مذہبی جنونیت کا شکار معصوم بچے


یونین آف کیتھولک ایشین نیوز (یو سی اے نیوز) کے مطابق تقریباً 600 بچے جڑانوالہ میں ہونے والے واقعات کے بعد دوبارہ سکول جانے سے گریزاں ہیں۔ دس سالہ مراد نے یو سی اے نیوزکو بتایا، ”میں ڈرا ہوا ہوں۔ میرے تمام ہم جماعت مسلمان ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ مجھے نقصان پہنچائیں“۔ مراد وہی بچہ ہے جس کی تصویر سوشل میڈیا پر نظر آتی رہی ہے جس میں اس نے پاکستانی جھنڈے کے رنگ کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا جب وہ اپنے تباہ شدہ گھر کے سامنے کھڑا اپنی آنٹی کو تسلی دے رہا تھا۔ ابھی دو دن پہلے ہی 14 اگست کو اس نے یہ لباس پہن کر یوم آزادی منایا تھا۔ اپنے وطن سے بے تحاشا محبت کا اظہار کیا تھا۔

دو دن میں یہ کیا ہو گیا کہ لوگ ان پر بری طرح سے حملہ آور تھے، انھیں گالیاں دی جا رہی ہیں۔ اس کا گھر جلا دیا گیا، اس کی کتابیں جلا دی گئیں، اس کا بستہ جلا دیا گیا، اس کے کپڑے، جوتیاں کچھ بھی نہ بچا۔ یہاں تک کہ اس کے کھیلنے والے بلے اور گیند کو بھی جلا دیا گیا۔ اسے بے گھر کر دیا گیا اور اس کی زندگی تہ و بالا کردی گئی۔ ان کا چرچ جلا دیا گیا۔ اس نے بائبل مقدس اور مذہبی کتابوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے جلتے ہوئے دیکھا۔

اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ یہ سب کیسے روکے۔ انھوں نے گنے کے کھیتوں میں رات چھپ کر گزاری۔ وہ پوری رات خوف سے کانپتا رہا۔ اس کا چھوٹا سا ذہن یہ سب کچھ سمجھنے سے قاصر تھا۔ اس کا دل یہ جان نہیں پا رہا تھا کہ اس جیسے لوگ، اس کے اپنے ملک پاکستان کے شہری، اپنے جیسے دوسرے لوگوں کو کیوں تباہ کر رہے ہیں؟ کیا وہ مجھے بھی جلا دیں گے، جیسے انھوں نے میرا گھر جلایا ہے؟ اس کے ذہن کی کیا حالت ہو رہی تھی، اس کا کسی کو اندازہ نہیں۔ کیا ایسے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے؟ یا ان کا کوئی معاوضہ دیا جا سکتا ہے؟

جڑانوالہ کی 9 بستیوں میں تقریباً 5000 مسیحی بستے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق 16 اگست کو جڑانوالہ، فیصل آباد میں مقامی مسیحی برادری پر ہجوم نے وحشیانہ حملے کر کے کم از کم 24 گرجا گھروں، کئی چھوٹی عبادت گاہوں، بائبلز اور درجنوں گھروں کو آگ لگائی اور لوٹ مار کی۔ قبرستان کی دیوار اور قبروں سے کتبے بھی توڑ ڈالے۔ مسیحی شخص پر توہین مذہب کے الزامات لگنے اور افواہیں پھیلنے کے بعد مسجد کے سپیکرز سے اعلانات کے ذریعے مسلمانوں کو تشدد کرنے پر اکسایا گیا۔ جس کے باعث قصبے میں ہزاروں لوگ جمع ہو گئے اور پھر انھوں نے مسیحیوں کی عبادت گاہوں اور گھروں کو تباہ کرنے کی طرف رخ کیا۔ فیکٹ فائنڈنگ مشن کے مطابق، ”اس شبہ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ یہ ہجوم بغیر سوچے سمجھے یا اچانک جمع نہیں ہوا بلکہ مقامی مسیحیوں کے خلاف وسیع تر مہم کا حصہ تھا“ ۔ جڑانوالہ واقعہ ایک دفعہ پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ کس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مشن کے مشاہدے میں آیا کہ چھوٹی سی مسیحی برادری سے نفرت عام ہے۔ مسیحیوں نے امتیازی سماجی رویوں کے بارے میں بتایا۔ خدمات اور مواقع تک رسائی میں امتیازی سلوک کی بھی شکایت کی۔

مراد کی امی کے مطابق پرتشدد ہنگاموں کے دوران مراد تین دفعہ بے ہوش ہوا۔ اب وہ گلی میں لگائے عارضی ٹینٹ میں اپنے جیسے سینکڑوں مسیحیوں کی طرح رہ رہے ہیں۔ تباہ شدہ بستیوں میں بچے ذہنی طور پر بہت پریشان ہیں۔ کئی بچے Panic Attacks کا شکار ہیں۔ بچے شدید ٹراما سے گزر رہے ہیں۔ بچے یا تو سوتے نہیں ورنہ سوتے سے چیخیں مارتے ہوئے اٹھ بیٹھتے ہیں۔ Christian Joint Action Committee for Jaranwala Incident کے کنوینر فادر خالد رشید عاصی کے مطابق ڈرے سہمے بچے سکول نہیں جانا چاہتے۔ جو چند ایک گئے ہیں انھیں قبول نہیں کیا گیا۔ انھیں کہا گیا کہ وہ مسلمان ہو جائیں تو انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پہچان PAHCHAAN نے یونیسیف کے تعاون سے فوری نفسیاتی امداد دینے کے لئے جب جڑانوالہ کا رخ کیا تو انھیں مسیحی اور مسلمان دونوں بچے ڈرے سہمے دکھائی دیے۔ دونوں مذاہب کے بچوں کے درمیان شدید تناؤ ہے۔ مسیحی ماؤں نے بچوں کے بارے میں سیشن میں بتایا کہ بچوں کو پانی، خوراک، کپڑوں اور شیلٹر کی فوری ضرورت ہے۔ ذہنی کیفیت کے بارے میں ماؤں اور بچوں سے بات کی گئی تو مسیحی بچے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ وہ اپنے لئے بہت خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ وہ خوف کی وجہ سے بے خوابی کا شکار ہیں۔ انھیں اپنے مستقبل کے بارے میں خدشات ہیں۔ وہ ہر وقت اضطراب میں مبتلا رہتے ہیں۔ وہ نارمل زندگی کی طرف نہیں لوٹ رہے۔ سیشن میں بچے اس دن کے تکلیف دہ واقعات ازبر سنا رہے تھے جیسا کہ وہ ان کے دل و دماغ پر نقش ہو گئے ہوں اور وہ ان سے بہت پریشان اور دکھی تھے۔ ایک بچے نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم اس دن کو بلیک ڈے کے طور پر یاد رکھیں گے۔

طالب علموں سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ انھیں پہلے ہی سکول میں کلنک کا ٹیکہ سمجھا جاتا تھا۔ انھیں مارا پیٹا جاتا۔ ان پر دھونس جمائی جاتی۔ ان کے برے برے نام رکھے جاتے۔ اساتذہ مسلم طلبا کی طرف داری کرتے اور مسیحی طلباء کو رد کرتے۔ اب وہ اس ڈر سے سکول نہیں جاتے کہ استاد انھیں مزید ملامت کریں گے اور ان کے ساتھ جذباتی اور جسمانی زیادتی کریں گے۔

ذہنی دباؤ اور ٹراما کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں نے اس واقعہ میں اپنا مال و اسباب بھی گنوا دیا ہے، مختلف سالگرہوں پر ملنے والے چھوٹے بڑے تحفے، کھلونے، سکول لے جانے و الی سائیکل، بستہ، کتابیں، سٹیشنری، پسندیدہ کپڑے اور جوتے۔ سب سے بڑھ کر انھیں سکول سے ملنے والی تعریفی اسناد، رزلٹ کارڈ، برتھ سرٹیفکیٹ اور باقی دستاویزات راکھ میں تبدیل ہو گئیں۔ والدین کا شناختی کارڈ جلنے کے بعد ان دستاویزات کو دوبارہ بنوانا کس قدر مشکل کام ہو گا، خصوصاً ان شہریوں کے لئے جو غریب مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کے نقصان کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔

نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس اور سنٹر فار سوشل جسٹس کے اعداد و شمار کے مطابق مسیحی بستیوں اور گرجا گھروں پر 1997 سے 2016 کے درمیان 51 حملے ہوئے ہیں بشمول 22 دہشت گرد حملوں کے، بقیہ حملے افراد اور ہجوم نے کیے۔ جن کے نتیجے میں 69 گرجا گھروں کی بے حرمتی ہوئی اور سینکڑوں گھروں کو تباہ کیا گیا۔ 2016 سے 2022 کے درمیان کسی بڑے حملے کی اطلاع نہیں ملی۔ 2023 میں جڑانوالہ کے افسوس ناک واقعہ میں وہی دہرایا گیا جو 1997 میں شانتی نگر، 2005 میں سانگلہ ہل، 2009 میں گوجرہ اور کوریاں اور متعدد دیگر واقعات میں ہوا۔ توہین مذہب کی مبینہ کارروائیوں کے اشتعال انگیز اعلانات، منظم مسلم مذہبی گروہوں کے زیرانتظام مسجد یا مرکز سے نشر ہوتے اور ہجوم اکٹھے ہو جاتے۔

ماہرین نفسیات تحقیق کی روشنی میں یہ بات بتاتے ہیں کہ بچوں پر اس طرح کے واقعات کا کتنا شدید اثر ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت ساری عمر اس طرح کے ٹراما کے زیر اثر رہتی ہے۔ 1997 میں جب شانتی نگر پر حملہ ہوا تو ایک پاسٹر صاحب کا خاندان ننگے پاؤں اپنی جان بچانے کے لئے بھاگا۔ وہ پاسٹر صاحب بتاتے ہیں کہ بحالی کے بعد جب ہم دوبارہ شانتی نگر میں آباد ہو گئے تو میری 9 سال کی بیٹی کافی عرصہ تک رات کو جوگرز پہن کر سوتی تھی۔ اس کے دل میں یہ خوف بیٹھ گیا تھا کہ ان پر پھر حملہ ہو سکتا ہے۔ تو کیا پتہ اس دفعہ بھی اسے جوتے پہننے کا موقع ملے یا نہیں۔ مسیحی گاؤں سٹونز آباد کے کچھ نوجوان شانتی نگر میں لوگوں کی مدد کو پہنچے تو ان میں سے ایک جوان نے اپنی جیکٹ اتار کر اس خاتون کو دی جس نے اپنے دوپٹے میں چند گھنٹوں کے بچے کو لپیٹا ہوا تھا۔ سخت سردی میں زچہ اور بچہ کی اس بے سروسامانی میں حالت کا اندازہ لگائیں، سوچ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ وہ بچہ جس کو آنکھ کھولتے ہی ایسی ظالم دنیا دیکھنے کو ملی اس کی شخصیت میں کتنی محرومی ہوگی۔ ریاست کا آئین پاکستان اور بین الاقوامی قوانین میں اپنے بچوں کی حفاظت کا وعدہ کتنا کھوکھلا لگتا ہے۔

2014 میں کوٹ رادھا کشن میں شمع اور شہزاد پر جب قرآن پاک کے اوراق جلانے کا الزام لگا تو اڑھائی ہزار سے زیادہ کا ہجوم آس پاس کے گاؤں سے اکٹھا ہو گیا۔ ملزموں کو بھٹے میں جلانے سے پہلے ہجوم نے انھیں ننگا کر کے ان کے بھٹے کے گرد دو چکر لگوائے۔ تصور کیجیے ان کے چھ سالہ بیٹے سلیمان، چار سالہ بیٹی پونم اور ڈیڑھ سالہ بیٹی رانی اس کیفیت میں کیا سمجھ رہے ہوں گے۔ ان کے ذہنوں میں کیسی توڑ پھوڑ ہو رہی ہوگی۔ پھر ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے زندہ ماں باپ کو بھٹے کے جلتے ہوئے تنور میں پھینک دیا گیا۔

لاشوں کے نام پر بچوں نے اپنے والدین کی چند ہڈیاں دیکھیں۔ ستم ظریفی دیکھیے جب شمع کو بھٹی میں پھینکا گیا تووہ چار ماہ کی حاملہ تھی۔ اس ننھی جان کا کیا قصور جسے اس دھرتی پر قدم رکھنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ اشتعال انگیزی اور مذہبی جنونیت کس کس طرح سے ہمارے بچوں کو برباد کر رہی ہے اس پر بہت سنجیدگی سے سوچنے کی اور اس سے بچوں کا تحفظ کرنے کے لئے بہت ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں تو بحث کا ایک ہی سرا کھولا گیا ہے۔ Juveniles کے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ بھی ایک تکلیف دہ باب ہے۔

اقوام متحدہ کے معاہدہ برائے حقوق اطفال کا پاکستان 33 سال سے رکن ریاست ہے جس کے مطابق 18 سال سے کم عمر افراد کا شمار بچوں میں کیا جاتا ہے۔ متشدد حملوں کا شکار بچے برے سلوک، تشدد، استحصال اور ریاست کی طرف سے نظر انداز کیے گئے بچے ہیں۔ معاہدے کا آرٹیکل 19 وضاحت سے کہتا ہے کہ بچے بیشک والدین یا سر پرست کی نگرانی میں ہوں، ریاست بچوں کو ہر قسم کے ذہنی اور جسمانی تشدد، لاپرواہی اور برے سلوک سے بچانے کے لئے تمام قانونی، انتظامی، سماجی اور تعلیمی اقدامات کرے گی۔

اسی طرح آئین پاکستان کا آرٹیکل 11 اور 25 بچوں کے تحفظ کے متعلق ہے۔ آرٹیکل 35 خاندان، ماں اور بچے کی حفاظت پر زور دیتا ہے۔ آرٹیکل 25 A پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لئے مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرتا ہے اور انھیں جہالت سے محفوظ رکھتا ہے۔ آرٹیکل 25 ( 3 ) بچوں کے تحفظ کے لئے خصوصی قوانین بنانے کی ہدایت دیتا ہے۔ آرٹیکل 38 (h) بچوں کے سماجی تحفظ کے لئے اقدامات کے لئے بتاتا ہے۔ ان تمام پر مکمل عمل درآمد کی اقلیتی بچوں کے لئے بھی ضرورت ہے۔

اگر بچے ہمارا مستقبل ہیں تو اقلیتی بچوں کا حال بھی پاکستان پر اثر انداز ہو گا۔ ہم اتنے کوتاہ اندیش کیسے ہو سکتے ہیں کہ اس بات پر غور نہ کریں؟ اگر بچے ہمارا مستقبل ہیں تو ہم اپنے حال سے اس قدر بیگانہ اور لاپرواہ کیسے ہوسکتے ہیں؟ مذہبی اقلیتوں کے بچوں کا تحفظ اور ان کی ترقی ریاست اور معاشرہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔

جڑانوالہ کی 9 بستیوں میں بچے اگر افراتفری میں زخمی ہوئے ہیں یا ان کی صحت کو کسی طرح کا نقصان پہنچا ہے تو حکومت ان کی مکمل صحتیابی کے لئے فوری اور بہترین اقدامات کرے۔

حکومت کی طرف سے بچوں کی نفسیاتی اور جذباتی بحالی، Trauma Healing اور کونسلنگ کے لئے فوری طور پر نفسیاتی امداد بہم پہنچائی جائے۔

علاقہ کے سکولوں میں اساتذہ اور انتظامیہ کے ٹریننگ سیشنز لئے جائیں تاکہ وہ متاثرہ بچوں کو نارمل کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

مسیحی اور مسلمان بچوں میں موجود تناؤ کو کم کرنے کے لئے Recreational Activities کا اہتمام کیا جائے۔

بچوں کے لئے کتابیں، کاپیاں، سٹیشنری، یونیفارم، سکول شوز اور دیگر استعمال کی اشیا ہنگامی بنیادوں پر مہیا کی جائیں۔

بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے تعلیم، مذہبی تربیت، امن قائم کرنے والے گروپوں اور دیگر کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی، افہام و تفہیم اور باہمی احترام پیدا کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

توہین رسالت کے قوانین پر نظر ثانی کی جائے تا کہ یہ کسی فرد یا برادری کے خلاف غلط استعمال نہ ہوں۔ اگر کسی بھی شخص پر الزام ہوتو معاملے کی شفاف تحقیقات اور منصفانہ سماعت ہو۔ قصوروار کو قانون کے مطابق سزا دی جائے لیکن اگر وہ بے قصور ثابت ہو تو جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی سزا دی جائے۔

منظم شدت پسند گروہوں سے نمٹنے کے لئے پالیسیاں اور حکمت عملی وضع کی جانی چاہیے، خصوصاً امن و امان کے نفاذ کے حوالے سے تا کہ یہ گروہ، خواہ سیاسی ہوں یا مذہبی، نا تو ریاست کی رٹ اور نہ ہی اقلیتوں کے تحفظ کے لئے دی گئی آئینی ضمانتوں کو مجروح کریں۔

وہ منظم مسلم مذہبی گروہ جو کسی فرد یا کمیونٹی کے خلاف پر تشدد کارروائیوں کے ارادے کا سرعام اعلان کرتے ہیں انھیں نفرت انگیز جرائم اور تشدد پر اکسانے کے خلاف قوانین کے مطابق جوابدہ ہونا چاہیے۔

پنجاب حکومت 2009 میں گوجرہ میں ہونے والے اندوہناک فرقہ وارانہ فسادات کی انکوائری پر عدالتی سفارشات پر عمل درآمد کرے۔

تشدد میں اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب پولیس ریاست کی رٹ کو یقینی بنانے میں ناکام رہتی ہے ایسے حالات سے نمٹنے کے لئے واضح طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی کے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق 2014 کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے اقدامات تیز کیے جائیں۔ سات ہدایات جن میں ایک یہ بھی ہے کہ مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کے لئے علیحدہ پولیس فورس بنائی جائے۔ اس  پر عمل نہیں ہو سکا۔ اگر اس مخصوص ہدایت پر عمل کیا گیا ہوتا تو ہو سکتا ہے 16 اگست کو جڑانوالہ میں گرجا گھروں پر حملے نہ ہوتے یا نقصان کم ہوتا۔ یہ ایک بڑا کام ہے اور اس کے لئے کافی مالی اور انسانی وسائل درکار ہیں لیکن سماجی اور سیاسی رجحانات جو غیر مسلم آبادی میں عدم تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ بنے ہیں اس کا فوری اور لازمی تقاضا کرتے ہیں۔

حکومت کو متاثرہ کمیونٹی کو معاوضہ دینے اور دوبارہ تعمیر کے لئے اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ اس کے لئے 21 اگست کو جڑانوالہ میں وزیراعظم کا اعلان یقیناً خوش آئند ہے لیکن اس پر جلد از جلد عمل ہونا چاہیے۔

جن افراد کی دستاویزات نذر آتش ہوئی ہیں، متعلقہ محکمے ان کے دوبارہ اجراء میں پوری طرح سہولت مہیا کریں۔

عام آبادی کو باشعور بنانے کے لئے نصاب میں اقلیتوں کا ذکر مثبت طور پر کیا جائے، ان کی وطن کے لئے دی گئی قربانیوں اور کارناموں پر روشنی ڈالی جائے۔

بچوں کے پیدائش کے اندراج کو یقینی بنایا جائے اور خاندانی منصوبہ بندی کے لئے مہم چلائی جائے۔
وطن عزیز کے تمام صوبوں میں بچوں کے تحفظ کی ٹھوس پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔

غربت کا خاتمہ اقلیتی بچوں کی حالت زار سے نمٹنے کا ایک اور پہلو ہے۔ اس میں تعلیمی اقدامات میں وظیفہ پروگرام، بچوں کو مفت صحت کی سہولیات اور پورے پاکستان میں سوشل سیکیورٹی پروگرامز شامل ہیں۔ والدین کی کم ازکم اجرت بڑھائی جائے اور اس کا حصول یقینی بنایا جائے۔ ملکی قوانین کی اقوام متحدہ کے قوانین سے مطابقت ہونی چاہیے۔

Facebook Comments HS