طویل ہوتی شام غریباں


ایک روز موسموں کی بات چھڑی تو استاد محترم فرمانے لگے ہمیں تو پانچواں موسم پسند ہے۔ عرض کیا یہ پانچواں موسم کیا ہے۔ جواب ایسا عطا فرمایا کہ دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ فرمایا پانچواں موسم ہے دل کا موسم۔ جب دل کا موسم سہانا ہو تو باہر کے موسم بھی بڑے اچھے لگتے ہیں۔ اگر دل مردہ ہو جائے تو باہر کتنا بھی خوبصورت موسم ہو اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔

پر کیا کریں کہ ایسے عہد بے ہنراں نے قدم جما لئے ہیں جہاں گرمی سردی خزاں اور بہار کے تذکرے تو الگ رہے۔ دل کے موسم کو پوچھتا کون ہے۔ ایک اور موسم اپنے سائے گہرے سے گہرے کرتا چلا جاتا ہے اور وہ ہے نفرتوں کا موسم۔ علیم تڑپتے تڑپتے کہ گئے۔

/میں روتا ہوں اور آسمان سے تارے ٹوٹتے دیکھتا ہوں /ان لوگوں پر جن لوگوں نے مرے لوگوں کو آزار دیا/

یہ تو کوئی ستر کی دہائی کی بات تھی جب علیم نے یہ کہا اس وقت پھر بھی آج کی نسبت کچھ لاج، شرم باقی تھی۔ رکھ رکھاؤ اور ایک دوسرے کا خیال نسبتاً زیادہ تھا۔ 18 مئی 1998 کو محبت کے قبیلے سے تعلق رکھنے والا درد مند شاعر ہم سے منہ موڑ گیا تھا۔ آج چوتھائی صدی پر معاملات اور تیزی کے ساتھ آگے نکل گئے ہیں۔ آج تو شہر کا شہر مسلمان بنا پھرتا ہے۔ کون کس کو کہاں کیسے قتل کر دے کچھ کہنا مشکل ہے۔

نفرتوں کا یہ موسم قائد کے پاکستان پر درنگی، وحشت اور بربریت کی وہ مثالیں قائم کر رہا ہے جسے صرف اور صرف جہالت سے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ جہاں مذمتی الفاظ اپنا بوریا بستر لپیٹ کر چل پڑتے ہیں۔ کہاں سے لائیں لفظوں کا مرہم جو مظلوموں کو پرسا دے۔ علم نور الہٰی ہے اور بے علمی اتھاہ گہرائیوں کی طرف لے جاتی ہے۔ علم سے ہمیں واسطہ نہیں تو اس کا یقینی نتیجہ وہی ہے جو آج نکل رہا ہے۔ اس شب تاریک کے سائے فی الوقت تو گہرے سے گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہی صورت حال رہی تو ہمیں کسی اور دشمن کی کب ضرورت ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شام غریباں جیسا منظر ہو۔ جہاں مظلوم، مجبور بے کسوں پر غول کے غول چڑھ دوڑتے ہیں۔ ایک نا معلوم آواز پر، فقط ایک جاہلانہ صدا پر کسی بھی جیتے جاگتے، زندہ انسان کو مارنے، جلانے، نعش پر پتھر مارنے سے ہم ڈرتے نہیں۔

پرچار تو اس تعلیم کا کرتے ہیں کہ کسی کو آگ کا عذاب دینا کسی انسان کے اختیار میں نہیں۔ صرف خدا کا حق ہے۔ شاید خود کو خدا ہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ جب چاہیں جہاں چاہیں درد ناک عذاب بن کر مقہوروں پر برس پڑتے ہیں۔ اس ”مقدس ہجوم“ نے کتنے معصوم زندہ جلا دیے۔ حافظ قرآن جلا دیے۔ ایک پریانتھا کمارا تھا کہتا تو وہ یہی تھا کہ وقت پر فیکٹری آؤ۔ تنخواہ پوری لیتے ہو تو اپنا کام بھی پورا کرو۔ لیکن مقدس لوگوں اور دودھ کے دھلے ہوؤں کو امانت دیانت سے کیا مطلب۔ پھر مقدس بننے کا خیال آیا۔ نفرتوں کے موسم نے انگڑائی لی۔ اور مقدس ہجوم نے کمارا کو زندہ جلا کر اس دنیا میں آگ کا عذاب اسے دے کر اپنا اسلام بچا لیا۔

2014 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ نیشنل کونسل برائے اقلیت کا قیام کیا جائے، جو آئین کے تحت اقلیتوں کو دیے گئے حقوق کے حصول کے لئے کام کرے۔ اس پر حکومت نے چھ سال بعد لولا لنگڑا عمل درآمد نیشنل کمیشن برائے اقلیت کو از سر نو تشکیل دے کر گونگلوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے کر دیا۔ اس کی قانونی حیثیت محض ایک ایڈہاک کمیٹی کی ہے۔

ہمیں اپنا عقیدے کے آڑ میں دوسروں کو مجبور کرنا ہے کہ وہ بھی ویسا ہی دیکھیں سوچیں سمجھیں اور عمل کریں جو ہم سمجھتے سوچتے اور دیکھتے ہیں۔ اگر ایسا نہ کریں تو طاقت کے زور پر ایسا کروایا جانا فرض سمجھ لیا گیا ہے۔ تازہ واقعہ جڑانوالہ میں غریب دیہاڑی دار، بے ضرر مسیحیوں کی عبادت گاہ اور گھروں کو جلا کر بربریت کی وہ مثال قائم کرنا ہے جس پر ہر ذی فہم شرمندہ اور ندامت سے سر نگوڑے کھڑا ہے۔ بس ایک شرمندگی نہیں ہے تو ان سرغنوں کو نہیں ہے ان کے چیلوں کو نہیں ہے۔ جیسے ایک کے بعد دوسرا سانحہ اس ملک کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہو۔ ہر بار قیامت برپا کرنے والے کردار وہی ہیں ہاں مظلوم بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی مسیحی تو کبھی احمدی، کہیں ہندو تو کہیں پارسی، کبھی کوئی مجذوب تو کہیں کوئی غریب مسکین، کبھی گھر تو کبھی عبادت گاہ۔ اکثر اوقات زندہ تو بہت دفعہ قبروں میں پڑے مردہ بھی ان کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں۔

ارباب حل و عقد بھی جیسے مجبور سے ہوں، اگر مجبور نہیں تو ہر دفعہ بات ایک نئے مذمتی بیان سے آگے کیوں نہیں بڑھتی۔ کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کوئی مناسب بندوبست کرنا آخر کس کی ذمہ داری ہے۔ کیا اس عہد کے لوگوں کے لئے نفرتوں کا یہی موسم طویل سے طویل تر ہو کر بد شگونی کے سائے بکھیرتا رہے گا۔ پیار، محبت، یگانگت، احترام باہمی، رواداری، دوسروں کے مذہب، عقیدے اور مسلک کا احترام، احترام انسانیت کے خوشنما پھول کب اس معاشرے کو گلزار کریں گے۔ اس شام غریباں کا اختتام کب ہو گا؟ ہے کوئی کوئی پرسان حال؟ کوئی سمجھانے والا؟ کوئی اس طوفان بدتمیزی کو روکنے والا؟

Facebook Comments HS