مراد علی شاہ: گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھادی
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی مسلسل پندرہ سال سے سندھ میں برسراقتدار رہی ہے، اس عرصے کے دوران دو وزرائے اعلیٰ رہے، ایک سید قائم علی شاہ اور دوسرا سید مراد علی شاہ۔ پندرہ سال کے اس عرصے میں آدھا عرصہ قائم علی شاہ اور آدھا عرصہ مراد علی شاہ کے حصے میں آیا، دونوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے نیا نہیں، بہت پرانا تھا، قائم علی شاہ تو شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں، جب کہ سید مراد علی شاہ اپنے والد سید عبداللہ شاہ کی وفات کے بعد پیپلز پارٹی سے منسلک ہوئے۔ سید قائم علی شاہ کے دور میں بھی مراد علی شاہ کو وزارت خزانہ جیسی اہم وزارت سونپی گئی تھی، ابھی وہ نئے نئے سیاست میں آئے تھے تو ان کی ایمانداری، سچائی اور کام کی لگن کا چرچا بہت ہوا۔ جب کوئی نئی پروڈکٹ مارکیٹ میں آتی ہے تو اس کے فوائد گنوائے جاتے ہیں، اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، مراد علی شاہ کی مارکیٹنگ بھی کچھ اسی طرح ہوئی تھی۔ پورے سندھ میں ان کے چرچے ہو گئے اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ عبداللہ شاہ مرحوم کے بیٹے تھے تو ان کے دور حکومت میں بہت سے لوگوں کو نوکریاں دی گئیں تھیں اور وہ افسر مراد علی شاہ کے دور میں آ کر بڑے بڑے عہدوں تک پہنچ چکے تھے تو انہوں نے بھی اپنا پرانا قرض اتارنے میں کوئی کمی نہیں کی اور مراد علی شاہ کی واہ واہ کرتے ان کے قافلے میں شامل ہو گئے، اس طرح بیورو کریسی میں بھی مراد علی شاہ کا ایک اچھا خاصا حلقہ بن گیا، لیکن سندھ کی وزارت اعلیٰ پانے کے لیے اتنا کافی نہیں تھا، تو مراد علی شاہ نے پارٹی میں اپنا ایک مضبوط گروپ تشکیل دیا، جس نے قائم علی شاہ کی ناکامیوں کے چرچے عام کرنا شروع کر دیے اور ایک منظم طریقے سے لابنگ کر کے مراد علی شاہ کو وزارت اعلیٰ کا بہترین امیدوار بنا کر سامنے لے کر آئے۔ اس گروپ میں شرجیل انعام میمن نے اہم کردار ادا کیا اور کافی بڑے بڑے نام جو قائم علی شاہ کے بعد سندھ کی وزارت اعلیٰ حاصل کرنے والی فہرست میں شامل تھے، شرجیل میمن ان سب کا پتہ کاٹنے میں کامیاب ہو گئے اور دوسرے دور حکومت میں قائم علی شاہ کو رخصت کر کے آدھے عرصے کے لیے مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا۔
وہ عرصہ ختم ہوا تو دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن آ گئے، جو شاید پیپلز پارٹی کے لیے کافی مشکل تھے، لیکن ایک زرداری سب پہ بھاری۔ تو زرداری صاحب نے بڑی مہارت سے اور اپنی روایتی سیاست کچھ لو، کچھ دو کے بنیاد پر وہ الیکشن بھی جیت لیے، ایک بار پھر سندھ کی وزارت اعلیٰ حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی، آغا سراج درانی، میر نادر مگسی اور مراد علی شاہ کے نام میڈیا پر گردش کرنے لگے، لیکن پارٹی کے اندر موجود مضبوط گروپ کامیاب ہو گیا اور مراد علی شاہ پھر سندھ کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے، اب حالات اور وقت پہلے جیسا نہیں تھا، بلاول بھٹو زرداری بھی بہت زیادہ سمجھدار ہو گئے تھے اور انہوں نے (ظاہری طور پر) پارٹی کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ عوام کو کچھ ڈلیور کیا جائے، مراد علی شاہ نے بھی بڑی سرگرمی دکھائی اور بڑے بڑے اعلانات اور وعدے کیے کہ مجھے پانچ سال پورے دیے جائیں تو میں سندھ کو پیرس بنا دوں گا، وغیرہ وغیرہ۔ حلف لینے کے بعد کابینہ وجود میں آئی تو پہلے مرحلے میں مراد علی شاہ کو وزارت اعلیٰ کے عہدے تک پہنچانے والے سرگرم رہنما شرجیل میمن اور دیگر ساتھی اس میں شامل نہیں تھے، لیکن کہا جاتا ہے پس پردہ سارا سسٹم وہ ہی گروپ چلاتا رہا، جب اس گروپ کو آگے سے کلیئرنس ملی تو ان کو بھی کابینہ میں شامل کر دیا گیا اور پھر مراد علی شاہ مضبوط بن گئے، اب سب کچھ مراد علی شاہ کے ہاتھ میں تھا اور عوام بھی ایک بڑی تبدیلی کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ بدقسمتی سے مراد علی شاہ نے خود کو وزیراعلیٰ ہاؤس، جھانگرا اور بجارا تک محدود کر دیا، دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں جامشورو ڈسٹرکٹ میں بڑی سیاسی ہلچل تھی، پیپلز پارٹی کے خلاف ایک سید جلال محمود شاہ، پیپلز پارٹی سے ناراض سکندر شورو، ملک چنگیز خان و دیگر سیاسی رہنماؤں نے مضبوط اتحاد بنایا، لیکن جامشورو کی سیاست کا محور تصور کیے جانے والے ملک اسد سکندر نے بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے پورے جامشورو ڈسٹرکٹ میں پیپلز پارٹی کو کامیاب کروا کر مراد علی شاہ کو سرخرو کیا، یہاں تک اپنی روایتی قومی اسمبلی کی سیٹ اس نے مراد علی شاہ کی جھولی میں ڈال دی اور مراد علی شاہ نے وہ سیٹ عوام سے دور رہنے والے سکندر راہپوٹو کو دے دی، جس نے کبھی قومی اسمبلی میں اپنے حلقے کے لیے ایک لفظ نہیں بولا۔ یہ الگ بات ہے کہ پورا ڈسٹرکٹ جتوانے والے ملک اسد سکندر کے ساتھ بھی وفا نہیں کی گئی۔
مراد علی شاہ کے پورے دور میں پیپلز پارٹی کو وزارت خزانہ چلانے کے لیے کوئی اہم قابل آدمی نہیں ملا، پورے عرصے میں مراد علی شاہ نے وزارت خزانہ کا قلمدان اپنے پاس رکھا اور وزیراعلیٰ ہاؤس اپنے خاص آدمی سلیم باجاری کے حوالے کر دیا، وزارت خزانہ اور وزیراعلیٰ ہاؤس اب ایک ہی آدمی چلاتا تھا جس کا نام تھا سلیم باجاری۔ سلیم باجاری کے کارنامے کسی سے چھپے ہوئے نہیں۔ مراد علی شاہ کے سارے دور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کی لین دین میں صرف سلیم باجاری کا نام ہی گردش کرے گا، کئی بار ان کے خلاف انکوائریاں شروع ہوئیں لیکن وزیراعلیٰ ہاؤس کے پریشر میں وہ ختم ہو گئیں، اب جیسے ہی پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی ہے تو اندر کی ساری کہانیاں باہر آنا شروع ہو گئیں ہیں۔ سلیم باجاری کے کارنامے بھی منظرعام پر آرہے ہیں تو مراد علی شاہ کی عوام کے ساتھ دشمنی کے قصے بھی عیاں ہو رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مراد علی شاہ کو وزارت اعلیٰ سے اتنا لگاؤ ہو گیا تھا کہ وہ یہ منصب اپنے پاس رکھنے کے لیے کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ حلف لینے کے بعد کچھ عرصے کے اندر ہی ان کو کئی معاملات میں محدود کر دیا گیا اور کہا گیا آپ اپنے ڈسٹرکٹ جامشورو کو دیکھیں باقی سندھ سے آپ کا لینا دینا نہیں، یہاں تک کہ اگر کسی اہم معاملے پر وزیراعلیٰ ہاؤس کا کوئی بیان جاری کرنا ہوتا تھا تو وہ بھی کسی اور جگہ سے ہوتا تھا، مراد علی شاہ کو صرف اتنا کہا جاتا تھا کہ آپ کے نام سے یہ بیان جاری کیا جا رہا ہے، آپ کو بس ہاں میں گردن ہلانا ہے۔
مراد علی شاہ نے سب کچھ قبول کیا صرف ایک ہی اپیل کی کہ مجھے وزارت اعلیٰ سے مت ہٹانا، اپنے پورے دور حکومت میں مراد علی شاہ نے کراچی میں سب سے زیادہ قیام کیا، سندھ میں اٹھائیس اضلاع ہیں یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اپنے پانچ سال دور حکومت میں وہ زیادہ سے زیادہ صرف دس اضلاع میں ہی گئے ہوں گے، وہ بھی جہاں جہاں ان کو اجازت دی گئی ہوگی، جامشورو کا وزیراعلیٰ رہنے کے باوجود مراد علی شاہ نے اپنے ڈسٹرکٹ کے لیے بھی کچھ نہیں کیا، ابھی حکومت کو ختم ہوتے کچھ روز ہی گزرے ہیں کہ پورے ڈسٹرکٹ میں مراد علی شاہ کے خلاف اپنی پارٹی کی جانب سے تحریک شروع ہو گئی ہے، اس کی وجہ کارکنوں کو اپنے حقوق سے محروم رکھنا بتایا جا رہا ہے، جامشورو ڈسٹرکٹ میں سوشل میڈیا پر مراد علی شاہ نامنظور کے نام سے مہم شروع ہو گئی ہے، حکومت کے خاتمے کے بعد دو ستمبر کو مراد علی شاہ اپنے ڈسٹرکٹ آ رہے ہیں اور پارٹی کے سینئر کارکنوں نے ان کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت کے آخری دنوں میں حکومت نے نوکریاں دینا شروع کیں تھیں، جامشورو ڈسٹرکٹ میں مراد علی شاہ کے خاص بندے سلیم باجاری نے صرف تحصیل سہون میں گیارہ سو سے زائد نوکریوں کے آرڈر تقسیم کیے، جس میں پارٹی کارکن کو بالکل نظرانداز کیا گیا۔ اس ڈسٹرکٹ میں ایک ایم این اے اور تین ایم پی ایز ہیں، تین ایم پی ایز میں ایک تو مراد علی شاہ ہو گئے، باقی بچ گئے ملک اسد سکندر، گیانچند ایسرانی اور ایم این اے سکندر راہپوٹو۔ ذرائع نے بتایا ملک اسد سکندر کو صرف پچیس آرڈر دیے گئے، جب کہ گیانچند ایسرانی کو سترہ آرڈر ملے اور سکندر راہپوٹو کے آرڈر بھی سلیم باجاری نے اپنے پاس رکھ لیے۔ پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ جامشورو کے صدر سید آصف علی شاہ مراد علی شاہ کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ ان کو ایک سو سے زیادہ آرڈر دیے گئے، لیکن وہ بھی کارکنوں کے بجائے سہون میں ہی تقسیم ہو گئے۔ ملک اسد سکندر نے تو پچیس آرڈر لینے سے ہی انکار کر دیا اور گیانچند ایسرانی نے سترہ آرڈر لے کر اپنوں میں تقسیم کر دیے۔ سہون میں نوکریوں کی بندر بانٹ کے باعث جامشورو ڈسٹرکٹ میں مراد علی شاہ کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا ہو گیا ہے، اب سوشل میڈیا پر اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ مراد علی شاہ کا حکومت جانے کے بعد پہلی بار حلقے میں آنے پر استقبال نہیں کیا جائے گا، بلکہ احتجاج سے رستہ روکا جائے گا۔ سلیم باجاری نے ڈسٹرکٹ جامشورو میں مراد علی شاہ کی سیاست کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔


