کالے ہیں تو کیا!

نوجوانی سے سنتے آئے کہ گورے رنگ پہ فخر کرنا اچھی بات نہیں اور اگر کوئی گورا نہ ہو تو اسے گندمی رنگت کے کھاتے میں گنِنا چاہیے تاکہ اُسے بُرا نہ لگے اور اگر آپ جو خودکوگورا سمجھ رہے ہیں خودکو اس سے مختلف بھی سمجھ سکیں۔ یہ کوئی پہلا تضاد نہیں جس کو ہم ساتھ لے کر چل رہے تھے یعنی دِل سے کچھ اور سمجھنا اورزبان سے کچھ اور ہی کہنا۔ کچھ کالے یہ بات سمجھ بھی گئے تو کہنے لگے کہ کالے ہیں تو کیا دل والے ہیں اور گورے رنگ پہ گمان کرنا بُری بات ہے کیونکہ یہ تو چار دِن کی چاندنی ہے پھر اندھیر ی رات ہے۔

ہرچیزکی ہنسی اُڑانا ہماراقومی مزاج ہے اور ہماری فقرہ بازی رنگ، نسل، پیشے، برادری اور مذہب کی آمیزش کے بغیر مکمل ہوہی نہیں سکتی۔ یہ ہماری ثقافت کے وہ پہلو ہیں جنہیں ہم کتابی اور اصولی طور پر لاکھ بُرا کہتے پھریں لیکن ہماری تہذیب چونکہ شاخِ نازک پہ نہیں بنی اور خاصی پائیدار ہے لہذا اِن تمام تضادات سے اِس کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اِکادُکا واقعات جن المیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اُنہیں ہم مستنثیات کے کھاتے میں ڈال کر پتلی گلی سے نکل جانے پر زور دیتے ہیں۔

Read more

کالے ہیں تو کیا ہوا؟

نوجوانی سے سنتے آئے کہ گورے رنگ پہ فخر کرنا اچھی بات نہیں اور اگر کوئی گورا نہ ہو تو اسے گندمی رنگت کے کھاتے میں گنِنا چاہیے تاکہ اُسے بُرا نہ لگے اور اگر آپ جو خود کو گورا سمجھ رہے ہیں خود کو اس سے مختلف بھی سمجھ سکیں۔ یہ کوئی پہلا تضاد…

Read more