بات ایک شیر کی
ڈھائی کروڑ آبادی والے شہر میں ایک شام شیر سڑک پر نکل آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چھا گیا۔ پہلے سوشل میڈیا پر اس کے مٹر گشت کی وڈیوز چلیں اور پھر ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز شروع ہو گئیں۔
وڈیوز نے رکارڈ توڑ دیے۔ شیر کو روبرو دیکھنے والے پریشان اور ٹی وی پر دیکھنے والے حیران تھے۔
اطراف کی عمارتوں، بالکونیوں، راہ داریوں میں رش لگ گیا۔ کوئی وڈیوز بناتا رہا تو کوئی سیلفیاں۔
ٹی وی چینلز پر چلنے والی بریکنگ نیوز نے پورے ملک میں ہیجان برپا کر دیا۔ ایک اینکر نے تو یہاں تک کہہ دیا :
” شیر کے نکلنے سے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔“
ہر ٹی وی چینل پر بس یہی خبر تھی۔ مگر سوشل میڈیا پر اب میمز بھی بننے لگے۔
طرح طرح کے میمز:
” کراچی میں شیر آ گیا لیکن وہ نہیں آیا جو؟“
”نواز نہ آیا شیر آ گیا“
”ایک اوریجنل شیر جو باپ دادا سے شیر ہی تھا بھاگ گیا، آدھے گھنٹے میں پکڑا گیا“
”دیر آیا درست آیا، دوائی لے کر شیر واپس پہنچ گیا۔“
”بابا جی کہتے ہیں پتر کراچی میں شیر کا پکڑا جانا لندن میں بیٹھے شیر کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔“
ایک طرف شیر کی باتیں تھیں، دوسری طرف خود شیر تھا جسے محکمہ وائلڈ لائف نے چڑیا گھر منتقل کر دیا تھا۔ میڈیا پر کیا چل رہا تھا۔ نیوز۔ ہیجان۔ یا میمز۔ شیر اس سے بے خبر۔ چڑیا گھر کے ایک پنجرے میں آرام کر رہا تھا۔
اس واقعے کے اگلے روز میں چڑیا گھر شیر کا انٹرویو لینے جا پہنچ گیا۔ جب میں وہاں پہنچا تب رش نہیں تھا، اِکا دُکا لوگ ٹہل رہے تھے۔ میں نے موقع کو غنیمت سمجھا اور سیدھا شیر کی کچھار، مطلب پنجرے کے پاس آ گیا۔ شیر کی عمر تین سال کے لگ بھگ تھی۔ یہ مجھے چڑیا گھر کے ملازم نے بتایا اور پنجرے کے پاس چھوڑ کر چلا گیا۔
شیر کسی سوچ میں گم تھا۔ میں اس کے سامنے جا کھڑا ہوا اور اِدھر اُدھر کے بجائے سیدھا مدعے پر آ گیا۔
” میں افراتفری چینل کا رپورٹر ہوں، تمہارا کل کے واقعے پر انٹرویو لینے آیا ہوں۔“
شیر نے مجھے پہلے غور سے دیکھا۔ پھر کوئی تاثر دیے بغیر کہا
” پوچھو۔“
”ہم نے شیروں کو صرف ٹی وی، فلموں میں یا پھر پنجروں میں دیکھا ہے۔ یوں اس بڑے شہر میں۔ سڑک پر کیسے آ گئے؟“
”یہ پہلی بار نہیں تھی جو میں باہر آیا، پہلے بھی آتا رہتا ہوں۔ اس بار میرے مالک سے غلطی ہو گئی اس نے مجھے میرا سوٹ نہیں دیا۔ پرانا سوٹ پھٹ گیا تھا۔ نیا سوٹ آیا نہیں۔ اور خستہ حال پنجرے سے باہر آ گیا اور اس کے بعد کیا ہوا تم جانتے ہو۔“
” تم پہلے بھی آتے رہے ہو!“ میں اس کا منہ تکتا رہ رہ گیا۔ شیر سے میری حیرانی دیکھی نا گئی
” میں ہوا خوری کے لئے اکثر شام کو نکلتا رہتا تھا۔ کلفٹن، سی سائیڈ کا چکر لگانے کے بعد واپس آ جاتا تھا۔ یہ معمول تھا۔
”کیسے ممکن ہے کہ تم خونخوار جانور پنجرے سے باہر آ کر ہوا خوری کرو، یہ اجازت کس نے دی؟“
”آزاد فضا میں ہوا خوری کرنے پر کیا صرف انسانوں کا حق ہے۔ ہمیں نہیں۔ اور اس کے اجازت کی کیا ضرورت۔ بس مالک کا مہربان ہونا کافی ہے۔“ شیر نے جواب دیا۔
”مگر کل تمہاری وجہ سے پورا شہر، بلکہ پورا ملک سہم گیا تھا۔ ڈر گیا تھا۔ تم نے تو ایک شخص پر حملہ بھی کر دیا تھا؟“ میں نے سوال داغا۔
” اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا۔ یہ سب آپ کا کیا دھرا تھا۔ آپ میڈیا والوں کو بس ایسی ہی خبریں چاہئیں۔ چٹ پٹی۔ ہیجان خیز۔ دوسری بات کیا میں نے اس شخص کو کوئی نقصان پہنچایا؟“
شیر نے الٹا مجھ سے سوال پوچھ لیا۔
” جی نہیں۔ اچھا یہ بتائیں تم کس کے پاس تھے۔ میرا مطلب مالک کون ہے؟“
”ہم مالک کا کبھی نام نہیں پوچھتے۔ تربیت کے دوران ہمیں سختی سے منع کیا جاتا ہے۔ میرا مالک بہت اچھا تھا۔ بس کھانے کو کم دیتا تھا۔ اور کمزور پنجرے میں رکھا ہوا تھا۔ اس کے بدلے مجھے باہر جانے کی اجازت دے رکھی تھی۔“
” جب تمہیں پنجرے سے نکلنے کی اجازت تھی، تو کیا کبھی بھاگنے کا خیال نہیں آیا؟“ میں نے پوچھا۔
” جی نہیں۔ میں جنگل کا نہیں، پالتو شیر ہوں۔ اور جن کے گلے میں پٹہ پڑ جائے وہ کبھی بھاگ نہیں سکتے۔“
” تم یہاں چڑیا گھر میں ٹھیک ہو یا واپس مالک کے پاس جانا چاہو گے۔“
میرے سوال پر شیر کچھ دیر چپ رہا پھر کہنے لگا
”کیا فرق پڑتا ہے۔ مالک کے پاس رہوں یا چڑیا گھر میں۔ غلام کہیں بھی رہے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ غلام کے لئے دونوں جہنم ایک جیسے ہوتے ہیں۔ !“
اس سے پہلے کہ میں اس سے مزید سوال کرتا۔ اس نے آس پاس کا جائزہ لیا اور پھر مجھے پاس آنے کا اشارہ کیا۔ میں پنجرے کے قریب آ گیا۔ اس نے اور قریب بلایا۔ میں ڈرنے لگا۔ مگر ہمت کر کے سلاخوں کے پاس پہنچ گیا۔ شیر نے کہا
” سنو میں اب نہانے جا رہا ہوں۔ اب جو تم دیکھو وہ کسی کو مت بتانا۔“
میں اس کی بات پر غور کر رہا تھا کہ اس نے زپ کھول دی۔ کھال کے اندر سے کتا نکلا اور پنجرے کے پچھلے دروازے سے نہانے گیا۔


