بیوی ایک عظیم رشتہ
جب برا وقت چل رہا ہو اور آپ کے تمام نام نہاد اپنے رشتے ماں باپ، بہن بھائی، دوست احباب تک آپ کو چھوڑ جائیں اور نوبت فاقوں تک آ جائے۔ اس برے وقت میں ایک اکیلی آپ کی بیوی آپ کے ساتھ آپ کا حوصلہ بن کر کھڑی ہو۔ کم خوراکی، بوسیدہ لباسی کا بھی گلہ نہ کرے۔
شوہر کی موجودگی یا غیر موجودگی میں گھر کا، اپنی عزت کا اور بچوں کی بہترین تربیت کا بھی اچھا خیال رکھے۔ برے وقت میں کبھی شوہر ویسے ہی باتوں باتوں میں اس کی خواہش پوچھ لے۔
مجھے صرف آپ کا ساتھ توجہ اور پیار چاہیے۔ میری خواہش ہے کہ آپ ہر منزل پر کامیابی سے پہنچیں۔ آپ کی کامیابی میری کامیابی ہے۔ آپ کی مشکلات میری مشکلات ہیں۔ آپ کی خوشی اور دکھ میرے ہیں۔
ایسی بیوی کو جو انسان اچھا وقت آنے پر فراموش کردے۔ بار بار چھوڑنے یا دوسری شادی کرنے کی دھمکیاں دینے لگے۔ بچوں کی ساری ذمہ داری بیوی پر ڈال دے۔ اور بار بار خرچہ دینے کا طعنہ دینے لگے۔
میری نظر میں وہ انسان کچھ وقت خوش تو رہ سکتا ہے زندگی انجوائے کر سکتا ہے پر مستقل خوشی اس کے نصیب میں نہیں۔ کیونکہ جس کی مدد اور حوصلہ افزائی اور دعاؤں سے آج وہ اچھا کما کر دوسروں پر اڑا رہا ہے۔ اسی کو برابر نہیں سمجھ رہا ہوتا۔ کل پھر مشکل حالات ہوں گے ۔ کل پھر وہ ہی بیوی ہوگی اور کل پھر وہ ہی بچے ہوں گے جن کے لیے باپ کا سایہ دنیا کے تمام رشتوں سے بہت ضروری ہے۔
وقت سارے گزر جاتے ہیں اچھے بھی اور برے بھی لیکن رشتے وہ یاد رکھنے چاہیے جو برے وقت میں بنا لالچ کے صرف آپ کی حوصلہ افزائی کے لیے آپ کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں ان کی قدر کرو۔
اچھا وقت آتے ہی وہ لوگ بھی آپ کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں جو برے وقت میں آپ سے بات کرنا تو درکنار آپ کا تعارف اپنا بھائی بیٹا دوست کے رشتے سے کرونا بھی گوارا نہیں کرتے تھے وہ ہی رشتے آپ سے فرمائشیں کرنے لگتے ہیں۔
جب آپ پھر سے کنگلے ہو جاتے ہیں تو وہ لوگ بھی آپ سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ بھولے بھٹکے آپ کو فون کر کے یہ بھی نہیں پوچھتے کہ تمہارے بچوں نے کھانا کھایا ہے۔
اس وقت ایک آپ کی بیوی ہوتی ہے جو پانی گرم کر کے بچوں کو مطمئن کر رہی ہوتی کہ ابھی کچھ دیر میں کھانا پک جائے گا۔
دنیا نے اسے ماں کہہ کر بیوی کے کردار کو کم کرنا چاہا۔ حالاں کہ ایک عورت ماں بننے سے پہلے کسی کی بیوی ہوتی ہے۔
آپ کے آس پاس اگر کوئی مرد ماں کو یاد کر کے رو رہا ہو تو اس کی تعریف کی جاتی ہے کہ دیکھو یار اپنی ماں سے کس قدر زیادہ محبت کرتا ہے پر اسی جگہ وہ ہی مرد اپنی بیوی کو یاد کر کے ایک دو آنسو بہا دے تو لوگ ہنسنے لگتے ہیں اس کا مذاق بناتے ہیں اسے بیوی کا غلام کہتے ہیں جب کہ اس مرد کی اپنی بیوی سے محبت کو بھی رشک بھری نظروں سے دیکھنا چاہیے۔
افسوس دنیا نے اسے یہ کہہ کر تو شاباشی دی کہ ”ماں خود تو بھوکا رہ لیتی ہے لیکن بچوں کو بھوکا سونے نہیں دیتی“ کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ بات شوہر کہتا کہ میری بیوی خود تو بھوکا رہ لیتی ہے لیکن مجھے اور میری بچوں کو بھوکا نہیں سونے دیتی۔ پتا نہیں یہ تسلیم کرنے سے شوہر کو شرم کیوں آتی ہے۔
مرد ماں کو عظیم کہہ کر اپنے باپ کو برا کر دیتا ہے جیسے ابا نہیں تھے یا ابا کم کماتے تھے یا پھر ابا کماتے ہی نہیں تھے۔ ماں ہماری بچاری برے حالات میں بھی ہمیں ہمارا خیال رکھتی تھی اور خود بھوکا سو جاتی تھی۔ لیکن بیوی کو عظیم کہہ کر خود پر جو کام چوری کے سوالات اٹھیں گے ان کا سامنا کرتے اسے شرم آتی ہے۔
اکثر سنا ہو گا کہ میری ماں کے ہاتھوں کے پکے کھانے کا اب ذائقہ نہیں ملتا۔ ظاہر ہے جو بچپن سے کھاتے آئے ہیں اسی کھانے سے لگاؤ ہوجاتا ہے یہ بات آپ کے بیٹے بڑے ہو کر کہیں گے کہ ہماری ماں کے ہاتھوں کا ذائقہ نہیں ملتا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی بیوی بھی اچھا پکاتی ہے مگر آپ کی ماں سے لگاؤ آپ کو یہ بات تسلیم نہیں کرنے دیتی۔ لوگ ہمیشہ ماں کے ہاتھوں سے پکے کھانے یاد کرتے ہیں اپنے والد کی ماں یعنی اپنی دادی کے کھانوں کو نہیں اس سے صاف ہو گیا کہ آپ کی ماں کے ہاتھوں سے پکا کھانا صرف آپ کے لیے ذائقہ دار ہے۔
آپ کی ماں عظیم ہے لیکن وہ آپ کے ابا کی بیوی بھی ہے اور ایک عورت بھی ہے، آپ کی بیوی بھی آپ کے بچوں کی ماں ہے اتنی ہی عظیم جتنی آپ کی ماں ہے۔
لیکن آخر میں ایک سوال چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ ہم عورت کو ماں کی عظمت کا تاج پہنا کر اس سے انسان اور خاص طور پر عورت اور پھر بیوی کے حقوق چھین لیتے ہیں کہ دنیا میں صرف ایک ہی عظیم اور لائق عزت ایک ہی رشتہ ہے وہ ہے ماں کا۔
پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو عورت بانجھ ہو یا جو بیوی شوہر کے بانجھ پن کی وجہ سے ماں نا بن سکے تو؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر معاشرہ اسے عزت بھی نہیں دے گا۔
سچ تو یہ ہے کہ معاشرہ اب بھی صدیوں پرانے رسم رواج میں مبتلا ہے۔
یہاں جس درخت، زمین، جانور اور عورت میں پیداواری صلاحیت نا ہو وہ بے قیمت تصور کی جاتی ہے۔ پیداوار اچھی دے تو عظیم اور خدمت کے لائق سمجھی جاتی ہے۔
ماں لفظ کی حوصلہ افزائی نہ کی گئی تو وہ شوہر کے بچوں، قوم کے معماروں اور سرمایہ دار کے مزدوروں کو خود بھوکا رہ کر نہیں پالے گی۔
جب کہ بیوی ماں ہوتے ہوئے بھی کسی کھاتے میں نہیں گنی جاتی کہتے ہیں جیب میں پیسہ ہو تو بیویاں ہزاروں مل جانی ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات پر چھوڑنے کی دھمکی دے دی جاتی ہے۔
حکم بھی اپنی ماں کی عزت کرنے کا ہے دوسروں یہاں تک کہ اپنے بچوں کی ماں کو بھی عزت دینے کی ترغیب نہیں دی جاتی۔
کیا عجیب نہیں لگتا کہ جو بیوی شوہر کا گھر بھرے، گھر بسائے اس کو کہہ دیا جائے نکل جاؤ میرے گھر سے۔
سچ تو یہ ہے کہ عورت کا ہر روپ قابل احترام ہے
اسے ماں، بیوی، بہن، بیٹی اور بہو سمیت دیگر پہچانوں کی وجہ سے عزت دینے میں درجہ بندی نہ کی جائے۔ جتنی ماں، بہن اور بیٹی قابل عزت ہے اتنی ہی بیوی، بہو اور بھابھی بھی قابل احترام ہے۔


