ایک کہانی سو روپ

ایک کہانی کے سو ہی روپ کیوں ہو سکتے ہیں، اس کا پتہ ایک سو صفحات پر مشتمل نبیل احمد کی روپ کہانی پڑھ کر ہو سکتا ہے۔ پہلے ورق سے لے کر آخری جملے تک جو چیز قاری کو اپنے سحر میں جکڑ کے رکھتی ہے وہ محبت کی ایسی پھوار ہے جس میں بھیگا رہنا ہر کسی کو اچھا لگتا ہے۔ ہر دوسرے صفحے کے نیچے لکھی تاریخ اور مقام سے یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ محبت

Read more

گجی اور گجا پیر

”نعرہ تکبیر۔ ۔ ۔ اللہ اکبر“ کی آوازوں نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور کسی نے زور دے کر کہا ”کمرہ تھوڑی دیر کے لئے خالی کر دیں۔ امیر صاحب شہید کی والدہ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں ذرا جلدی کریں“ ۔

تھوڑی دیر بعد امیر صاحب اپنے محافظوں اور ساتھیوں کی معیت میں اس چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوئے جو اس سے پہلے محلے کی عورتوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور وہ شہید کی والدہ کی دلجوئی میں مصروف تھیں۔

”السلام علیکم بہن جی۔ مجھے تو آپ کے پاس شہید کے جنازے کے ساتھ آنا چاہیے تھا مگر تنظیمی معاملات اور حفاظتی اقدامات کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔ ویسے بھی شہادت کے جس بلند رتبے پر آپ کا بیٹا فائز ہو چکا ہے، اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم سب آپ کی قدم بوسی کریں مگر اسلام میں اس کی مخالفت ہے۔ آپ کی تعظیم اور قدر ہم سب پر لازم ہے کیونکہ آپ کے شہید فرزند نے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ دشمن کے درجنوں سپاہیوں کو واصل جہنم کیا اور یہ تو آپ کو پتہ ہے کہ شہید کبھی نہیں مرتا۔ وہ اپنے والدین کی بخشش کا باعث بھی بنتا ہے اور رب سے درخواست کرتا ہے کہ اسے بار بار زندہ کیا جائے تا کہ وہ شہادت کی لذت سے آشنا ہو سکے۔

Read more

کالے ہیں تو کیا!

نوجوانی سے سنتے آئے کہ گورے رنگ پہ فخر کرنا اچھی بات نہیں اور اگر کوئی گورا نہ ہو تو اسے گندمی رنگت کے کھاتے میں گنِنا چاہیے تاکہ اُسے بُرا نہ لگے اور اگر آپ جو خودکوگورا سمجھ رہے ہیں خودکو اس سے مختلف بھی سمجھ سکیں۔ یہ کوئی پہلا تضاد نہیں جس کو ہم ساتھ لے کر چل رہے تھے یعنی دِل سے کچھ اور سمجھنا اورزبان سے کچھ اور ہی کہنا۔ کچھ کالے یہ بات سمجھ بھی گئے تو کہنے لگے کہ کالے ہیں تو کیا دل والے ہیں اور گورے رنگ پہ گمان کرنا بُری بات ہے کیونکہ یہ تو چار دِن کی چاندنی ہے پھر اندھیر ی رات ہے۔

ہرچیزکی ہنسی اُڑانا ہماراقومی مزاج ہے اور ہماری فقرہ بازی رنگ، نسل، پیشے، برادری اور مذہب کی آمیزش کے بغیر مکمل ہوہی نہیں سکتی۔ یہ ہماری ثقافت کے وہ پہلو ہیں جنہیں ہم کتابی اور اصولی طور پر لاکھ بُرا کہتے پھریں لیکن ہماری تہذیب چونکہ شاخِ نازک پہ نہیں بنی اور خاصی پائیدار ہے لہذا اِن تمام تضادات سے اِس کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اِکادُکا واقعات جن المیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اُنہیں ہم مستنثیات کے کھاتے میں ڈال کر پتلی گلی سے نکل جانے پر زور دیتے ہیں۔

Read more

کالے ہیں تو کیا ہوا؟

نوجوانی سے سنتے آئے کہ گورے رنگ پہ فخر کرنا اچھی بات نہیں اور اگر کوئی گورا نہ ہو تو اسے گندمی رنگت کے کھاتے میں گنِنا چاہیے تاکہ اُسے بُرا نہ لگے اور اگر آپ جو خود کو گورا سمجھ رہے ہیں خود کو اس سے مختلف بھی سمجھ سکیں۔ یہ کوئی پہلا تضاد نہیں جس کو ہم ساتھ لے کر چل رہے تھے یعنی دِل سے کچھ اور سمجھنا اور زبان سے کچھ اور ہی کہنا۔ کچھ کالے

Read more