اکیسویں صدی کا متعوب شاعر: اکرام عارفی
اردو غزل کی روایت میں کئی ایسے موڑ آئے جہاں اس کی گردن مارنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کوشش کافی حد کامیاب بھی رہی؛ اس کے باوجود یہ صنف گزشتہ ہزار برس سے زندہ ہے اور سلامت ہے۔ اردو غزل میں جملہ موضوعات پر شعرا نے لکھا اور بہت خوب لکھا۔ اردو غزل کی یہ خوش نصیبی رہی کہ اس اوائل میں استاد شعرا میسر آئے جنھوں نے اس پرورش و پرداخت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اردو شعرا کے ہاں البتہ اختلاف و تضاد کی فضا ہمیشہ سے قائم رہی ہے۔ شعرا کے ذاتی میلانات اور فکری رجحانات میں اختلاف ہونا ایک فطری امر ہے جس سے میں زحمت ہوں۔ ایک فضا مصنوعی یعنی دکھاوے پن اور شہرت کے حصول کی ہوتی ہے جس سے نقال، گرہ باز، فقرہ باز اور سطحی شعرا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکیسویں صدی کے آغاز اور بیسویں صدی کے اختتام کے سنگم میں تیزی سے ابھرتے ہوئے شاعر اکرام عارفی کا کلام میرے سامنے ہے جو رفتہ رفتہ گمنام ہوتے کہیں روپوش ہو کر رہ گیا ہے۔ اکرام عارفی ضلع قصور سے متصل تحصیل چونیاں کا رہائشی ہے۔ اکرام کا بچپن، لڑکپن اور جوانی کا اوائل حصہ اسی علاقہ کی رہتل میں گزرا ہے۔ اکرام عارفی نے زراعت کے شعبہ میں ایم۔ فل کر رکھا ہے۔ شادی دیر سے کی تاہم نباہی اور خوب چلی بھی۔ ملازمت کے حصول میں خوار رہے۔ سامان دنیوی کی آسائش سے مستفید بھی ہوئے اور جز وقتی محرومی بھی دیکھی۔ خود کو فقیر کہتے ہیں۔ فقیروں والا حلیہ بنائے رکھتے ہیں۔ احباب کی صحبت میں ہوں یا مشاعروں کی زینت ہوں ؛ہر جگہ ایک سی وضع قطع اور رنگ ڈھنگ قائم رکھتے ہیں۔ ان کی ذات و شخصیت اور شاعری کے بارے میں بہت سی باتیں اور قصے مشہور ہیں۔ میں نے ان کا کلام اتفاقاً ایک طویل سفر کی تھکن اتارنے کی جستجو میں یوٹیوب پر سنا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ یوٹیوب پر موجود جو کلام میسر تھا سب سن ڈالا۔ بارہا سنا اور پھر ان کی مترنم آواز کے سوز اور لوچ کے رقصی آہنگ کی مدھر لے کو دریافت کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ یہ فقیر شاعر معتوب زمانہ ہے۔ اکرام عارفی عباس تابش، شہزاد احمد، احمد فراز، جون ایلیا کے دور کا شاعر ہے اور ہنوز نوجوان نسل میں مقبول ہے۔ اس کے دو شعری مجموعے چھپ چکے ہیں۔ اکرام عارفی کے انٹرویوز اور ان کے مشاعروں میں شعر کے علاوہ ہوئی گفتگو کو تنقیدی نگاہ سے سنا، پرکھا اور اس کی تحلیل کر کے دیکھا تو پتہ چلا کہ اکرام عارفی عہد حاضر کے معتبر، لائق داد اور باعث عزت شاعر ہیں۔ اکرام عارفی نے ایک نجی انٹرویو میں اپنے بارے میں اور نوجوان شعرا کے بارے میں کہا: ”میں سر تا پا شاعر ہوں اور رہوں گا۔ میں نے تجمل کلیم صاحب سے شاعری اور رقص میں تربیت پائی ہے۔ نوجوان نسل کے لیے نے، سے، کو، میں جیسے مہمل الفاظ کا استعمال سیکھ لینا ہی کافی ہے۔ یہ مہمل لفظ شعر کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ نوجوان نسل اساتذہ کے نام سے یوں گھبراتی ہے جیسے انھیں استاد کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ نوجوان نسل کو استاد کے ساتھ مطالعہ کی از حد ضرورت ہے“ ۔ (حوالہ: https://www.youtube.com/watch?v=6W_xubrEHjM)
اکرام عارفی کی شخصیت اور خارجی پیرہن جون ایلیا، میرا جی، ساغر صدیقی سے میل کھاتا ہے۔ یہ وضع انھوں نے خود ساختہ اختیار کی ہے یا ان کی طبیعت کا میلان اس وضع سے لگا کھاتا ہے، یہ امر ہنوز مخفی ہے۔ بہ حیثیت فقیر شاعر کے ؛، میں ان کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتا ؛شاعر، شاعر ہوتا ہے وہ فقیر، درویش، صوفی وغیرہ کچھ نہیں ہوتا۔ شاعری انسانی جذبات و احساسات کے جملہ اظہار کا ایک معتبر ذریعہ ہے جس سے تخلیق کار فائدہ اٹھاتا ہے۔ شاعری کو فقیری، امیری، درباری، نوابی، تنزلی، امارت و غارت سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ اکرام عارفی عہد حاضر کے نمائندہ شاعر ہیں۔ یہ میری ذاتی رائے ان کے کلام کا تنقیدی جائزہ لینے سے مستحکم ہوئی ہے۔ بطور شاعر اکرام عارفی کو حلقہ احباب اردو کے ترجمان یعنی شعرا اور نقاد سے تحسین نہیں ملی جس کے یہ مستحق ہیں۔ ان کے کلام میں علم بیان و بدیع کے جملہ عناصر و لوازمات شعری کی عمل داری موجود ہے جس سے اکرام پوری طرح آگاہ ہیں۔ اکرام عارفی شاعر، شعر اور تخلیقی جودت کے بارے میں کہتے ہیں : ”اچھا شعر کیا ہوتا ہے؟
اچھا شعر وہ ہوتا ہے جو سنتے ہی یاد ہو جائے اور حافظہ کا حصہ بن جائے، الفاظ کا در و بست، الفاظ کا چناؤ، باہر کا چناؤ، خیال کی بلند سطح پر شعر کی بنت؛ایک اچھے شعر کی نشانی ہے۔ مثلاً یہ شعر دیکھیے :…اور مجھ پاس کیا ہے دینے کو/دیکھ کر اس کو روئے دیتا ہوں ”۔ حوالہ (https://www.youtube.com/watch?v=W2iK9dw-4VY) یہ خیال برس ہا برس سے رائج ہے کہ شاعر کو محبت نہ ہو تو وہ شعر کہہ نہیں سکتا۔ اکرام عارفی اس رائے کے مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شعر کہنے کے لیے محبت کی قطعاً ضرورت نہیں ہے اور مخالف صنف سے محبت کا تصور محض ایک ہیولا ہے جس میں ہوس کا عنصر زیادہ ہوتا ہے بہ نسبت تخلیقی عمل ہے۔ اکرام عارفی کہتے ہیں :“ مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی۔ میں خارج کے مظاہر فطرت سے متاثر ہو کر شعر کہتا ہوں جو خود بہ خود میرے تخیل میں پھوٹتے ہیں۔ جیسے جمالیات کے مظاہر ہیں۔ پس جمالیات کے مظاہر ہیں۔ مکرہ و اور بھیانک جمالیات کے مظاہر ہیں۔ لوگوں کی کم عقلی، جہالت اور بے وقوفیاں اور بد دیانتیاں کافی ہیں شعر کو استوار کرنے کے لیے۔ یہ بات بہت پرانی ہو گئی کہ لڑکی کو دیکھ محبت ہو جاتی ہے۔ ہاں! محبت ہو سکتی ہے لیکن شعر کہنا بہت دور کی بات ہے۔ ”۔ (حوالہ https://www.youtube.com/watch?v=W2iK9dw-4VY ) ۔ آج کل سوشل میڈیا کی وجہ سے کسی بھی فنکار یا تخلیق کار کو اپنے فن اور تخلیقی تخصیص کو منوانے کے لیے پاپڑ بیلنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی۔ یوٹیوب پر چینل بنائیں، فیس بک پر پیچ بنائیں اور جو من ہے اور خیال میں ہے وہ کہہ دیجئے، کر گزریے۔ سیکڑوں ہزاروں دیکھنے، سننے والے اپنی رائے کا فوراً اظہار کر دیں گے۔ اب تو لائیکس اور کمنٹ پر کسی شاعر کے بڑا، چھوٹا، مشہور اور بیکار ہونے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اکرام عارفی نے مشاعروں کے ذریعے مشہور ہونے اور سطحی شعر کہہ کر، تک بندی کر کے خود کو بڑے شاعر کے مقابلے میں پیش کر کے گویا خفیہ حرکات و سکنات اور ذرائع کے استعمال سے فرسٹ کلاس شاعر بننے سے گریز کا مشورہ دیا ہے اور خون تھوکنے اور مشقت سے یعنی شعر کے کرافٹ اور فکر کی اٹھان سے داد و معیار کو کامیابی کا ذریعہ گردانا ہے۔ اکرام عارفی کہتے ہیں :“ اے باریک لوگو! بات یہ ہے کہ آج کل مشاعرہ صرف سبق سنانے کا نام نہیں رہ گیا۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مشاعرہ کا احاطہ بہت پھیل گیا ہے۔ اس احاطہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں ایسی لکھتیں ایسے مشاعرے میں ضرور پیش کر لینی چاہیے جہاں خلقت ہے۔ جہاں ہجوم ہے جو چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے جسے ابھی نہیں پتہ کہ مشاعرہ کا در و بست کیا ہے۔ ایسے لوگوں کو مشاعرے کی اصل کی طرف لانے کے لیے ضروری ہے کہ مشاعرے میں سبق سنانے سے ہٹ کر اپنا افہام پیش کریں کچھ ہیولا سا پیدا کر لیں۔ ہمارے پیش کش شعرا پرفارمنگ آرٹ سے نابلد ہے۔ یہ اس کی خامی نہیں ہے۔ شاعر کو پرفارمنگ آرٹ سے الگ ہونا چاہیے لیکن آدھے وجود کے ساتھ نہیں بلکہ ہمہ جہت وجود کی سبھی نیرنگیوں کے ساتھ۔ شاعر اگر سامع کی توجہ کو مبذول نہ کروا سکے تو شاعر کی شاعری کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ”(حوالہ: https://shorturl.at/AHJMX )
مشاعروں کی سیاست ہر دور میں جاری رہی ہے۔ مشاعرہ باز شاعر کی اصطلاح بھی اسی فضا سے نمو پائی ہے۔ اکرام عارفی کی شہرت میں نقب لگانے والے شعرا نے اسی مشاعراتی سیاست سے فائدہ اٹھایا اور انھیں سائڈ لائن کیا۔ علی اکبر ناطق نے اس کا ذکر ایک انٹرویو میں یوں کیا ہے : ”اکرام کو کوئی نہیں پڑھتا، کوئی نہیں بلاتا، یہاں وہاں مشاعروں میں چلا جاتا ہے۔ کچھ داد لے لیتا ہے۔ پھر اس بے چارے کو سائڈ لائن کر دیا جاتا ہے۔ میں خود جانتا ہوں کہ عباس تابش نے کبھی اکرام عارفی کا ذکر تک نہیں کیا نہ کبھی اسے کسی بین الاقوامی مشاعرے میں لے کر گیا۔ اکرام مشاعرہ لوٹ لیتا ہے۔ اس کی یہ خوبی دوسروں کے لیے زہر رساں بنی ہوئی ہے۔ عارفی کتاب کا شاعر ہے جسے مشاعرے کی ضرورت نہیں“ ۔ حوالہ (https://www.youtube.com/watch?v=6W_xubrEHjM ) اکرام عارفی کو بین الا اقوامی مشاعروں میں شرکت سے خودساختہ روکا گیا ہے۔ دبئی ہوں یا بحرین و امریکہ و ریاض وغیرہ ؛ہر جگہ ان سے کم شہرت رکھنے والے گویا سطحی شعرا کو وہاں تک لے جایا گیا اور انھیں موقع نہ دیا گیا۔ مشاعروں کے انعقاد اور شعرا کی فہرست بین الاقوامی مشاعروں میں بھجوانے کی ذمہ داری عشق آباد کمپنی کے سپرد ہے۔ اس کمپنی میں مبالغہ، غلو، خوشامد، چاپلوسی، ٹی سی اور اس سے متصل اصطلاحات میں ماہر شعرا کو دنیا بھر کے مواقع میسر ہیں۔ جو اس دربار میں نوکر ہے وہ ہر جگہ شاہ کا رتبہ پاتا ہے او ر داد و تحسین کے ڈونگرے اس کے سر پر پڑتے ہیں۔ ماسوا کو خوار و ذلت و گمنامی و الزام تراشی کی زد میں غرقاب کر دیا جاتا ہے۔ ادبی چشمک کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ اب تو صدیاں حوصلہ شکنی، کردار کشی اور الزام تراشی کی اس روایت کو ہو چکے۔ بطور نقاد میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جس دیے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا۔ شعر میں بقا کا عنصر موجود ہو گا تو وہ باد مخالف سے دبنے کے باوجود پھوٹنے کے وقت کونپل ضرور نکالے گا۔ میر تقی میر کے عہد میں سیکڑوں شاعر دب کر مر کھپ گئے۔ یہ تجربہ بعد کو غالب کے دور میں دہرایا گیا۔ غالب کے بعد اقبال کے دور میں شعرا کی کئی نسلیں نابود ہو گئیں۔ شاعر کو سیاست و حکمت و مصلحت اور پیش کش کا فنکار ہو نا چاہیے یا پھر مجید امجد، فانی بدایونی، میر اجی، آنس معین، باقی صدیقی کی طرح ہونا چاہیے کہ ہم نے جو کہنا تھا، جو لکھنا تھا وہ ہمارے بعد ہمارا حوالا ہے یعنی ہمارا لکھا اور کہا اور ہماری شخصیت اور تخلیقی جودت کا معیار متعین کرے گا۔
وقت نے یہ دیکھا ہے کہ جن دیوں کو بجھانے کی باد مخالف نے کوشش کی ہے وہ روشن رہے ہیں۔ اکرام عارفی نے اپنے بارے میں خود کہا ہے کہ میں جانتا ہوں میری شاعری کی وقعت کیا ہے، اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اکرام عارفی کہتے ہیں : ”لوگ جانتے ہیں کہ میری شاعری اور اس کا معیار کیا ہے۔ مجھے یہ ثابت کرنے کی اب ضرورت نہیں ہے۔ دوستوں کو یہی مشورہ ہے کہ وہ محنت کریں، خون تھوکیں اور مشقت سے سامنے آئیں۔ یہی میرا ان کو مشورہ ہے۔“ (حوالہ: https://shorturl.at/AHJMX ) اکرام عارفی نے اپنے ساتھ سینئر کی طرف سے ہونے والے سلوک سے دل برداشتہ ہونے کی بجائے باد مخالف کی آرا کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے۔ نوجوان نسل کے موضوعات، مسائل اور شاعری کے معیار کے حوالے سے ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے خوبصورت انداز میں مثبت اور تعمیری سوچ کا یوں اظہار کیا: ”ایسا ہے کہ ہماری نئی غزل کا سامع ففتھ جنریشن کا نمایندہ ہے جو ستر فیصد ہے۔ ہمیں اس ففتھ جنریشن کو اردو ادب کی آبیاری کے حوالے سے متعارف کروانے کے لیے بہت پاپڑ بیلنا پڑ رہے ہیں۔ نئی نسل کے شعرا بہت اچھا کہہ رہے ہیں۔ ایسا ایسا تازہ مصرعہ کہتے ہیں کہ ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ غزل کی تفہیم کے حوالے سے اساتذہ کی راہنمائی، کلاسیکیت سے شناسائی از حد ضروری ہے“ ۔ (حوالہ: https://shorturl.at/AHJMX ) مذکورہ مفصل تمہید اکرام عارفی کی شخصیت، ذات اور ان کی شعری وقعت کے حوالے سے تھی جس سے اکرام عارفی کو عہد حاضر کا نمائندہ شاعر ثابت کرنا مقصود نہیں تھا بلکہ اکرام عارفی ایک اچھے اور معتبر شاعر ہیں ؛یہ تاثر دینا مقصود تھا۔ شاعر، شاعر ہوتا ہے وہ چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔ خلیل الرحمان قمر کہتے ہیں : شاعر چھوٹا بڑا نہیں ہوتا، زیادہ مشہور اور کم مشہور ہوتا ہے۔ شاعر کی شخصیت اور وضع قطع کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی شاعری کی اہمیت کو گھٹایا بڑھایا نہیں جا سکتا۔ شاعر کو بطور شاعر وقعت و اہمیت اس کی شاعری، شاعری کے موضوعات اور موضوعات کی شاعرانہ ترجمانی سے ملتی ہے۔ بڑے سے بڑا نقاد ایک سطحی اور گرہ باز شاعر کو میرؔ، غالبؔ، فیض، ناصر کے مد مقابل نہیں لا سکتا۔ یہ کام اگر نقاد کر بھی لے تب بھی شعر کی غرض و غایت اور بیان و بدیع کے اسرار و رموز سے شناسائی رکھنے والے احباب شاعر کے ساتھ نقاد کی بینڈ بھی بجا دیتے ہیں۔ اکرام عارفی کی شخصیت، ذات اور احوال روزمرہ پر گفتگو کے بعد ان کی شاعری پر بات کرنا لازم ہے۔ یہ مضمون پہلے ہی طویل ہو چکا اس لیے میں اکرام عارفی کے منتخب اشعار اور نمونہ کلام نقل کر رہا ہوں۔ جسے پڑھنے کے بعد آپ خود یہ رائے قائم کرنے پہ متفق ہوں کہ اکرام کو ان کے ہم عصر شعرا اور نقادوں نے جان بوجھ کر نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ گمنامی کی زندگی گزارنے اور شرمساری میں مبتلا کرنے پر مجبور بھی کیا۔ شاعر کو اس کا زمانہ اور زمانے کے نبض شناس مستحق داد و تحسین اور وقعت نہ دیں تو وہ اپنے ساتھ زبان و ادب کے ارتقا میں داخل ہونے والے حصے سے زبان و ادب کو محروم کر دیتا ہے۔ خوب سے خوب تر کی تلاش جستجو بن کر کہنے والے اور سننے والے سے زیادہ جس میں کہا جا رہا ہے اور جس انداز میں لکھا جا رہا ہے اسے نقصان پہنچاتی ہے۔ اکرام عارفی کی غزل کے نمونے ملاحظہ کیجیے :
ستارہ ساز آنکھوں میں ترا غم ہے /فروزاں ہے، فراواں ہے، مجسم ہے
ترے غم سے گریزاں کیسے ہو جاؤں /کہ یہ ٹوٹے دلوں کا اسم اعظم ہے
تیری آنکھوں میں ہے روشن دوائے دل/تیرے ہاتھوں میں میرے غم کا مرہم ہے
ہوش آنے کے بعد دودھ پیا/اک زمانے کے بعد تو دودھ پیا
اک ہجوم بلا سے اپنا آپ/کھینچ لانے کے بعد تو دودھ پیا
مسکرانے کے بعد غم کھایا/مسکرانے کے بعد دودھ پیا
شادماں شاد کام دل تو نہیں /آپ سے ہم کلام دل تو نہیں
تری آنکھوں کا نام آنکھیں ہیں /تری آنکھوں کا نام دل تو نہیں ہے
اک دھماچوکڑی ہے سینے میں /یہ کہیں بے لگام دل تو نہیں
تیرے بغیر درد سنبھالوں گا کس طرح/آتش نہیں ہے دودھ ابالوں گا کس طرح
اک نام کی اگرچہ ضرورت نہیں رہی/فہرست بن چکی ہے نکالوں گا کس طرح
شاعر ہوں جانتا ہوں فن کیمیا گری/لوہے کو سرخ پھول میں ڈھالوں گا کس طرح
میں اس مضمون کا اختتام اشرف شریف کے ان الفاظ میں کروں گا جنھوں نے اکرام عارفی پر روزنامہ92 میں کالم لکھ کر ان کی شاعرانہ اہمیت کو منظر عام پر لانے کی جسارت کی ہے : ”اکرام عارفی کی شکل میں ایک نایاب اسلوب کا شاعر ہمارے درمیان ہے۔ ایسا شاعر کہ وہ جس مشاعرے میں شریک ہو وہاں صرف وہی رہ جاتا ہے“ ۔ (حوالہ: https://shorturl.at/fkm04 )
ہم ہی مرے تھے اہل محبت کی جنگ میں / جب گنتیاں ہوئیں تو مرے اور لوگ تھے
وہ لڑکا بے نیاز گلی سے گزر گیا /وہ لڑکی انتظار کی چھت پر کھڑی رہی
شریک جام نہیں ہوں مگر یہ سوچتا ہوں /ترا بھرا ہوا برتن کہاں سے آتا ہے




