گھریلو تشدد


گھریلو بدسلوکی جسے عرف عام میں گھریلو تشدد بھی کہا جاتا ہے میں شریک حیات جوڑوں میں سے کسی ایک کا دوسرے پر جسمانی طاقت کا استعمال اور کنٹرول حاصل کرنے کا نام ہے۔ اس میں جان بوجھ کر جسمانی و جنسی تشدد، جبری شادی و غیرت کی بنیاد پر قتل، عصمت دری و جنسی ہراسانی، ذہنی ٹارچر یا کسی دوسرے طریقہ سے دباؤ میں لانا اور مکمل کنٹرول کرنے کی جستجو ہے۔ اس تشدد کی وجہ سے متاثرہ فرد کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جن میں دائمی درد، فالج کا متوقع حملہ، عارضہ قلب، ذیابیطس کی بیماری کا لاحق ہونا، پھیپھڑوں کا متاثر ہونا، سرطان اور عورتوں کی گائنی کے مسئلے شامل ہیں۔

گھریلو تشدد کی وجہ سے متاثرہ فرد عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے۔ جس سے وہ خود پر بھروسا ہی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنے جذبات کی ترجمانی کر سکتا ہے بلکہ اسے اپنے جذبات پر کم کنٹرول حاصل ہو تا ہے۔ اسی وجہ سے متاثرہ فرد اپنے تعلقات کو نبھانے میں بھی دقت کا شکار ہوتا ہے۔ جب گھریلو تشدد کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس میں سب سے پہلے جسمانی و جنسی تشدد، ذہنی تشدد اور نظر انداز کرنا شامل ہیں۔ گھریلو تشدد میں سب سے اہم درجہ رکھنے والا عنصر جسمانی تشدد گردانا جاتا ہے۔ اس قسم کے تشدد سے جوڑوں کے تعلقات میں سرد مہری اور دوری رونما ہونا شروع ہو جاتی ہے جو آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ انتہاء کو پہنچ جاتی ہے۔

گھریلو تشدد میں دھمکی آمیز رویہ، متاثرہ فرد کی بنیادی ضروریات سے اجتناب، مذاق اڑانا، ان کے جذبات سے کھیلنا اور ذہنی دباؤ میں لانا وغیرہ شامل ہیں۔ مثلاً متاثرہ فرد کو بار بار باور کرانا کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ کسی کام کا نہیں، تذلیل کرنے والے اقدامات کرنے اور اس سے ان کے جذبات سے کھیلنا اور انسانیت سوز مظالم کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ متاثرہ فرد کو یہ بھی باور کرانا کہ وہ ہر برے عمل کا ذمہ دار ہے۔ جس سے وہ اپنے آپ کو کوسنا شروع کر دیتا ہے اور نہ ہی کسی ادارے یا پولیس کی مدد لینے کی سوچ ایسے فرد میں پائی جاتی ہے۔

وہ متاثرہ فرد جو خاموشی سے گھریلو تشدد کا شکار ہوتے ہیں اور کسی سے اس کا ذکر تک نہیں کرتے انہیں اصطلاح میں ”خاموش متاثرہ فرد“ کہا جاتا ہے۔ گھریلو تشدد کا شکار رہنے والے متاثرین کی خاموش رہنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جن میں انتہائی جذباتیت اور صدمہ سے ان میں برداشت کی سکت کا نہ ہونا شامل ہیں۔ خود کو مورد الزام ٹھہرانا اور لوگوں کے سامنے تذلیل محسوس کرنا بھی شامل ہیں۔ گھریلو تشدد کے شکار کا تناسب مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں زیادہ ہے جو 85 فیصد ہے۔

اقوام عالم میں ہر چوتھی عورت گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہے جس میں بیس تا چوبیس سالہ خواتین کا تناسب گھریلو تشدد میں سب سے زیادہ ہے۔ گھریلو تشدد کا دورانیہ عمومی طور شام چھ بجے سے لے کر صبح چھ بجے کے درمیان ہوتا ہے۔ ان تمام پر تشدد واقعات میں تعلیم کے فقدان کو قصور نہیں گردانا جا سکتا اس میں پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہیں۔ اس میں اعلٰی تعلیم یافتہ و غیر تعلیم یافتہ سبھی شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ گھریلو تشدد ایک ایسا موضوع جو نہ صرف گھر کی چار دیواری میں مقید اور ہماری سوسائٹی کے منکرات میں شامل ہے بلکہ شجر ممنوعہ ہے۔

عورتوں کا ماں باپ کے گھر جانا، ملازمت اختیار کرنا، بچوں کی دیکھ بھال کے لئے آیا کے پاس چھوڑنا، روز مرہ کے کام کاج کرنا سب چیزوں کو پر تشدد شخص نفرت سے دیکھتا ہے۔ اور کمزور پر تشدد کرنا اپنا جائز حق سمجھتا ہے۔ پرتشدد واقعات میں عورتیں بھی مبرا نہیں ہوتیں۔ وہ بھی اس کار کو انجام دیتی نظر آتی ہیں۔ پر تشدد واقعات کے روک تھام کے لئے تمام ممالک میں قوانین موجود ہیں اور عملداری بھی ہوتی ہے لیکن یہ مسئلہ پھر بھی اپنی جگہ کھڑا ہے۔ جس کے تدارک کے لئے کثیر الایجنسی اپروچ کی ضرورت ہے جس میں تمام محکمے اکٹھے ہو کر ایسے اقدامات کریں کہ آئندہ اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوں جس میں عوام کے لئے شعور و آ گئی بھی لازم ہے۔ ایک تحقیقی سروے کے مطابق 19 تا 20 فیصد عورتیں گھریلو بدسلوکی کا شکار ہوتی ہیں۔ سالانہ پانچ ہزار صنف نازک کو گھریلو تشدد میں موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ عورتوں کے گھریلو تشدد میں پاکستان دنیا میں چھٹا خطرناک ملک گردانا جاتا ہے جہاں اکثریت متاثرہ عورتوں کو قانون کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی پولیس کے ہاں شنوائی ہوتی ہے۔

گھریلو تشدد سے متاثرہ عورتوں کے لئے تحفظ گھر میسر نہ ہونے سے ان کے لئے گھریلو تشدد کے جہنم سے نکلنا انتہائی دشوار گزار عمل ہے۔ عورتوں پر گھریلو تشدد نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیاء میں ایک گمبھیر مسئلہ ہے جہاں وہ اپنے حقوق اور قانونی مدد طلب کرنے میں مشکلات کا سامنا محسوس کرتی ہیں۔ اور ان ممالک میں عورتوں کے تحفظ کے لئے مناسب سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ گھریلو تشدد میں سب سے اہم وجہ معاشرے میں عدم برداشت اور مردوں کی اجارہ داری اور عورت کو گھر کی باندی سمجھنا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں 2012 کو ایک سنگ میل طے ہوا جب گھریلو تشدد سے پرہیز اور تحفظ کا قانون نافذ کیا گیا۔ جس میں نہ صرف گھریلو تشدد کی اقسام کو بیان کیا گیا بلکہ ان تمام کو فوجداری ضابطہ کے زیر اثر لایا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں گھریلو تشدد کی وجوہات میں عدم برداشت، غربت، عورتوں کو مناسب مقام کا نہ ملنا، بچپن کی شادیاں، خاندانوں میں شادی کا فروغ اور گاؤں سے شہروں میں خاندانوں کا منتقل ہونا ہے۔ جس میں عورت کا اپنے آبائی گھر سے دوری کی وجہ سے گھریلو تشدد کو برداشت کرنا اور اسے خاموشی سے سہنا وغیرہ ہیں۔

عورتوں پر ہمارے معاشرے کے جو دوسرے سنگین جرائم ہیں۔ ان میں جہیز نہ لانے کی وجہ سے طعنہ زنی و تیل چھڑک کر آگ لگانا، تیزاب گردی، عزت کے نام پر قتل، جسمانی تشدد وغیرہ شامل ہیں۔ اگر ہم گھریلو تشدد کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ بد سلوکی میں مارنا و گلا دبانا یا دوسری طرح کی ایذاء رسانی بھی شامل ہوتیں ہیں۔ جذباتی تشدد میں مستقل تنقید و توہین، دھمکی آمیز رویہ اور متاثرہ فرد کو الگ تھلگ رکھنا، معاشرتی استحصال کرنا یعنی تعلیم سے محروم رکھنا، ملازمت اختیار کر نے نہ دینا، جنسی بدسلوکی و عصمت دری اور ہر بات پر نقطہ چینی کرنا ہو سکتے ہیں۔

گھریلو تشدد کرنے والے انتہائی حاسد، دوسروں کو اپنے کنٹرول میں رکھنا، حدود و قیود کا خیال نہ رکھنا اور یاد دہانی کی صورت میں اشتعال انگیزی کرنا، اپنے رویے پر قابو نہ پانا اور نہ ہی نادم ہونا، مزاج میں اچانک تبدیلی کا ظہور ہونا، بے رحمی کرنا اور کام کاج نہ کرنے دینا، ہر وقت شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھنا جیسے عوامل شامل ہیں جن کا تدارک ہر معاشرے بالخصوص ہمارے معاشرے میں لازم ہے۔ معاشرے پیار و محبت کی آماجگاہ ہوتے ہیں اور ہر فرد اس کی اکائی ہے۔

ہر ایک کا اپنا اپنا رول ہوتا ہے جسے اسے ہی نبھانا چاہیے۔ گھر سے محلہ اور محلے سے شہر بنتے ہیں اور پھر اسی سے ریجنز، صوبے و ملک وجود میں آئے لیکن سب کی بنیاد پیار و اخوت ہے۔ اگر ہم اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے بھی پر تشدد حامل کا معاشرہ ہیں تو ہمیں اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا ہو گا کہ ہم سے کہاں کوتاہی ہو رہی ہے۔ ہماری عورتیں گھریلو تشدد و بد سلوکی کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ ہم انہیں معاشرے کا باصلاحیت فرد سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں؟

ہمارے مرد اپنی شریک حیات کی تذلیل کر کے اپنی کس انا کو تسکین دے رہے ہوتے ہیں؟ مردوں کے لئے ان کی شریک حیات کائنات کا حسن بکھیرتی دیوی جو مردوں کی طرح خامیوں سے مبراء نہیں۔ مرد اپنی خامیوں پہ نادم ہونے کی بجائے دوسروں کو موردالزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ لیکن عورتوں سے سرزد خطا خواہ کھانے میں ذرا سا نمک تیز ہی کیوں نہ ہو، معافی کے لائق نہیں۔ گھر کا ماحول بہتر بنانا مرد کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اسی کو درگزر کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ گھر کے دو بالغ افراد، مرو عورت میں بحث و مباحثہ ایک معمول قدرتی امر ہے۔ جسے احسن طور دلیل کی روشنی میں رد یا شرف قبولیت حاصل ہونا چاہیے۔ جس معاشرے میں مرد و زن شانہ بشانہ چلتے ہیں وہ معاشرہ ترقی کرتا ہے۔

Facebook Comments HS