منور آکاش: ترجمہ شدہ آدمی


منور آکاش کو میں نے پہلی دفعہ کب اور کہاں دیکھا، مجھے یاد نہیں۔ نہ ہی یہ یاد ہے کہ ہماری پہلی ملاقات کب ہوئی تھی۔ یقیناً ہم پہلی دفعہ گول باغ کی کسی محفل، ملتان آرٹس فورم یا ذکرین لٹریری فورم کی کسی نشست میں ملیں ہوں گے۔ مجھے اتنا یاد ہے اس زمانے میں وہ اتنا دل برداشتہ نہیں ہوا تھا کہ ہمہ وقت اپنا سر بالوں سے پاک رکھے، بلکہ اس زمانے میں کونے کھدرے کے بالوں نے سر ڈھانپا ہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ اتنا لو پروفائل رہتا کہ زیادہ لوگوں کی توجہ اس پر نہ پڑے، کم بولتا اور تقریباً اضافی باتیں بھی نہیں سنتا تھا۔ وہ ہمیشہ ساحر شفیق کے ساتھ پایا جاتا، ان دنوں ساحر اور اس کی جوڑی ادبی حلقوں میں خاصی مقبول تھی۔ وہ اکٹھے رہتے تھے، اکٹھے کھاتے پیتے اور گھومتے پھرتے تھے۔ عاقب سعید نامی وائٹ ٹائیگر کا ایک ہوسٹل ہوا کرتا تھا جس کے ایک کمرے میں یہ لوگ رہا کرتے تھے۔ کمرہ کیا تھا وہ کئی شاندار ادبی پاروں کی جنم بھومی تھی۔ اسی کمرے میں منور نظمیں تراش لیتا تھا، وہیں الو گوشت اور توریاں بھونی جاتیں تھیں اور ملک پیک کے پیکٹوں سے ایک چھوڑی سی گیس سلنڈری پر فوراً چائے تیار ہو جاتی۔ منور اس کمرے کا منتظم اعلی ٰبھی تھا اور وہاں رہنے والوں کی آدھی اماں بھی۔ اس کا کب یہ نام پڑا مجھے معلوم نہیں مگر ساحر اسے منا کہتا اور یوں منور حسین، منور آکاش سے ہمارے لئے منا ہو گیا۔

وہی کمرہ دستک پبلیکیشنز کا دفتر ہوا کرتا تھا، جس کی ایک دیوار پر دستک سے شائع شدہ کتابوں کے سر ورق آویزاں تھے اور ہر کچھ ہفتوں مہینوں بعد اس میں ایک ٹائٹل کا اضافہ ہو جاتا۔ کچھ کتابیں یہ دونوں خود پڑھا کرتے تھے، اور کچھ ایک دوسرے کو سنایا کرتے۔ کمرے کی ایک دیوار کے ساتھ کتابوں کی اساری ایسے کی گئی تھی کہ کتابوں کے رنگ برنگے پشتے کئی رنگوں کا ملا تاثر بنا کر اسے ایک تجریدی پینٹنگ بنا دیتے۔ گول باغ کے علاوہ وہی شاعروں ادیبوں کا دوسرا اڈہ تھا۔

وہ بظاہر درمیانے قد، گندمی رنگ کا دبلا پتلا ایک کم گو، سنجیدہ اور معصوم آدمی لگتا ہے۔ اگر قد کاٹھ میں کچھ رعایت دے دیں تو وہ پہلی نظر میں کچھ ول سمیتھ یا مائیکل بی جارڈن جیسا لگتا ہے۔ مگر اس کے چہرے کے تاثرات برابر اور نہ محسوس ہونے والے ہیں۔ یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا کہ وہ غصے میں ہے یا کوفت کا شکار ہوا ہے۔ پہلی ملاقات میں کوئی بھی شخص سمجھے گا کہ وہ بہت دیر مشینوں کے ساتھ کام کرنے والا ایک سپاٹ سا آدمی ہے۔

منور ان دنوں نظمیں لکھتا، ہائیکو کہتا اور دوستوں کی کتابیں چھاپتا تھا۔ میرا اس سے تعلق تب بڑھا جب میں نے ملتان کے بیس افسانہ نگاروں کا ایک انتخاب کیا اور اس کی اشاعت دستک پبلیکیشنز سے ہوئی، پھر اس کے بعد موزیک اور کولاج بھی منور نے ہی شائع کی، اور یوں شائع کیں کہ مجھے اشاعت کی سمجھ بوجھ سکھا دی۔ وہ بہت منظم طریقے سے کتابیں چھاپتا ہے اور ایسا ہی انتظام اس نے اپنی زندگی میں کر رکھا ہے۔ ہر چیز کو وقت میں ایسے تقسیم کیے رکھتا ہے کہ ایک کے بعد ایک چیز کی باری آتی ہے اور ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایک زمانے میں اس کے پاس ایک ہرے رنگ کا بستہ ہوتا تھا، وہ بستہ منور کا آدھا دفتر تھا، جس میں تمام منصوبوں کی تفصیلات کچھ پرچیوں میں یاداشت اور پوائنٹس کی صورت درج ہوتیں۔ اس کے انتظام اور سلیقے طریقے کا اندازہ اس بات سے ہو کہ وہ بچوں کے کھلی لائنوں والے رجسٹر کی لائنوں کے درمیان جوڑ جوڑ کے لکھے لفظوں سے اپنی باریک لکھائی میں با آسانی دو سطور لکھ لیتا ہے، اور اگر صفحے پر کوئی لائن نہیں بھی ہے تو لفظ خط مستقیم پر ہی چلتے ہیں، مجھے تقریباً یقین ہے وہ اپنی زندگی میں اتنا سیدھا سادہ نہیں۔

کہاوت ہے برگد کے پیڑ کے نیچے کوئی پودا نہیں اگتا، مگر پودا خود بھی ہوا دیکھا اور برگد کو بھی وہ تقویت دیتا رہا۔ ساحر شفیق جیسے تخلیقیت سے لبالب اور تخلیقی پراسس کو تیز کر دینے اور دوسرے پر اپنے گہرے اثرات چھوڑنے والے فن کار کے ساتھ رہتے ہوئے منور نے اپنے تخلیقی سفر کی خاموشی سے آبیاری جاری رکھی۔ جب تک ساحر ملتان رہا منور اس کی طاقت بنا رہا اور اس کی توجہ تخلیقیت پر مرکوز کیے رکھی۔ ساحر اور منور ایک وقت میں ایک ساتھ نثری نظم کہہ رہے تھے، اردگرد کے بہت سے لوگوں کی نظموں میں ساحر کی گونج سنائی دی، مگر منور کی شاعری کسی اور ڈگر پر چل رہی تھی۔ اس کے ہاں امیجری، مقام، استعاراتی نظام سب مختلف تھا۔ اس کی نظموں کا ایک خاص حصہ ایسا ضرور ہو سکتا ہے جو ساحر کی شاعرانہ بصیرت کے قریب قریب کی کوئی چیز معلوم ہو۔

ساحر دنیا پور چلا گیا اور منور نے اپنی انرجی بحال رکھی۔ وہ کئی فلیٹ بدلتا رہا، اس نے اتنے فلیٹ بدلے کہ آدھا گل گشت گھوم لیا۔ مگر وہ جہاں رہتا وہ جگہ دوستوں کا ٹھکانہ بن جاتی۔ جو دوست شہر کے باہر سے آتا یہ امیر خانہ اس کے لئے میسر ہوتا۔ کئی دفعہ اس نے ساتھ رہنے کے لئے کوئی ساتھی تلاش کیا مگر وہ زیادہ دیر ٹک نہیں پایا۔ اس اکیلے پن کا حل یوں نکلا کہ منے کو ترجمے کا چسکہ پڑ گیا، پھر دے دنا دن ترجموں پر ترجمہ، اس نے بیسیوں کتابیں ترجمہ کر ڈالیں۔ تنقید، کہانیاں، افسانچے، انٹرویو کیا کیا نہ تھا جو ترجمہ ہوتا گیا۔ ترجمہ بھی کچھ ایسے ہی انداز میں ہوتا کہ کوئی کتاب تو باقاعدہ ترجمہ ہوئی اور کئیوں کے ٹکڑے ترجمہ کر کے جوڑ دیے۔ اس کا مزاج ترجمے کا نہ تھا، اور اگر یہ تنہائی میسر نہ آتی تو وہ شاید اس کام پر کبھی نہ لگتا۔ یعنی ایک وقت تو ایسا آیا جب وہ لوگوں کی گفتگو بھی ترجمہ کر کے سمجھنے لگا تھا۔ اکیلے پن کا دوسرا مشغلہ صحافت تھی۔ اسے آپ باقاعدہ یا بے قاعدہ کوئی بھی قسم سمجھ لیجیے۔ مصروفیت کی مصروفیت اور دو پیسے آ رہے ہوں تو کس کو پیارے نہیں بھائی۔ ترجمے کی طرح یہ کام بھی اس کے مزاج کا نہ تھا۔ مگر یہاں منا بھائی کی عقل مندی یہ تھی کہ صحافت کو تنخواہ لینے سے زیادہ توجہ نہ دی اور اپنی معاشی صورت حال بہتر ہوتے ہی اسے خیر باد کہہ دیا۔ میں نے کم لوگ ہی ایسے دیکھے ہیں جنہوں نے اتنی آسانی سے صحافت کو خیر باد کہا ہو۔ منور نے اس وقت کو ایسے استعمال کیا کہ اپنے کام کا مواد اکٹھا کرتا رہا۔

سگریٹ کو گیلا کر کے اپنے لعاب کے دھویں میں کش لگاتا یہ آدمی ایک صلح جوئی کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ میں نے ہمیشہ اسے درمیانی راستہ تلاش کرتے دیکھا ہے۔ وہ کٹر مصلحت پسند آدمی ہے جو مٹی پاؤ پالیسی کا علمبردار ہے۔ دوستوں کے اختلافات کو وہ اپنے لئے ایک مشکل اور منحوس شگن سمجھتا ہے۔ اور صلح جوئی کی طرف مائل با کرم کرنے کی کوئی سبیل نکالنے کی مہم جوئی شروع کر دیتا ہے۔ اس سب کے با وجود اس کی سب سے اہم خوبی فوکسڈ رہنا ہے، جب وہ ایک کام پر لگا ہو تو یہاں وہاں بھٹکتا نہیں، نہ ہی کسی کو خود کو بہلانے کی اجازت دیتا ہے۔ ادھر ادھر کی سن ضرور لیتا ہے مگر دھیان نہیں دھرتا۔

وہ اردو اکادمی اور ملتان آرٹس فورم کا بیک وقت سکریٹری رہ چکا ہے۔ جو دونوں ہی اداروں کے ساتھ ساتھ اجلاس کراتا تھا۔ دونوں ادارے اپنی فطرت میں مختلف فلسفوں کے قائل ہیں مگر منور کی ڈپلومیٹک خصوصیات نے دونوں اداروں کو نہ صرف افادیت پہنچائی بلکہ کسی حد تک ان کے اراکین میں موجود فاصلوں کو کم کرنے کا کام کیا۔ یہ خواب میرے بہت سارے سینئرز نے دیکھا تھا، اگر اسے کسی حد تک کوئی کر پایا تو وہ اپنا منا بھائی ہے۔

وہ بہت دفعہ معیار کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔ اگر کسی شخص نے خالد سعید کی یہ نصیحت قبول کی تو وہ منور ہے کہ کام ہونا چاہیے بھلے وہ جیسا بھی ہو، اور ضروری نہیں آپ یا سب اچھا ہی لکھیں اور چھپیں۔ سو منور نے خود بھی لکھا اور بہت ساروں کو چھاپا اس سے قطعہ نظر کہ ان کی تحریروں کا معیار کیا ہے۔ وہ کام کے وقت پر ہونے کا قائل ہے۔ تاخیر، ڈیلے وغیرہ یا پرفیکشن جیسے الفاظ اس کی عملی زندگی سے کوسوں دور ہیں۔

وہ نہ صرف کام کرانا جانتا ہے، بلکہ جلدی کام کرانا جانتا ہے۔ ہم نے ایک ساتھ ”سطور“ ، ”مٹھن“ ترتیب دیے۔ میں ابھی کسی سوچ بچار میں ہوتا تھا کہ وہ کام کا نہ صرف منصوبہ بنا چکا ہوتا تھا بلکہ پہلی اینٹ بھی بنا سیمنٹ کے لگا دیتا تھا۔ وہ دوسروں کی حصے کے کئی کام اپنے سر لے لیتا ہے اور وہ اس کے لئے بالکل بوجھ نہیں بنتے۔ مٹھن کے سات شمارے شائع ہوئے اور اگر میں جائزہ لوں تو میرا یا جواد جوجی کا کام اس میں ریت برابر ہی نکلے گا۔

مینیجمنٹ کا ہنر یہ ہے کہ آپ کم وسائل میں کس طرح چیزوں کو ممکن بناتے ہیں، یہاں میری مراد صرف جوڑ توڑ نہیں بلکہ ممکن بنانے کی ہے، اور منور

آکاش یہ کام با خوبی جانتا ہے۔ وہ کم وسائل اور کم وقت میں چیزوں کو ترتیب دینے اور مشکلات کا حل نکالنے کی صورت ڈھونڈ نکالتا ہے۔ یہی بات شاید کسی حد تک اس کے ورکنگ ریلیشنز بنانے میں کام آتی ہے۔

دستک پبلیکیشنز سے اس نے بطور ناشر سینکڑوں کتابیں شائع کی۔ کچھ سے خوب داد سمیٹی اور کچھ محض دوستوں کے لئے۔ کچھ کتابیں پڑھنے لائق اور کچھ چھپانے والی۔ مگر جو بات قابل ستائش و تعریف ہے وہ یہ کہ اس نے سب کام تن تنہا کیا، جو آسان نہیں۔ کتابیں چھاپنا پاکستان جیسے ملک میں بالکل بھی ایک منافعہ بخش کام نہیں، لیکن وہ اپنے شوق میں کسی بھی اور منافعے کو چھوڑ کر اپنی جوانی اسی کام کو دے بیٹھا۔

اس کے معاشقوں کا احوال مجھے معلوم نہیں، مگر یہاں وہاں کی خبروں سے یہ معلوم ہوتا رہا کہ اس سب پڑھائی لکھائی اور چھپائی کے کام کے دوران وہ ایک الگ دنیا آباد کیے رکھتا ہے، مگر وہ بھی خامشی سے۔ یوں سمجھئے وہ ٹھہرے پانی میں جال پھینکنے کا قائل ہے۔

وہ ایک ان تھک، محنتی اور انٹرو ورٹ آدمی ہے، جو تنہائی اور خاموشی کی برابر محبت میں مبتلا ہے اور اپنی جیب سے ایک سگریٹ برآمد کر کے ’ہاں سائیں‘ کرتا ہے اور باقی آپ کی سنتا ہے۔

Facebook Comments HS