غریب پاکستانیو! تمہاری کیا بات ہے


پاکستان کو بنے پچھتر برس ہو گئے ہیں۔ اس ملک کے قیام کے ساتھ ہی اسے غریب مہاجرین کا ایک لاتعداد ہجوم تحفے میں ملا تھا۔ بیس سے چالیس لاکھ کے درمیان ان غربا کے خاندانوں کو پورے ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی۔ یہ مہاجرین تقسیم سے پہلے مالدار اور صاحب حیثیت و جائیداد تھے۔ ملک تقسیم ہوا اور یہ لوگ بھی تقسیم ہوئے۔ ایک نعرہ تھا، ایک جوش تھا، ایک مقصد تھا، ایک خواب تھا۔ ملک بنانا ہے اور قربانی آپ نے دینی ہے۔ لاکھوں لوگوں نے اپنی جان کا نذرانہ دیا۔ اپنے مال و جائیداد سے خود کو محروم کیا۔ زمین سے کٹ گئے۔ یہاں تک کہ اپنی اولاد کو خود اپنے ہاتھوں سے مجبور ہو کر سرراہ چھوڑا۔ تقسیم کے چھے ماہ کے اندر ملک بنانے والوں کی اصلیت کھل کر سامنے آ گئی۔ کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ آنے والے لٹے پٹے خاندانوں کی آبادکاری کیسے ہوگی۔ مہاجرین کی ایک کثیر تعداد بھوک سے مر گئی۔ بھوکوں نے بھوکوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ ملک بنانے والے رؤسا اور جاگیرداروں نے اپنے نام پر ملک برابر تقسیم کر کے بانٹ لیا اور ہر طرح کے ذرائع آمدن پر قبضہ کر لیا۔

ملک پر بوجھ بننے والوں کو اس قدر ظلم اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا کہ لاکھوں بچے جنھوں نے متحدہ ہندوستان میں آنکھ کھولی؛ نومولود ملک کی بے رحم انتظامیہ نے دانستہ انھیں موت کی ابدی نیند سلا دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان غربا نے وطن کو مشکل سے نکالنے کے لیے اپنی بھوک بانٹ لی۔ جس کے پاس لاکھوں تھے ؛اسے کوڑیاں ملیں۔ جس کے پاس ننگ تھا۔ اسے کروڑوں دیے گئے۔ ملک بنانے والے دس بڑے خاندان تھے۔ جو پچھتر برسوں میں اب پچیس خاندانوں میں پھیل گئے ہیں۔

پچھتر سالہ اس دور میں ملک تین بڑی جنگوں میں تباہ ہوا۔ چھوٹی موٹی یلغاریں تو مسلسل جاری رہیں۔ حکمران آتے رہے۔ غریبوں کو لوٹتے رہے۔ اپنے اثاثے بڑھاتے رہے۔ جو ایک بار آیا، بار بار آنے کی ضد کرتا رہا اور اسی ضد میں مارا جا تا رہا۔ قیام پاکستان سے شروع ہونے والی ایثار کی روایت کو غریب پاکستانیوں نے ہر صورت قائم رکھا۔ 15۔ اگست کے دن ایک آنے کی چیز کے دام پانچ آنے بڑھے تو مہنگائی کا شور اٹھا۔ مہنگائی کی اس رفتار نے کبھی ریورس گئیر نہیں لگایا۔

پاکستانی غربا نے ملک پر مسلط اشرافیہ کے بھوکے پیٹ کو بھرنے کے لیے اپنا تن، من اور دھن قربان کیا۔ ان کو جو خواب دکھائے گئے وہ کبھی پورا ہوئے ؛نہ کبھی ہوں گے جو وعدے کیے ؛ وہ کبھی وفا ہوئے، نہ کبھی ہوں گے۔ پاکستانی غربا جو اب کروڑوں کی تعداد میں غربت کی انتہائی نیچی لائن پر زندگی گزار رہے ہیں ؛ وہ سو سال بعد بھی اسی سطح پر زندگی کی پٹری پر رینگتے ہوئے دیکھے جائیں گے۔ گزشتہ پانچ برس میں پاکستانی غربا کا جس طرح خون نچوڑا گیا ہے۔

ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے۔ تاریخ نے کسی اور ملک میں یوں برسر پیکار نہیں دیکھا۔ اس ملک پر جنگل کا قانون نافذ ہے۔ جنگل پر بادشاہ کی حکومت ہے۔ بادشاہ سلامت بدیسی جنگل کے بادشاہ اعلیٰ کی منشا سے حلف اٹھاتا ہے۔ اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے جنگل کی ہر چیز کو تیاگ دینے اور اکھاڑ دینے کے در پئے ہو جاتا ہے۔ یہ کسی کی مرضی سے تو آتا ہے لیکن جاتا اپنی مرضی سے ہے۔ اس کے پنجے اتنے مضبوط اور توانا ہیں کہ کے ٹو پہاڑ کی اونچائی اور سمندر کی گہرائی کے درمیان موجود سیاہ و سفید پر اس کی گہری نظر اور دسترس ہے۔

پاکستانی غربا کے پاس پیدا ہونے کا اختیار بھی نہیں ہے۔ انھیں ضرورت کے تحت پیدا کیا جاتا ہے۔ جانوروں کی طرح منڈیوں میں خودساختہ داموں بیچ کر فلک پوش فصیلوں کو آہن پوش بنایا جاتا ہے۔ پاکستانی غربا کی ہمت کو سلام ہے کہ انھیں جس قدر ذلیل کیا جائے، تنگ کیا جائے، رسوا کیا جائے، بدنام کیا جائے، بنیادی ضرورتوں سے محروم رکھا جائے۔ انھیں سر عام مار ڈالا جائے، شغل پر قتل کیا جائے۔ ان کے جسم کے ٹکڑے کر دیے جائیں۔

ان کی روح کو زخم پر زخم دیا جائے۔ انھیں فرق ہی نہیں پڑتا ہے۔ یہ پاکستانی غربا اتنے ڈھیٹ اور بے حس ہیں کہ گھر کے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ چور، ڈاکو، لٹیرے سے ہمدردی کرتے ہوئے اپنا سب کچھ بخوشی اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہ اتنے خوددار اور صابر ہیں کہ 400 فی لیٹر پٹرول، 250 فی کلو چینی اور 800 فی کلو گھی کی قیمت ہو جانے پر بھی کوئی احتجاج اور مظاہرہ نہیں کرتے اور نہ کبھی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انھیں جب پتہ چلتا ہے کہ پٹرول بڑھ رہا ہے تو یہ اپنی بائیک بیچ دیتے ہیں۔

انھیں جب پتہ چلتا ہے کہ چینی مہنگی ہو رہی ہے ؛یہ چائے پینا چھوڑ دیتے ہیں۔ انھیں جب پتہ چلتا ہے کہ گھی اب مہنگا ہو جائے گا تو یہ پراٹھا نگلنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ پاکستانی غربا عجیب و غریب ہیں۔ ان کی طرف سے کسی حکمران کو تاریخ میں گزشتہ پچھتر برسوں میں کبھی ٹف ٹائم ملا اور نہ کبھی مستقبل بعید میں ملے گا۔ پچیس نام نہاد خاندان جنھیں ملک بنانے والوں نے ملک کی حکمرانی اور حق رعیت ملکیت میں لکھ دی ہے وہ ان سے کبھی خائف ہوئے اور نہ کبھی انھیں یہ اندیشہ لاحق ہو گا کہ ان کروڑوں اپاہجوں اور معذوروں میں کوئی باغی پیدا ہو سکتا ہے جس کا ہاتھ ان کی گردن تک پہنچ سکتا ہے۔

راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ ویسے ایک بات ہے میاں! ۔ شنید ہے کہ اس ملک میں ایسے ایسے مہان رؤسا اور صاحب ثروت موجود ہیں جو اپنی دولت کی پنہاں آبشار سے ڈالر آب کا فقط ایک ایک لوٹا نکال دیں تو ملک نہ صرف قرض سے نجات پا سکتا ہے بلکہ دوسرے ممالک کو قرض دینے کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے۔ رب تعالیٰ کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ وہ اکڑنے والوں کی رسی مزید ڈھیلی کر دیتا ہے اور جھکنے والوں کے پھندے کی گرہ رکھتا ہے۔ پاکستانی غربا کا کام محنت کرنا ہے اور ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے ملک پر قابض خاندانوں کے چشم و چراغ کو پالنا ہے۔

یہ غربا اتنے سخی، درویش اور سادہ و معصوم ہیں کہ انھیں جب پتہ چلتا ہے کہ فلاں حکمران و صاحب اقتدار پر آفت آئی ہے تو راتوں جاگ کر دعائیں کرتے ہیں۔ رب سے التجائیں کرتے ہیں کہ اے میرے سوہنے رب! اس فرشتہ سیرت، معصوم انسان کو کچھ نہ ہونے دینا۔ اگر اسے کچھ ہوا تو ہم زندہ نہ رہیں گے۔ یہ مر گیا تو ہمارا کیا بنے گا۔ ہمارے باپ دادا نے آئے روز ایرانیوں، تورانیوں، افغانیوں اور انگریزوں کا ظلم سہا ہے۔ وہ مضبوط اعصاب کے مالک تھے ؛ اس لیے وہ یہ سب سہ گئے لیکن ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے۔

ہم پٹرول 500 فی لیٹر خرید لیں گے۔ ہم گھی 1000 فی کلو لے لیں گے۔ ہم چینی کھائے بغیر زندہ رہ لیں گے۔ ہم روٹی کی بجائے پتھر کھا لیں گے۔ ہم اپنے تن کو پتوں سے چھپا لیں گے۔ ہم آخری حد تک جائیں گے لیکن تو اس معصوم، بے گناہ اور معصوم فرشتہ سیرت کو کچھ نہ ہونے۔ جو اس کی صداقت و امانت پر الزام لگا رہے ہیں۔ تو اس کا نیست و نابود کردے۔ ہمیں پتہ ہے یہ چور نہیں ہے، اس نے کوئی چوری نہیں کی۔ یہ ہم ہی چور ہیں۔ ہم ہی ڈاکو ہیں۔

ہم بھی قصوروار اور گناہ کے مرتکب ہیں۔ اگر اس نے کچھ کیا بھی ہے تو اس کا بدلہ ہم سے لے لے۔ اسے کچھ مت کہنا۔ ہمیں اس سے محبت ہو گئی ہے۔ اس کا ظلم ہمیں پیار لگتا ہے۔ اس کا جبر ہمیں رومانس محسوس ہوتا ہے۔ اس کی زیادتی ہماری دل لگی بن گئی ہے۔ اس کا ستم ہمیں حوصلہ دیتا ہے۔ اس کا قہر ہمیں ہنساتا ہے۔ ہم ایسے ہی جینا چاہتے ہیں۔ جیتے جیتے مر جانا چاہتے ہیں۔ جاتے جاتے سب کچھ اسے اور اس کی اولاد کو دے کر جانا چاہتے ہیں۔ تو ہماری دعا کو سن لے۔ بے شک تو غربیوں کی دعاؤں کو جلد سن لیتا ہے۔

Facebook Comments HS