محبت کی ایک کہانی


” اجی! سنتے ہو؟ میں کب سے چیختی پھر رہی ہوں مگر تم ٹس سے مس ہی نہیں ہو رہے ہو“ ، شہزاد کی بیوی ہاتھ میں بیلنا پکڑے، باورچی خانے سے آئی اور شہزاد پہ برس پڑی، جو بستر پہ لیٹا، آنکھیں بند کیے سوچ کی وادیوں میں گم تھا۔ ”ارے سن رہا ہوں اور کئی دن سے سن رہا ہوں، مگر سنانے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے، وہ میرے پاس نہیں ہے“ ، شہزاد نے آنکھیں بند کیے، وہیں سے ایک ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا۔ ”بچے کی دوائی میڈیکل سٹور سے لانی ہے۔

گڑیا کے لئے نیا بستہ خریدنا ہے۔ بجلی کے بل کی پرسوں آخری تاریخ ہے۔ ولایت خان حج سے واپس آیا ہے، اسے مبارک باد دینے جانا ہے،“ ، اس کی لسٹ نہ جانے کتنی لمبی تھی، مگر شہزاد نے ہاتھ کے اشارے سے ہی اسے منع کر دیا، اور وہ وہیں چپ ہو گئی، ”مگر ایسا کب تک چلے گا آخر؟ آج بھی گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ بچے بھوک سے بلبلا رہے ہیں، کیا انہیں زہر دے دوں؟“ ، وہ شدید بے بسی اور بے چینی کے ساتھ پورا زور لگاتے ہوئے چیخی۔

”مجھے بتاؤ میں کیا کروں۔ دو ماہ سے دفتر کے چکر پہ چکر لگا رہا ہوں، مگر وہ بدذات پینشن کے کاغذات ہی گم کر کے بیٹھے ہیں، تو کہاں سے لاؤں پیسے؟ ڈاکا ڈالوں؟ چوری کروں؟ یا اپنے آپ کو بیچوں؟ بتاؤ؟ کہاں سے لاؤں پیسے؟“ ، اس کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا تھا اور اس نے بھی جواب میں، بستر سے اٹھ کر غصے میں چیخ چیخ کر جب جواب دیا، تو کمرے کے باہر کھڑے دونوں بچے سہم گئے اور بہن نے بھائی کو گلے سے لگا لیا، جو تقریباً رونے والا تھا۔

بیگم بھی لاجواب ہو گئی اور بڑبڑاتے ہوئے کمرے سے نکل کر، دوسرے کمرے میں چلی گئی اور برتنوں کو زمین پہ پٹخ پٹخ کر پھینکنے لگی، جس سے وہ کرچی کرچی ہو کر بکھر گئے۔ برتن ٹوٹنے کی آواز اس قدر اذیت ناک تھی کہ بچوں نے انگلیاں کانوں میں دے دیں، جبکہ شہزاد خونخوار نظروں سے دونوں بچوں کو دیکھتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا۔

” ارے شہزاد بھائی! کہاں جا رہے ہو غصے میں؟“ ، حنیف دکاندار نے شہزاد کو شرارت بھرے انداز میں آواز دی، جو ہاتھ پینٹ میں ڈالے، پرانی جوتیوں میں اس کی دکان کے آگے سے گزر رہا تھا۔ ”جہنم میں۔ جانا ہے تم نے بھی؟“ ، شہزاد نے غضب ناک نگاہوں کے ساتھ جب حنیف کو جواب دیا، تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا اور شہزاد کے پاس آ کر اسے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے، دکان کے اندر لے آیا۔ ”بیٹھو یہاں۔ ٹھنڈے ہو جاؤ“ ، حنیف نے شہزاد کو اپنی کرسی پہ بٹھایا، ”بتاؤ کیا مسئلہ ہے؟

“ ، حنیف اب سنجیدہ ہو چکا تھا اور شہزاد بھی قدرے ٹھنڈا ہو کر، سکون سے سانسیں لے رہا تھا۔ ”کوئی ایک مسئلہ ہو تو بتاؤں۔ گھر میں آٹا نہیں، جیب میں پیسہ نہیں۔ موت مانگتا ہوں وہ ملتی نہیں۔ بتاؤ کیا کروں؟“ ، وہ حنیف کے سامنے پھٹ پڑا اور سارا غبار ایک ہی سانس میں نکال ڈالا، جسے سن کر حنیف بھی پریشان ہو گیا۔ ”اچھا تو یہ بات ہے، پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو جائے گا“ ۔ اس کے بعد حنیف نے جیب سے ایک ہزار کا نوٹ نکالا اور شہزاد کی طرف تھماتے ہوئے بولا، ”یہ لو ابھی اس سے کام چلاؤ“ ، ”نہیں یار۔

رہنے دو۔ کب تک تم سے قرض لیتا رہوں گا“ ، شہزاد نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ ”دیکھ پھر وہی غیروں والی بات۔ تجھ سے میں نے کبھی قرض کی واپسی کا کہا ہے۔ لے رکھ لے۔ میرے بھتیجوں کے لئے آٹا لے لینا“ ، شہزاد نے شرمندہ سے انداز میں نگاہیں ندامت سے جھکائے، وہ نوٹ اس کے ہاتھ سے لے کر جیب میں ڈالا اور پھر دکان سے نکل گیا۔

” ایک ہزار کا نوٹ اور ڈھیر سارے کام۔ کیا کیا کروں؟“ ، شہزاد ایک باغ میں بیٹھا، پھولوں کو دیکھ کر سوچ رہا تھا، جو پورے جوبن کے ساتھ کھلے ہوئے تھے۔ اس کے لئے یہ ایک ہزار کا نوٹ گویا اس سمے ایک لاکھ کے برابر تھا، اور وہ گہری سوچ میں گم یہی حساب لگا رہا تھا کہ کون سا کام سب سے زیادہ ضروری ہے۔ وہ کسی خیال کے ساتھ پھر اٹھا اور سر جھکائے سوچوں میں گم، باغ کے بیرونی دروازے کی طرف چل پڑا۔ جونہی وہ وہاں سے نکلا تو اس کی نظر بس سٹاپ پہ کھڑی، ایک عورت پہ پڑی جو ہڈیوں کا ڈھانچہ اور غموں کی مجسم تصویر بنے، وہاں گم سم ایک بینچ پہ بیٹھی، ہاتھ میں پکڑے کاغذ کو غور غور سے دیکھ رہی تھی۔

شہزاد اسے دیکھتے ہی چونک پڑا اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا، اس کے پاس چلا آیا۔ ”نغمہ یہ تم ہو؟“ ، شہزاد نے متجسس انداز میں جب اس سے پوچھا، تو اس نے اپنی نگاہوں سے شہزاد کو سر تا پیر یوں دیکھا، جیسے وہ ماضی کے تنے ہوئے پردے ہٹا کر، شہزاد کو پہچاننے کی کوشش کر رہی ہے۔ ”تم نے نہیں پہچانا مجھے؟“ ، شہزاد نے بے چینی کے ساتھ اس سے سوال کیا، جو ابھی بھی ماتھے پہ شکنیں ڈالے، اسے پہچاننے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔

”ارے میں ہوں شہزاد۔ چاچی کمو کا بیٹا“ ، شہزاد کا نام سن کر، اس کے کان یوں کھڑے ہو گئے گویا اس کی یاداشت واپس آ گئی ہے۔ ”یاد ہے جسے تو ملنے ہر رات درگاہ والے کنویں پہ آتی تھی اور پھر ہم دیر تک باتیں کیا کرتے تھے“ ، نغمہ یہ باتیں سن کر ایسے شرما گئی گویا وہ کنواری لڑکی ہے۔ ”شہزاد تم؟“ ، اس کی آواز بھرا گئی۔ ”ہاں نغمہ! وقت کی دھول نے ہمارے چہروں پہ اتنی گرد ڈال دی ہے، کہ اب ایک دوسرے کو پہچاننا بھی مشکل ہو چلا ہے“ ، شہزاد نے ایک سرد آہ بھری اور ڈوبتے سورج کو دیکھنا شروع کر دیا ”۔

“ تم لوگ تو پھر ایسے غائب ہوئے کہ پلٹ کر واپس گاؤں بھی نہیں آئے ”، شہزاد اس کے پاس بیٹھا، اس کے چہرے پہ نظریں جمائے ہوئے تھا۔“ میں کیا کرتی، تم تو جانتے ہو عورت کا کوئی گھر، کوئی گاؤں، کوئی منزل نہیں ہوتی۔ وہ زمانے کی لہروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ جہاں وہ لے چلیں، خاموشی سے سر جھکائے چلی جاتی ہے ”، وہ ہاتھوں کی ہتھیلیاں ایک دوسرے سے رگڑتے ہوئے، اپنی بے بسی اور زمانے کی بے رحمی کا رونا رو رہی تھی۔

“ کتنی محبت کرتے تھے ہم دونوں ایک دوسرے سے، کہ جینے مرنے کی قسمیں کھاتے تھے۔ اور آج یہ عالم ہے کہ ایک دوسرے کو پہچاننا بھی مشکل ہو چلا ہے ”، شہزاد سڑک کی دوسری طرف ایک جوڑے کو دیکھ کر، اسے ماضی کا فسانہ سنا رہا تھا، جو آپس میں خوش گپیاں لگانے میں مصروف تھا۔“ ہم کیا اور ہمارے وعدے کیا۔ بس پانی پہ کھنچی ہوئی لکیریں تھیں، جو کچھ وقت تک تو دکھائی دیتی ہیں مگر، پیچھے سے پھر ایک موج آتی ہے اور ان لکیروں کو یوں مٹا دیتی ہے کہ ان کا نام و نشاں تک باقی نہیں رہتا ”، نغمہ زمین پہ نظریں گاڑھے، سرد لہجے میں اسے حقیقی دنیا کے قانون کا بتا رہی تھی، جہاں دو انسانوں کے دلوں کی چاہت اور مرضی کو نہیں، بلکہ مفادات کو دیکھا جاتا ہے۔

”اب کہاں ہوتی ہو؟ اور کیا کرتی ہو؟“ ، شہزاد نے پیار بھری نظر سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ ”کہاں ہونا ہے، یہیں اسی شہر میں پڑی مر رہی ہوں۔ شوہر بیمار ہے اور دوائی کے لئے پیسے تک نہیں ہیں“ ، نغمہ ڈاکٹر کی پرچی کو دیکھتے ہوئے جواب دے رہی تھی۔ ”کیا ہوا اسے؟“ ، شہزاد نے جلدی سے پوچھا۔ ”کینسر کا مریض ہے۔ دس سال ہو گئے علاج کرواتے کرواتے۔ گھر بک گیا، زیور بک گیا، قرض کے پہاڑ کھڑے ہو گئے ہیں، مگر سزا ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی“ ، نغمہ کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے، جنہیں دیکھ کر شہزاد نے مزید کوئی سوال نہیں کیا۔ ”اب یہ دوائیاں لینی ہیں اور جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں ہے۔ کہاں سے آئیں گی یہ دوائیاں“ ، اس کے حلق سے یہ الفاظ بہت مشکل سے ادا ہو رہے تھے، اور شہزاد اس کی اس حالت کو دیکھ کر، اپنا غم بھول چکا تھا۔

” بچے کی دوائی، بجلی کا بل، گھر کا راشن“ ، بیوی کے الفاظ شہزاد کے کانوں اس طرح گونج رہے تھے، جیسے وہ کہیں پاس ہی کھڑی ہے۔ وہ ایک طرف بیوی کی باتوں پہ دھیان دیتا، تو دوسری جانب نغمہ کو دیکھتا، جو پرچی کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ شہزاد کے ذہن میں ایک عجب کشمکش کا عالم تھا، جہاں ایک طرف سابقہ محبت کا دریا جوش مار رہا تھا، تو دوسری جانب بیوی اور بچوں کی شکلیں روتے ہوئے ہاتھ جوڑے اس کی منت کر رہے تھے کہ ابا آٹا لے کر آنا، ہم کب سے بھوکے ہیں۔

وہ شدید تذبذب کے عالم میں، بار بار زمین پہ پاؤں مار رہا تھا۔ ”تمہیں کیا ہوا ہے شہزاد؟“ ، نغمہ نے حیرانی سے پوچھا۔ ”کچھ نہیں، بس ایک فیصلہ کرنا ہے مگر ہو نہیں پا رہا“ ، وہ شدید تکلیف کے عالم میں پیٹ کو ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا، جیسے کوئی چیز اسے اندر ہی اندر کتر رہی ہے۔ اس کے چہرے پہ کرب کے شدید اثرات تھے اور ماتھے کی نسیں ابھر کر نمایاں ہو چکی تھیں۔ ”کیسا فیصلہ؟“ ، نغمہ نے پتھرائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ حیرانی سے پوچھا۔

”تمہیں نہیں بتا سکتا“ ، وہ سرد آہ بھرتے ہوئے بولا۔ ”پھر بھی آخر پتہ تو چلے“ ، نغمہ کی روح کو جواب ملے بنا شاید چین نہیں آ رہا تھا۔ اس پہ شہزاد نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر چپ چاپ بنا کوئی جواب دیے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ”کہاں جا رہے ہو؟“ ، نغمہ بینچ سے اٹھ کر چلائی، مگر شہزاد نے پلٹ کر ایک بار بھی پیچھے نہ دیکھا۔ وہ کچھ دیر حیرت کے دریا میں ڈوبی وہیں کھڑی رہی اور پھر تھک ہار کر، بینچ پہ جونہی بیٹھنے لگی تو اس کی نگاہ اپنے پاؤں کی جانب گئی، جہاں زمین پہ ایک ہزار کا نوٹ پڑا تھا۔ اس نے وہ نوٹ کانپتے ہاتھوں سے اٹھایا اور پھر چپ چاپ اپنی آنکھوں کے ساتھ جب اسے لگایا، تو آنکھیں بے وفا ہو گئیں اور برسوں کی رکی ہوئی برسات، چھم چھم آنکھوں سے بہہ نکلی۔

Facebook Comments HS