کیا مذہب بچوں کو جنسی تعلیم دینے کی مخالفت کرتا ہے؟

پچھلے ماہ میری ماہر نفسیات دوست ابصار فاطمہ نے ’جو‘ ہم سب ’کی مقبول کالم نگار اور افسانہ نگار بھی ہیں‘ مجھے بتایا کہ ان کی سہیلی سونیا ڈار جنوبی ایشیا کے لوگوں کے جنسی رجحانات پر نفسیاتی تحقیق کر رہی ہیں اور اپنی تحقیق کے سلسلے میں میرا انٹرویو کرنا چاہتی ہیں۔ ابصار فاطمہ میرے ایسے دوستوں میں سے ہیں جنہیں میں۔ ناں۔ نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں نے حامی بھر لی۔ اس مکالمے کے بعد سونیا ڈار نے مجھے پانچ چبھتے ہوئے مشکل سوال بھیجے جن کے میں نے مختصر جواب دیے۔ ان جوابات کا خلاصہ حاضر ہے۔
یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ جنسی معلومات اور رجحانات کے حوالے سے ہم اکیسویں صدی میں بھی دور جاہلیت کے تاریک دور میں زندہ ہیں۔ ہمارے نجانے کتنے نوجوان اور بزرگ نہیں جانتے کہ
HERMAPHRODITE
TRANSVESTITE
TRANSEXUAL
HOMOSEXUAL
BISEXUAL
میں کیا فرق ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے روایتی اور مذہبی گھرانوں اور سکولوں میں یہ موضوعات شجر ممنوعہ بھی ہیں اور متنازع فیہ بھی۔
نجانے کتنے روایتی اور مذہبی ماں باپ اور اساتذہ ایسے ہیں جو جنس کو محبت اور پیار ’اپنائیت اور دوستی کی بجائے گناہ سے جوڑتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے نوجوان بلوغت تک پہنچنے کے بعد پہلے احساس گناہ اور احساس شرم کا اور پھر نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بہت سی نوجوان لڑکیاں نہیں جانتیں کہ جوان ہونے کے بعد انہیں حیض آئے گا اور بہت سے نوجوان لڑکے نہیں جانتے کہ بلوغت کی سرحد پار کرنے کے بعد ان کے بہت سے غدود فعال ہوں گے ’ان کے جسم میں تبدیلیاں آئیں گی اور انہیں راتوں کو شہوانی خواب آئیں گے۔
ہمارے نجانے کتنے بزرگ اپنے نوجوان بچوں کو آج بھی جنسی تعلیم دینے کے لیے کسی طب یا نفسیات کی کتاب کی بجائے بہشتی زیور تجویز کرتے ہیں۔
وہ نوجوان جو گے یا لیسبین یا ٹرانس جینڈر ہیں اور غیر روایتی زندگی گزارنا چاہتے ہیں وہ سماجی طور پر رد کر دیے جاتے ہیں ان کے گھر والے ان سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں انہیں اپنے ماتھے کا کلنک کا ٹیکہ سمجھتے ہیں اور انہیں گھر سے نکال دیتے ہیں۔ جو نوجوان بغاوت کرتے ہیں ان پر فتوے لگتے ہیں اور بعض کو تو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اکثر اوقات معاشرے کا ردعمل ہمدردانہ نہیں جارحانہ اور ظالمانہ ہوتا ہے۔
مشرق میں نفسیاتی اور سماجی مسائل کی ایک وجہ یہ ہے ہماری مقامی زبانوں میں جنسی اعضا اور اعمال کے لیے عام فہم مناسب اور مہذب الفاظ موجود نہیں ہیں۔ اس لیے ان موضوعات پر سنجیدگی سے گفتگو نہیں ہو پاتی۔
بہت سے لوگوں کا رویہ ایسا ہے کہ وہ ان موضوعات کو بے حیائی، بے غیرتی اور فحاشی سے جوڑتے ہیں۔ کینیڈا کی ادبی محفل میں جب میں نے اپنا پہلا افسانہ۔ جڑیں شاخیں پھل۔ پڑھا تو تین ادیب یہ کہہ کر محفل چھوڑ کر چلے گئے کہ ڈاکٹر سہیل کو شرم نہیں آتی کہ وہ عورتوں کی موجودگی میں ایسا افسانہ پڑھتے ہیں جس میں انہوں نے حیض اور مشت زنی جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ میرے ایک دوست نے ان احباب سے کہا کہ عورتیں تو اٹھ کر نہیں گئیں آپ کیوں اٹھ کر چلے گئے اور ڈاکٹر سہیل تو کینیڈا میں آنے سے پہلے چھ ماہ پشاور کے زنانہ ہسپتال کے لیبر روم میں کام کر چکے ہیں۔
مشرق میں وہ بچیاں ’لڑکیاں اور عورتیں جن کا جنسی استحصال ہوتا ہے یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں وہ اپنا مسئلہ اپنے گھر والوں کو بھی بتاتے گھبراتی اور شرماتی ہیں کیونکہ انہیں یہ خوف لگا رہتا ہے کہ ان کے اپنے بھی انہیں ہی مورد الزام ٹھہرائیں گے اور کہیں گے
تم گھر سے باہر کیوں گئیں؟
تم نے برقعہ کیوں نہیں پہنا چادر کیوں نہیں لی؟
مغرب میں ہم ایسے رویے کو blaming the victim کہتے ہیں۔ مظلوم کو مورد الزام ٹھہرانا دوہرا جرم ہے۔
مجھے یہ کالم لکھتے ہوئے اسرائیل کی وزیر اعظم گولڈا میر یاد آ رہی ہیں۔ ان کے عہد حکومت میں جب پارلیمان کے سامنے یہ بل پیش کیا گیا کہ عورتوں پر جنسی حملوں کو کم کرنے کے لیے یہ قانون بنایا جائے کہ سورج غروب ہونے کے بعد عورتیں گھروں میں رییں تو گولڈا میر نے کہا کہ پابندی عورتوں پر نہیں، مردوں پر لگنی چاہیے کیونکہ وہ عورتوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ عورتیں تو معصوم و مظلوم و مجبور ہیں۔
میں نے سونیا ڈار کو یہ خوش خبری سنائی کہ پچھلے چند سالوں میں انٹرنیٹ کی وجہ سے بہت سے پاکستانی بہت سی جنسی معلومات اور سوشل میڈیا سے جنسی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
’ہم سب‘ پر میرے کالم پڑھ کر جو لوگ مجھ سے جنسی مسائل پر مشورے کر رہے ہیں ان کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔
آج شام جب میں نے اپنی دوست ڈاکٹر سارہ علی کو اپنے انٹرویو کے بارے میں بتایا تو انہوں نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں ان مسلمان اور عیسائی والدین نے بہت بڑا جلوس نکالا جو کینیڈا کے سکولوں میں بچوں اور بچیوں کی جنسی تعلیم کے خلاف ہیں کیونکہ وہ اسے مذہب کے خلاف سمجھتے ہیں۔
اب میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مذہب بچوں کو جنسی تعلیم دینے کی مخالفت کرتا ہے؟ اگر بچوں کو سکولوں میں اساتذہ جنسی تعلیم نہیں دیں گے تو پھر کون دے گا؟
