بجلی کا بل دماغ کو ”چڑھ“ گیا ہے


خوش اور شادمان قوموں کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 103 ہے۔ درجہ بندی کے معیار پر بے شمار سوالات کے باوجود بے یقینی اس قدر ہے کہ خیال آتا ہے کہیں اگلے سال ہم فہرست میں آخری نمبر پر نہ ہوں۔ ہم تو وہ قناعت پسند قوم ہیں کہ خوشی کا معیار بھی کبھی بہت بلند نہیں رکھا تھا۔ بنیادی سہولیات کچھ حد تک میسر تھیں اور اس کی آخری حد یہ تھی کہ تین وقت کا کھانا سب کو میسر تھا۔ بچے کو جیسا تیسا روزگار مل گیا یا روزانہ کی مزدوری کا سہارا تو تھا۔ تھوڑی بہت تفریح اور سال میں دو، چار جوڑے کپڑے کے۔ مڈل کلاس میں تو ترقی کا معیار ہی یہ تھا کہ اپنی پچھلی نسل سے رہن سہن، تعلیم اور مالی لحاظ سے اگر بہتر ہیں تو یہ بہت شکر گزاری کا مقام ہوتا تھا۔

اب حالات اس نہج پر آ چکے ہیں کہ سفید پوشی کی جو چادر تن کے ساتھ سر اور پاوٴں بھی ڈھانپے ہوئی تھی وہ اب سر اور پاوٴں سے اترنے کے بعد تن سے بھی کھسک رہی ہے اور ریاست ایسے سو رہی ہے جیسے کوئی زچہ پہلوٹھی کا بیٹا پیدا کرنے کے بعد سوتی ہے کہ آگے ستے خیراں۔

بے یقینی کی اس کیفیت سے نکلنے کی کوشش میں کچھ سمندروں کا رزق بن رہے ہیں۔ اور جو بحفاظت قانونی راستوں سے بھاگ رہے ہیں وہ وہاں کن حالات کا شکار ہیں یہ وہ جانتے ہیں یا ماں باپ جن کے جگر گوشے دنیا کی خاک چھان رہے ہیں۔

مڈل کلاس جو کہ اب تیزی سے معدوم ہو رہی ہے وہ ہاتھ باندھ کر ریاست سے عرض کر رہی ہے کہ مائی باپ ہمیں بخش دیجئے۔ پچھلی ایک، دو دہائیوں میں ہمیں بھی کچھ ہوش آ گیا تھا، ہاتھ بھر کے جادوئی آلے نے ہمیں بھی کچھ خواب بننا سکھا دیے تھے۔ ہم نے بھی اپنی اولادوں کے لئے اعلٰی تعلیم اور بہتر روزگار کے منصوبے بنا لئے تھے۔

حضور! ہماری عورتوں نے بھی سال کے دو چار برینڈڈ جوڑے بنانا شروع کر دیے تھے۔ سال میں ایک دفعہ مری یا ناران کاغان تک جانے کی ضد شروع کر دی تھی۔ لیکن مائی باپ! ہماری سانس بھی آپ کی اور اس پر اختیار بھی آپ کا۔ بس چند جھٹکوں میں یہ سمجھ آ گئی۔ ہمیں تو جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کی اجازت دے دیں۔ دو وقت کی روٹی، چھت کا پنکھا اور سرکاری سکول کی تعلیم۔ دیرینہ تعلق کے ناتے بس اتنی سی فرمائش کہ رعایا کی ضرورتوں اور آسائشوں کی رسیوں کو اتنا سا ڈھیلا چھوڑ دیں کہ میرے ملک میں کوئی بھوک سے خود کشی نہ کرے۔ کوئی اپنے بچے کا بچپن کسی وڈیرے کے ڈیرے یا پیر کے آستانے کی نذر نہ کر دے۔ باقی جن عیاشیوں کی لت لگ گئی تھی اس کے لئے ہاتھ باندھ کر معافی مانگتے ہیں۔

جناب! یہ اظہار رائے کی آزادی اور اس قسم کے چونچلوں کو میری طرف سے سات سلام۔ میری غرض تو صرف یہ ہے کہ کوئی مجھے سڑک پر کیڑے مکوڑوں کی طرح کچل کر نہ چلا جائے۔

جناب عالی! یہ کچھ فرمائشیں بھی پوری ہو جائیں تو ہم سارے خوش باش لوگ دنیا میں پہلے نمبر پر قرار دیے جانے کے لئے آئندہ سال دستخطی مہم کے ذریعے اقوام عالم کے سامنے اپنا نام پیش کریں گے۔ دنیا کی ”قناعت پسند ترین قوم“ کا لقب ”چونگے“ میں مل جائے گا۔

حضور والا! بندۂ حقیر کی کسی بھی لغزش کو نظر انداز کر دیا جائے۔ آج صبح سے بجلی کا بل دماغ کو ”چڑھ“ گیا ہے۔

Facebook Comments HS