احسان اکبر: یہ کرشمہ سوز جگر کا ہے


نہیں معلوم ہمارے عہد کے ناقدین کو اس کا احساس ہے یا نہیں مگر مجھے لگتا ہے کہ احسان اکبر کے فن کی تحسین کے باب جو کچھ ہونا چاہیے تھا وہ اب تک نہیں ہوا۔ یہ شاعر اپنے مزاج اور قرینوں میں مختلف بھی ہے اور تخلیقی سطح پر اتنا صاحبِ توفیق بھی کہ اسے ہم عمر ہم عصروں کے ساتھ وقت پر زیر بحث لایا جاتا تو کئیوں سے بڑھ کر رفعتِ مقام پاتا۔ اوروں سے کیا شکوہ کہ اس شاعر کا اپنا معاملہ ” اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے” والا رہا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کی پہلی کتاب رواں صدی کے دوسرے برس میں کہیں جا کر شائع ہونے کی بہ جائے جاچکی صدی کی ساتویں دہائی کے آغاز یا وسط میں آجاتی۔ مگر ہوا یہ کہ احسان اکبر اپنی حجابی طبیعت کے سبب یا پھر فن کے معاملے میں حد درجہ محتاط ہونے کی وجہ سے ایک طرف بیٹھے رہ گئے۔ اُس زمانے میں اردو نظم ہو یا غزل اس پر طرح طرح کے مباحث قائم کیے گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جس میں جدید نظم کا خوب چرچا ہوا اور غزل کا مزاج بھی بدل رہا تھا جن شاعروں کی کتب شائع ہو چکی تھیں، ان کے نام اور کام ان مباحث کا حصہ ہو رہے تھے۔ احسان اکبر لکھنے کی طرف تو مائل رہے مگر کتاب کی اشاعت ان کی ترجیح نہ ہو سکی۔ اب اگر ان مباحث کو اُٹھا کر دیکھا جائے تو ان میں وہ کہیں نہیں ہیں۔ نئے لوگ جن کاکام رواں صدی کے آغاز میں شائع ہوا، وہ احسان اکبر کو اپنے استاد کا سا احترام تو دیتے ہیں مگر اپنے ساتھ ان کے کام کا ذکر نہیں کرتے کہ انہیں تو اپنے ہم عمر ہم عصروں سے تقابل چاہیے۔لہذٰا یہاں بھی نظر انداز ہونے لگے۔
یہ جو میں نے اوپر لکھا ہے کہ احسان اکبر مختلف شاعر ہیں تو ایک خیال آتا ہے کہ کہیں یہ مختلف ہونا ہی ان کی فوری شناخت قائم ہونے میں رکاوٹ نہ رہا ہو۔ احمد ندیم قاسمی نے اپنے ایک مضمون "اِک شرر پیراہن خاشاک میں لپٹا ہوا” میں لکھا تھا کہ وہ جو عام ڈگر سے ہٹے ہوئے شاعر ہوتے ہیں انہیں پہچاننے میں وقت لگتا ہے ۔ اس ضمن میں انہوں نے دو مثالیں دی تھیں؛ ایک غالب اور دوسرے اقبال۔ غالب کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ درباری شاعری کے ماحول میں انہوں نے آفاقی شاعری کی مگر مدت تک "یکے از شعرائے دہلی” کہلاتے رہے۔ اور اقبال کا معاملہ یہ تھا کہ انہیں واعظ اور مبلغ سمجھا جاتا رہا۔ یہ راز کہیں بعد میں کھلا کہ بیسویں صدی میں شاعری کو انہی نے وقار و اعتبار بخشا تھا۔ قاسمی صاحب نے ان دو مثالوں کے ساتھ تیسری مثال مجید امجد جیسے خلاق شاعر کی جوڑ دی تھی۔
ان امثال کے ساتھ اگر میں احسان اکبر کا ذکر کر رہا ہوں تو یوں ہے کہ وہ محض "یکے از شعرائے اسلام آباد” نہیں ہیں؛ بس یوں ہے کہ اپنے وقت پر جیسی اُن کی شناخت بننی چاہیے تھی، ویسی بن نہیں پائی؛ جی، نظم اور غزل دونوں میں۔ خیال کی ندرت، زبان کی پختگی، سلاست، روانی، بندش اور کفایت لفظی تو سامنے کے حوالے ہیں مگریہ سب جس قرینے سےاُن کے فن کا حصہ ہوتے رہے ہیں، یہ جادو بس ان ہی سے خاص ہے۔ان کے ہاں خیال تصویر بنتا ہے، تصویر متحرک ہوتی ہے اوربیان میں کمال درجہ کی لطافت اور نغمگی کی تاثیر ایسی ہے کہ لفظ لفظ روح سے مکالمہ کرتا اور لہو میں دوڑنے لگتا ہے۔یقین نہ آئے تو ان کی ایک غزل کے یہ اشعار پڑھ لیجئے۔ چلتے چلتے نہیں ذرا الگ تھلگ بیٹھ کر اور پورے وجود کی حضوری کے ساتھ ۔
مجھے ‘لا’ کا سہل مقام تھا، وہاں تَرک ہی سے تو کام تھا/یہ تو ترکِ تَرک ہے ہمت اس کی مجھے ابھی نہیں ہو رہی
یہ گزر جو فن میں اثر کا ہے، یہ کرشمہ سوز جگر کا ہے/یہ مقام عرض ہنر کا ہے کوئی دل لگی نہیں ہو رہی
یوں سخن جہان کے کہہ گیا پہ میں اپنی بات سے رہ گیا/کوئی لفظ ٹوٹتا ہے کہیں، مری بات ہی نہیں ہو رہی
یقین جانیے کہ آپ کو غزل کایہ مزاج کہیں اور نہیں ملے گا۔ اب ذرا اس زمانے کا گمان باندھیے جب اس صنف کا مزاج مرتب ہو رہا تھا۔ پھر جست لگا کر اس نئے زمانے میں آ جائیں کہ جب اردوغزل کو سمجھنے اور زیر بحث لانے کے لیے اس کے وجدانی حوالے نہیں بلکہ سماجی، سائنسی اور عصری حوالہ جات زیادہ اہم ہوتے چلے گئے ہیں اور ان خرابیوں کے تخمینہ لگائیے جو اس صنف سے وابستہ ہوئیں۔جی، میں جس طرزعمل کو نشان زد کرنا چاہتا ہوں اس کے تحت غزل کی صنف کی اپنی جمالیات اور مزاج میں ایسی تبدیلیوں کے جتن ہوئے جو معنی کی فوری اور مکمل ترسیل کو ممکن بنا دیتے ہیں۔ ایسا بہ طور خاص ماضی قریب میں ہوا جب فکریات کی بنیاد پرہمارے ہاں باقاعدہ گروہ بندی اور جماعت سازی کوادب سازی کے لیے اختیار کیا گیا اور اس گروہی طرز عمل کو نہ صرف تحسین کی نظر سے دیکھا جانے لگا، اس ڈسپلن کے تحت ادب لکھنے کے ضابطے بھی بننے لگے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ غزل پر جب یہ دباؤ بڑھا تو وہ اس باب میں کچھ زیادہ تعاون پر آمادہ نہ ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اپنے اپنے ایجنڈے کے لیے اسے استعمال کرنے والے مایوس ہو کر اپنا سارا زور نظم اور افسانے پر صرف کرنے لگے۔اُس زمانے تک آتے آتے، کہ جب احسان اکبر نے اپنا تخلیقی سفر آغاز کیا تھا، صورت حال ایسی ہو گئی تھی کہ بہ قول جیلانی کامران:
"ہمارے عہد میں جو انداز فکر اور طریق شناخت مقبول ہوا تھا اس میں کئی ایک خامیاں تھیں لیکن ان خامیوں کو دور کرنے کی بجائے اسی روش پر شاعری کی پہچان ہوتی رہی اور شاعری کو حالات زمانہ کے حوالے سےسمجھنے اور لطف اندوز ہونے کی عادت اپنائی گئی اور اسے معیارات کے طور پر بھی قبول کیا گیا ۔”
اچھا، ایسے میں شاعری کے ساتھ جو ہوا سو ہوا افسانہ ردعملی کا شکار ہوا۔ اس میں سے کہانی کا وہ چلن جو بہت کچھ سجھاتا تھا مات کھاتا گیا اور اس کی بہ جائے ایسی علامتوں کا استعمال عزیز ہو گیا جو معنی سجھانے کی بجائے اُن کا اعلان کرتی تھیں ۔ یہ بھی، ایک لحاظ سے اس اسی طرز عمل کی توسیع تھی ،جس کا یہ رد تھی۔ کہنے کو یہ دونوں قسم کا ادب ایسا آئینہ تھا جس میں شاعر اور ادیب اپنے سماج کا چہرہ دکھاتے تھے مگر کیا فی الاصل ایسا ہی تھا ؟اور اگرایسا تھا تو وہ کیا تھا کہ لکھنے والے اپنے تخلیقی عمل میں کچھ رخنوں کو پاکر ان دونوں رویوں سے اوبنے لگے تھے۔
خیر بات غزل کی ہو رہی تھی ، اور اس باب میں یوں لگتا ہے کہ تبدیلی کے لیے اس پر دباؤ ہمیشہ سے رہاہے، یہ کسی حد تک تبدیل ہوتی بھی رہی ہے مگر کیا ایسا نہیں ہے کہ کچھ مدت کے بعد یہ پوری قوت سے واپس اپنے مزاج کی طرف لوٹتی ہے:ایسے تجربوں کو جھاڑ جھٹک کر الگ کر تے ہوئے اور اپنے آپ کو روایت سے الائن کرکے۔یہ باتیں مجھے یوں سوجھی ہیں کہ ’’ہوا سے بات‘‘اور ’’شائگان‘‘ میں نظموں کے ساتھ شامل احسان اکبر کی غزلیں ہوں یا کسی مجموعے کا منتظر ہوتی نئی غزلیں،مجھے کہیں نہیں لگا کہ وہ غزل کے ساتھ اس سطح پر جاکر چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں۔ ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے مگر وہ یہ سب کچھ غزل کے مزاج میں رچ بس کر کہتے ہیں اور کچھ ایسے قرینے سے کہ اس صنف کی جمالیات میں ایک نیا علاقہ ایزاد ہو جاتا ہے ۔
کیا یہ بات پرلطف نہیں ہے کہ احسان اکبرکی شاعری اور بہ طور خاص ان کی غزل کو پڑھتے ہوئے،ان کی فکراتنی غلبہ آور نہیں لگتی کہ غزل کا اپنا مزاج ہی بدل کر رکھ دے۔ یہ الگ بات کہ وہ فکری آدمی ہیں۔جی، اپنے ادبی سفر کے عین آغاز سے ہی ان کا ایک علاقہ فکریات رہا ہے۔ انہوں نے بتا رکھا ہے کہ جب وہ پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے کر رہے تھے ہر کہیں قرۃ العین حیدر کے ناول”آگ کا دریا” کا شہرہ تھا اور اس ناول کو لے کر وطنیت اور قومیت کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے تھے تو ان کا موضوع کلچر اور ثقافت بنا اور ان کے ناتے پاکستان سے جڑ گئے تھے۔تاہم یہ موضوعات ان کے ہاں ادب اور ادیب کا قضیہ ہو کر آرہے تھے کسی سیاسی جماعت کے کارکن کا مسئلہ ہو کر نہیں۔ وہ اپنی طویل نظم "روشنی کے خواب ” میں پوچھ رہے ہیں :
"میں کن انات میں زندہ ہوں/لمحہ حال کا کیا ہے/میں صدیوں کی اگر توسیع ہوں تو میرا کلچر/میرا جی اٹھنا/مر مرا جانا/لمحہ بن کے کھل جانا/زمانے کے افق آثار دشتِ نارسا پر/اپنے ہونے کی گواہی لکھتے رہنا/کیا نہیں اور کیا ہے؟/تارے میں کہاں پر ہوں؟” ـــــــــــــــــــ (فنون ، لاہور ۔ نومبر 1977)
احسان اکبر ادبی تہذیب کے آدمی ہیں اور سماج کے تہذیبی اور ثقافتی مطالعے کو ادبی جمالیات کے تحت رکھ کر فن بنانے پر قادر۔ وہ جو فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ موضوع بغیر خوبیء اظہار کے ناقص ہے اور اظہار ،موضوع کی خوبی کے بغیر بےمعنی،تو یوں لگتا ہے کہ احسان اکبر اس کے دِل سے قائل ہیں اور اسی پر عامل۔ احسان اکبر کی غزل کو پڑھتے ہوئے ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک مختلف دنیا میں داخل ہو رہے ہیں۔ شاعر کے خیال کی دنیا؛ وہ دنیا ہماری دیکھی برتی ہے۔ ویسی مگر فی الاصل اس سے مختلف ۔ جی جو ہمارے تجربے میں رہی اس سے مختلف اور بہتر ۔ کہہ لیجئے احسان اکبر کی دنیا امکان کی دنیا ہے۔ یہی وہ دنیا ہےجس کی طرف ہمارایہ شاعر ایلیٹ کی طویل نظم "ویسٹ لینڈ” کی آخری سطور پڑھ کر گیا تھا اور بیسویں صدی کے اواخر میں یہ لائنیں لکھی تھیں۔:
"ایلیٹ شانتی شانتی بولتا ہے/شانتی ڈھونڈتے ہو تو آؤ ہمیں ملو/ہم جو آباد یاں پانیوں کے کنارے بسائے ہوئےکشت جاں سینچتے تھے۔”
احسان اکبر کا کہنا ہے کہ ثقافتی اور تہذیبی مطالعے انہیں مرغوب ہیں ۔انہی کے وسیلے سے وہ اپنے سوالات نظم کی صورت سامنے لاتے رہے ہیں ۔ ایلیٹ کو پڑھنا ہو یا اس کی معروف نظم "لو سانگ آف جے الفریڈ پرو فروک” کا اردو شاعری میں ترجمہ یا پھر ان کی اپنی نظم نگاری ان کے پیچھے یہی ثقافتی مطالعے محرک ہوتے رہے ہیں۔ اس کا اندازہ ان کی ایک نامکمل طویل نظم "امن:خواب گیتی” کے مطالعے سے لگایا جاسکتا ہے۔ اردو کی طویل ترین نظم جو امن کے ناتے عالمی اور علمی تہذیبی فکری یافتوں کا مطالعہ ہو گئی ہے۔ اس نظم کو انہوں نے 1987ء میں لکھنا آغاز کیا تھا اور اس کے کچھ حصے عراق کے روایتی ادبی میلے کے عالمی مشاعرے”مربد الشعری الثامن” میں پڑھے تھے۔میں نے کہا نا! کہ احسان اکبر کا پورا فن ابھی ہمارے سامنے نہیں آیا ۔ یہ نظم اور کچھ اور نظمیں ایسی ہیں کہ جنہیں پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے اس شاعر کا جتنا تخلیقی وجود ہم دیکھتے رہے ہیں وہ بے شک کم قامت نہیں مگر ان کا مکمل وجود تو کہیں پوشیدہ ہے بالکل اس گلیشئر کی طرح جوکسی پہاڑ سے ڈھلک کر گہرے پانیوں میں اتر گیا ہو اور پانی سے باہر اس کا بہت کم حصہ نظر آرہا ہو۔
احسان اکبر نے اب تک جتنی شناخت بنائی ہے اپنی نظم ہی کی وجہ سے بنائی ہے اور شاید اس کا سبب یہ ہے کہ جو تہذیبی اور ثقافتی سوالات تخلیقی سطح پرانہیں بے چین رکھتے تھے وہ نظم کا مکمل طور پر حصہ ہوتے رہے ہیں۔ میں نے اپنے تئیں یہ گماں یوں باندھ لیا ہے کہ قبل ازیں ان کی شاعری کی دونوں کتابوں میں ہماری پہلی مدبھیڑ نظم نگار احسان اکبرہی سے ہوتی ہے۔ ان کی تازہ غزلوں کے زیر نظر مجموعے نے ہمیں ان کی غزل کو پھر سے دیکھنے کی طرف مائل کیا ہے۔ نئی کتاب کے لیے تیار مسودے”بات بھی کوئی ہو” کے کلام کے ساتھ میں نے ان کی وہ غزلیں پھر سے پڑھی ہیں جو پہلے مجموعوں میں تھیں اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ غزل میں بھی احسان اکبر کی توفیقات نظم کے مقابلے میں کم نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ غزل ان کی قدیمی محبت ہے اور وہ غزل گو کے طور پر سامنے اس لیے نہ آسکے کہ وہ "ظہوری” نہیں غالب سے بڑھ کر "خفائی” ہیں۔ خیر ،یہ وجہ رہی ہو یاپہلے بہ طور نظم نگار شناخت بنا لینے کی خواہش؛ ان کی غزل پس منظر میں چلی گئی۔
جیسا کہ پہلے کہا جاچکا اپنے ہم عمرہم عصروں سے پچھڑنے کا نقصان بعد ازاں کے مطالعات سے پورا نہیں کیا جاسکتا مگرمیرا خیال ہے اگر وہ غزلیات کا نیا مجموعہ لے آئیں جس کا مسودہ میں نے دیکھ رکھا ہے تو اس میں اتنی جان ہے کہ احسان اکبر کی غزل پر مکالمہ چل نکلے۔
عین آغاز سے، احسان اکبر غزل کہتے ہوئے، اوروں سے مختلف ہونا چاہتے تھے۔ حالی نے وہ جو روایتی مضامین کو چبائے ہوئے نوالوں کو چبانا کہا تھا تو بہ قول خود ان کے یہ بات اُنہیں بے چین رکھتی تھی لہٰذا وہ غزل میں تجربے کے خواہاں ہو گئے۔اس جستجو کے باب کی کچھ مثالیں چھوٹی بحر میں:
اس آنکھ کی زد میں حرف و معنٰی/وہ لفظ ہٹا کے بات کرنا
فن کار کو چپ سی جب لگی تھی/تب بھی مرا شعر بولتا تھا
لفظوں یہ لکھا تھا نام اپنا/کتنی بھی علامتیں بناتا
آنسو یونہی آگئے پلک تک/جینا مجھے ورنہ آگیا تھا
ہم فاصلے دے کے چل رہے تھے/ساتھ آ ملی واپسی پہ دنیا
ہر قدر پہ طنز کر گیا ہے/دنیا! تیرا بے وفائی کرنا
اس شام کے ساتھ روشنی تھی/اس صبح تھا دوسرا ستارا
چھوٹی بحر کو برتتے ہوئے کہیں وہ حیرت میں لپٹی ہوئی خبر عطا کرتے ہیں اور کہیں ایسی دانش جو دور تک روشنی کی لکیر چھوڑ جاتی ہے۔ احسان اکبر کی غزل گوئی نے 80 ء کے زمانے میں نئی جست لگائی :
کوئی کیسے ترے آجانے کو آنا جانے/تو تو ملنے کو فقط ہاتھ ملانا جانے
آپ کیوں ہو گئے خوشبو کی طرح آوارہ /ہم تو رسوا ہی تھے ایسے کہ زمانہ جانے
جو تری یاد میں آباد ہوں جانے کیا ہوں/جب ترے بھولے ہوؤں کو بھی زمانہ جانے
الفتیں اڑتی ہوا کے نام سے منسوب ہیں/ٹوٹتے پتوں سے بس آنگن بھرا رہ جائے گا
رات بھر میں چاٹ لیں گے کتنی سطحیں حرف کی/صبح تک تقدیر کا کتنا لکھا رہ جائے گا
جہاں جلتے دیے چلتے قدم ہیں/وہیں رشتے وہیں بیگانگی ہے
میان وصل بھی جل تھل تھیں آنکھیں/یہ بارش تو برستی آ رہی ہے
یہ احسان اکبر کی غزل کا وہ زمانہ ہے جب ادبی اور علمی حلقوں میں اُن کی جانب قدرے زیادہ توجہ ہونے لگی تھی اور کہیں کہیں دوسرے اُن کے ہاں برتی ہوئی کیفیات کو اُڑا کر اپنا کام چلانے لگے تھے۔ خیر، اس شاعر کے ہاں جس طرح کوئی کیفیت جمالیاتی قدر میں ڈھل کر مصرع بنتی ہے اس کے لیے تو پوری شخصیت کا خاص آہنگ چاہیے ہوتا ہے؛ ایسا کسی کے تتبع میں کہاں ہو پاتا ہے۔ شخصیت کا یہ خاص آہنگ تو احسان اکبر کو ودیعت ہوا تھا ۔ شخصیت کے اسی آہنگ کا اثر رہا ہوگا کہ ان کے ہاں ہر شعر الگ اکائی ہو کر بھی اگلی منزلوں میں غزل کے دوسرے اشعار سے کیفیت اور مزاج کی سطح پریا بہت زیریں پرتوں میں معنیاتی انسلاکات پیدا کرتے ہوئے مربوط ہونے لگا تھا ۔
جنہیں شوق تھا کہ زوال میں مجھے دیکھتے /کبھی ساعتوں کے وصال میں مجھے دیکھتے
کوئی لڑکھڑاتا ثبات اپنا یقین تھا /کبھی معتقد مرے حال میں مجھے دیکھتے
یہی دیکھتے کہ اک اور عہد گزر گیا/وہ جو فرصت مہ و سال میں مجھے دیکھتے
سبھی جن کو تجھ سے تھے فاصلے غم دہرکے/تجھے دیکھنے کے خیال میں مجھے دیکھتے
میں اک آئنہ جسے توڑتے کبھی جوڑتے /کہ سب اپنی صورت حال میں مجھے دیکھتے
وہ کھیت، کھیت رہیں جن کی خاردار صفیں/انہی میں پھول تھے، دوچار پھول کیا کرتے
تمام جانوں کے دشمن تمام ہاتھ ہوئے /یہ اُمتیں تھیں اب ان کے رسول کیا کرتے
جب ہمارے ہاں لسانی تشکیل کا شور اٹھا اور لکھنے والے زبان میں کئی سطوح پر اکھاڑ پچھاڑ کرنے لگے تھے تو یہ تاثر دیا جانے لگا تھا جیسےہمارے پاس اپنا کچھ نہیں ہے اور ماضی ایک قدیم بنجر تھا جس سے کچھ اخذ نہیں کیا جا سکتا ۔ اردونظم چوں کہ ثقافتی لہروں سے نمو پاتی اور بدلتی رہی ہے اس لیے وہ کچھ اور بدلی مگر غزل کی اپنی تہذیب اتنی مستحکم ہے اس پر اگرچہ خوب چرکے لگائے گئے مگر یہ اپنے قدموں پر اور اپنے وقار کے ساتھ قائم رہی۔ہاں اگر اسے کہیں بدلنا ناگزیر ہوتا بھی تو بہت غیر محسوس طریقے سے بدلتی؛باہر سے بھی اور اپنے بھیتر سے بھی۔ جہاں نئے نئے استعارے وضع ہوئے وہیں نئی صداقتیں غزل کے بھیتر سے بولنے لگیں۔ احسان اکبر نے غزل کی تہذیب کے ساتھ چھڑ چھاڑ نہیں کی اور اس کے بھیتر میں اپنے وجود کا آہنگ داخل کر دیا۔ اُس وجود کا آہنگ جو نئے زمانے کے بدلتے موسموں کا مزہ چکھ رہا تھا ۔
نوع انسانی کی تاریخ کے یکساں پلڑے /اک میں خوں منجمد اور ایک میں خالی مٹی
قصاص اگلی صدی تک ابھی اٹھا رکھیے/جو خون بہتا رہے خوں بہا میں رکھا رہے
دیے کا کام ہے اپنی ہی لو میں گم رہنا/کسی مزار پہ ہو یا سرا میں رکھا جائے
نظم کے ساتھ رواں صدی میں بھی وہ غزل کہنے کی طرف راغب رہتے ہیں۔ کچھ سماجی، سیاسی اور ثقافتی تلخ سوالوں کے علاوہ سریع السیر تہذیبی زوال کے صریح اور سامنے کے احوال ایسے تھے جنہیں کسی اور قرینے سے کہا جاتا تو بات اُتھلی ہو جاتی، انہیں احسان اکبر کی غزل کا مصرع قبول کرتا تھا اور وہ بھی یوں کہ ان کی تاثر فضا میں تلخی کی تانت پیدا نہیں کرتی بدن بیچ اترتی اور اندر سے بدلنے کی تاہنگ پیدا کرتی تھی ۔
ہمیں زمین بہت کھینچتی ہے اپنی طرف /اب ایسے لوگ کہاں پورا قد نکالتے ہیں
عروجِ خاک فلک کو بھی راس آتا نہیں /زمین والے بھی اپنا حسد نکالتے ہیں
بہت سے غیر ذِمہ دار ، ذَمہ دار تھے اس کے/وطن ایسے ہوا اپنا خراب آہستہ آہستہ
جہاں تھا توڑنا دستور کا بھی اِک دستور /وہاں ہمارے تمہارے اصول کیا کرتے
"ہوا سے بات” سے لی گئی اسی غزل کا ایک اور شعر ہے مضمون وہ نہیں جس کا اوپر ذکر ہوا اور فضا بھی الگ بناتا ہوا ، اس میں شاعرانہ تعلی بھی ہے جو غزل کی روایت کا حصہ ہے مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ احسان اکبر کے ہاں لفظ محترم ہے اور خیال بھی ، اس لیے کہ لفظ ہو یا خیال اس شاعر کے حسی منطقے میں رواں شفاف پانیوں سے دھل کر اُجلا اور تازہ ہو جاتا ہے۔
بنے بنائے خیالات ہیں نہ لفظ احساں/ ہم اپنی گفت سے اپنی سند نکالتے ہیں
یہیں دھیان "شائگاں” کی اس غزل کی طرف چلا گیا ہے جو میری محبوب غزلوں میں سے ایک ہے۔ یہ اسلوب آپ کو احسان اکبر کے ہاں ہی ملے گا۔
وصالِ یار کی بھی قید سے رہا ہوا میں/ہوا تھا قیس کبھی ایک دوسرا ہوا میں
اسی مدار میں گردش مری تمہاری تھی/تم اپنی دُھن میں گرے تم کو دیکھتا ہوا میں
محبت ایسے وجودوں میں ڈال دی گئی تھی/وہ بات کرتا تو لگتا تھا بولتا ہوا میں
اب اگر میں یہ کہتا ہوں کہ احسان اکبر کی غزل تازہ اور نئے لہجے سے عبارت ہے تو اس سے قطعاً یہ مراد نہیں ہے کہ وہ شاعروں کی اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے غزل کی لسانی تہذیب کو توڑ کر یا اس کے مزاج میں اکھاڑ پچھاڑ کرکے تازگی پیدا کرنے کے جتن کیے۔ احسان اکبرکا فن یہ ہے کہ انہوں نے استعاروں اور علامتوں کی بنی بنائی دُنیا سے ہاتھ اُٹھا کر انہیں یوں برتا ہے کہ وہ تازہ ہو گئے ہیں اور اظہار کو اپنے وجود کے آہنگ میں لا کرفنی قرینوں کے حوالےکرتے ہوئے اپنا نیا لہجہ ایجاد کرلیا ہے۔ کہہ لیجئے ان کی غزل محض غزلیہ روایت میں کہے گئے چند اشعار کا مجموعہ ہے نہ اس روایت سے اغماض برت کر نیا ہونے کی جھونک میں چونکاتے ہوئے الفاظ کا گچھا ۔ احسان اکبر کا جہانِ معنی ان کا ماحول بھی ہے اور ان کے خواب اور ذاتی اور اجتماعی زندگی کے تجربے بھی۔ جن تجربات سے ہم اور ہمارا یہ شاعر گزرا ہے یہ بہت تلخ سہی اور وہ خواب جو اجتماعی زندگی کے حوالے سے دیکھے گئے تعبیر آشنا نہ ہو پائے مگر اس کے باوجود احسان اکبر کے طرز عمل کو آنکنا ہو تو اس مسودے کا انتساب پڑھ لیجئے جسے ابھی کتاب ہونا ہے، یہاں مقتبس کیے دیتا ہوں:
"ایک زمانے کے نام/جو ظہور میں نہیں آرہا/جسے دیکھنے کو میں رُک گیا ”
تو یوں ہے کہ احسان اکبر کی غزل اسی رُکے ہو ئے آدمی کی غزل ہے ۔ جی رُکے ہوئے آدمی کی غزل ، جو رواں منظر نامے میں نہیں اُس زمانے کی طلب میں رُکا ہوا ہے جسے ابھی ظاہر ہونا ہے۔
عجیب قصہ ہوا صبح کے پڑاؤ پر/گزر رہے تھے برابر سے قصہ خوان اور وقت
نغمہ اور لے احسان اکبر کے شعر کا حصہ ہیں۔ وہ نظم کہیں یا غزل اس سے زیادہ دور نہیں جاتے۔ ان کی نظمیں اٹھا کر دیکھ لیجئے ؛ جی آزاد نظمیں، اُن میں بھی ردھمک لائینز ضرور ہوں گی۔ جن لکھنے والوں نے احسان اکبر کی نظم کا اثر قبول کیا وہ بھی اس قرینے کو برتتے نظر آتے ہیں ۔ اُن کی غزل میں یہ نغمہ اور لے کہیں کو ایک وارفتگی میں ڈھلتے ہیں اور کہیں وجود سے چھلکتے ہوئے سوزمیں :
کنارہ گیر ہو، دلگیر ہو احساں کئی دن سے /چھلک پڑتے ہو کیوں یکدم کسی نے کچھ کہا بھی ہو
اس جادو کا اعجاز ایک اور غزل سے ذیل میں اقتباس ہونے والے اشعار میں دیکھیے:
وہی کوچہ گردی نصیب کی، وہی گشت ، در بدری مری/وہی سرگرانیاں آپ کی وہ سدا کی بے بصری مری
مرے عیبِ ذکر و کلام میں ، مری نکتہ چینی دوام میں /جو خبر تھی عام و خاص میں وہ تھی صرف بے خبری مری
میں طلب کے جس بھی سفر پہ تھا اسی مہربان کے در پہ تھا/وہ تو دل کے بابِ اثر پہ تھا ، مری لے میں بے اثری مری
مجھے افتخار ضرور تھا کہ میں رات تیرے حضور تھا /اسی بات کا تو سرور تھا یہ جو تونے ہامی بھری مری
اُسی بے گمان کی چاہ کی، کبھی جس نے دل میں تھی راہ کی/اُسی کی روش سے نباہ کی، رہی شاخ ِ زخم ہری مری
دیکھا جاسکتا ہے کہ احسان اکبر کی غزل میں قافیہ کی اندرونی بنت ایک رو میں آتی ہے ، یوں نہیں جیسے کوئی بن بن کر اور بنا بنا کر لکھ رہا ہو۔ اس کے لیے انہیں کوئی محنت نہیں کرنا پڑتی ۔ یہ قرینہ اُن پر یوں پانی ہے کہ یہ ان کے مزاج کا حصہ ہے ۔ کہیں کہیں اندرونی قافیہ کی بنت کے بغیر بھی اندرونی نغمگی ابھاری گئی ہے:
جو اب ہر زندگی زنجیر اور نخچیر کرتا ہے /کبھی اس نے بھی قیدی کی فغاں رو رو پڑھی برسوں
اُدھر اب آنسوؤں والا ہر اک زینہ نہیں کھلتا/دلوں میں راہ کی ورنہ یہی صورت رہی برسوں
احسان اکبر کی غزل ہمیں اس لیے بھی خوش آتی ہے کہ وہ زبان اور اس کا محاورہ سنبھال کر برتتے ہیں۔ کفایت لفظی کو شعار کرتے اور خیال برتتے ہوئے پورے تہذیبی اور تاریخی پس منظر کو ذہن میں تازہ کر دیتے ہیں ۔
وہاں شاہوں ، سپاہوں کو تحفظ کے مسائل ہیں/جہاں سمجھی گئی کافی بس اک بارہ دری برسوں
ہمارے نام پر احساں جو اپنے ساتھ بیتی ہے /کوئی قوم اور جو ہوتی پڑی خوں تھوکتی برسوں
گزشتہ دنوں ایک تقریب میں احسان اکبر نے حلقہ ارباب ذوق کے تنقیدی جلسوں کا ذکر کیا اور کہا کہ "دیکھیے کتنی عجیب اور ناروا بات ہے کہ حلقہ میں غزل پر تنقید کا آغاز ہی اس کے مرکزی خیال کی تلاش سے ہونے لگا ہے۔” پھر سوال کیا:” کیا غزل کے موڈ بھی ہوا کرتے ہیں؟” یہ روش احسان اکبر کے لیے مباح اور غزل کا لازمہ نہ سہی مگر لطف یہ ہے کہ یہی روش کہیں کہیں غزل کی خوبی بن کر ظاہر ہوتی ہے ۔ ایسا احسان اکبر کے ہاں بھی ہوا ہے اور متعد بار ہوا ہے ۔ اس باب کی ایک مثال "شائگاں ” کی وہ غزل ہے جس کا مطلع ہے :
شعورِ عہد نہ ہو اپنی آگہی کوئی ہو /بہت جو شور ہے ممکن ہے آدمی کوئی ہو
ایک اور گفتگو میں احسان اکبر نے حمید نسیم کے حوالے سے بتایا تھا کہ 1970ء کے کہیں آس پاس انہوں نے احسان اکبر کی نظم "دابی پور کماد کی” پڑھ کر کہا تھا کہ "جو زبان اس نظم میں برتی گئی ہے یہی مستقبل کی اردو ہو گی۔” اردو عین مین ویسی بنی یا نہیں بنی تاہم لگتا ہے کہ اس روش پر چل نکلی ہے مقامی زبان کے الفاظ اردو کا حصہ ہو رہے ہیں ۔ شاید یہی سبب ہے کہ پاکستان میں اردو زبان کا مزاج ،ہندوستان میں بولی جانے والی اردو سے مختلف ہوتا جارہا ہے۔ تخلیقی سطح پر بھی مقامی زبانوں سے اکتساب کو قبول کیا جانے لگا ہے ۔ خود احسان اکبر کی غزل میں بھی مقامی لفظ دخیل ہوئے ہیں۔لطف کی بات یہ ہے کہ وہ ہندی زبان کی کومل لفظیات کو برتنے سے بھی احتراز نہیں کرتے ۔ کہیں کہیں تو ہندی رنگ الگ سے بول رہا ہوتا ہے:
"اے سنت مہنت گرنتھیو! ذرا دیکھو پتر نکال کے/کس یگ انیائے کا انت ہو ، کب آئیں سمے پرتال کے/کوئی سنگ ہمارے کھیلتا دُکھ ہم سے مل کر جھیلتا/تب جانتا بھیگی آنکھ میں رکھ لینا دیا اجال کے/تم ساتھ نہ تھیں سنجوگتا! کوئی کاہے کڑیاں بھوگتا/سو پڑ رہے پران تیاگ کے، سو رہ گئے ڈھالیں ڈال کے”
خیر ،یہیں یہ اضافہ بھی کرنا ہے کہ غزل کے مزاج سے ہم آہنگ زبان اور زبان اور خیال کا برتر سطح پر استعمال یہ دونوں احسان اکبر کے ہاں تخلیقی سطح پرتوجہ پاتے رہے ہیں ۔ وہ اس باب میں چونکائے بغیر تجربات کرتے ہوئے نظر بھی آتے ہیں تاہم ایسا کہیں نظر نہیں آئے گا کہ غزل کی کوملتا متاثر ہوئی ہو ۔
توصاحب !یہ ہیں احسان اکبر، جنہوں نے نظم کہی تو الگ مزاج بنایا اور غزل کہی تو بھی اپنی ترنگ میں اور اپنے ہی رنگ میں ۔ ایک عالم شاعر مگر ایسے کہ انہوں نے علم کو غزل کے مزاج پر لادا نہیں، ایک فکر میں پورے وجود سے اُترا ہوا شاعر مگر اپنے شعر میں فکر کوبالجبر ٹھونسنے کی بجائے اس فضا کا حصہ بننے دیا جو غزل کی فضا ہے۔ یہی سبب ہے کہ احسان اکبر کی غزل پڑھتے ہوئے قاری اس کی محبوب فضا کا حصہ ہو جاتا ہے:
کم علم تھے، ترنگ میں اُڑتے چلے گئے/جو رہ سے بے خبر تھے ، بہت دیر سے اُٹھے
احسان اکبر کا نام ان کی شہر آفاق نظم ’’اک دابی پور کماد کی‘‘یا ’’شام کا نام سویر‘‘ اور ’’ہو اسے بات کرو‘‘ جیسی بار بار پڑھی جانے والی نظموں کے ساتھ تو لیا جاتا رہا مگر اس شاعر کے مجموعی کام کا ذکر نئی نظم اور غزل کی تنقید میں حاشیے پر رہا تو اس کا سبب میں اوپر عرض کر آیا ہوں یہی کہ ان کی پہلی کتاب کہیں 2002ء میں تب آئی جب وہ اپنے ہم عمر ہم عصروں سے پچھڑ چکے تھے۔ کتاب آتی ہے تو آپ ان تذکروں کا حصہ ہو جاتے ہیں جنہیں ناقدین ازاں بعد دہرائے چلے جاتے ہیں ۔ ان تذکروں میں احسان اکبر کہیں نہیں ہیں حالاں کہ وہ گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں اپنی ایک شناخت بنا چکے تھے۔ خیر جو ہوا ، سو ہوا اب اس کا مداوا ہونا چاہیے۔ ماضی کی لکھی ہوئی تنقید میں اب کاٹ پھانس تو ممکن نہیں مگر آج کے ناقدین کو "ہوا سے بات”،” شائگاں” اور ” بات بھی کوئی ہو”پڑھ کر ہی آگے بڑھنا ہوگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments HS