کچھ ملکوں میں تاریخ خود کو دہراتی ہے


 

سوگ کے چند دن تو گزر گئے۔

شروع میں تو جس نے سنا، سکتے میں آ گیا۔ اگلے کئی دن سب نے دلوں میں گہرا الم محسوس کیا۔ سب بار بار افسوس کرتے۔ سوچتے : یہ بھی ہونا تھا۔ یہ ہوا کیسے؟ بے یقینی کی کیفیت محسوس کرتے۔ پھر سوچتے : یہاں وہ سب بھی ہوجاتا ہے، جو کسی نے سوچا نہیں ہوتا، البتہ کسی شریر بچے یا کسی داستان گو کے تخیل میں آ سکتا ہے۔ وہ جھنجھلا جاتے۔ کیا واقعی اس دنیا کا کچھ حصہ شریر بچے کا ذہن چلاتا ہے یا ہمارے ہی آس پاس کوئی داستان گو موجود ہو، جس کے تخیل میں، دیکھی نہ سنی جادوئی باتیں آتی ہیں اور وہ حقیقت بن جاتی ہیں۔ وہ انھیں یاد کرتے۔ ان کے اہل خانہ سے بار بار افسوس کرتے۔ ان کے دوستوں سے ان کی باتیں پوچھتے۔ پرانے اخبارات و رسائل سے، ان کی تصویریں تلاش کرتے۔ ان کی آوازیں سننے کی کوشش میں ریڈیو کی سوئیاں گھماتے رہتے۔

کوئی سکول، کالج، یونیورسٹی، علمی، ادبی ادارہ، ٹی ہاؤس، قہوہ خانہ، کلب ایسا نہیں تھا، جہاں تعزیتی جلسہ نہ ہوا ہو۔ ایک ایک کی یاد میں کئی کئی لوگوں نے تقریریں نہ کی ہوں۔ ان کی تحریروں سے اقتباس نہ پڑھے ہوں۔ تاہم کوئی عوامی جلسہ کہیں نہیں ہوا۔

حکومت نے اسے قومی نقصان قرار دیا اور ایک دن کے لیے پرچم سرنگوں رکھا گیا۔ ان کے لیے سرکاری اکیڈمی کے مرکزی دروازے کے پاس ایک یادگار تعمیر کی گئی، جس پر سب کے نام، تاریخ پیدائش و وفات درج کیے گئے۔ کچھ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ایک حادثہ نہیں، سازش تھی تو حکومت نے فوراً عدالتی کمیشن بٹھایا۔ دو ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ثابت ہوا کہ وہ واقعی حادثہ تھا۔ سرکاری طور پر اسے ملک کی قومی اور ادبی تاریخ کا سانحہ قرار دیا گیا۔ تمام مرحومین کے لیے یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ ہوا۔

یہ جملہ، تعزیتی جلسوں میں ہزاروں مرتبہ دہرایا گیا کہ ملک کے تیس ادیبوں کے یک لخت جانے سے، صرف خلا پیدا نہیں ہوا، بہت بڑا گھاؤ لگا ہے۔ سوگ کے دن گزرے تو انھیں لگا کہ گھاؤ تو تھوڑا بہت مندمل ہونے لگا ہے، مگر خلا؟ انھوں نے پہلی بار اس خلا کو محسوس کیا جو موت پیدا کرتی ہے۔ انھیں لگا کہ گھاؤ تو دل میں لگتا ہے؛ دل صدمے سہنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتا ہے، مگر خلا باہر، سچ مچ کی دنیا میں ہوتا ہے، اسے کیسے پر کریں؟

یہ سوال اس وقت سامنے آیا، جب ادیبوں کی سالانہ کانفرنس کا وقت آیا۔ سربراہ مملکت کی خصوصی ہدایت پر یہ کانفرنس ہر سال منعقد ہوا کرتی تھی۔ وہ بہ نفس نفیس اس کے افتتاحی اور اختتامی سیشن میں شریک ہوتے۔ ادیبوں سے گھل مل جاتے۔ ان کے ساتھ ایک وقت کا کھانا کھاتے۔ ادیبوں میں گھل مل جاتے۔ تصویریں بنواتے۔ ان سے کتابیں وصول کرتے۔ سربراہ مملکت کی کانفرنس میں مصروفیات کی تفصیلی رپورٹ، واحد سرکاری ٹی وی چینل پر کئی دن دکھائی جاتی۔ ان کے افتتاحی و اختتامی اجلاس کی تقریروں سے ٹکڑے نکال کر سال بھر خبرنامہ کے آغاز میں، ملک کے قومی شاعر کے ایک شعر کے بعد سنائے جاتے۔

یہ تقریریں، اکیڈمی کے سربراہ، ادیبوں کی خصوصی کمیٹی کی مدد سے لکھا کرتے، جسے سربراہ مملکت کا خصوصی مشیر حتمی صورت دیتا۔ یہ خصوصی مشیر کون تھا، اس کے بارے میں قیاس آرائیاں تھیں۔ اکثر ادیبوں کا خیال تھا کہ فرید الدین ہیں۔ انھوں نے کسی زمانے میں ایک ناول لکھا تھا، جس پر سرکاری ٹی وی نے ایک سیریل بھی بنائی تھی۔ بعض کی رائے میں حیدر نجیب ہیں۔ وہ شاعر تھے مگر ابھی تک کوئی مجموعہ شائع نہیں کیا تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ ان دونوں کو اب تک کوئی سرکاری اعزاز نہیں ملا تھا، لیکن سب ادیبوں کا خیال تھا کہ سرکاری اعزازت دلوانے میں ان دونوں کا اہم کردار ہوا کرتا۔ بہ ہر کیف، ہر برس غیرملکی دورے کے لیے ادیبوں کا وفد تشکیل دیا کرتی۔ ادیبوں کی حتمی فہرست، وہی مشیر تیار کرتا۔ اکیڈمی کے ادبی انعامات کے لیے جیوری کے ارکان کا فیصلہ بھی یہی مشیر کیا کرتا۔ وہ انعامات و اعزازت کے فیصلوں پر بھی اثرانداز ہوا کرتا۔ یہ دونوں بھی حادثے کی نذر ہو گئے تھے۔

اب اکیڈمی کے سربراہ کی پریشانی چند در چند تھی۔ پہلی یہ کہ تقریر کیسے تیار ہو؟ کافی غور کے بعد یہ حل نکالا گیا کہ پچھلی تقریروں ہی کا خلاصہ کر کے، اور مرحوم ادیبوں کے لیے تعزیتی الفاظ شامل کر کے، تقریر تیار کر لی جائے۔ دوسری پریشانی یہ تھی کہ افتتاحی اجلاس کے صدارتی پینل میں کس کس کو شامل کریں؟ کلیدی خطبہ کون دے؟ تین دن کی اس کانفرنس کے پندرہ سیشن ہیں۔ ہر سیشن میں کم از کم دو نامور بڑے ادیب ہونے چاہئیں۔ کانفرنس کے منتظمین بار بار کہتے کہ دیکھیں یہ خلا ہے۔

صف اول، صف دوم، صف سوم تک کے سب شاعر، فکشن نگار، نقاد، محقق ایک پل میں چلے گئے۔ کس احمق نے ان سب کو ایک ہی بس میں باڑہ گلی لے جانے کا فیصلہ کیا تھا اور وہ بھی برسات کے دنوں میں۔ سمجھ دار خاندان کبھی ایک ہی گاڑی میں سفر نہیں کرتا اور ملک کے اتنے، سب بڑے ادیبوں کو ایک ہی بس میں بھیج دیا۔ پیچھے کون بچا ہے؟ منتظمین آپس میں بات کرتے۔ پہلے تو انھیں کوئی نام ہی یاد نہ آتا۔

انھیں پہلی بار احساس ہوا کہ ان کی یادداشت میں کل یہی تیس نام تھے۔ صف اول کے تین شاعر، جو ہر مشاعرے میں ہوتے، ہر کانفرنس، ہر قومی، ہر بڑی ادبی تقریب کا لازمی حصہ تھے۔ دو ناول نگار تھے۔ شاعروں کی مانند ان کی بھی آپس میں نہیں بنتی تھی، جہاں ایک جاتا، دوسرا معذرت کر لیتا۔ تاہم ہر کانفرنس، ہر بڑی ادبی تقریب میں، ان میں سے ایک ضرور موجود ہوتا۔

صف اول کے دو ہی نقاد تھے اور ایک محقق تھا۔ دونوں نقاد نک چڑھے تھے۔ ایک دوسرے کا نام نہیں سننا چاہتے تھے۔ ایک کانفرنس میں چلے تو جاتے مگر کسی ایک سیشن میں اکٹھے نہ ہوتے۔ اگرچہ دونوں ادب کی تاریخ اور روایت کا وسیع علم رکھتے تھے، مگر ایک کے پاس زبان کا چٹخارا تھا اور ہر ہر جملے میں طنز ہوتا۔ لوگ اسے بہت پسند کرتے۔ ان کے جملوں پر اسی انداز میں داد ملتی، جس طرح مقبول عام شاعر کو اس کے ایک ایک شعر پر ملا کرتی۔ دوسرا نقاد ادب کا سیدھا سادہ تجزیہ کرتا اور اچھے اور برے ادب کا فرق بتاتا۔ وہ زبان کی بجائے، استدلال سے لوگوں کو متاثر کرتا۔ اسے داد کم، توجہ زیادہ ملتی اور اس کے خیالات پر لوگ باقاعدہ بحث کیا کرتے۔

محقق بھی صف اول کا تھا، تاہم اس کی ضرورت خاص خاص مواقع پر ہوتی۔ یوم اقبال، یوم غالب، قومی زبان، قوم اور ادب، ادب اور ملی یک جہتی پر ہونے والے جلسوں میں خاص طور پر۔ ہر جلسے میں ان کا موقف ہوتا کہ قومی زبان کے سب بڑے ادیب مذہبی حسیت کے حامل تھے، اور یہ بات تاریخ سے ثابت ہے۔ وہ ادیبوں کی سوانح اور کتابوں میں سے مذہبی شخصیات، مذہبی تلمیحات کا ذکر عرق ریزی سے تلاش کیا کرتے اور داد پاتے۔ انھوں نے ملک کے سب سے بڑے افسانہ نگار، جن پر فحاشی کے کئی مقدمات چلے تھے، انھیں بھی پکا مذہبی ثابت کیا تھا۔

صف اول کے چار افسانہ نگار تھے۔ عجیب بات ہے کہ ان میں سے تین کی آپس میں بنتی تھی، ایک کی کسی سے نہ بنتی تھی۔ وہ لیے دیے رہتا۔ باقی بیس شاعروں، ادیبوں میں کچھ صف دوم کے تھے، کچھ صف سوم کے تھے۔ کون صف اول میں ہے، کون صف دوم میں اس کا فیصلہ رفتہ رفتہ خود ہوتا گیا تھا۔ پہلی صف میں کم، دوسری میں کچھ زیادہ، تیسری میں اس سے زیادہ ادیب شامل تھے۔ اس کے بعد کی صفوں میں بے شمار ادیب تھے، سرکاری اکیڈمی انھیں صرف سالانہ کانفرنس کے موقع پر یاد کیا کرتی۔ ان کی فہرست چند سال پہلے، پہلی قومی کانفرنس کے موقع پر تیار ہوئی تھی۔ پہلی صف کے ادیب وہی تھے جو ادبی انعامات کی ہر جیوری میں ہوتے۔ ان میں ایک شاعر، ایک نقاد، ایک محقق، ایک ناول نگار اور ایک افسانہ نگار تھے۔ ملک کے سب ادیب شاعر، انھیں سال بھر کتابیں بھیجتے۔ وہ کسی شہر میں آ جاتے تو انھیں ملنے پہنچ جاتے۔ کبھی کبھی اپنے ساتھ کوئی اخبار نویس لے جاتے۔ اس کے ساتھ مل کر انٹرویو کرتے۔ ان کے ساتھ تصویریں بنواتے۔ اخبارات میں، انٹرویو کے ساتھ تصویریں چھپواتے اور ان کی کٹنگ، انھیں ڈاک سے بھیجتے۔ کتاب کی رسید نہ ملتی تو انھیں یاد دہانی کا خط لکھتے کہ رائے دینے کا وقت نہ ہو تو رسید ہی بھیج دیں۔

کانفرنس کے منتظمین، پھر وہی سوال ایک دوسرے سے پوچھتے۔ پیچھے کون بچا ہے؟ انھیں ایک واقعی مشکل کا سامنا تھا۔ افتتاحی اجلاس میں سربراہ مملکت ہوں گے۔ صوبوں کے سربراہ ہوں گے۔ ثقافت اور تعلیم کے وزرا ہوں گے۔ سول و ملٹری بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران ہوں گے۔ دوسرے ملکوں کے سفیر ہوں گے۔ دنیا بھر کے بڑے اخبار نویس ہوں گے۔ ٹھیک ہے، ہم اسی افتتاحی اجلاس میں ایک تعزیتی قرار داد پیش کریں گے اور اسے ملک ہی کی نہیں، دنیا کی ادبی تاریخ کا سانحہ قرار دیں گے مگر ارباب اختیار و اشراف کی اس مجلس میں، ارباب قلم بھی اسی مرتبے کے ہونے چاہئیں۔

بونے نہیں چلیں گے۔ اکیڈمی کے چیئر مین نے دو ٹوک کہا۔

مرحوم بشارت اسلم نے پینسٹھ برس کی عمر تک صرف دو ہی شعری مجموعے شایع کیے تھے مگر ان کے درجنوں شعر ہر خاص و عام کی زبان پر تھے۔ سربراہ مملکت، وزرا، حکومت سول، ملٹری بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدیداروں غیر ملکی سفیروں میں سے اکثر انھیں جانتے تھے، اور ان سے ذاتی مراسم رکھتے تھے۔ اب ایسا شاعر کہاں سے لائیں؟ اکیڈمی والے پریشان تھے۔

مرحوم انیس قیصر ساٹھ برس تھے اور ان کے بیس شعری مجموعے تھے۔ وہ اس قدر پاپولر تھے کہ جیسے ہی سٹیج پر آتے تھے، لوگ ان کی نظموں کی لائنیں دہرانے لگتے اور فرمائش کیا کرتے تھے۔ افتتاحی سیشن میں کوئی ایسا شاعر کہاں سے لائیں؟

رفیق شبیر جب کلیدی مقالہ پیش کرتے تو سامعین دم بخود رہتے اور وقفے سے وقفے سے ان کے جملوں پر تالیاں بجاتے۔ باقی سیشن جائیں بھاڑ میں۔ ہمیں افتتاحی سیشن میں کم از کم تین نام ایسے چاہئیں جو بڑے بھی ہوں اور نامور بھی۔ اکیڈمی کے منتظمین آپس میں مشورے کرتے ہوئے کہتے۔

سر، ایک حل ہے۔ کانفرنس کی انتظامی کمیٹی کے ایک رکن نے کہا۔
کیا؟ سب نے اس کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا۔
ابھی کانفرنس میں ایک مہینہ باقی ہے۔ ہم کیوں نہ کچھ لوگوں کو نامور بنا دیں۔
Rubbish۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ انتظامی کمیٹی کے کنوینر نے کہا۔

سر، یہ ممکن ہے۔ میری تجویز سن لیجیے۔ ہم دو شاعر، ایک افسانہ نگار اور دو نقاد منتخب کرتے ہیں۔ ہر اخبار کے ادبی صفحے پر ان کے انٹرویوز چھپواتے ہیں۔ ہر شہر میں کچھ تقریبات کرواتے ہیں۔ ہر تقریب میں یہ چاروں لوگ ہوں گے۔ انھی تقریبات میں کچھ سرکاری شخصیات کو بھی بلائیں گے۔ سرکاری ٹی وی پر ان کے انٹرویو چلوائیں گے۔ سرکاری ٹی وی کے چئیر مین سے کہا جائے کہ وہ ایک قومی مشاعرہ مرحوم شعرا کی یاد میں رکھے، جس میں انھی دو شاعروں میں سے ایک کو صدر اور ایک کو مہمان خصوصی بنایا جائے۔ آپ دیکھیے گا، جب ہماری کانفرنس ہوگی، یہ سب مشہور ہوچکے ہوں گے۔

یہ تجویز سب کو پسند آئی لیکن اس کی عملی مشکلات اور کچھ مضمرات کو دیکھ کر اسے رد کر دیا گیا۔ اس منصوبے پر عمل کے لیے پیسہ اور افرادی قوت چاہیے تھی۔ اکیڈمی کے پاس دونوں کی کمی تھی۔ ایک اور مشکل بھی تھی کہ ایک مہینے میں وہ جتنے بھی مشہور ہوں گے، ادیبوں کے حلقے میں مشہور ہوں گے، اور یہی بات ان کے حق میں نہیں جائے گی۔ اکیڈمی کے منتظمین سے زیادہ کون جانتا تھا ادیب، ادیب کی موت پر افسوس کرتا ہے، دوسرے ادیب کی شہرت پر زیادہ افسوس کرتا ہے۔ وہ بار بار کے تجربے سے جانتے تھے کہ ادیب، پیسے کے لیے بھی جھگڑتے ہیں، مگر مرتبے کے لیے مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ شاعر خاص طور پر حفظ مراتب کی پابندی پر اتنا زور دیتے ہیں، جتنا مقدس ہستیوں کی حرمت کے قوانین پر دیا جاتا ہے۔ شاعروں کے مراتب کا طے ہونا، اچھا خاصا پیچیدہ معاملہ تھا۔ اگرچہ عمر اور آغاز شعر گوئی کو سینیارٹی کی بنیاد بنایا جاتا، مگر عہدہ اس اصول کو توڑ دیتا۔ کچھ شعرا، عین مشاعرے میں جھگڑا کھڑا کر کے، اپنی سینیارٹی طے کرواتے۔ خود ادیب اور اکیڈمی کے ارباب اختیار یہ بھی جانتے تھے کہ قومی ایوارڈ کے لیے کچھ ادیب، خود اپنی جیب سے پیسہ خرچ کرنے پر بھی تیار رہتے تھے۔ اکیڈمی کے چیئرمین، تعلیم، انفرمیشن اور ثقافت کے محکموں کے سیکرٹریوں کو کھانے کھلاتے تھے۔ تحفے، شراب اور کچھ دیگر لوازمات پہنچانے میں کوئی عیب نہیں سمجھتے تھے۔ کنوینر نے باقی اراکین کمیٹی کو بتایا کہ ان کے سامنے مرحوم بشارت اسلم نے ایک بار کہا تھا کہ یہ عزت سالی، جگہ جگہ بے عزت ہونے کے بعد ملتی ہے۔

اب کیا کریں؟ یہ سوال کانفرنس کی انتظامی کمیٹی کو پریشان کیے ہوئے تھا۔ کئی دن کی سوچ بچار کے بعد فیصلہ ہوا کہ دونوں مرحوم نقادوں کے ٹی وی انٹرویو اور گزشتہ کانفرنسوں میں کی گئی تقریروں سے ٹکڑے لے کر ایک تقریر تیار کی جائے۔ مرحوم شعرا کی شاعری کے کچھ حصے منتخب کیے جائیں اور ان کے لیے تعزیتی قرار داد کے فوراً بعد وہ چلائے جائیں۔ افتتاحی سیشن ان مرحوم ادیبوں کے نام کیا جائے۔ کانفرنس کے باقی سیشنوں میں گفتگو کے لیے ملک کے ان ادیبوں کو مدعو کیا جائے، جن کی کم از کم ایک کتاب شایع ہو چکی ہو۔ لیکن ایک مشکل ابھی باقی تھی کہ سربراہ مملکت سے کون سے ادیبوں کی ملاقات کھانے پر کروائی جائے۔ اسی مشکل سے جڑی ایک پریشانی یہ تھی کہ ان سب ادیبوں کی خفیہ رپورٹس پہلے حاصل کرنی پڑیں گی۔ چیئر مین کو یاد تھا کہ جب پہلی کانفرنس ہوئی تھی تو تمام ادیبوں کی خفیہ رپورٹس حاصل کی گئی تھیں۔ وہ رپورٹس ایک طلسم ہو شر با تھا۔ دنیا میں جھوٹا سچا، تھوڑا بہت امن اور بڑی بڑی، نامور شخصیتوں کا بھرم اس لیے باقی ہے کہ لوگوں نے اپنی نجی زندگی کے رازوں کی حفاظت کر رکھی ہے یا خفیہ والوں نے ان رپورٹوں کو عام نہیں کیا۔ مجھ سمیت، ہر ایک کی زندگی کے کچھ راز، بم سے کم نہیں۔ اکیڈمی کے چیئرمین نے سوچا۔

مرحوم انیس قیصر کی خفیہ رپورٹ میں اس شاعرہ سے مراسم کا انکشاف ہوا تھا، جس کی مقبول عام شاعری کی سلسلے میں حکومت چوکنی تھی۔ اس کے لیے خفیہ والوں کو اس شاعرہ کے خاندان سے لے کر ان سب شاعروں کی معلومات بھی حاصل کرنا پڑی تھیں، جن سے اس شاعرہ کے رسمی، غیر رسمی مراسم تھے۔ اسی دوران انکشاف ہوا کہ مرحوم بشارت اسلم بھی اس شاعرہ کی طرف التفات رکھتے تھے، مگر وہ انیس قیصر سے اصلاح لیتی اور ان کے سوا کسی سے نجی ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں رکھتی تھی۔ خفیہ رپورٹ میں لکھا گیا کہ گو ان دونوں کی نجی ملاقاتوں اور ان کے احوال میں کچھ نیا نہیں ؛ وہ ان دونوں کی شہرت کے باعث، رسوا کن انداز میں دھماکہ خیز ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارے لیے چونکا دینے والی ایک اور بات سامنے آئی ہے۔ اس کی شاعری میں مخاطب کی شناخت کو مبہم بنانے والے انیس قیصر ہیں۔ خفیہ والوں کے ذرا سے دباؤ پر اس شاعرہ نے اعتراف کیا کہ انیس قیصر اصلاح کرتے ہوئے، کچھ ایسے استعارے وضع کرتے ہیں کہ سننے، پڑھنے والے کو بھی نہیں پتا چلتا کہ کہاں وہ مرد عام جسے شاعرہ مخاطب بناتی ہے، وہ مرد خاص میں بدل جاتا ہے۔ دیکھنے کو تیر ہوا میں چلایا جاتا ہے، مگر وہ ایک خاص ہدف کے سینے میں پیوست ہو کر رہتا ہے۔ خفیہ رپورٹ میں لکھا گیا کہ رفیق شبیر کے مطابق، انیس قیصر کی شاعری، ان کے کالج کے دنوں کے دو تین معاشقوں کو سو سو طرح سے دہرانے کے سوا کچھ نہیں، مگر انھیں شاعری میں ایک ایسا خم پیدا کرنا آتا ہے کہ وہ اچانک، حیرت انگیز طور پر اپنی لیلاؤں کو وطن کی لیلا سے ملا دیتے ہیں یا بدل دیتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی درج تھا کہ انیس قیصر کی شاعری میں عورت اور اس سے عشق کے سوا کچھ نہیں اور اس شاعرہ کے یہاں، مرد کی شکایت کے سوا کچھ نہیں۔ خفیہ والوں نے ایک ماہر نفسیات کی مدد سے، اس کی تاویل کروائی تو پتا چلا کہ وہ ایک جھوٹ کی تلافی، دوسرے جھوٹ سے کرتے ہیں۔ اس انکشاف پر انیس قیصر کو باقاعدہ معافی مانگنا پڑی تھی اور اس شاعرہ کو شاعری سے تائب ہونا پڑا تھا اور وہ کسی دوسرے ملک میں جا بسی تھی۔ اب پریشانی یہ تھی کہ پہلے ادیبوں کی فہرست بنانی تھی، پھر ان کی خفیہ رپورٹس منگوانی تھیں۔ ایک نیا طلسم ہوشربا تیار ہو گا۔ اکیڈمی کے چیئرمین نے سوچا۔

اکیڈمی کے چیئرمین نے کوئی پچیس تیس اشعار یاد کیے ہوئے تھے، نامور ادیبوں کی کتابوں کے نام بھی یاد کر رکھے تھے اور ہر اہم ادیب سے متعلق معلومات بھی ازبر تھیں، اس لیے نہیں کہ اسے ادب سے کوئی لگاؤ تھا۔ یہ سب انتظامی ضرورت تھا اور وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی سے مخلص تھا۔ وہ کسی کی نجی زندگی میں جھانکنے میں یقین نہیں رکھتا تھا مگر جہاں حکومتی ادارے کا مفاد آتا، وہ اپنی ذاتی رائے ترک کر دیتا۔ کوئی سو کے قریب صاحب کتاب ادیبوں کی خفیہ رپورٹس منگوائی گئیں۔

اس بار بھی سابقہ آزمودہ طریقہ اختیار کیا گیا۔ ہر ادیب کے سب سے گہرے، دیرینہ دوست سے رجوع کیا گیا۔ خفیہ والے، ہر شخص کے قریبی دوستوں کو اپنے غیر سرکاری مگر سب سے معتبر مددگار خیال کیا کرتے تھے۔ وہ سیکڑوں بار یہ تجربہ کرچکے تھے اور اب ان کے لیے یہ بات سائنسی صداقت کا درجہ رکھتی تھی کی آدمی کا سب سے گہرا دوست ہی، اس کا سب سے سچا جاسوس ہے۔ خفیہ والوں کا آدھا کام اس وقت ختم ہو جاتا، جب وہ ہر ادیب کے سب سے پرانے اور گہرے دوست تک پہنچ جاتے۔ اگلا مرحلہ اس کا اعتماد حاصل کرنے کا ہوتا۔ خفیہ والوں کا یہ بھی تجربہ تھا کہ ہر آدمی کی قیمت ہے۔ خواہ وہ کسی پیشے سے متعلق ہو، کسی مرتبے کا حامل ہو۔ جو اپنی قیمت کو اپنی توہین سمجھتے، وہ اپنی قیمت، قیمت کا لفظ استعمال کیے بغیر، بڑھانے کی خواہش رکھتے۔ ان کی قیمت، ان کے ادبی مرتبے کے مساوی ہوتی۔ وہ اپنے ادبی مرتبے کا تعین، اپنے مشہور ترین معاصر سے تقابل کر کے کرتے۔ خفیہ والوں کو ادیبوں کا اعتماد حاصل کرنے میں تھوڑا وقت ضرور لگا، دقت نہیں ہوئی۔

سب سے زیادہ ادیبوں نے ایوارڈ کا وعدہ لیا اور بڑی سرکاری تقریبات، مشاعروں میں دعوت کی یقین دہانی حاصل کی۔ کچھ نے دوسرے ادیبوں کو ملنے والے ایوارڈ واپس لینے اور آئندہ کسی بھی بڑی تقریب سے، انھیں باہر رکھنے کی شرط رکھی۔ کسی کی قیمت اچھے ہوٹل میں کھانا مع تصویر تھا تو کسی کے لیے موسم کی مناسبت سے کوئی تحفہ تھا۔ کچھ نے تو اپنے پسندیدہ سگریٹ کے چند پیکٹ اور ولایتی شراب کی ایک بوتل کی عوض، یادداشت کے اس رجسٹر کا ایک ایک صفحہ خفیہ والوں کے حوالے کر دیا، جس میں ان کے دوستوں سے متعلق ایک ایک بات تحریر تھی اور کئی باتوں پرتو اچھی خاصی حاشیہ آرائی بھی کی گئی تھی۔ ایک ادیب نے، شراب کے دوسرے پیگ پر کہہ دیا کہ بھائی تمھارے پاس کہاں وقت اور دماغ کہ ادیبوں کی باتوں کے مطلب سمجھتے پھرو۔ بس جو میں کہہ رہا ہوں، اسے من و عن نوٹ کرو اور اس کی سچائی پر یقین کرو۔ اسی دوران یہ بھی پتا چلا کہ دہائیوں سے چلے آنے والے دوستوں میں سے کوئی ایک بھی، دوسرے سے خوش نہیں تھا۔ ہر ایک کا دل، زمانے، خدا، بیوی بچوں، تقدیر ہی سے نہیں، اپنے قریبی احباب سے شکوے شکایت سے بھرا ہوا تھا۔ اس دل کے تار چھیڑنے کی تربیت، خفیہ والوں نے حاصل کر رکھی تھی، اس لیے انھیں ان سب ادیبوں کے رازوں سے متعلق ”فرسٹ ہینڈ نالج“ ملتا چلا گیا۔ ان میں سے بیس ادیبوں کے نام خارج کر دیے گئے کہ وہ بولتے بہت تھے اور اپنی اسی عادت کے سبب، ذرا ذرا سی بات پر نظمیں، افسانے، کالم وغیرہ لکھ دیا کرتے تھے۔

اسی کانفرنس میں فیصلہ ہوا کہ اس برس کے تمام ایوارڈ مرحوم ادیبوں، شاعروں کو دیے جائیں، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا، جسے ایوارڈ نہ ملا ہو۔ فیصلہ کیا گیا کہ جسے پرائیڈ آف پرفارمنس مل چکا ہے، اسے ستارہ دے دیا جائے۔ جسے ستارہ مل چکا تھا، اسے ہلال دے دیا جائے اور جسے ہلال مل چکا ہے، اسے نشان دے دیا جائے۔ اس کے باوجود ایک مشکل پیش آئی کہ سب سے بڑے شاعر کو کون سا اعزاز دیا جائے؟ اسے سب قومی اعزازات مل چکے تھے۔ فیصلہ کیا گیا کہ عظمت فن کے نام سے ایک نئے ایوارڈ کا اجرا کیا جائے اور پہلا ایوارڈ مرحوم بشارت اسلم کو دیا جائے۔ یہ بھی فیصلہ ہوا کہ ایوارڈ کی اس تقریب کو قومی تقریب کا درجہ دیا جائے گا اور اس کی خبریں دنیا کے بڑے بڑے اخبارات میں چھپوائی جائیں گی تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ ملک نے کتنے بڑے ادیب پیدا کیے ہیں اور اس ملک کے لوگ اپنے مشاہیر کی کتنی تکریم کرتے ہیں۔ سرکاری ٹی وی نے اس براہ رست نشر کیا۔

اکیڈمی کے اس فیصلے کے خلاف ادیبوں نے دبے دبے لفظوں میں پہلے احتجاج کرنا شروع کیا۔ مرنے والوں کا سوگ اپنی جگہ مگر وہ دنیا سے خالی ہاتھ نہیں گئے۔ انھوں نے جیتے جی وہ سب پایا، جو ایک ادیب کو دنیا، لوگ اور حکومتیں دے سکتی ہیں۔ عزت، شہرت، اعزاز پر بچ جانے والوں کا بھی حق ہے۔ اس احتجاج کا آغاز ایک شاعر نے کیا۔ اس نے ایک پمفلٹ لکھا، جس میں مرحوم بشارت اسلم ہی کا ایک شعر درج تھا۔ شعر میں مردہ پرستی پر طنز کیا گیا تھا۔ مرحوم نقاد رفیق شبیر کے ایک مضمون سے اقتباس بھی شامل کیا گیا، جو معاصر شاعروں سے متعلق تھا۔ اس کا آغاز ہی اس سطر سے ہوتا تھا کہ ”جو سماج اپنے زمانے کی تخلیقی روح کو نہیں پہچانتا، اور ماضی و روایت کے دھند میں لپٹے پہاڑ کی چوٹی پر دیوتاؤں کی مانند براجمان کلاسیکی ادیبوں کے قصے سنتا رہتا ہے، ایسے سماج کو اسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا دینا چاہیے“ ۔ اس پمفلٹ کا بہت اثر ہوا۔ کئی اور شاعر، افسانہ نگار، نقاد اس کے ہم نوا ہو گئے۔ ٹی ہاؤس، قہوے خانوں، غیر رسمی مجلسوں، مشاعروں سے چلنے والی یہ بحث جب قومی اخبارات میں پہنچی تو ثقافت کے وزیر نے اکیڈمی کے چئیر مین سے اس کا جواب طلب کیا۔

ایک کمیٹی بنائی گئی، جس میں احتجاج کرنے والے شاعروں اور ادیبوں کے نمائندوں کو شامل کیا گیا۔ کمیٹی نے کئی اجلاس کیے مگر سب بے نتیجہ رہے۔ اکیڈمی کے مطابق زندہ ادیبوں میں کوئی ادیب، پرائیڈ آف پرفارمنس کے قابل بھی نہیں تھا۔ اسے بشیر عاجز نے اپنی شاعر برادری کی توہین سمجھا؛اسی نے پمفلٹ لکھا تھا۔ اس نے اجلاس ہی میں کہہ دیا کہ اکیڈمی کا چیئر مین ایک سابق بیوروکریٹ ہے۔ اسے ادب کی الف کا بھی نہیں پتا۔ چئیر مین نے اس بات پر اس شاعر کو گالی دی اور کمرے سے نکلوا دیا۔ بشیر اعجاز نے واپس آتے ہی ایک قرار داد مذمت تیار کی اور شہر کی سب ادبی تنظیموں سے درخواست کی کہ وہ اسے منظور کریں۔ اس نے قرار داد میں یہ الفاظ بھی بڑھا دیے کہ چیئرمین نے کہا کہ شاعروں سے زیادہ ذلیل مخلوق روئے زمین پر نہیں، اسی لیے حالی نے ان کی جگہ جہنم میں دیکھی تھی۔ جاؤ جہنم میں۔ چیئر مین نے کہا تھا۔ اس احتجاج کا اثر ہوا۔ چیئر مین نے خود ہی استعفا دے دیا۔ حکومت نے نیا چیئرمین کئی مہینوں تک نہیں لگایا۔ اس سال کسی کو ایوارڈ نہیں دیے گئے۔ ادیبوں نے اس پر مزید احتجاج کیا۔ انھوں نے ملک گیر مہم چلائی۔ ہر ضلع میں ادیبوں کی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ وہ ہر ہفتے ضلعی صدر مقام کے پریس کلب کے سامنے جمع ہوتے اور احتجاج کرتے۔ مذمتی نظمیں لکھی گئیں۔ پریس ریلیز کے ساتھ یہ نظمیں بھی اخبارات میں چھپوائی جاتیں۔

اسی دوران میں ایک اخبار نویس نے اکیڈمی کے سابق چیئرمین کا انٹر ویو کیا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اس الزام میں کتنی صداقت ہے کہ آپ ادیبوں کو کم تر مخلوق سمجھتے ہیں۔ وہ بھرا بیٹھا تھا۔ اس نے کہہ دیا۔ جی بالکل، سمجھتا ہوں۔ ان کے احتجاج کے بعد تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میرے ذہن میں کمتر مخلوق کا جو تصور تھا، وہ ناقص تھا۔ یہ اس سے بھی کم تر ہیں۔ جب اخبار نویس نے مزید وضاحت کے لیے کہا تو اس نے کہا کہ احتجاج نا انصافی کے خلاف کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ، سماج میں ہونے والی کس نا انصافی کے خلاف اکٹھے ہوتے ہیں؟ ملک جس طریقے سے وجود میں آیا تھا، اسی پر چھری چلائی گئی ہے۔ چند ادیب ضرور بولے اور سزائیں بھی کاٹیں۔ یہ ادیب، ان کی سزاؤں کی جزا اپنے لیے چاہتے ہیں۔ چند دن پہلے دو بچیوں کے ریپ ہوئے۔ ان کا مقدمہ درج نہیں ہوا۔ حکومت نے تعلیم کے فنڈ میں کٹوتی کردی۔ غریب کی کھانے پینے کی چیزوں پر سبسڈی واپس لے لی۔ آئینی ترمیم ہوتی ہے، نظام مملکت ہی بدل جاتا ہے۔ ایک شخص اٹھتا ہے، کسی پر الزام لگاتا ہے، دوسرے اس غریب کی تکا بوٹی کر دیتے ہیں۔ کسی کی لاش قبر سے نکال کر کتوں کے آگے ڈال دی جاتی ہے۔ ان میں سے کسی ایک نے کوئی احتجاج کیا؟ ہاں، ایک شاعر ہر جلسے میں بولتا ہے، اس کے بولنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ ایک ہی طرح سے بولتا ہے۔ حکومت کے کان اس کے عادی ہو گئے ہیں۔ بڑے ادیب حکومتوں کے ایوارڈ ٹھکراتے ہیں، یہ لوگ حکومتی ایوارڈ کے لیے مرے جا رہے ہیں۔ جب اخبار نویس نے کہا کہ ایک ادبی تنظیم کی طرف سے ریپ کی مذمت کی گئی ہے تو سابق چیئر مین بولے کہ تم بہت بھولے ہو۔ اسے کہیں سے فنڈ ہی اسی بات کے ملتے ہیں۔ اس نے اخبارات کی کٹنگ بھیجنی ہوتی ہیں تاکہ اس کا چولھا جلتا رہے۔ تم ابھی نوجوان ہو، ان کو نہیں سمجھتے۔ میں نے انھیں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ جو چلے گئے، انھیں بھی اور جو آج موجود ہیں، انھیں بھی۔ یہ اسی جنگ کا حصہ ہیں جو اوپر ہر وقت جاری رہتی ہے۔ اقتدار کی جنگ۔ ادیبوں میں بھی ایک ادیب سب سے بلند مسند پر براجمان ہوتا ہے۔ نیچے ایک کابینہ ہوتی ہے۔ پھر مشیر ہوتے ہیں۔ یوں سمجھو، ابلیس کی مجلس شوریٰ ہوتی ہے (اس حصے کو اخبار نے چھاپنے سے ان کا ر کر دیا) ۔ یہ سب اپنے لفظ کی حرمت کا بہت چرچا کرتے ہیں۔ اصل میں اپنے لفظ کی قیمت چاہتے ہیں۔ مرنے والوں کی بائیو گرافی پڑھیں۔ یہ بولا کرتے تھے۔ مگر کب اور کہاں؟ یہ صاف سیدھا نہیں بولتے۔ سادہ باتوں کی الجھی ہوئی تصویر پیش کرنا ان پر ختم ہے۔ یہ جان بوجھ کر ایک شعر میں چار چار معنی رکھتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت ہر معنی کی قیمت مقرر کی جا سکے۔

بلند مسند جیسے ہی خالی ہوتی ہے، کابینہ میں کشمکش شروع ہو جاتی ہے کہ کون وہ مسند سنبھالے۔ منصوبہ بندی، سازش اور ان کے نتیجے میں خون خرابہ تک ہوتا ہے۔ اب ایک حادثے کے سبب، صرف مسند خالی نہیں ہوئی۔ وزیر مشیر بھی رخصت ہو گئے۔ یہ ایک بحران ہے، جس کی تیاری انھوں نے نہیں کی تھی۔ اب یہ سب خالی مسند تک پہنچنا چاہتے ہیں اور نئے وزیر مشیر بننا چاہتے ہیں۔ بس یہ ساری کہانی ہے۔

اس انٹرویو کی اشاعت کا شدید ردعمل ہوا۔ ادیبوں نے اسے غیر ملکی ایجنٹ کہا۔ اس کے پتلے جلائے۔ اس کے کچھ غیر ملکی دوروں کی تصاویر حاصل کی گئیں اور کہا گیا کہ وہ ملک دشمن غیر ملکی افراد سے ملتا رہا ہے۔ اس کی بیوی کے ایک این جی او سے تعلق کے ثبوت بھی حاصل کیے گئے، جس پر حکومت نے کچھ عرصہ پہلے پابندی لگائی تھی۔ سابق چیئر مین خاموشی سے اپنے خاندان کے ساتھ جرمنی چلا گیا۔

جب ادیبوں کا احتجاج نہیں رکا تو حکومت نے ان کے احتجاج پر پابندی لگادی۔ کچھ ادیبوں پر امن عامہ میں خلل ڈالنے کے مقدمے چلائے۔ ادیبوں کی اکیڈمی بند کردی گئی۔ حکومت نے اس کا جواز یہ پیش کیا کہ چوں کہ ثقافت اور تعلیم کی وزارتوں ہی سے بجٹ اکیڈمی کو دیا جاتا تھا، اور ان کا بجٹ کم کرنے کے بعد ، اکیڈمی چلانا ممکن نہیں رہا۔

تین سال بعد اکیڈمی بحال کردی گئی۔

پچیس سال بعد پھر اسی طرح کا ایک حادثہ ہوا جس میں کئی نامور ادیب جان سے گئے۔ اس بار یہ حادثہ ایک ٹرین میں آگ لگنے کی صورت ہوا۔

”کچھ ملکوں میں تاریخ خود کو دہراتی ہے“ ۔ ایک کالم نویس کے تعزیتی کالم کی سرخی تھی۔ اسی کالم کا آخری جملہ تھا: ”ان ملکوں میں تاریخ کی گاڑی جس پٹڑی پر چلتی ہے، اس کی مرمت کے فنڈ جاری ہی نہیں ہوتے“ ۔

Facebook Comments HS