فکشن نگار، خاکہ نویس اور ٹی وی کی اسکرپٹ ہیڈ، سائرہ غلام نبی سے ایک مکالمہ
زندگی ایک عجب داستاں ہے۔ اس کے تنوع میں یکتائی ہے۔ وقت بیتتا ہے، زمانے بدلتے ہیں، مگر تبدیلیوں کے باوجود آپ اپنی جڑوں سے جڑے رہتے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی، جسے سائرہ غلام نبی جڑی رہیں، ادب کی زرخیز، پراسرار دنیا سے۔ لکھنے پڑھنے سے۔
گھر میں موجود کتب خانے سے یہ سفر شروع ہوا۔ بڑوں کی حوصلہ افزائی نے اسے مہمیز کیا۔ قلم اٹھایا، تو افسانے لکھے، ادبی ملاقاتوں کو خاکوں کی شکل میں ڈھالا، جو۔ کے عنوان سے شایع ہوئے۔ ”خواتین“ اور ”شعاع“ جیسی مقبول ڈائجسٹوں کی وہ ایڈیٹر رہیں۔ ایک عرصے معروف جریدے ”آئندہ“ کی نائب مدیر کی ذمے داری نبھائی، مدیر جس کے جناب محمود واجد تھے۔ ”مزاح پلس“ کی بھی وہ نائب مدیر رہیں۔ بعد ازاں ایم ڈی پروڈکشنز (ہم ٹی وی) کی اسکرپٹ ہیڈ کی ذمے داری اٹھائی۔ یہ ایک نئی دنیا تھی، ایک نیا چیلنج تھا، مگر الفاظ سے ناتا گہرا تھا، کہانیوں سے انسیت تھی، تو یہ راہ دشوار ثابت نہیں ہوئی۔ راستہ بنتا چلا گیا۔
گزشتہ دنوں سائرہ غلام نبی سے ایک دل چسپ مکالمہ ہوا، جس میں شہر کراچی بھی زیر بحث آیا، پاپولر ادب بھی، اور موجودہ ڈرامے بھی۔ مکالمہ پیش خدمت ہے۔
اقبال: کراچی آپ کا شہر، اس کا مستقبل کیا دکھائی دیتا ہے، کیا یہ اپنی راکھ سے جی اٹھے گا؟
سائرہ: یہ اب بھی اپنی راکھ میں کندن بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ کراچی والوں نے وہ حالات بھی دیکھے ہیں، جہاں ہنگام زندگی اپنی رفتار سے دوڑ رہی ہے اور گولیوں کی یک دم تڑتڑاہٹ نے لمحہ کے لئے کو فضا کو ساکت کیا۔ دکانوں کے دھڑا دھڑ شٹر گرے، ٹھیلے والے ٹھیلوں کو بے آسرا چھوڑ کر بھاگے، پیدل چلتے لوگوں نے نالوں میں چھلانگ لگائی، ہجوم تتر بتر ہوا، اور اگلے ہی لمحے ہاتھ جھاڑتے، دبکے ہوئے لوگ انگڑائی لے کر ایک بار پھر ہجوم کی تشکیل میں جٹ گئے۔ دکانوں کے شٹر اٹھنے لگے، خریدار خریداری میں مصروف ہو گئے، چائے خانوں پہ ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ گئے۔ ٹھیلے والے ٹھیلوں کو اسی تندہی سے ٹھیلنے لگے، بیک وقت زندگی کو ناپائیدار سمجھنے والے، بھرپور زندگی جینے والے۔ زندہ دلان کراچی کی سادہ دلی حیران کن ہے۔
اقبال: افسانہ نگاری، انٹرویوز، ایک ادبی جریدے کی ادارت، ایک ڈائجسٹ سے وابستگی، وہ کون سا شعبہ تھا، جہاں خود کو حقیقی معنوں میں دریافت کرنے کا موقع ملا؟
سائرہ:کہانیاں پڑھتے ہوئے، کہانیوں کی فضا میں رہتے ہوئے، ان کرداروں کی زندگی جیتے ہوئے یہ کام بہت دل چسپ لگا۔ اور یہ ہی کام، زندگی اور روزگار کا ذریعہ بھی بن گیا۔ تحریر اور تحریر سے جڑی ہوئی صورت حال میں ہر لمحہ گزارنا۔ پرکیف تجربے کے طور پر یادگار بننے لگا۔ سو خود کو دریافت کرنا یا نہ کرنا مسئلہ نہیں رہا۔ اس فضا میں خود کو پانا اہم ہو گیا۔
اقبال: آپ کے انٹرویوز کی کتاب تو قارئین تک پہنچی، مگر افسانوی مجموعے کا انتظار ذرا طویل ہو گیا، کب تک اشاعت کا ارادہ ہے؟
سائرہ: وہ تجربات، جو اس عمر کے آنے تک شعور کا حصہ بنے ہیں، اس کو تحریر کرنے کے لیے مجھے اپنے لیے تھوڑا کھلا وقت چاہیے تھا۔ مصروفیت کی بھاگ دوڑ میں اس سب کو لفظوں میں ڈھال سکنے کے لئے خود کو یکسو نہ کر پائی۔ سو اپنے آپ سے، اپنے کام سے بے اطمینانی ہے۔ یہ بے اطمینانی اپنی کتاب تک پہنچنے نہیں دے رہی۔
اقبال: آپ پاکستان کے ایک بڑے میڈیا نیٹ ورک کے اسکرپٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہیڈ کر رہی ہیں۔ اس ذمے داری کو نبھاتے ہوئے ادب کا تجربہ کتنا کام آتا ہے؟
سائرہ: ادب اور محبت وہ تجربات ہیں، جو آپ کی شخصیت کا حصہ بنیں، تو آپ کے ہر عمل کو نکھارتے ہیں۔ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تو شاید کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ہاں، یوں کہہ سکتے ہیں کہ ادب پڑھنے کے عمل نے ہر تجربے کو تجزیاتی طور پر دیکھنے کی صلاحیت کو جلا بخشی۔ باقی ادب پڑھ کر، یا کتابیں پڑھ کر آپ دنیا کو کتابی اخلاقیات کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں، جو عملی زندگی میں ہماری سوسائٹی میں آپ کو ناکام کرنے کی کامیاب کوشش ضرور ہے۔
اقبال: دل چسپ۔ اچھا، کوئی مشورہ، جو موجودہ اسکرپٹس کو دینا چاہیں؟
سائرہ: ایک ہلکا پھلکا سا مشورہ یہ ہے کہ کہنے کی باتیں ہمیشہ سے یہ ہی کہی جا رہی ہیں، اور یہ ہی باتیں آئندہ بھی کہی جائیں گی، لیکن آپ کے انداز و اسلوب کے الگ ہونے ہی سے بات بنے گی۔
اقبال: کیا ہمارے موجودہ ڈرامے معاشرے کے عکاس ہیں، یا یہ محض تفریح کا ذریعہ بن گئے ہیں؟
سائرہ: مقدار کی زیادتی ہمیشہ معیار پر سمجھوتے کرواتی ہے۔ بہت زیادہ افراد تک اس کی پہنچ بھی اس مسئلے کا سبب ہے کہ ہر طرح کے ناظر کی توقعات اس سے جڑی ہے۔ پھر سرمایہ لگانے والے کی وصولی بھی سب سے زیادہ اہم ہے، اس کے باوجود افسوس ناک حقیقت ہے کہ ناظرین کی بڑی تعداد ڈراموں میں مثبت کے برعکس منفی رویوں کی پذیرائی کرتی ہے۔ ظلم سہتے ہوئے لوگ ڈراموں کے مظلوم کرداروں کو دیکھ کر طمانیت محسوس کرتے ہیں اور اسی کو تفریح طبع کا سامان سمجھتے ہیں، یہ عجیب معاملہ ہے۔
اقبال: واقعی عجیب ہے۔ چلیں، دوسری سمت چلتے ہیں۔ یہ فرمائیں، ہماری خواتین کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے اور اس کا سدباب کیسے ممکن ہے؟
سائرہ: ہماری خواتین کو درپیش سب سے اہم مسئلہ خود آگاہی کا فقدان ہے۔ اپنی عزت، اپنی قوت، اپنی صلاحیت، اپنی مضبوطی کا علم ہی نہیں ہے۔ ہمارا معاشرتی ڈھانچہ اور مردانہ سماج اس کو ”صنف نازک“ سمجھنے اور سمجھانے میں ہی عافیت سمجھتا ہے۔ بہترین عورت یا اچھی عورت کا سرٹیفکیٹ صرف اسی کو دیا جاتا ہے۔ جو اپنی خواہشات کو کچلنا جانتی ہو، جو اپنی شخصیت کی جس حد تک نفی کر سکتی ہو۔
اقبال: اسی تناظر میں اگلا سوال۔ آپ میرا جسم میری مرضی کی موومنٹ کو کیسے دیکھتی ہیں؟ کیا اس تحریک کا سروکار پاکستان کی عام عورت ہے؟
جواب: ”میرا جسم، میری مرضی“ کا نعرہ براہ راست ہونے کی وجہ سے ایک ہٹیلی ضد کی نذر ہو گیا، محض نعرہ بازی بن کر رہ گیا۔ ورنہ سیلف رسپیکٹ کی اس تحریک کو گھر گھر تک پہنچنا چاہیے۔ محض جسم تک محدود کر کے بات سطحی بن کر رہ گئی ہے۔
اقبال: عام خیال ہے کہ موجودہ ادیب بے وقعت ہو گیا ہے، اس کا کیا سبب رہا؟
سائرہ: میں اس خیال سے اتفاق کروں گی کہ آج کا ادیب تخلیقی بے نیازی سے پہلو تہی کرتے ہوئے، اپنی دانش کو قابل فروخت بنانے پر ارتکاز کر چلا ہے۔ آج جو اپنی مارکیٹنگ میں کام یاب ہے، وہ بڑا ادیب ہے۔
اقبال:چلیں، کچھ مطالعے پر بات ہو جائے، غیرملکی ادیب کون سا بھایا، پاکستانی رائٹرز میں کون اچھا لگا؟
سائرہ: معروضی، سادہ اور پرتاثیر اسلوب کے ساتھ آفاقی دانش رکھنے والا فکشن پڑھنا پسند ہے۔ زندگی میں ہما ہمی کی وجہ سے سب تو نہیں پڑھا۔ ٹالسٹائی، مارکیز وغیرہ کے ساتھ سید محمد اشرف، خالد جاوید، اور کہیں کہیں ژولیاں نے بھی متاثر کیا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی ان سب میں اہم ہیں، جن کا ناول ختم کرنے کے بعد ، اسی لمحے دوبارہ پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ اور بھی کئی نام ہیں۔ ہمارے ہاں سب سے اہم نام اسد محمد خان اور حسن منظر کا ہے ”پیار کا پہلا شہر“ ، ”خس و خاشاک زمانے“ تک تارڑ صاحب پسند ہیں۔
اقبال: آپ نے ایک مقبول ڈائجسٹ کی ایڈیٹر کے طور پر پاپولر ادب کو قریب سے دیکھا، یہ فرمائیں، کیا اس کی کچھ افادیت ہے، یا یہ محض تفریح طبع کا ذریعہ ہے؟
سائرہ: تفریح طبع کے لیے اگر کچھ لکھا جا رہا ہے، تو کیا اس کی افادیت کم ہو جاتی ہے؟ میرے خیال میں تو بڑھ جاتی ہے۔ پاپولر فکشن کو میں اسی تناظر میں دیکھتی ہوں۔ یہ وہ راستہ ہے، جس پہ قدم رکھ کر قاری گمبھیر ادب تک پہنچ سکتا ہے۔ اور نہ بھی پہنچے، تو عام آدمی کی محدود ات کے لیے کیا متبادل ہے۔ خالی جگہ پر کرنے کے لیے کیا ہے؟ وہ تفریح طبع کے لیے کہاں جائے؟ خیر اب یہ بھی مسئلہ نہ رہا، اس کی ہتھیلی میں ہاتھ برابر مشین، یعنی موبائل فون میں سب کچھ ہے۔
اقبال: موسیقی کی آپ دل دادہ۔ کن گویوں کو سننا پسند، موسیقار کون اچھا لگا؟
سائرہ: خدا کا شکر ہے کہ ہم اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جو واقعی مدھر گیتوں کو سننے میں دلچسپی رکھتی تھی۔ خوب صورت لے، اور تان پر سماعت کا ارتکاز کرتی تھی۔ جس جس موسیقار نے بانسری کو اپنی دھنوں میں برتا ہے، ان گیتوں کو سن کر دھیان میں ایک ایسی دنیا خلق ہوتی ہے۔ جہاں درد کی میٹھی بے نام کسک جاگ کر دل کے تاروں کو کسی ایسی الوہیت سے جوڑ دیتی ہے، چند لمحوں کے لئے سہی وجد کی کیفیت طاری ہو کر ہر دائمی بے بسی کو پسپا کر دیتی ہے۔







