خیمہ بستی میں خواہشات بھری زندگی
کچھ دن قبل راہ چلتے ہوئے ایک نیم برہنہ بچے کو دیکھا۔ جو جھلسا دینے والی دھوپ میں ننگے پاؤں سڑک پر دوڑتا ہوا قریب ہی واقع خیمہ بستی میں نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ راستے کے دونوں اطراف واقع بستی میں چند ہی خیمے تھے جو پھٹے پرانے، پیوند لگے کپڑوں اور پلاسٹک شیٹس کو جوڑ کر بنائے گئے تھے۔ حفاظتی دیوار کی جگہ رسیوں اور لکڑی کی مدد سے کپڑے اور بوریاں لٹکا کر پردے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس خیمہ بستی میں مکینوں کی ایک نسل جوان ہو چکی ہے لیکن ان کے حالات زندگی جوں کے توں ہیں۔ ذہن میں خیال آیا کہ شاید یہ لوگ اپنے حالات بدلنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔
خیمہ بستی میں بسر ہونے والی زندگی کے شب و روز سے متعلق جاننے کے لیے نور محمد سے ملاقات کی۔ نور محمد نے بتایا کہ ان کی عمر 49 سال ہے۔ ان کے آباء و اجداد بلوچستان سے ہجرت کر کے ملتان کے علاقے بند بوسن میں آباد ہوئے۔ ابتداء سے ہی خیمہ بستیوں کے رہائشی ہیں۔ ہری پور میں 15 سالوں سے رہائش پذیر ہیں۔ شادی کو 26 سال گزر چکے اب چار بیٹیوں اور دو بیٹوں کے باپ ہیں۔ بڑی دو بیٹیاں شادی شدہ ہیں۔ دو جوان بیٹیاں کنواری ہیں اور چھوٹے دو بیٹے ہیں۔ نور محمد خود پیدائشی طور پر ایک بازو سے معذور ہیں۔ وہ پہلے مسافر گاڑیوں میں نمکو فروخت کرتے تھے تاہم خسارہ کے بعد ملتانی کھیس (بیڈ شیٹس) فروخت کرنے کا کام شروع کیا اس کاروبار میں بھی نقصان ہوا اور مقروض ہو گئے۔ اب سبزی منڈی میں مزدوری کر کے 6 نفوس پر مشتمل خاندان کا گزر بسر کر رہے ہیں۔
نور محمد نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنی معذوری کی رجسٹریشن کروائی ہے اور نہ ہی معذوری سرٹیفیکیٹ حاصل کیا ہے۔ وہ ووٹ رجسٹر کروانے اور حق رائے دہی استعمال کرنے سے ناواقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی ریلیف یا رہنمائی نہیں کی جاتی۔ خیموں میں ہیلتھ ورکرز صرف بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے اور خاندانی منصوبہ بندی کے متعلق آگاہی دینے آتی ہیں۔ بجلی، گیس اور پینے کے صاف پانی جیسی سہولیات میسر نہیں ہیں۔
ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کر کے لاتے ہیں۔ خواتین لوگوں کے گھروں سے پانی بھر کر لاتی ہیں۔ تیز گرمی اور دھوپ میں خیموں میں رہنا خاصا مشکل ہے۔ بارش کے پانی سے محفوظ رہنے کے لیے خیمے پر پلاسٹک شیٹ استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جب بھی خیمہ بستی میں کسی کا انتقال ہو جائے تو تدفین اپنے آبائی علاقوں میں کرتے ہیں۔ میت کو لے جانے کے لیے فوری پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض اوقات چندہ اکٹھا کر کے آخری رسومات اور تدفین کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ مقامی آبادی کے مکین ہر ممکن مدد اور تعاون کرتے ہیں۔
نور محمد نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بدلیں۔ کوشاں ہیں کہ کہیں ملازمت مل جائے۔ بنیادی سہولیات سے آراستہ مکان میں رہیں اور بچوں کو تعلیم دلوا سکیں۔ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم نہیں دلوا سکے۔ تاہم ان کی شادیاں برادری سے باہر خوشحال خاندانوں میں کی ہیں۔ وہ اب خیموں میں نہیں مکانات میں خوش و خرم زندگی بسر کر رہی ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا غلام علی جس کی عمر اب نو سال ہے کی پیدائش اسی خیمہ میں ہوئی تھی۔ قریب واقع محلے کے رہائشی شاہ نواز خان نے سمجھایا کہ جب یہ بچہ 5 سال کا ہو تو اسے اسکول میں داخل کروانا۔ اس مشورہ پر عمل کیا ہے اب بچہ پڑھ رہا ہے۔
خیمہ بستی کے مکین 9 سالہ طالب علم غلام علی نے بتایا کہ اسے پڑھائی کا بہت شوق ہے۔ تیسری کلاس کا طالب علم ہے قرآن مجید کے چار پارے بھی پڑھ چکا ہے۔ وہ 16 جماعتیں پڑھنے کا خواہش مند ہے اور انگریزی پسندیدہ مضمون ہے۔ غلام علی بڑا ہو کر فوجی افسر بننا چاہتا ہے۔
خیمہ بستی کی رہائشی 37 سالہ خاتون شہناز بی بی نے اپنے حالات زندگی کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ وہ 9 بچوں، 5 بیٹیوں اور 4 بیٹوں کی ماں ہے۔ بڑی بیٹی کی عمر 18 سال اور سب سے چھوٹا بچہ 3 ماہ کا ہے۔ شہناز بی بی کا کہنا تھا کہ بچوں کو تعلیم دلوانے کی خواہش کے باوجود خانہ بدوشی اور خراب مالی حالات کے باعث کبھی اس طرف توجہ نہیں دے سکی۔ ان کا خاوند بھی معذور ہے وہ خود پھیری پر چوڑیاں فروخت کرتی ہیں۔ پورے دن کی محنت و مشقت کے بعد 4، 5 سو روپے آمدن ہوتی ہے جس میں گزر بسر کرنا بہت مشکل ہے۔
انھوں نے کہا کہ رسیوں کی مدد سے کپڑے لٹکا کر خیموں میں عارضی غسل خانے تیار کر رکھے ہیں تاہم بیت الخلاء نہیں ہیں رفع حاجت کے لیے خواتین کو بھی کھلے میں جانا پڑتا ہے جس وجہ سے بہت مشکلات اور بعض اوقات ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ شہناز بی بی نے مزید بتایا کہ جن مشکل حالات کا سامنا انھوں نے کیا ہے بچوں کے لیے ایسی زندگی ناپسند کرتی ہیں۔ کوشش ہے بچوں کو بنیادی ضروریات میسر ہوں اور دیگر پاکستانیوں کی طرح با عزت زندگیاں بسر کریں۔
خیمہ بستی کے قریبی آبادی کے رہائشی شاہ نواز خان نے خانہ بدوش خاندانوں کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مستحق اور قابل رحم لوگ ہیں۔ ہم حسب توفیق ان کی مدد کرتے ہیں۔ انھیں زندگیاں بدلنے کی مسلسل ترغیب بھی دیتے ہیں لیکن بیشتر لوگ حالات بدلنے کی جدوجہد نہیں کرتے اور مرد و خواتین بھیک مانگنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم صحت و تعلیم اور دین کی طرف راغب ہونے کی دعوت پر کچھ لوگوں نے اپنے معاملات اور معمولات میں تبدیلی لائی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی کوششوں سے ہی نور محمد اپنے آبائی علاقہ میں دو مرلہ زمین خرید چکا ہے اس کا بچہ تیسری کلاس کا طالب علم بھی ہے۔ کچھ لوگوں نے بچوں کے پیدائشی سرٹیفیکیٹس اور فارم ب بنوائے ہیں اور روزہ نماز کے پابند بھی ہوئے ہیں۔
ایک اور بزرگ رہائشی مسعود الرحمان نے بتایا کہ وہ بھی خیموں میں آباد لوگوں کو اپنے برابر کا شہری سمجھ کر ہر ممکن تعاون کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ضلع ہری پور میں چند ہی جگہوں پر خانہ بدوشوں کی بستیاں آباد ہیں جہاں سینکڑوں خاندان رہائش پذیر ہیں۔ لیکن ملک بھر میں لاکھوں خانہ بدوش ہیں جو ہماری طرح پاکستان کے شہری ہیں اور مساوی حقوق کے حق دار ہیں۔ ہمارے ہاں شادی بیاہ، میلوں ٹھیلوں، محافل و تقریبات اور غیر ضروری شوق و مشاغل پورے کرنے کے لیے دولت و وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے لیکن خیموں میں رہائش پذیر ان مستحقین کی بہتری اور ترقی کی جانب کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ پاکستان میں لاکھوں بے گھر افراد بنیادی انسانی حقوق اور ضروریات سے محروم ہیں لیکن ایک طبقہ کے گھروں میں پالتو جانور بھی عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ سماجی تنظیموں اور فلاحی اداروں کو بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے اس طبقہ کی فلاح و بہبود کا کبھی خیال نہیں آیا۔
حکومت، انتظامیہ، سماجی تنظیمیں، فلاحی ادارے اور مخیر حضرات اگر خیمہ بستیوں میں سسکتی انسانیت کی جانب توجہ دیں تو شاید اپنے حالات بدلنے کے خواہش مند یہ لوگ خیموں سے نکل کر مکانات میں معیاری زندگی بسر کرنے کے قابل بن سکیں۔ ہزاروں بچوں کو خوراک، صحت کی سہولیات، مکمل لباس میسر آئے اور تعلیم حاصل کر کے ملک کے کارآمد شہری بنیں۔


