بلوچستان اور میڈیا


26  اگست خاموشی سے گزر گیا لیکن ہمیں کسی بھی میڈیا پہ نواب اکبر بگٹی کے ریاستی قتل پہ کوٸی خبر یا پوسٹ نظر نہیں آٸی۔ یہی حال شروع سے ہی بلوچستان کے ساتھ روا رکھا جاتا رہا ہے جسکی وجہ سے اس خطے کے لوگوں میں بہت زیادہ احساس محرومی پاٸی جاتی ہے۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اسکا بڑا مسٸلہ لاپتا افراد کا ہے۔ جس پہ میڈیا اور ہمارے حکومتی ادارے خاموش نظر آتے ہیں۔ کیونکہ اسکے پیچھے جبر اور طاقت کا بے پناہ استعمال نظر آتا ہے۔ میڈیا اور حکومتوں کی بے بسی نے بلوچستان کے لوگوں کی احساسِ محرومی کو بڑھا دیا ہے اور انہیں مزید بے یقینی کی دلدل میں پھنسایا جس نے انہیں طاقت کے خلاف طاقت کے استعمال پہ مجبور کیا۔ اپنے حق اور انصاف کے لیٸے لڑنا سکھایا اور بیرونی سازشوں کو بھی موقع فراہم کیا۔
میڈیا پہ لاپتہ افراد کے مسٸلے کی بازگشت نا ہونے کے برابر ہے لیکن پرنٹ میڈیا پہ ہمیں کچھ نا کچھ پڑھنے کو مل جاتا ہے ڈان اور جنگ اخبار کے ایڈیٹوریل پہ ہونے والی ایک سٹڈی کے مطابق ان دونوں اخبارات نے لاپتہ افراد کے مسٸلے کو بہت کم لیکن بڑے جاندار طریقے سے اٹھایا ہے ریاست کے تینوں ستونوں ( کابینہ، مقننہ اور عدلیہ) کا سختی سے احتساب کیا ہے۔ ڈان اخبار نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوٸے کہا کہ اپنے ہی لوگوں کو لاپتا کرنا بند کریں۔ انکے مساٸل سنیں اور انکا ازالہ کریں۔ آٸین میں جو قوانین موجود ہیں اس پہ عملدرامد کرواٸیں۔ اگر پاکستان کا کوٸی بھی شہری کسی بھی ریاست مخالف ایکٹیوٹی میں ملوث پایا جاتا ہے اسے پکڑ کر آٸین کے مطابق 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کریں۔ اسے اپنے دفاع کا مکمل موقع فراہم کیا جاۓ انکے ورثا کو اطلاع دی جاٸے اور اسکا فیصلہ عدالتوں پہ چھوڑ دیا جاۓ بجاۓ کہ انہیں ماواراۓ عدالت قتل کر دیا جاۓ یا لاپتا کر دیا جاۓ اور ورثا سالہا سال انہیں ڈھونڈتے ہی رہ جاٸیں۔ اور پارلیمنٹ پہ تنقید کرتے ہوۓ دونوں اخبارات نے کہا کہ پارلیمنٹ کو سخت قوانین بنانے چاہٸیں تاکہ سیکیورٹی اور خفیہ اداروں کو آٸنیی داٸرہ اختیار٧ میں لایا جاۓ اور خاص طور پہ انہیں صوباٸی اسمبلیوں کے ماتحت کیا جاۓ۔ لاپتا افراد کے لیٸے اسمبلی میں جو کمیٹیاں یا کمیشن بناۓ گٸے ہیں انہیں فعال بنایا جاۓ ،آزادانہ کام کرنے دیا جاٸے اور پارلیمنٹ کی گزارشات کو سنجیدگی سے لیا جاۓ۔
عدلیہ نے چیف جسٹس افتخار چوھدری کی سربراہی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ لیکن کٸی بار سو موٹو ایکشن لینے پہ کوٸی بھی حکومتی یا فوجی عہدیدار پیش نا ہو عدالتوں نے کٸی نوٹسز بھی بھجواۓ لیکن سب بے سود۔ جسکی وجہ سے ڈان اخبار نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوۓ کہا کہ عدلیہ دہاٸیوں سے فوج کے سیاسی مقاصد کے لٸے استعمال ہوتی آٸی ہے اس لیٸے وہ عدلیہ کے احکامات کی پرواہ نہیں کرتے۔ یہاں ڈان اور جنگ دونوں اخبارات پارلیمنٹ پہ تنقید کرتے ہیں کہ ایسے قوانین ہرگز پاس نا کیۓ جاٸیں جس سے خفیہ ایجینسیوں کو مزید اختیارات دیٸے جاٸیں اور وہ انکا ناجاٸز استعمال بھی کریں اور پارلیمنٹ کی سپریمیسی کو بھی خاطر میں نا لاٸیں۔ سیکیورٹی اداروں کو سمجھاتے ہوٸے لکھتے ہیں کہ اپنی تربیتی سختی کو پاکستان مخالف کارواٸیوں کے لیٸے ضرور استعمال کریں۔ لیکن بلوچستان کے لوگ ہمارے اپنے لوگ ہیں انکے ساتھ اتنی سختی سے نا نمٹا جاۓ کہ مزید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے اپنی سوچ کو بدلیں اور انکے معاملات کو سمجھداری سے حل کریں انکی مشکلات اور تکالیف کا مداوا کیا جاۓ۔ جنگ اخبار اپنے ایک ایڈیٹوریل کا عنوان "خدارا بس کریں” ، "بس بہت ہو گیا” کے نام سے لکھتا ہے کہ ایسے حالات پیدا نا کریں کہ اس ملک کو کسی بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ فوج کو اپنی روش بدلنی چاہٸے یہی جبری گمشدگیاں اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ جاری رہا تو ریاست کمزور ہوتی جاۓ گی۔ اور دشمن قوتوں کو موقع ملتا رہے گا ، وہ دخل اندازی کرتے رہیں گے۔اور آپ کو پتا نہیں کتنے اور فوجی آپریشن کرنے پڑیں لیکن حل صرف انکے مساٸل کو سنیں انکی زمین پہ انکے اختیارات کا داٸرہ بڑھاٸیں انکے وساٸل پہلے ان پہ لگاٸیں انکی زمین کسی اور ملک کو تباہ کرنے کے لیٸے استعمال نا کریں قانون سازی میں بلوچوں کو شامل کریں اور انکے دکھوں کا مداوا کریں۔ کیونکہ جبر اور ناانصافی پہ قاٸم حکمرانی دیرپا نہیں ہوتی۔

Facebook Comments HS