فسٹولا کا مرض: غربت اور ذہنی پسماندگی کا نشان


عورت! اس کے بارے میں بہت سے لوگوں نے بہت کچھ کہا ہے۔ یہی عورت کبھی لڑکی، کبھی بہو، بیوی، بہن کبھی ماں سے لے کر بزرگی تک اس دنیا کے رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ پر اس کا اپنا رنگ کیا ہے؟ اور کیا دنیا نے اس کے رنگ ڈھنگ کو قبول کیا ہے؟ اور کیا دنیا نے اسے اپنے رنگ میں قبول کیا ہے؟ اور عورت کو جب لڑکی پیدا ہو تو دنیا کا ایک ہی سوال ہوتا ہے، کہ ”کیا لڑکا پیدا ہوا ہے؟“

اور اگر لڑکا پیدا ہو تو لڑکی کا کوئی نہیں پوچھتا۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عورت کو بہت سے بچے پہلے ہی پیدا ہو چکے ہیں اور اب اس میں اندرونی بیماری پیدا ہو چکا ہو جس سے بچہ پیدا کرنے سے اس کی جان بھی جا سکتی ہے جب بھی وہ لڑکا پیدا کرنے کے لیے پیدائشی رسک سے ضرور گزرتی ہے چاہے اس کی جان ہی چلی جائے پر لڑکیوں کے معاملے میں ایسا ضروری نہیں اور اسپتالوں میں ڈاکٹرز بھی ان عورتوں سے یہی سوال کرتے ہیں کہ ”کیا آپ کی فیملی کمپلیٹ ہے؟“ کیوں کہ لڑکوں کے بغیر فیملی مکمل نہیں سمجھی جاتی۔

اور اسی طرح اگر عورت کے سارے بچے لڑکے ہوں تو وہ لڑکی پیدا کرنے کا نقصان نہیں اٹھاتی۔ وہ لڑکی پیدا نہیں کرتی۔ اگر یہی لڑکے بڑے ہو کر برے کام کریں تو دنیا کی نظروں میں نہیں آتے، اور اگر دنیا کی نظروں میں آ بھی جاتے ہیں تو اسی صدا کی باز گشت سنائی دیتی ہے کہ ”لڑکے ہیں ٹھیک ہو جائیں گے سدھر جائیں گے خود سے ٹھیک ہو جائیں گے کچھ نہیں ہو گا!“

اور جب لڑکی بے خودی میں، ناسمجھی یا دھوکے میں کچھ ایسا ویسا کر بیٹھے تو دنیا اسے جینے نہیں دیتی نہ تو اسے سدھرنے دیتی ہے۔ نہ تو سبق سیکھنے دیتی ہے یہاں تک کہ وہ لڑکیاں موت کے بہت قریب قریب پہنچ جاتی ہیں۔ خود کشی کر لیتی ہے اور اس کی جان تک چلی جاتی ہے۔

بہت سے لڑکے محبت کے پاک جذبے میں بہت سی لڑکیوں کی عصمت دری کرتے ہیں۔ ان کے جذبوں سے کھیلتے ہیں ان سے ٹائم پاس کرتے ہیں، عزت خراب کرتے ہیں۔ انہیں استعمال کرتے ہیں اور ان لڑکیوں کے پیچھے کچھ نہیں بچتا۔ اور لڑکیوں کا بھی شاید یہی خیال ہوتا ہے کہ یہ جو لڑکے ان کا خیال رکھ رہے ہیں یہ محبت ہے! پر لڑکیوں کو بالکل یہ علم نہیں ہوتا کہ یہ محبت نہیں،

لڑکا کوئی بد سے بدترین کیوں نہ ہو اسے تو پاک صاف لڑکی چاہیے کیا یہ لڑکی پر ظلم نہیں کہ اسے بد کردار اور بے ہودہ لڑکے کے پلو سے باندھ دیا گیا ہے؟ اور وہ اس لڑکے سے پوری عمر نبھا کرے؟ جب لڑکا محبت کے نام پر کسی کو استعمال کرے تو کوئی گناہ نہیں پر جب لڑکی کسی سے محبت کرے تو یہ گناہ ہے!

کیوں کہ اس دنیا میں عورتوں کی جگہ الگ اور آدمیوں کی اہمیت زیادہ ہے۔

بہت سے مرد ایسے نظر آتے ہیں جو اپنی مردانگی اس میں سمجھتے ہیں کہ ان کی بیویاں بچوں کو جنم دیں اور ان کا کام ختم ہو گیا۔ اب عورتوں کا کام ہے کہ وہ بچوں کی خبر گیری کریں۔ اور ان کو وقت گزارنے کے لیے اب کسی اور لڑکی کی ضرورت ہے۔ لیکن یہاں یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ آدمی یہ کیوں بولتا نظر آتا ہے کہ ”میرے بچے کا خیال کرو!“ جب کہ تمام تر درد کے ساتھ ڈلیوری تو عورت کی ہوتی ہے؟ درد عورت برداشت کرتی ہے، مصیبت میں عورت ہوتی ہے تو پھر مرد ایسا کیوں کہتا نظر آتا ہے؟

کاش یہ لیبر پین بھی آدمی برداشت کرتا۔ لیکن خدا نے بھی عورت کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ میں ہمیشہ یہ دیکھتی ہوئی آئی ہوں جب عورت بچہ جنے تو آدمی اپنا سر بلند کر کے کہتا ہے کہ ”میں باپ بن گیا“

اگر بچہ نہ ہو تو یہی آدمی کہتا ہے کہ ”میری بیوی کو بچہ نہیں ہو رہا!“

اس حوالے سے میں نے بہت ساری عورتوں کو infertility بچہ نہ ہونے کی بنیاد پر اسپتالوں کے چکر لگاتے دیکھا ہے

بہت ساری عورتیں اپنے ٹیسٹ کرواتی ہیں۔ اور ان کے ٹیسٹ کلیئر بھی ہوتے ہیں، پر جب ان کو بتایا جاتا ہے کہ اب اپنے آدمیوں کے ٹیسٹ کرواؤ تو وہ مرد نہیں مانتے اور ان عورتوں کو لے کر پاس گاؤں، گوٹھوں کو چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کبھی کبھی وہ مرد ان عورتوں کو ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

وہ مرد اپنی کمزوریوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اپنی عورتوں کے ٹیسٹ ختم کرتے ہیں۔ علاج ختم کرتے ہیں

کچھ دنوں کی بات ہے میرے پاس زیبا نام کی عورت جو کہ محمد بخش کی بیوی تھی جو بلوچستان کے کسی گاؤں سے آئی تھی اور اپنے میاں کے ساتھ بہت خوف زدہ تھی۔ اور اس نے مجھے بتایا کہ وہ یہاں علاج کروانے آئی ہے حتی کہ بہت سے بڑے اسپتال کے ڈاکٹروں کے پاس بھی گئی ہے اور سب نے بچہ دانی نکلوانے کا مشورہ دیا اور کہا اس کی بچہ دانی میں کوئی بیماری ہو گئی ہے۔ اور جب اس کا ٹیسٹ کیا گیا تو اس میں بھی یہی تھا کہ اگر اس کی بچہ دانی نہیں نکالی گئی تو اسے کینسر ہو سکتا ہے جس سے اس کی جان بھی جا سکتی ہے پر اس کا مرد نہیں مان رہا تھا۔

میرے بہت سے ڈرانے کے باوجود بھی اس کا شوہر اس بات پر بضد رہا کہ اسلام میں یہ جائز نہیں۔

اس بات کو سنتے ہی مجھے لگا کہ اس مرد کا گریبان پکڑا جائے اور اسے صحیح اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے اور اسے زیبا کا وہ حال سنایا جائے جو اپنے بچہ دانی میں بچہ نہیں پر کینسر پال رہی ہے۔

کیا اسلام میں یہ جائز ہے کہ ایک عورت کو کینسر کے حوالے کیا جائے اور وہ عورت موت کے منہ میں چلی جائے؟ پر اس کا علاج نہ کیا جائے؟ میں نے یہ سوال بہت ہی غصے اور گرج دار آواز میں اس مرد سے پوچھا اور میں نے دیکھا کہ شرمندگی سے وہ مرد کچھ نہیں کہہ سکا۔ مجھے حیرت ہے کہ اگر کسی مرد کو کوئی بچہ نہیں تو پھر بھی یہ جواب ٹھیک نہیں، پر محمد بخش کی زیبا سے یہ کوئی پہلی شادی نہ تھی۔ یہ تو اس کی زیبا کے ساتھ دوسری شادی تھی۔ محمد بخش کے پہلی بیوی سے بھی پانچ بچے تھے اور زیبا سے بھی پانچ بچے تھے!

معلوم نہیں اس نے زیبا کا کس دل سے آپریشن کروایا۔ لیکن آپریشن کے بعد ڈاکٹروں کو شک تھا کہ کہیں اس بچہ دانی میں کینسر نہ ہو اس لیے ڈاکٹروں نے زیبا کی Biopsy کروائی۔ biopsy اس چیز کو کہتے ہیں کہ گوشت کا ایک ٹکڑا لے کر اسے ٹیسٹ کے لیے بھیجتے ہیں۔ زیبا کی biopsy تو ہو گئی پر فکر والی بات یہ تھی کہ رپورٹ آنے سے پہلے وہ زیبا کو گاؤں واپس لے کر چلا گیا۔ نہ ہی اس نے رپورٹ کا انتظار کیا اور نہ ہی ڈاکٹروں کی کوئی ہدایت پر عمل کیا اور زیبا کی رپورٹ اب بھی اسپتال کے ریکارڈ روم میں موجود ہے۔ جس رپورٹ میں ovary Cyst Rapture آیا ہے جو کہ اس جگہ کا غدود کسی shock میں لے جاتا ہے۔ اس کو ختم کرتا ہے۔ مار دیتا ہے۔ یہ پھر بھی اتنی بڑی بات نہیں کیونکہ یہاں بہت سی باشعور، سمجھ دار عورتیں، فیمینسٹ تنظیمیں، عورت مارچ یا بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتی ہیں۔ مظاہرے کرتی ہیں ریلیاں مارچ کرتی ہیں۔ یہ بری بات نہیں ہے۔ پر اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ وہ باشعور عورتیں، تنظیمیں، تحریکیں ان معاملات کو دیکھیں اور حل کریں جو ویسے بہت ہی معمولی ہیں پر ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے ان سیکڑوں بچیوں اور عورتوں کی جان بچ سکتی ہے۔

ان چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل نہ ہونے پر لڑکیاں خودکشیاں کرتی ہیں۔ جن مسائل کو حل کرنا مشکل ہے اس کے لیے آواز اٹھانا انتہائی آسان ہے جو عورتوں کے حقوق کے علمبردار کرتے ہیں جبکہ جو ایسے چھوٹے مسائل جس کے حل کرنا آسان ہے اگر ایسے ادارے چاہے تو حل کرنے کی ممکن کوشش کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے، لیکن بات کرنا اور جدوجہد یہ دو الگ پہلو ہیں ان دونوں میں واضح فرق ہے۔ میں حیرت میں آجاتی ہوں کہ زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے۔ سائنس بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ زندگی، سماج، معاشرے میں بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں پر اگر کچھ نہیں بدلا تو اس معاشرے میں عورتوں کی حیثیت نہیں بدلی۔ عورت جس طرح پیدا ہوئی ہے اس سے بدتر شکل میں مر رہی ہے۔ اگر وہ اپنے باپ کے گھر میں ہے تو پھر بھی وہ اس کا اپنا گھر نہیں، تو بھائی، بیٹے اور شوہر کا گھر اس کا گھر کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کی تو بس قبر ہے پر ہم سنتے، دیکھتے آ رہے ہیں کہ قبروں میں بھی حوا کی بیٹی کی کیسی بے توقیری ہو رہی ہے۔ اس اکیسویں صدی میں بھی عورتیں بچے دائیوں کے ہاتھوں جن رہی ہیں۔ اور وہ ان ہی مسائل کا شکار ہو رہی ہیں جنہیں دیکھ کر مرد اور ان کے شوہر ہی ان سے کہتے ہیں کہ تم سے بدبو آ رہی ہے۔

دائیوں کے ہاتھوں بچے جن کر یہ عورتیں کئی مسائل میں آ جاتی ہیں جنہیں دیکھ کر یہ دنیا انہیں کہتی ہے کہ ان کے سروں پر جن ہے، بھوت کا سایہ ہے، پر ایسا کچھ نہیں ہوتا

دائیوں کے ہاتھوں اذیت اٹھانے کے بعد ان کا اپنے پیشاب پر کنٹرول نہیں رہتا، میں انہیں سماج کی اذیت کا شکار کہوں گی، یہ دائیاں، یہ سماج، یہ معاشرہ ان سب کے پاس ان عورتوں کی کوئی حیثیت نہیں

FISTULA بیماری ان ہی دائیوں کی کارستانی ہے۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ FISTULA بیماری کو بھی جن اور بھوتوں سے جوڑا جاتا ہے۔ اس بیماری کے لیے بس آدھے گھنٹے کا آپریشن ہوتا ہے اور اس آپریشن سے یہ عورتیں ٹھیک ہو سکتی ہیں پر مرد ان کا یہ آپریشن بھی نہیں کرواتے۔

سائنس کی زبان میں ”4 degree tears“ یعنی کہ چار ٹائپ کے فسٹولا ہیں۔

1.VESICO VAGINAL FISTULA (VVF)
2.RECTO VAGINAL FISTULA (RVF)
3.PERINEAL TEAR
4.FRESH STILL BIRTH

1.Vesico Vaginal Fistula
یہ وہ فسٹولا ہے جس سے بچے کا سر pelvis یعنی ہڈی میں پھنس جاتا ہے پھر زور سے اس کی bladder مثانہ میں سوراخ ہوتا ہے تو عورت کو معلوم نہیں ہوتا اور اس سے ہر وقت پیشاب رس رہا ہوتا ہے

2.Recto Vaginal Fistula

یہ وہ فسٹولا ہے جو کہ پیشاب کے ساتھ عورت کا پاخانہ بھی آتا رہتا ہے اور اس فسٹولا میں عورتیں خود کشیاں بھی کرتی ہیں کیوں کہ ان کے اپنے شوہر ان سے دور ہو جاتے ہیں اور وہ اکیلی رہ جاتی ہیں، اور یہ معاشرہ انہیں ناپاک کہتا ہے۔ اس فسٹولا کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چھوٹی عمر میں شادیاں کر دی جاتی ہیں جب جسم کی ہڈیاں اتنی مضبوط نہیں ہوتیں اور یہ اندر سے ٹوٹ جاتی ہیں

ہمارے پاس% 85 فیصد بچیوں کی شادیاں کم عمری میں ہی کر دی جاتی ہیں فسٹولا کو غریبوں کی بیماری کہا جاتا ہے پر اس وقت بلوچستان میں یہ فسٹولا 65 فیصد ہے

3.Perineal Tear

یہ وہ فسٹولا ہے جو دونوں جگہوں کو ایک کر دیتا ہے، عورت کے آگے اور پیچھے کے حصے اندر سے مل کر ایک ہو جاتے ہیں اس مسئلے کا حل بس (Operation Perineal Repair) ایک آپریشن ہے پر وہ بھی ان بدنصیب عورتوں کی استطاعت میں نہیں ہوتا اور وہ اسی مسئلے کو لے کر چلتی رہتی ہیں اور سماج انہیں ناپاک کہتا رہتا ہے

اور آخر میں Fresh Still Birth یہ وہ چیز ہے جو لیبر روم میں بچوں کا مر جانا ہوتا ہے۔ اس میں معاشرہ عورتوں پر ظلم کرتا ہے اور operation theater میں Hysterectomy یا بچہ دانی نکالنے کے عمل میں بھی کہیں نہ کہیں اس سماج اور دائیوں کا بھی ہاتھ شامل ہے معاشرہ انہیں دائیوں کے سپرد کر دیتا ہے اور دائیاں ان کے ساتھ وہ حشر کرتی ہیں کہ میڈیکل سائنس کی بھی چیخیں نکل جاتی ہیں۔

یہ تو بس میں نے ایک بیماری کا ذکر کیا ہے باقی عورتوں کے مسائل تو اور بھی بہت ہیں یہ اکیسویں صدی ہے اور سندھ بلوچستان، اور ملک کے دیگر دیہی علاقوں میں اب بھی عورتیں دائیوں کے حوالے ہیں۔ یہی سچ ہے اور یہی زندگی کا آئینہ ہے۔ جب آپ حقیقت کو دیکھیں تو ضرور بولیں، بولنے سے ہی تبدیلی آئے گی پر وہ اکیسویں صدی نہیں ہو گی۔ وہ کوئی اور زمانہ ہو گا کوئی اور صدی ہو گی۔
محبت کی صدی
عزت کی صدی
عورتوں کی صدی!

Facebook Comments HS