مولانا داؤد غزنوی کی شخصیت: مختصر جائزہ


مولانا داؤد غزنوی مسلک اہلحدیث کے چند بڑے علماء میں سے تھے۔ آپ پنجاب کانگریس کے صدر تھے، اور پنجاب میں وہ واحد مسلمان تھے جو کانگرس کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ آپ نے اپنی مذہبی شناخت یا جماعت کی پہچان پر عملی سیاست نہیں کی بلکہ خالص سیاسی جماعتوں کے ساتھ منسلک ہو کر انہوں نے سیاست لڑی۔ اس میں ان کا ایک خاص موقف تھا جو آگے ہم پیش کریں گے۔ مولانا نے 1946 میں کانگریس سے استعفیٰ دیا اور مسلم لیگ جوائن کی۔ آپ اس سے پہلے جمعیت علمائے ہند کے نائب صدر بھی رہے اور مجلس احرار میں بھی اپنی خدمات پیش کیں۔ آپ جب جمعیت علمائے ہند میں تھے تو ایک واقعہ قابل ذکر ہے کہ ”1942 کے مارچ میں جمعیت علماء ہند کا سالانہ اجلاس لاہور میں مولانا حسین احمد مدنی کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ مولانا داؤد غزنوی مجلس استقبالیہ کے ناظم تھے۔ اس جلسے میں شرارت یہ ہوئی کہ مولانا سید حسین احمد مدنی نے تحریک خطبہ صدارت پڑھتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک ایسا گروہ بھی ہے جو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہتا ہے۔ بس یہ الفاظ سننے تھے کہ مجمع بپھر گیا اور“ پاکستان زندہ باد ”کے نعرے لگانے لگ گیا۔ مولانا مدنی نے اپنے تئیں ڈھیر کوشش کی کہ لوگ خاموش ہو جائیں۔ لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ بالآخر مولانا غزنوی سٹیج پر تشریف لائے اور انہوں نے پہلے لوگوں کو سمجھایا اور پھر دھمکایا۔ لیکن اس کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر مولانا نے سامعین کو پانچ منٹ کا وقت دیا کہ اس میں آپ خاموش ہو جائیں ورنہ کارروائی کی جائے گی۔ لیکن پھر بھی لوگ نہ مانے۔ آخرکار احراری رضاکاروں کو یہ کام سونپا گیا اور انہوں نے دس منٹ کے اندر جلسے کو امن کا گہوارا بنا دیا۔ یہ شرارتی لوگ مسلم لیگ کی طرف سے ایک خاص شرارتی مقصد کے تحت آئے تھے۔ بہرحال یہ ان کے کانگریسی دور کا ایک واقعہ ہے جسے ان کے آفس سیکرٹری محمد اسحاق بھٹی نے بیان کیا ہے۔

کانگریس سے مستعفی ہو کے جب آپ مسلم لیگ کی جانب گئے تو لیگیوں نے بھی آپ کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ یوپی میں جب ہندو مسلم فسادات ہوئے اور مسلمانوں کو بے پناہ جانی اور مالی نقصان پہنچایا گیا تو اس کی تحقیقات کے لیے مسلم لیگ کی طرف سے خود قائد اعظم محمد علی جناح نے مولانا داؤد غزنوی اور ملک فیروز خان کو وہاں بھیجا۔ عارضی حکومت کے زمانے میں پنجاب کی طرف سے مسلم لیگ نے مرکزی اسمبلی کی رکنیت کے لیے پنجاب اسمبلی کے جن تین ممبروں کو نامزد کیا تھا ان میں ایک مولانا داؤد غزنوی تھے۔

مولانا غزنوی فتوٰی دینے میں بہت تحقیق کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا احمد علی لاہوری (دیوبندی) کے پاس اگر کوئی شخص طلاق کے مسئلے پر فتویٰ لینے آتا تو وہ اسے مولانا داؤد غزنوی کے پاس جانے کو اور ان سے فتویٰ لینے کو کہتے۔ مولانا غزنوی ہر مسلک کے علماء کا برابر احترام کرتے۔ مولانا عبد العظیم انصاری (سابق ناظم دفتر جمعیت اہلحدیث) کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ وہ مولانا کے ساتھ بیٹھے تانگے پر کہیں جا رہے تھے۔ اچانک بیچ راستے میں مولانا غزنوی نے تانگہ رکوانے کا حکم دیا۔ تانگہ رکا تو مولانا جلدی سے نیچے اترے اور ہاتھ پھیلائے ایک طرف بڑھے، دیکھا تو ادھر شیعہ عالم مفتی کفایت حسین تانگے سے اتر کر اسی طرح ہاتھ پھیلائے مولانا کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دونوں بزرگوں نے مصافحہ کیا اور کچھ دیر کھڑے رہے۔ مولانا غزنوی تحریکات آزادی کی جدوجہد کے سلسلے میں ملک کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔ کچھ عرصہ الہ آباد باد جیل میں بھی بسر ہوا۔ یہ پنڈت جوالہ نہرو کا شہر تھا اور یہ خاندان مولانا کا اس قدر احترام کرتا تھا کہ جیل میں ان کا ناشتہ اور دو وقت کا کھانا جواہر لال کے گھر سے بھیجا جاتا تھا۔ اس کا اہتمام خود جواہر لال نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت کرتی تھی۔ ویسے اس سے ہٹ کر مطالعہ میں آیا ہے کہ ہمارے اکثر علماء کرام کے ہندو قائدین کے ساتھ روابط بہت اچھے تھے۔ وہ ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے اور کھانا بھی کھاتے۔ سید عطاءاللہ شاہ بخاری اور لالہ لاجپت رائے کا ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھانے کے متعلق آپ نے ضرور سن رکھا ہو گا۔ واللہ اعلم۔ مولانا غزنوی کے زیر نگرانی لاہور میں ماہ ربیع الاول کے مہینے میں سیرت کا جلسہ ہوتا۔ جس میں شیعہ، بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث اکٹھے شرکت کرتے۔ قیام پاکستان سے پہلے علماء کے درمیان اختلاف تو شدید ملتا ہے، لیکن وہ کسی بھی وقت ایک دوسرے کی مخالفت میں کمربستہ نظر نہیں آتے۔ اس کا اثر قیام پاکستان کے بعد بھی رہا، کیونکہ قیادت انہیں بڑے لوگوں کے ہاتھوں میں تھی۔ لیکن آہستہ آہستہ اس کا اثر کم ہوتے ہوتے اب تک بالکل زائل ہو چکا ہے۔ اب تو ایک ہی فرقے کے مولوی ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر راضی نہیں۔

قیام پاکستان کے بعد 1952 کے آخر میں تحریک ختم نبوت شروع ہوئی۔ جس میں تمام علماء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ علماء کو اس تحریک کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ جب حکومت نے اس تحریک کے بڑے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا تو تحقیقات کے لیے ایک عدالت مقرر کی جو جسٹس محمد منیر اور جسٹس ایم آر کیانی پر مشتمل تھی۔ مولانا غزنوی چونکہ اس تحریک کے ناظم اعلیٰ بھی تھے تو جب حسین شہید سہروردی تحریک کی وکالت کے لیے پیچھے ہٹے (مولانا غزنوی نے تحریک ختم نبوت کی وکالت کے لیے انہیں چنا لیکن یہ فنی پیچیدگیوں کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے ) تب اس تحریک کی وکالت کے دستبردار ہونے پر مولانا غزنوی نے وکالت و نمائندگی کا بھار اٹھایا۔ جسٹس منیر نے بہت ٹیڑھے میڑھے سوالات پوچھے لیکن مولانا غزنوی نے بہت دلچسپ جواب دیے۔

اسی طرح جسٹس صاحب نے اور بہت سارے سوالات کا جال بچھایا، لیکن مولانا غزنوی اپنے حاضر جوابی کے بل بوتے پر چنگل سے نکل آتے۔ بالآخر جسٹس صاحب ہار مان گئے۔ 1985 میں جب ایوب خان کا مارشل لاء لگا تو مولانا غزنوی نے ڈٹ کر اس کی مخالفت کی۔ مارشل لا کے بعد عید آئی تو مولانا نے منٹو پارک کے میدان میں عید کا خطبہ دیتے ہوئے، فوجی آمریت کو کڑے الفاظ میں نشانہ تنقید بنایا۔ مولانا نے کہا ”ایوب خان سیاست اور سیاست دانوں پر تنقید کرتے ہیں لیکن خود سیاست کر رہے ہیں جو شخص برسر اقتدار آئے گا‘ وہ فوجی ہو یا کوئی اور سیاست سے ہرگز الگ نہیں ہو سکتا۔ اگر انہیں واقعی سیاست سے نفرت ہے تو حکومت چھوڑ دیں اور اقتدار سے دست بردار ہو جائیں۔ منٹو پارک میں مولانا غزنوی عید کی نماز پڑھایا کرتے تھے۔ بہت کثیر تعداد میں لوگ جمع ہوتے۔ جو بات ہم نے شروع میں کی کہ مولانا داؤد غزنوی اہلحدیث جماعت کا سیاست میں حصہ لینا اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ اس میں ان کا موقف منفرد تھا۔

وہ یہ کہتے تھے کہ ”کوئی حلقہ ایسا نہیں جہاں جماعت کی اتنی اکثریت ہو کہ اس کے ٹکٹ پر کوئی شخص کامیاب ہو سکے۔ جس جماعت کا کوئی حلقہ انتخاب نہ ہو، اور اس کے ارکان مختلف مقامات میں بکھرے ہوئے ہوں ’سیاسی جماعتیں اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں۔ جماعت اہل حدیث کا کسی سیاسی جماعت سے بطور جماعت اتحاد کرنا باعث نقصان ہو گا۔ البتہ اتحاد کی جماعتیں آپ سے فائدہ اٹھائیں گی اور ان کی امیدوار آپ کے علماء سے اپنے حق میں تقریریں کرائیں گے‘ جلوس نکلوائیں گے اور جماعت سے ووٹ لیں گے۔ اس قسم کی بے وقوفی جماعت کو کبھی نہیں کرنے چاہیے۔ ہاں! جو اہل حدیث نمائندہ کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہا ہو ’اس کی مدد ضرور کرنی چاہیے‘ اگر وہ کسی جماعت کی طرف سے ہو۔“ میرے خیال میں اس ضمن میں مولانا غزنوی کا نقطہ نگاہ بہت جاندار تھا۔

(مولانا داؤد غزنوی پر یہ معلومات میں نے ان کے سیکرٹری اور رفیق اسحاق بھٹی کی کتاب ”نقوش عظمت رفتہ“ کی جلد دوم سے اخذ کیں۔ یہ ان کے عہد کے علماء پر خاکہ نویسی پر مشتمل چند مجلدات ہیں۔ چونکہ یہ کتاب بہت نایاب ہے، اور اب کم یاب بھی ہے، اس لیے میں نے سوچا کہ اس کتاب میں زیر بحث چند شخصیات کا مختصراً تذکرہ کیا جائے، اور ان کے متعلق ضروری معلومات قارئین کو فراہم کی جائیں۔ یہ میں نے ضروری اس لیے بھی سمجھا کہ کم پیمانے پر ہی سہی، لیکن کم از کم ہم اپنی تاریخ کی نامور شخصیات کے متعلق کچھ نہ کچھ جان تو سکیں گے۔ پھر جو لوگ ان ہستیوں سے واقف ہیں وہ بھی بس نام کی حد تک جانتے ہیں۔ میں نے یہ قضیہ اس لیے بھی کیا کہ ان بزرگان کی جو میں نے سوانح یا خاکے پڑھے، وہ ایسی کتابوں میں تھے کہ جو کلاسک کا درجہ رکھنے کے باوجود نایابی کے ساتھ ساتھ کم یاب بھی ہو گئیں۔ یہ ہماری بدذوقی کی انتہا ہے۔)

Facebook Comments HS