بے نظیر: چہرہ بہ چہرہ روبرو
زاہد حسین کی نئی کتاب Face to face with Benazir ان انٹرویوز کا مجموعہ ہے جو انہوں نے ماہنامہ ہیرالڈ اور نیوز لائن کے لئے کیے تھے۔ زاہد حسین کا شمار پاکستان کے سینئر ترین صحافیوں، مصنفین اور سیاسی مبصرین میں ہوتا ہے۔ بے نظیر کے انٹرویوز کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ہر انٹرویو کے ساتھ زاہد حسین نے اس دور کی صورتحال کا جو بے لاگ تجزیہ پیش کیا ہے وہ اس دور کے بارے میں لکھنے کے خواہشمند صحافیوں اور محققین کے بے حد کام آئے گا۔
یہ کتاب امینہ سید کے ادارے لائٹ اسٹون پبلشرز نے شائع کی ہے اور قیمت 2250 ہے۔ کتاب کا آغاز 1986 میں بے نظیر کی فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد کے لئے پاکستان واپسی سے ہوتا ہے۔ اپریل 1986 میں بے نظیر کی آمد کے موقع پر لاہور ائر پورٹ جانے والے سارے راستے استقبال کے لئے آئے ہوئے لوگوں سے بھرے ہوئے تھے جو ایک رات پہلے سے وہاں موجود تھے۔ ائرپورٹ سے اقبال پارک تک کا 18 کلو میٹر کا راستہ دس گھنٹے میں طے ہوا لیکن بے نظیر کے چہرے پر تھکن کا کوئی نشان نہیں تھا پارک پہنچنے کے بعد بی بی نے رواں اردو میں 45۔
منٹ تک تقریر کی۔ آنے والے دنوں میں انہوں نے پنجاب بھر کا دورہ کیا۔ اس کے بعد پشاور گئیں۔ پہلے انٹرویو کے آغاز میں زاہد حسین لکھتے ہیں کہ نو عمر بے نظیر بھٹو کے لئے ذاتی طور پر یہ ایک آزمائشی دور تھا۔ پانچ سال تک پاکستان میں جیلوں یا گھر میں نظربند رہیں۔ دو سال لندن میں جلا وطنی میں گزارے۔ 1977 میں اپنے والد کی گرفتاری کے بعد حالات نے انہیں سیاست کے میدان میں آنے پر مجبور کر دیا۔ وہ ہارورڈ اور آکسفورڈ سے نئی نئی پڑھ کر آئی تھیں، سیاست کی پیچیدگیوں کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔
ان کی سیاسی تربیت عملی جدوجہد کا نتیجہ تھی۔ ان کا نو سالہ سیاسی کیرئیر مشکلات اور تکالیف سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی کی حیثیت سے کیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں ایک بے مثال لیڈر کے طور پر سامنے آئیں۔ دوسرا انٹرویو مئی 1988 میں لیا گیا۔ 20 مئی 1988 کو جی ایم سید کی قیادت میں سندھ نیشنل الائنس بنایا گیا تھا۔ بی بی کے مطابق یہ اتحاد پیپلز پارٹی کو اقتدار سے باہر رکھنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اور ایم کیو ایم بھی پیپلز پارٹی کی طاقت کو توڑنے کے لئے بنائی گئی تھی۔ تیسرا انٹرویو 12 جولائی 1988 کو لاہور میں لیا گیا۔ جہاں بے نظیر ایم آر ڈی کی ریلی کی قیادت کرنے پہنچی تھیں۔ ایم آر ڈی کی طرف سے سیاسی طاقت کا یہ مظاہرہ حکومت وقت کے لئے واضح پیغام تھا کہ عوام الیکشن چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے اپنی 30 مئی کی تقریر میں جنرل ضیا نے اعتراف کیا تھا کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ 5 جولائی 1977 کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ ساری سیاسی پارٹیاں ضیا الحق کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
لاہور میں ایم آر ڈی کی ریلی نے ثابت کر دیا تھا کہ عوام پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔ بی بی کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے بغیر عوام کو سماجی اور اقتصادی انصاف نہیں مل سکتا۔ چوتھا انٹرویو دسمبر 1988 میں لیا گیا۔ جب ساڑھے گیارہ سال کے وقفے کے بعد ملک آئینی راستے پر چل پڑا تھا اور ایک بار پھر جمہوری اداروں اور روایات کو مضبوط بنانے موقع ملا تھا۔ حکومت کو درپیش فوری مسائل کے حوالے سے زاہد کے سوال کے جواب میں بی بی کا کہنا تھا کہ پالیسی کے مسائل در پیش ہیں۔ جن میں عملے کے مسائل، ساختیاتی مسائل اور آئینی مسائل شامل ہیں۔ بی بی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھیں کہ۔ مرکز میں پی پی کی اور پنجاب میں IJI کنٹرولڈ صوبائی حکومت کی موجودگی سے ان کے لئے کوئی مسائل پیدا ہوں گے۔ پانچواں انٹرویو جولائی 1989 میں لیا گیا۔ اقتدار میں آنے کے چھ ماہ بعد بھی بی بی کوئی سمت متعین کرنے میں ناکام رہی تھیں۔ ان کے غیر ملکی دورے کامیاب رہے تھے۔ لیکن داخلی امور پر ان کے کنٹرول کے بارے میں سوالات اٹھائے جا سکتے تھے۔
کرپشن، سیاسی گڑبڑ اور نا اہلی نے حکومت کا امیج بگاڑ دیا تھا۔ لیکن بی بی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مخالفین ان پر جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں۔ چھٹا انٹرویو دسمبر 1990 میں لیا گیا۔ 6 اگست 1990 کو بی بی کی حکومت برطرف کی جا چکی تھی۔ گو کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے ہمیشہ غلام اسحاق خان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا لیکن یہ بات واضح تھی کہ طاقتور جرنیلوں کو بھٹو کی حکومت گوارا نہیں تھی اور وہ موقع کی تاک میں تھے۔
اس سارے قصے میں جنرل بیگ کا کردار کافی مشکوک تھا۔ بی بی کا کہنا تھا کہ خواہ انہیں نااہل کر دیا جائے یا جلا، وطن کر دیا جائے۔ عوام سے ان کا ناتا کوئی نہیں توڑ سکتا۔ ساتواں انٹرویو 1991 میں لیا گیا۔ 20 فروری کو جام صادق کے دور میں سندھ اسمبلی کے پانچ ممبرز کو آدھی رات کو گھروں سے اٹھا لیا گیا تا کہ وہ سینیٹ کے انتخابات میں ووٹ نہ ڈال سکیں۔ اس وقت پارٹی کے سینکڑوں ارکان جیلوں میں ڈالے جا چکے تھے۔ بی بی کا کہنا تھا کہ جام صادق کو وزیر اعلٰی اسی لئے بنایا گیا تھا کہ اس نے پیپلز پارٹی کو کچلنے کا وعدہ کیا تھا۔
اس کتاب میں کل چودہ انٹرویوز ہیں اور آخری انٹرویو جولائی 2002 میں کیا گیا تھا۔ یہ مشرف کا دور تھا اور بی بی اور نواز شریف دونوں جلا وطن تھے۔ بی بی کا کہنا تھا کہ ملٹری ایک ایسا سسٹم چاہتی ہے جو اس کی پالیسیوں اور مراعات کا تحفظ کرے۔ ملٹری ہارڈ لائنرز مجھے سیکیورٹی کے لئے خطرہ قرار دیتے ہیں کیونکہ میں جنوبی ایشیا میں امن کو فروغ دینا چاہتی ہوں اور افغانستان میں ایک وسیع البنیاد حکومت کی حمایت کرتی ہوں۔ کتاب کا تعارف غازی صلاح الدین نے کرایا ہے اور خوب کرایا ہے۔ آخر میں، میں پھر کہوں گی کہ یہ انٹرویوز بہت اہم ہیں لیکن ہر انٹرویو کے ساتھ اس وقت کے حالات کی سیاسی تصویر کشی اور سیاسی تجزیہ جو زاہد حسین نے کیا ہے اس کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔




