”نعرہ تکبیر۔ ۔ ۔ اللہ اکبر“ کی آوازوں نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور کسی نے زور دے کر کہا ”کمرہ تھوڑی دیر کے لئے خالی کر دیں۔ امیر صاحب شہید کی والدہ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں ذرا جلدی کریں“ ۔
تھوڑی دیر بعد امیر صاحب اپنے محافظوں اور ساتھیوں کی معیت میں اس چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوئے جو اس سے پہلے محلے کی عورتوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور وہ شہید کی والدہ کی دلجوئی میں مصروف تھیں۔
”السلام علیکم بہن جی۔ مجھے تو آپ کے پاس شہید کے جنازے کے ساتھ آنا چاہیے تھا مگر تنظیمی معاملات اور حفاظتی اقدامات کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔ ویسے بھی شہادت کے جس بلند رتبے پر آپ کا بیٹا فائز ہو چکا ہے، اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم سب آپ کی قدم بوسی کریں مگر اسلام میں اس کی مخالفت ہے۔ آپ کی تعظیم اور قدر ہم سب پر لازم ہے کیونکہ آپ کے شہید فرزند نے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ دشمن کے درجنوں سپاہیوں کو واصل جہنم کیا اور یہ تو آپ کو پتہ ہے کہ شہید کبھی نہیں مرتا۔ وہ اپنے والدین کی بخشش کا باعث بھی بنتا ہے اور رب سے درخواست کرتا ہے کہ اسے بار بار زندہ کیا جائے تا کہ وہ شہادت کی لذت سے آشنا ہو سکے۔
Read more