ایک مسلسل احتساب
نجیب محسن وہاں عین برانچ کھلتے ہی پہنچ گیا تھا۔
اپنی نئی پوسٹنگ پر جب سے وہ وہاڑی آیا تھا تو اس کی بیوی مائرہ کی سانسیں کچھ زیادہ ہی اکھڑ گئی تھیں۔ مائرہ کے لیے جیسے کچھ بھی ٹھیک نہ ہو رہا تھا۔
یوں تو اس کا یہ عارضہ پرانا تھا مگر الرجی کا ایسا حملہ کہ چھاتی ہر بار زور سے دبا کر سانس بحال کرنی پڑے، ایسا پہلے نہ ہوتا تھا۔ ایسا کرنے سے اس کی پسلیاں بھی دکھنے لگی تھیں۔ اس روز فجر کی نماز کے لیے جب نجیب اٹھا تو وہ بیوی کی ننھی منی ناک کے نتھنوں اور پتلے پتلے ہونٹوں پر مدہم سروں میں بہتے سانسوں کو پاکر وہ مطمئن ہوا تھا۔ سکون سے سوتے ہوئے مائرہ کا چہرہ اور بھی اجلا نظر آتا تھا۔ اس نے اپنے تئیں سوچا کہ اگر وہ تین چار گھنٹے اور نیند لے لے گی تو اس کے لیے بہت مفید رہے گا۔
وہ چپکے سے کمرے سے نکل گیا۔ نماز پڑھ کر لوٹا تو بیٹی کے کمرے میں گھس گیا۔ ندا کا جواں جسم بستر پر بکھرا پڑا تھا۔ وہ بیٹی کے کمرے میں یوں کبھی نہ گھسا تھا اور نہ ہی کبھی اسے یوں صبح صبح جگانے کا خیال آیا تھا۔ وہ رات گئے تک پڑھنے کی عادی تھی اور اپنی سہولت سے اٹھا کرتی تھی۔ مگر جب وہ ندا کے کمرے میں داخل ہوا اور مدہم نیلی روشنی میں اسے بستر پر اپنے وجود سے بے نیاز پڑے پاکر بوکھلاتے واپس ہونے لگا تھا تو تب تک وہ ندا کی بابت سوچ رہا تھا۔
وہ بوکھلاہٹ میں جب اپنی ایڑھی پر گھومتے ہوئے لڑکھڑایا اور دروازے سے ٹکرا گیا تو ندانے ہڑبڑا کر آنکھیں کھول دیں۔ باپ پر نگاہ پڑی تو اپنا لباس درست کیا اور اٹھ بیٹھی۔ بیٹی کے سنبھلنے تک باپ بھی سنبھل گیا تھا۔ اس نے ندا کو تاکید کی کہ وہ ماں کا خیال رکھے اور کام والی ماسی آئے تو بھی اسے نہ جگائے کہ وہ بڑے دنوں بعد سکون سے سو رہی تھی اور یہ کہ وہ شہر سے باہر جا رہا تھا، شام سے پہلے واپس نہ آ سکے گا لہٰذا دوپہر کھانے پر اس کا انتظار نہ کیا جائے۔
برانچ آفس پہنچتے ہی اس نے والٹ سے کیش اپنے سامنے ڈھیر کروایا، اسے اپنی نظروں کے سامنے گنوایا اور کا ؤنٹر چیسٹ میں منتقل کروا دیا۔ کیش سکرول سے گنی گئی کیش کو جانچا پر کھا گیا۔ پائی پائی برابر نکلی۔ گویا سب ٹھیک تھا۔ اس نے مینیجر کے آفس میں کھاتوں کی کچھ کتابیں منگوائیں ؛ سب کے اندراجات مکمل تھے۔ ابھی اس بینک میں کاروبار پوری طرح کمپیوٹر پر منتقل نہ ہوسکا تھا، ہاں ایسا ہوتا کہ شام جب کیش کا لین دین بند ہو چکا ہوتا، ووچرز اکاؤنٹنٹ سکرول میں لکھ لیے جاتے اور اپنی تئیں تسلی کر لی جاتی کہ سب ٹھیک ہے تو اس دن کے اندراجات کو کمپیوٹر سسٹم پر منتقل کر لیا جاتا تھا۔
نجیب نے سسٹم کھلوا کر حسابات کو وہاں مرتب ہونے والے اندراجات سے ملایا اور تحسین بھری نظروں سے مینیجر کی جانب دیکھا۔ وہ اپنے باس کے یوں دیکھنے پر سنبھل کر بیٹھ گیا۔ نجیب نے کتابوں پر جہاں بطور وزیٹنگ افسر دستخط کرنا تھے، کر دیے تو مینیجر نے اس ساری ہوا کو منہ کھول کر باہر نکل جانے دیا جو وہ اب تک چھاتی میں روکے بیٹھا تھا۔ گویا اب وہ مطمئن تھا۔
کوٹ سلطان برانچ کے مینیجر کا نام محمد شفیق میاں تھا، اس کی ملازمت کو سولہ سال ہو چلے تھے اور لگ بھگ اس کی ساری سروس اسی برانچ کی تھی کہ وہ منیر احمد کھچی ممبر قومی اسمبلی کا خاص آدمی تھا۔ یوں تو بینک اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظور کروائی گئی ایچ آر پالیسی پر عمل کرنے کا پابند تھا جس میں ہر تین سا سال بعد ایک برانچ کے آفیسرز دوسری برانچوں میں تعینات کر دیے جاتے تھے، مگراس کا اطلاق بالعموم انہی پر ممکن ہو پاتا جو کام سے کام رکھنے والے ہوتے۔ شفیق میاں جیسے لوگ اس قانون کو بھی غچہ دے جاتے تھے۔ کاغذات کے مطابق اس برانچ میں شفیق میاں کو اپنی ملازمت کے سارے عرصے میں کوئی چھ بار دوسری برانچوں میں ٹرانسفر کیا گیا تھا مگر ہر بار وہ بس کچھ دنوں کے لیے ہی وہاں رہا ہو گا کہ واپس اسی برانچ میں پوسٹ ہو گیا۔
برانچ مینیجر کا باپ میاں مرید، ممبر صاحب کا منشی تھا، اور ممبر صاحب کا کہنا تھا کہ شفیق میاں جیسے محنتی اور ایماندار افسر کو ان کے علاقے کی اسی برانچ میں رہنا چاہیے۔ ممبر صاحب کو ہیڈ آفس والے بھی خوش رکھنا چاہتے تھے لہٰذا قانون پر عمل بھی ہوجاتا اور واپس ٹرانسفر کرنے سے وہ خوش ہو جایا کرتے۔ جب سے مارشل لا لگا تھا، سیاست دانوں کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنے کے لیے اوپر سے بہت دباؤ تھا۔ جن برانچوں کے بارے میں بالعموم شکایات موصول ہوا کرتی تھیں، ان میں یہ برانچ بھی شامل تھی مگر یہاں تو سب ٹھیک تھا۔ نجیب نے مارشل لا کو ایک غلیظ گالی دی اور کتابیں بند کر کے کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ”ویل ڈن شفیق میاں، آپ کی برانچ تو مسلسل پرافٹ میں جا رہی ہے، بزنس ایکسپینشن خوب ہے اور سب اکاؤنٹس پراپرلی اور ٹائملی بیلنس ہو رہے ہیں، ویل ڈن۔“
مینیجر نے اپنی تعریف سنی تو اس کی چربیلی چھاتی کچھ اور پھول گئی۔ اس نے ہنسنے کے لیے اپنے موٹے موٹے ہونٹوں کو پوری طرح کھل جانے دیا۔ ایسا کرتے ہوئے اس کی آنکھیں مند گئیں اور طوطے کی چونچ جیسی ناک مزید جھک گئی۔ پھر وہ خود بھی جھک گیا اور چھاتی پر ہاتھ رکھتے ہوئے، اپنے نئے باس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے جلدی جلدی ”تھینک یو سر، تھینک یو سر“ کہا۔ وہ ایک بار اور یہی الفاظ کہنا چاہتا تھا مگر بیچ ہی میں کہیں اس کی نظر کیش کا ؤنٹر کے پاس کھڑے نذیر سلطان پر پڑی اور زبان تالو سے ساتھ چپک کر رہ گئی تھی۔
مینیجر کے اچانک چپ ہونے پر نجیب چونکا اور اس کی نظروں کے تعاقب میں کا ؤنٹر کی طرف دیکھنے لگا۔ وہاں کچھ بھی غیر معمولی نہیں تھا، تین چار کلائنٹس کیو میں کھڑے تھے، دو تین سامنے بیٹھے تھے اور ایک دروازے سے لگ کر کھڑا، مینیجر کے آفس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ یقیناً یہ ابھی ابھی وہاں آیا تھا اور باقی وہ ہوں گے جو ٹوکن سنبھالے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ ابھی نجیب الجھن سے نکلا نہ تھا کہ مینیجر سنبھل گیا اور اور بلا سبب ’جی سر، جی سر‘ کرنے لگا۔
اب اس کا باس پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھا مگر جب اس نے دیکھا کہ اس کا چہرہ تو اس کی طرف تھا مگر اس کی آنکھوں میں بھوری رنگت والے ڈھیلے، جال میں تازہ تازہ پھنسی کبوتری کی طرح حواس باختہ دائیں بائیں ہو رہے تھے تو اسے شک ہو گیا کہ دال میں کچھ کالا تھا۔ نجیب جہاں دیدہ شخص تھا۔ شک اس کی جاب کا لازمی جزو تھا، وہ ہر ٹرانزیکشن کو شک سے دیکھنے کا عادی تھا اور جب تک ہر اندراج کا جواز جان نہ لیتا اس کی توثیق نہ کرتا۔ اس عادت نے اس کی ایک ایسے افسر کے طور پر توقیر میں اضافہ کیا جو اپنے کام پر مکمل دسترس رکھتا تھا۔ وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اسے اٹھتا پاکر مینیجر بھی سیٹ سے یوں اٹھا جیسے کوئی سپرنگ نیچے سیٹ کا فوم اور استر کاٹ کر اس کے ماس میں چبھ گیا ہو۔
×:×:×
دو سے تین اضلاع کی برانچوں کے اوپر ایک ریجنل آفس تھا۔ پہلے ہر ریجنل آفس ہیڈ آفس کو رپورٹ کیا کرتا تھا مگر جوں جوں کلائنٹس بڑھے، کام زیادہ ہوا، فیلڈ افسروں کی تعداد میں اضافہ ہوا، نئی برانچیں کھولی گئیں تو بینک کے انتظامی امور کمزور پڑنے لگے اور بد انتظامی کی شکایات بڑھتی چلی گئیں۔ ایسے میں ہر تین ریجنل آفسز کے اوپرویجی لینس آفس بنا دیا گیا۔ ہیڈ آفس پہنچنے والی ساری شکایات انہیں دفاتر کو بھیج دی جاتیں۔
نجیب محسن ویجی لینس زون ٹو کا ہیڈ تھا جس میں کوٹ سلطان برانچ پڑتی تھی۔ جس شکایت کی انکوائری کے لیے وہ برانچ آیا تھا ان کی نوعیت مختلف تھی۔ یہ شکایت کسی کلائنٹ کی طرف سے نہ تھی کہ اس سے ثبوت لے کر بات آگے بڑھائی جاتی یا شکایت کنندہ کے بیان کی روشنی میں ریکارڈ کو کھنگال کر شواہد اکٹھے کر لیے جاتے، یہ تو اوپر سے آنے والی سیاسی افراد کی محض ایک فہرست تھی؛ بری شہرت رکھنے والے، قرض لے کر نادہندہ ہو جانے والے، اور سرکاری ملازمین کو آلہ کار بنا کر سرکاری خزانے کو لوٹنے والے با اثر افراد کی فہرست۔
اور حکومتی ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں بتا دیا تھا کہ ایسے کرپٹ افراد کو اگلا الیکشن لڑنے کے لیے نا اہل قرار دیا جائے گا۔ سرکاری محکموں کو ان افراد کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنے تھے۔ نئے سیاسی سیٹ اپ کے تحت عبوری مدت کی وزارت عظمیٰ جس شخص کے حصے میں آئی وہ ماضی میں بنکار رہا تھا لہٰذا حکومت کا سارا زور بنکوں پر تھا کہ ان کے خلاف ثبوت فراہم کیے جائیں۔ یہ مارشل لا اس لحاظ سے مختلف تھا، کہ اسمبلیاں توڑنے کی بجائے کچھ عرصے کے لیے معطل کی گئی تھیں۔
گزشتہ حکومت سے نالاں مگر اچھی شہرت رکھنے والے کچھ اسمبلی کے ممبران نئے سیٹ اپ کا حصہ ہو گئے تھے۔ گویا مارشل لاء نے حکمرانی کے لیے جمہوری قبا پہن لی تھی اور اگلے الیکشن سے پہلے وہ اپنے دعووں کے مطابق یہاں کا گند صاف کرنا چاہتے تھے۔ انا نہیں اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے اسمبلی کے کچھ اور ارکان کی حمایت چاہیے تھی اور اس کے لیے وہ چھان پھٹک کر رہے تھے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ ایسے با اثر لوگ جو کرپٹ تھے، ان کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر صدر بن گیا اور اپنا ایک سیاسی سیٹ اپ بنالیا تو عبوری وزیر اعظم، دوسرے سرکاری اداروں کی طرح بنک کے ہیڈ آفس میں خود آیا اور زور دے کر کہا کہ یہاں سے کچھ نہ کچھ نکلنا چاہیے۔
کچھ نہ کچھ کیا، خبریں آنے لگی تھیں کہ کئی اور برانچوں سے بہت کچھ نکلنے لگا تھا۔
کوٹ سلطان برانچ سے نکلتے وقت نجیب کو مینیجر کی بے کلی کا جواز سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ جب اس کی گاڑی برانچ کی عمارت سے نکل کر ڈبل روڈ پر مڑ رہی تھی، تو رئیر مر ر میں دیکھتے ہوئے اسے شک سا ہوا تھا جیسے وہی شخص جو برانچ میں دروازے کے پاس کھڑا تھا، بھاگ کر پیچھے آیا تھا۔ تاہم اس کی گاڑی مڑ جانے سے وہ اب نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا۔ اس نے ڈرائیور کو گاڑی آہستہ کرنے کا اشارہ کیا، ڈرائیور نے ادبدا کر بریک پر پیر جما دیا تو ان کی گاڑی کے ٹائر چراچرائے۔
پیچھے آنے والی کار کو یوں یک دم بریک لگانے پر جو کوفت اٹھانا پڑی تھی اس کا اظہار اس نے تین بار ہارن دے کر کیا۔ نجیب نے ہڑبڑا کر گاڑی کی رفتار بڑھانے کا اشارہ کر دیا اور سائڈ مرر میں جھانکنے لگا۔ اب وہاں اس کے دیکھنے کو کچھ نہ تھا۔ اس نے سیٹ کے پہلو میں ٹٹول کر لیو ر تلاش کیا، اسے اوپر کھینچا تو سیٹ کچھ اور پیچھے لڑھک گئی۔ اس نے سر پیچھے ٹیک پر گرایا، کندھوں اور پاؤں پر بدن سہار کر کولہوں کو اوپر اچھالا اور واپس آنے دیا اور ٹانگیں دراز کر کے آنکھیں موند لیں۔
×:×:×
وہ آنکھیں موندے، کرسی سے پشت لگائے کچھ سوچتا رہا۔ رپورٹ تیار تھی۔ کوٹ سلطان برانچ کی انسپیکشن کو پانچ روز گزر گئے تھے اور ہیڈ آفس سے دوسرا فیکس ریمائنڈر موصول ہو چکا تھا۔ نجیب ذمہ دار افسروں میں شمار ہوتا، ہر کام اپنے وقت پر کرنے کا عادی۔ ایسا ہو سکتا تھا کہ کوئی اسائنمنٹ وقت پر مکمل کرنا ممکن نہ ہو، مگر ایسے میں یہ ممکن نہ تھا کہ اس نے قبل از وقت اس کا جواز رپورٹ کر کے حتمی تاریخ میں ردو بدل نہ کروا لیا ہو۔
کوٹ سلطان برانچ کی انسپیکشن رپورٹ بھی اس نے اگلے روز ہی مکمل کر لی تھی اور ایک مرحلے پر اس نے اسے ڈسپیچ کرنے کا کہہ بھی دیا تھا۔ مگر اسے رک جانا پڑا کہ دھیان میں برانچ مینیجر کی آنکھیں آ گئی تھیں۔ اس نے اپنے آپ کو بہت تسلی دی کہ جو لکھا گیا تھا وہ درست تھا۔ جب اس کا کوئی قصور سامنے نہیں آیا تھا اور نہ ہی اس برانچ سے کوئی ایسا ریکارڈ ملا تھا کہ منیر کھچی ممبر قومی اسمبلی کے خلاف بہ طور ثبوت رپورٹ کا حصہ بنایا جاتا تو اپنی طرف سے مرتب کردہ ’اوکے‘ رپورٹ کو جمع کرانے اور بعد ازاں اس کے دفاع کے لیے بھی خود کو تیار کر چکا تھا۔
تاہم ایک بات اسے کھٹک رہی تھی یہی کہ اس برانچ سے اس ممبر قومی اسمبلی نے غیر معمولی قرض لیا تھا جو اس کے اپنے نام کے علاوہ اس کے بیوی بچوں اور مزارعین کے نام پر تھا۔ اس باب میں اس نے اپنے آپ کو یوں مطمئن کر لیا تھا کہ ایسے کھاتوں میں اقساط باقاعدگی سے جمع کرائی جا رہی تھیں اور محض قرض لینا کوئی جرم نہ تھا۔ رپورٹ لکھتے ہوئے برانچ مینیجر کی حواس باختگی اور اس کی بھوری آنکھوں کے ڈھیلوں کی پھڑپھڑاہٹ بھی اسے شک میں ڈالتی رہی تھی۔
اور اب، جب کہ رپورٹ مکمل ہو چکی تھی وہ آنکھیں موندے مینیجر کی بابت ہی سوچ رہا تھا۔ ایسے میں اچانک ایک جھپاکا سا ہوا، اس کا دھیان اس شخص کی طرف ہو گیا، جو وہاں برانچ میں دروازے کے پاس تھا اور شاید لپک کر گاڑی کے پیچھے بھی آیا تھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس سارے معاملے کو پھر سے دیکھے گا۔ اس نے کندھے پر کوٹ ڈالا جھک کر کال بیل کا بٹن دبا کر دروازے کی سمت دیکھنے لگا۔ بٹن پر انگلی شاید معمول سے کچھ زیادہ دیر کے لیے جمی رہی تھی اس لیے آفس بوائے ہڑبڑاتا اندر داخل ہوا۔ نجیب نے اسے ڈرائیور کو گاڑی باہر لگانے کا کہا، پھر ٹیبل پر پڑی فائل اٹھائی اور باہر نکل گیا۔
ابھی وہ گاڑی میں ڈھنگ سے بیٹھا بھی نہ تھا کہ ایک شخص عین گاڑی کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اسے پہچاننے میں دیر نہ لگی تھی کہ یہ تو وہی شخص تھا جس کی تلاش میں وہ کوٹ سلطان برانچ کے لیے نکلا تھا۔
×:×:×
وہ اس کے سامنے بیٹھا کچھ دیر تو اس تذبذب میں رہا کہ بات کہاں سے شروع کرے۔ پھر اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا، وہاں مومی لفافے میں لپٹا ہوا کاغذوں کا ایک پلندا نکالا اور نجیب محسن کے سامنے پھیلا دیا۔
”میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے صاحب، بہت ظلم“
”ظلم؟“ ؛ نجیب کا دھیان اپنے سامنے پڑے کاغذوں کی طرف ہو گیا۔ سب سے اوپر بنک کے نام ایک درخواست تھی۔ اس نے درخواست دہندہ کے دستخطوں کے نیچے لکھی گئی تاریخ دیکھی، گویا یہ درخواست کوئی دو سال پہلے دی گئی تھی۔
”نذیر سلطان؟“
”جی، جی۔“
نجیب نے اس پر غور نہیں کیا کہ سامنے بیٹھے ہوئے شخص نے اس کے پہلے استفسار کا جواب دیا تھا یا اپنے نذیر سلطان ہونے کی تصدیق کی۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھ رہا تھا کہ وہ شخص اپنے ہاتھ بری طرح مسل رہا تھا اور اس کے ہونٹ پھڑ پھڑا رہے تھے۔ بات کہاں سے شروع کرے اور کن لفظوں سے شروع کرے اس کا فیصلہ نذیر سلطان نہیں کر پا رہا تھا۔ نجیب کے استفسار نے اس کی مدد کی اور اسے لگا جیسے ”جی، جی“ کہنے سے اس کے حلقوم کے اندر کی پکڑ ڈھیلی پڑنے لگی تھی۔
”بنک نے کیا کیا اس درخواست پر ؟“
”بنک نے کیا کرنا تھا جی۔ ایک بے وسیلہ شخص کی درخواست پر اس ملک میں کیا ہو سکتا ہے۔ جواب نیچے لگا ہوا ہے درخواست کے۔“
نجیب نے درخواست پڑھ لی تھی، نادہندگان کی ایسی شکایات سے اس کا واسطہ پڑتا رہتا اور اسے اندازہ تھا کہ بنک نے اس کا کیا جواب دیا ہو گا۔ اس نے کاغذات کو الٹا پلٹا، ان میں کچھ بنک کی رسیدیں تھیں اور ایک اسٹیٹمنٹ آف اکاؤنٹ بھی۔
”آپ نے نیلامی سے پہلے کچھ رقم جمع بھی کروائی تھی۔“
”جی۔ تین رسیدیں ہوں گی ان میں رقم جمع کرانے کی۔ ایک دس ہزار اور دو پندرہ پندرہ ہزار کی۔“
”قسطیں تو زیادہ بقایا تھیں۔ اتنے میں نیلامی کیسے رک سکتی تھی؟“
”جی، آپ نے ٹھیک کہا مگر میرے پاس یہی گنجائش تھی اور مینیجر نے ہر بار یقین دلایا تھا کہ نیلامی روکنا اس کے ہاتھ میں ہے وہ روک دے گا۔ اور یہ کہ نوٹس تو بس خانہ پری تھے۔“
”خانہ پری؟“
”جی ہاں، اس نے یہی کہا تھا کہ سرکاری کھاتے میں نوٹس ضروری تھے، اس لیے دیے اور کچھ نہیں ہو گا۔ اور نیلامی والی تاریخ جو اس اخبار والے نوٹس میں چھپی تھی، اس روز بھی میں برانچ گیا تھا وہاں کچھ نہیں ہوا تھا۔ دیکھیں، یہ کاغذ اور تاریخیں ملا کر دیکھیں رسیدوں سے۔“
جو کچھ وہ کہہ رہا تھا بہ ظاہر درست لگتا تھا۔ کاغذوں کے پلندے میں بنک کی طرف سے دیے گئے نیلامی کے نوٹس اور ایک اخبار میں چھپے ہوئے اشتہار کے تراشے کے علاوہ وہ خط بھی تھا جو بنک کی طرف سے اس کی شکایت کے جواب میں لکھا گیا تھا۔ ایسی درخواستوں کے جواب میں لکھا گیا معمول کا ایک خط۔ اس میں قانون کی دفعات کا حوالہ دے کر بتایا گیا تھا کہ، اس کے خلاف کی گئی کارروائی نادہندگی کے قانون کے تحت درست طور پر کی گئی تھی۔
نجیب نے کاغذات تہہ کر کے ایک طرف رکھے، کہنیاں میز پر ٹکائیں اور اس کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا:
”آپ باہر کما نے گئے تھے، کمایا بھی ہو گا قرض واپس بھی تو کرنا ہوتا ہے۔“
”جی، آپ نے درست کہا۔ میں نے خوب محنت کی۔ رات دن ایک کیا۔ اپنا آپ مارا۔ پاکستان آیا تک نہیں اور خوب پیسے بھیجے۔ کہا بھی تھا پہلے بنک والوں کی قسطیں جمع کروا نا مگر ہم گرے پڑے لوگوں کی ضرورتوں کے منہ مگر مچھ کی طرح منہ کھولے ہوتی ہیں، پیسے آ جائیں تو پہلے ان کے منہ میں ڈالتے ہیں۔“
”تو گویا سب پیسے آپ کے گھر والوں نے اڑا دیے؟“
”اڑا نہیں دیے جی، گھر کچا تھا پہلے گرا کر اس کو پکا کیا، پکا فرش، پکی چھت۔ باتھ روم فلش سسٹم۔ میں آیا تو گھر دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ سارا پیسہ تو یہی کھا گیا ہو گا۔ بیٹی کی شادی طے ہو گئی تھی اسے رخصت کرنے آیا تھا۔ بنک کے نوٹس پر نوٹس آ رہے تھے۔ ادھر یہ ادھر وہ بیوی پر غصہ آ گیا جو منہ میں آیا بک دیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پہلی بار مجھے لگا ان چند برسوں میں وہ بہت بوڑھی ہو گئی تھی۔ کہنے لگی؛“ تمہاری نظر میں سارا پیسہ پکی دیواروں، فرشوں اور چھتوں پر تھوپ کر میں نے اچھا نہیں کیا، بنک میں جمع کرایا ہوتا۔
بیٹی گھر بیٹھی، بوڑھی ہو رہی تھی، اسے بوڑھی ہونے دیتی۔ زمانہ بدل گیا ہے نذیر۔ بیٹی کا باپ بن کر سوچ۔ اس پکے گھر کو دیکھ کر ہی تو یہ رشتہ آیا ہے۔ اب تمہارے پاس جو کچھ ہے چاہو تو جاکر بنک جمع کروا آؤ۔ بیٹی کو اگلی چھٹی پر رخصت کر دینا۔ ”میں اس کے طنز کو سمجھ گیا اور اس سوجھ بوجھ کو بھی جو ایک ماں کے پاس ہی ہو سکتی تھی۔ میرے پاس پیسے تھے، بنک میں کچھ زیادہ جمع کرا دیتا مگر کچھ دنوں بعد بیٹی کی بارات ہمارے گھر آنے والی تھی اور اسے عزت سے رخصت بھی کرنا تھا۔ بس جتنی گنجائش نکلی وہ جمع کرا آیا تھا۔“
نجیب نے اس کی کہانی سے اکتا کر کہا:
”اس میں اب میں کیا کر سکتا ہوں۔ کچھ بھی تو نہیں ہو سکتا؟“
وہ تڑپ کر سیدھا بیٹھ گیا اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور نہایت مایوسی کے عالم میں کہا:
”کچھ کریں جی آپ۔ ورنہ میں تباہ۔“
وہ بات مکمل نہ کر پایا تھا کہ اس کا حلقوم ایک بار پھر اندر پڑنے والے آنسوؤں نے جکڑ لیا تھا۔ نجیب اٹھا، اس نے اپنے پہلو میں پڑے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا اور اس کے سامنے رکھ دیا۔ اس نے غٹ غٹ سارا گلاس لنڈھا لیا۔ شاید اسے شدید پیاس لگی ہوئی تھی یا پھر شاید وہ اپنے آپ کو اس طرح کچھ کہنے کے لیے تیار کرنا چاہتا تھا۔ ہونٹوں سے گلاس الگ کرتے ہی اسے لگا کہ وہ بات کر سکتا تھا۔
”دیکھئے، اب مجھ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ میں اپنی زمین کا قبضہ چھوڑ دوں۔“
” زمین کی نیلامی تو بہت پہلے ہو چکی۔ آپ نے ابھی قبضہ نہیں دیا؟“
” کیسے دے دوں؟“
اس کی آنکھیں اور ہتھیلیاں ایک ساتھ پھیلیں اور آواز اونچی ہو گئی تھی۔ کچھ دیر وہ خاموش رہا پھر مدھم آواز میں کہنے لگا:
”آپ کا کیا خیال ہے میری زمین فضل داد نے بنک والوں سے نیلامی میں خریدی ہے۔ کاغذات میں یہی لکھا ہے نا“
نجیب نے اچٹتی نگاہ کاغذوں کے پلندے پر ڈالی اور سر اثبات میں ہلا دیا۔
”نہیں صاحب، میری زمین اصل میں ممبر صاحب نے خریدی ہے، فضل داد تو ان کا محض ایک کاما ہے۔ ممبر صاحب ہی قبضہ چھوڑنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں مجھ پر ۔“
نجیب پہلی بار چونکا اور کہا:
”ممبر صاحب؟ گویا منیر احمد کھچی نے؟“
”جی، کھچی صاحب نے۔ جب مجھے پیسوں کی ضرورت تھی دوبئی کے ویزے کے لیے تب میں گیا تھا ان کے پاس۔ ان کی نظر تھی میری زمین کے ایک حصے پر ، کہنے لگے یہ لکھ دو اور پیسے لے جاؤ۔ میں بنک کے پاس چلا آیا۔ زمین تو ماں بیٹی جیسی ہوتی ہے نا کیسے بیچ دیتا۔ اگر پچھلی حکومت ختم نہ ہوتی تو وہ میری زمین کا قبضہ لے بھی چکے ہوتے۔ جی، وہی زمین جو میں نے نہیں بیچی تھی مگر انہوں نے خرید لی تھی۔ ان کے آدمی مجھے کہہ گئے تھے کہ زمین اب ان کی ملکیت ہے اور وہ اسے زمان گل خان کو ٹھیکے پر دے رہے ہیں۔“
اس نے لمبی سانس لی اور نجیب سے پوچھا؛ ”آپ جانتے ہوں گے ناں گل زمان خان کو ؟“
نجیب ہنس دیا ”بھلا میں کیسے جان سکتا ہوں اسے؟“
”تھوڑا وقت ہوا ہے نا! یہاں آپ کو ، جان جائیں گے۔ وہ کابلی پٹھان ہے۔ سود خور کابلی پٹھان اور قاتل بھی۔ کئی لوگ اس سے قرض لے کر اجڑ چکے ہیں۔ اس کے کئی کاروبار ہیں۔ اور اندر کی بات یہ ہے کہ وہ ممبر صاحب اور پولیس والوں کا خاص آدمی ہے۔ زمین کا ٹھیکہ زمان گل خان کو دیے جانے کا مطلب تھا کہ میری مکمل بربادی۔ یہ میں جانتا تھا اس لیے میں نے بنک کو درخواست دی تھی۔ مگر بنک والوں نے کیا کیا، مجھے اس پر اس نے ٹھینگا دکھا دیا۔ بنک کا جواب خود پڑھ لیا آپ نے۔ کہتے ہیں میں نے قرض پر لیا ہوا ٹریکٹر بیچ دیا اور رقم نہیں لوٹائی۔ ہاں میں نے ایسا کیا تھا۔ میں نے پہلے بتا دیا تھا کہ مجھے ٹریکٹر نہیں کیش چاہیے تھا۔“
نجیب نے چونک کر اس کے الفاظ دہرائے :
”پہلے بتا دیا تھا۔ کیش چاہیے تھا؟“
نجیب نے اس کے دیے ہوئے کاغذات کو ایک بار پھر دیکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھی کہ اس نے ترت کہہ دیا:
”ان میں کچھ نہیں ہے جی۔ ان میں تو ٹریکٹر کا ہی لکھا ہو گا اور یہ بھی کہ میں نے بیچ دیا۔ معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو بنک نے میری زمین کی نیلامی کے ذریعے واجبات کی وصول کر لیے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ یہی لکھا ہوا ہے نا، ان میں؟“
”ہاں، اور یہی قانونی اقدام ہو سکتا تھا وصولی کا ۔“
”قانونی؟“
اس نے اپنی ہتھیلیاں ایک دوسری میں لے کر مسلیں۔ اور ایک بار پھر بڑبڑایا۔
”قا اا انووونی“
اس بار اس نے لفظ کھینچ کر لمبا کر لیا تھا اور اس کا لہجہ طنزیہ تھا۔
”قانون جو ہمارے لیے ہے صرف۔“
اس نے شیشے کی دیوار سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔
”صرف ہمیں پھانسنے والا پھندا“
پھر وہ نیچے دیکھنے لگا اور کچھ سوچ کر جیسے ہنس دیا تھا۔
”مرغیوں کو پکڑنے کے لیے ہم کھارے کا استعمال کرتے ہیں، جی کھارا دیکھا ہے کبھی آپ نے، سرکنڈے سے بنا ہوا ٹوکرا۔ اسے الٹا کر کے ایک کنارا بالشت بھر اس شاخ کے ٹکڑے پر ٹکا لیتے ہیں جس سے رسی بندھی ہوتی ہے۔ مرغیاں کھارے کے نیچے بکھرے اناج کو چگنے آتی ہیں اور ہم اسی تاک میں دور بیٹھے رسی کھینچ لیتے ہیں۔ یہ قانون ہمیں بھی یوں ہی پھانستا ہے۔“
”مگر اس میں بنک کا کیا قصور ہے۔ اس نے تو ایک قانونی اقدام لینا تھا، لیا۔ اور کیا کرتا۔ آپ نے بھی تو ۔“
اس نے سر جھکا لیا اور کہا:
”ہاں میں نے بھی تو قرض نہیں لوٹایا تھا۔“
نجیب کو اب اس میں دلچسپی نہیں رہی تھی کہ سامنے بیٹھے ہوئے شخص کے ساتھ کیا معاملہ ہوا تھا۔ وہ اس کی باتیں سنی ان سنی کرتا بے چینی سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔ جو تفصیلات اس شخص نے بتائی تھیں، انہیں کام میں لاکر اسے کھچی صاحب کے ملوث ہونے کا کیس تیار کرنا تھا مگر اس کی بات طویل ہو رہی تھی اور اس میں سے مزید کام کی کوئی بات نہ نکل رہی تھی۔ تاہم اسے یقین ہونے لگا تھا کہ یہ ایسا کیس بن سکتا تھا جس میں ہیڈ آفس والوں کو دلچسپی ہو سکتی تھی۔
معزول کی جانے والی حکومت میں یہ ایم این اے وفاقی وزیر رہا تھا۔ اس لحاظ سے یہ کیس اور بھی اہم بن گیا تھا۔ وہ شکر بجا لا یا کہ خدا نے بروقت اس آدمی کو اس کی مدد کے لیے بھیج دیا تھا ورنہ اگر وہ رپورٹ ہیڈ آفس چلی جاتی جو اس نے تیار کر کے ڈسپیچ ہونے کے لیے رکھ چھوڑی تھی اور بعد میں یہ کیس نکل آتا، جس میں اب کئی طرح کے پیچ پڑ گئے تھے تو سیدھا ان ایفیشینسی کا کیس بننا تھا۔ ایسا سوچتے ہوئے وہ اندر سے کانپ گیا۔
اب، اسے ایسی حکمت عملی اپنانا تھی کہ ہر اس بات کو رپورٹ کا حصہ بنا یا جا سکے جو اس ایم این اے کے خلاف کیس کو مضبوط بنا سکتی تھی۔ اس نے شکایت کنندہ کو ساتھ لیا اور متعلقہ برانچ پہنچ گیا۔ نئے سرے سے ریکارڈ منگوایا اور اس نہج پر انکوائری شروع کر دی۔ اب وہ سارے قرضے جو کھچی صاحب اور ان کے گھرانے نے لیے تھے معمول کی بات نہ تھے، ایک ہی خاندان کو نوازنے کی بدترین مثال بن سکتے تھے۔ ایک کے بعد دوسرا اور تیسرا قرض اس لیے دیا جاتا رہا تھا کہ پچھلے بقایا جات ادا ہو جائیں۔
برانچ مینیجر بھی بدلے ہوئے تیور دیکھ کر جان گیا تھا کہ اب جو کچھ ہونے جا رہا تھا وہ اس کے حق میں نہ تھا۔ اس کے باوجود وہ حوصلے میں رہا۔ بیچ میں اس نے باہر نکل کر کہیں فون بھی کیا اور واپس آ کر نجیب محسن کے سامنے بیٹھ گیا۔ جب شکایت کنندہ نذیر سلطان کی فائل منگوائی گئی تو مینیجر کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔ اس نے تھوک نگلتے ہوئے اپنے ہونٹوں کے وسطی حصوں کو باہم ملا کر دبا لیا، یوں کہ ہونٹوں کے بیرونی کنارے بطخ کی چونچ کی طرح آگے کو نکل آئے تھے۔
”جی دیکھیے، یہ رہا لون ایپلیکیشن فارم، اس میں ٹریکٹر مانگا گیا ہے۔ اور یہ رہا رہا اپروول لیٹر، یہاں بھی ٹریکٹر ہے۔ اور۔“
شکایت کنندہ تیزی سے آگے کو جھکا، پوری قوت سے اپنا مکا میز پر مارا اور غصے سے چلا کر کہا:
”بکواس۔ بکواس ہے یہ سب۔“
اس نے مکا کھول کر پھیلی ہتھیلی کو فائل پر الٹا یا اور ساری انگلیاں کھول کر اکٹرا لیں۔ پھر مینیجر کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
”قسم اٹھا کر کہو۔ میں تمہارے پاس ٹریکٹر کے لیے آیا تھا۔ نہیں نا! مجھے نقد رقم چاہیے تھی۔ یہی بتایا تھا نا! ایجنٹ کو دینے تھے تین لاکھ دوبئی کے ویزے کے لیے۔ اور تم نے پانچ لاکھ والے ٹریکٹر کا کیس بنا دیا تھا۔“
مینیجر نے بوکھلا کر اس کی طرف دیکھا اور پھر فائل کی طرف دیکھ کر نجیب جمال سے کچھ کہنا چاہا:
”اس میں۔“
”اس ماں کی بات چھوڑو، یہ تو تمہاری بنائی ہوئی ہے۔“
طیش میں آئے نذیر سلطان نے اسے نجیب سے بات کرنے نہ دی، تو وہ اسی سے مخاطب ہو گیا۔
”اس پر دستخط ہیں تمہارے۔ ٹریکٹر کے لیے۔“
”ہاں ہیں۔“
وہ تن کر کھڑا ہو گیا اور اپنا ہاتھ تان کر مینیجر کے سر کر رکھ دیا۔ ”سمجھو تمہارے سر پر قرآن پاک ہے۔ اس کی قسم کھاؤ تم نے نہیں کہا تھا، یہ تو بس خانہ پری ہے۔ وہ کیا کہا تھا انگریزی میں، فارمیلٹی۔ اور کہا نہیں تھا کہ ٹریکٹر بکوا دوں گا میسی گیٹ کے باہر ہی۔ اور تم نے بکوا دیا تھا اور پچاس ہزار لیے تھے اس کے۔“
مینیجر کے منہ پر جیسے طمانچہ پڑا تھا۔ ہک دک اسے دیکھنے لگا۔
نجیب بڑبڑایا: ”پ پ پ پچاس۔“
”جی صاحب پچا اا ااس ہزار“
نذیر سلطان نے پچاس کا لفظ کھینچ کر ادا کیا اور اپنا ہاتھ بھی ساتھ ہی کھینچ لیا:
”اس سے بعید نہیں صاحب کہ یہ جھوٹا قرآن بھی اٹھا لے۔ اس کی مونچھ کے ایک ایک بال سے سو سو سور بندھے ہوئے ہیں۔ حرام کھانے کی عادت ہے اسے۔ حرام کھاتا ہے اور ڈکار جاتا ہے کہ ممبر صاحب اس کے پیچھے ہیں۔“
پھر وہ براہ راست مینیجر سے مخاطب ہوا:
”کہہ دو یہ بھی جھوٹ ہے۔ تم نے ممبر صاحب کو جھوٹے نیلام کی کارروائی ڈال کر میری زمین دے دی۔ تم یہ ظلم کر سکتے ہو تو جھوٹا قرآن بھی اٹھا سکتے ہو۔ نہیں نہیں قرآن نہیں، تم پر تمہاری بیوی حرام، رن طلاق ہے تمہیں اگر جھوٹ بولو۔ کہو اس میں کیا غلط ہے، کیا جھوٹ ہے۔ بولو، بولو۔“
اس کے منہ سے تھوک کے چھینٹے اڑنے لگے تھے۔ مینیجر اس غیر متوقع صورت حال سے بہ ظاہر گھبرا کر اپنی کرسی سے اٹھا اور باہر نکل گیا تھا۔ شکایت کنندہ بھی اپنی کرسی پر ڈھے گیا تھا۔ سارے میں یوں لگتا تھا خامشی ناچ رہی تھی۔ ایسے میں ایک بھن بھن کرتی آواز کو صاف سنا جاسکتا تھا۔ مینیجر شاید باہر ہال میں کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔ یہ سب آناً فاناً ہوا تھا۔ بس ایک لمحے میں جو گزر گیا تھا۔ مینیجر واپس آ کر نجیب کے سامنے یوں بیٹھ گیا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ اس نے دونوں میں سے کسی کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ یہی وہ وقت تھا کہ ٹیلے فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ شاید وہ دونوں سے بے نیاز ہو کر اسی گھنٹی کا منتظر تھا۔
”ہیلو۔ جی جناب۔ حاضر سائیں۔ جی یہ لیں سائیں ابھی بات کراتا ہوں۔“
مینیجر نے مکمل طور پر بحال ہو چکے حواس کے ساتھ اپنے باس نجیب کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا:
”سر آپ کے لیے۔ ایم این اے صاحب ہیں لائن پر ۔“
×:×:×
نجیب محسن نے اگلا پورا دن لگا کر رپورٹ تیار کی تھی۔ وہ اپنے تئیں خوش ہو رہا تھا کہ مارشل لاء میں کڑے احتساب کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جس میں کھچی جیسے کرپٹ سیاست دانوں پر بھی ہاتھ ڈالا جا سکتا تھا ورنہ یہ لوگ قابو میں آنے والے کہاں تھے۔ اب یہ دھوکا دہی، نادہندگی اور ایک لحاظ سے سرکاری واجبات کے غبن کا ایسا کیس بن گیا تھا کہ یہ بدمعاش جیل میں ڈال دیا جاتا تو وہیں گلتا سڑتا رہتا۔ جب وہ رپورٹ پر دستخط کر رہا تھا تو اسے ٹیلی فون پر گزشتہ روز کھچی صاحب سے ہونے والی گفتگو یاد آ گئی۔
پہلے تو اس نے اس کی نئی پوسٹنگ پر اسے مبارک باد دی تھی حالاں کہ یہ اب اتنی نئی بھی نہ رہی تھی پھر بہت نرم آواز میں پوچھا تھا، ’آپ کی بیٹی ندا، سرسید کالج میں سائنس کی اسٹوڈنٹ ہے نا۔‘ اسے تعجب ہوا تھا کہ انہیں اس کی بیٹی کا نام معلوم تھا، اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے ’جی‘ کہہ کر تصدیق بھی کر دی تھی مگر بعد میں اس کمینے انداز کی دھمکی پر اس کے پسینے چھوٹ گئے تھے۔ اس کے بعد بھی کھچی صاحب نے بہت کچھ کہا تھا مگر اس کے کانوں میں عجب طرح کا شور تھا کہ وہ ڈھنگ سے کچھ نہ سن پایا تھا۔
یہ شور تھما تو وہ غصے میں تلملا رہا تھا۔ اس نے اپنے تئیں فیصلہ کیا کہ یہی موقع ہو سکتا تھا جب ایسے حرام خور اور ذلیل لوگوں کو سبق سکھایا جا سکتا تھا۔ وہ اس باب میں جتنے بھی شواہد جمع کر سکتا تھا، جمع کیے۔ شکایت کنندہ اور مینیجر کے علاوہ باقی عملے سے کچھ اس ڈھب سے بیان ریکارڈ کروائے کہ ایک مضبوط کیس تیار ہو گیا۔ اب وہ مطمئن تھا اور اس نے اس دوسری رپورٹ پر دستخط کر دیے۔
آنے والے ہر دن کا سورج کڑے احتساب کی خبروں سے ساتھ طلوع ہوتا رہا۔ کئی سیاست دانوں کے نام اخبارات کی شہ سرخیوں میں آنے لگے مگر جس نام کا اسے شدت سے انتظار تھا شاید ابھی اس کی باری نہیں آئی تھی۔ انہیں دنوں میں سے ایک دن تھا۔ دن نہیں کہ وہ تو ڈھل چکا اور رات پڑ گئی تھی۔ ٹی وی پر رات نو بجے والا خبر نامہ چل رہا تھا۔ اس کا معمول تھا کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں خبر نامے سے پہلے چلنے والا ڈرامہ دیکھا کرتا۔ اسی دوران وہ کھانا کھاتے اور خوش گپیوں میں مصروف رہتے۔ خبرنامے میں اس کی بیوی اور بیٹی کے لیے دلچسپی کا کوئی ساماں نہ تھا لہٰذا ڈرامہ ختم ہوتا تو ندا بیٹی وہیں اپنی کتابیں لے کر لکھنے پڑھنے بیٹھ جاتی اور اس کی بیوی برتن سمیٹنے کچن میں گھس جاتی۔
اسے بہ ہر حال باقاعدگی سے خبر نامہ سننا ہوتا تھا۔ کچھ عرصے سے وہ کچھ زیادہ توجہ سے سننے لگا تھا۔ اس روز پہلی مختصر خبر نئی کابینہ کی تشکیل کی تھی پھر دوسری خبروں کا خلاصہ آیا۔ اسے حیرت ہوئی کہ خاص خاص خبروں میں احتساب جیسی اہم خبر جگہ نہ پا سکی تھی۔ جس نام کو وہ سننے کا منتظر تھا وہ احتساب والی خبر میں ہی وہ سن سکتا تھا۔ اسے قدرے مایوسی ہوئی تاہم وہ مکمل طور پر مایوس نہیں تھا۔ اس نے سوچا، ممکن وہ خبر جس کا اسے انتظار تھا مفصل خبروں کا حصہ ہو۔
وہ چوکنا ہو کر بیٹھ گیا۔ خبروں کی تفصیل میں بھی پہلی خبر نئی کابینہ کی تشکیل کی تھی جس میں اب ایک ایک وزارت کا بتایا جا رہا تھا۔ اچانک اس میں وہ نام سنائی دے گیا۔ وہی نام جسے سننے کا وہ کہیں اور منتظر تھا مگر یہاں ہکا بکا سن رہا تھا۔ کچھ دیر کے لیے جیسے اس پر سکتہ طاری ہو گیا تھا پھر اس کے کانوں میں شور اٹھا اور اس شور کے اندر سے کسی نے اس کی پیاری بیٹی ندا کا نام لیا۔ اس کی سماعت میں بہت نرمی سے ندا کا نام انڈیلا گیا تھا مگر بہت شدت سے اس نے بیٹی کا نام اوپر فضا میں اچھال دیا۔ اتنی شدت سے کہ وہ اس کا حلقوم پھاڑتا ہوا نکلا تھا۔ پھر وہ بیٹی کی سمت لپکا اور اس سے پہلے کہ وہ اس تک پہنچ پاتا، بیچ ہی میں کہیں لڑکھڑا کر ڈھیر ہو گیا تھا۔


