نوجوانوں کی کردار سازی

(یہ مضمون استاد جاوید احمد غامدی صاحب اور ورچوئل یونیورسٹی کے اساتذہ کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ یہ گفتگو دنیا ٹی وی پر دو پروگراموں میں 2019 کے آغاز میں نشر کی گئی۔ گفتگو کی بنیاد ذیل میں دیے گئے سوالات تھے :
کردار کیا ہے؟
کردار کیوں ضروری ہے؟
کیا کردار کے بغیر کامیابی ممکن نہیں؟
ہم کردار میں پیچھے کیوں رہ گئے ہیں؟
مذہب کردار سازی میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟
کیا چیز کردار پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے؟
کیا کردار کا مادی ترقی کے ساتھ کوئی تعلق ہے؟
کیا کردار سازی کی جا سکتی ہے؟
کردار سازی کیسے کی جا سکتی ہے؟
نوجوانوں میں کردار سازی کیسے کی جا سکتی ہے؟
تعلیمی اداروں کو نوجوانوں میں کردار سازی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
کیا کرپشن اور کردار کا کوئی تعلق ہے؟
لوگوں میں کردار سازی کی اصل ذمہ داری کس کی ہے؟
آپ نوجوانوں کو اچھے کردار کے فوائد پر کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ )
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ تہذیب ایک مسلسل تاریخی اور شعوری عمل کا نتیجہ ہوتی ہے اور اپنی بقا کے لیے بھی تسلسل چاہتی ہے۔ کوئی تہذیب کوئی معاشرہ مستقبل میں کیسا ہو گا اس کا بہت کچھ دار و مدار دوسرے عوامل کے ساتھ اس پر بھی ہوتا ہے کہ اس کی نوجوان نسل کیسی ہوگی۔ معاشرہ چونکہ افراد کا مجموعہ ہوتا ہے اس لیے ایک معاشرہ کیسا ہے یا ہو گا اس کا انحصار فرد کے کردار پر ہو گا۔ اگر ہم اچھا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں کردار سازی پر توجہ دینی ہوگی۔
پہلا سوال یہ ہے کہ کردار ہوتا کیا ہے؟ ایک طرح سے انسان جو کچھ بھی کرتا ہے وہ کردار ہے جو اچھا ہو سکتا ہے اور برا بھی۔ کردار دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے کا نام ہے، وہ دوسرے عام لوگ بھی ہوسکتے ہیں اور ہمارے عزیز و اقارب بھی۔ قصہ ہابیل و قابیل دو ایسے کرداروں کو بیان کرتا ہے جس میں سے ایک ظلم کرتا ہے جبکہ دوسرا صبر، ایک اچھے کردار کی مثال ہے جبکہ دوسرا برے کی۔
کردار سازی میں آگے بڑھنے سے پہلے انسان کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں سامنے ہونی چاہییں، جیسے یہ کہ انسان کے اندر ہدایت کی صلاحیت موجود ہے۔ انسان صرف ایک مادی وجود کا نام نہیں ہے بلکہ یہ عقلی، اخلاقی اور جمالیاتی وجود بھی رکھتا ہے اور یہ سب اسے حیوانات سے جدا کرتے ہیں۔ کسی دانشور نے خوب کہا تھا کہ حس جمالیات ہی انسان کو حیوان سے بلند کرتی ہے۔ انسان کے اندر اصل سے فرع نکالنے اور فرع سے اصل تک پہنچنے کی صلاحیت ہوتی ہے، اور یہ صلاحیت سیکھنے کی بنیاد ہے اور اس میں مددگار بھی۔ مزید یہ کہ انسان اپنے تجربات اور مشاہدات سے سیکھتا رہتا ہے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ انسان، خاص طور پر انسانی بچے دوسروں کو نقل کرتے ہیں اور ان کا مشاہدہ حیرت انگیز ہوتا ہے، لہذا ہم دوسروں کو جو بنانا چاہتے ہیں پہلے وہ خود بنیں، یعنی پہلے اپنے نگران بنیں پھر دوسروں کی نگرانی کریں۔
ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان آخرت پر یقین نہیں رکھتا تو اچھے کردار کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟ ایک بات تو یہ ہے کہ ہمارے اندر اچھائی کا الہام موجود ہے اس لیے ہم اچھا کردار اپنانے پر ایک طرح سے مجبور بھی ہیں۔ دوسرا یہ کہ دنیا افادیت کے فلسفے پر کھڑی ہے یہاں اچھا کرنے سے نا صرف ہمیں اچھا ملتا ہے بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء بھی ہوتی ہے۔ جو آخرت کو مانتے ہوئے اچھا کردار اپناتے ہیں انھیں دہرا فائدہ ملتا ہے یہاں بھی اچھائی اور وہاں بھی اچھا بدلہ۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ غیر مسلم اخلاقی اعتبار سے مسلمانوں سے بہتر کیوں ہیں؟ تہذیب کی تاریخ شاہد ہے کہ اخلاقیات کا ظہور مذہبی بنیادوں پر بھی ہوا ہے اور غیر مذہبی بنیادوں پر بھی۔ دراصل اخلاقیات کی بنیاد انسان کے اندر موجود ہے، اور اجتماعی انسانی تجربہ سکھاتا ہے کہ بری باتیں نقصان پہنچاتی ہیں اور اچھی فائدہ۔ خلافت راشدہ مذہبی بنیادوں پر قائم ہونے والی ایک اعلیٰ اخلاقی حکومت اور معاشرے کی مثال ہے۔ عالمگیر اخلاقیات، جیسے سچ، ایمانداری، عدل و انصاف وغیرہ، خدا کی عطا ہیں جو بھی اس پر عمل کرے وہ کامیاب ہو گا۔
ابتدائی زمانے میں تو بچہ بڑوں سے سیکھتا ہے مگر بڑے ہونے کے ساتھ وہ پھر دلائل سے سیکھتا ہے، اور پھر ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ کردار سازی میں بہت سے عوامل اپنا کردار ادا کرتے ہیں جیسا کہ مذہب، استاد، گھرانا، مدرسہ، نصاب وغیرہ۔ مذہب بنیادی اخلاقیات اور پاکیزگی سکھاتا ہے جبکہ گھرانا بنیادی آداب۔ یہ تمام عوامل اپنی اپنی جگہ پر اہمیت کے حا مل ہیں، لیکن نظام تعلیم کردار سازی کی شعوری کوشش میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
پہلے بارہ سال کی تعلیم کوئی اپنے انتخاب سے حاصل نہیں کرتا اس لیے پہلے سالوں کی تعلیم میں مرکزی حیثیت سماجی، اخلاقی اور لسانی مضامین کی ہونی چاہیے۔ پہلے سالوں کی تعلیم کے لیے مادری اور قومی زبان استعمال کرنی چاہیے اس لیے کہ زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ ہی نہیں ہوتی بلکہ تہذیب و تمدن کی نمائندہ بھی ہوتی ہے۔
عادات تو موروثی ہوتی ہیں مگر صلاحیت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ کردار سازی کے نقطہ نظر سے بچوں میں گفتگو کو رواج دینا چاہیے نا کہ مناظرہ بازی کو۔ ترتیب ملحوظ رکھتے ہوئے بچوں کو سب سے پہلے عالمگیر قدریں سکھانی چاہئیں، پھر سماجی قدریں، دونوں قومی بھی اور علاقائی بھی، اور پھر مذہبی قدریں تاکہ وہ ہر سطح پر کامیاب شہری بن سکیں۔ بچوں پر کوئی بھی چیز ٹھونسنی نہیں چاہیے بلکہ انھیں اچھا برا بتا کر اس میں سے حق کے انتخاب کا موقع دینا چاہیے۔
اخلاقیات جب عمل میں ڈھلتی ہیں تو کردار بن جاتا ہے۔ قرآن حکیم اخلاقیات پر ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ عدل کرو ہر جگہ ہر معاملے میں، احسان کا رویہ اختیار کرو، عزیز و اقارب کے ساتھ حسن سلوک کرو، جنسی انارکی کے قریب بھی ناں جاؤ، منکر سے بچو اور کسی کی جان، مال، اور آبرو کے خلاف اقدام نا کرو۔ خدا کے آخری دین کی روشنی میں لوگوں کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ غیبت اور الزام تراشی کیسے بڑے گناہ ہیں۔ جو نام ہم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ دوسروں کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی اہم سوال ہے کہ معاشرے میں کردار سازی کون کرے؟ اس ضمن میں علماء، اہل دانش اور ارباب سیاست کا کردار مرکزی ہے۔ ان کا باہمی تعلق معاشرے پر گہری چھاپ رکھتا ہے۔ عبادت گاہیں رابطے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ دانش الفاظ میں تو آ گئی ہے مگر کردار اس سے خالی ہیں۔ حضرت امام حسین سے منسوب کیا خوب بات ہے کہ مومن وہ نہیں جس کی محفل پاک ہو بلکہ وہ ہے جس کی تنہائی پاک ہو۔ ہمارے ہاں مذہبی لوگ فضائل کی کہانی سناتے ہیں لیکن کردار کو موضوع نہیں بناتے۔ ستم یہ بھی ہے کہ ہمارے اہل سیاست روشنی کی جگہ اندھیرے کا سبب ہیں۔
استاد نے کیا خوب باتیں کہیں ”قدیم زمانے کے لوگ مرد کے ساتھ کھڑے تھے، جدید دور میں وہ عورت کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ خدا بچے کے ساتھ کھڑا ہے“ ، خدا وجود بخشتا ہے جبکہ عورت کردار تصنیف کر کے انسان بناتی ہے ”۔ وہ حکومت جو اخلاقی معاملات سے لاتعلق رہتی ہے وہ پھر انسانوں پر نہیں بلکہ جمادات پر حکومت کرتی ہے۔

