments HS