مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں سرد جنگ
بدقسمتی سے پاکستان کی 75 سالہ سیاست بدترین محاذ آرائی کا شکار رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف تحاریک چلانے کے جنون میں کئی بار طالع آزماؤں کو مارشل لا نافذ کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر اقتدار کی بساط لپیٹنے میں کلیدی کر دار ادا کیا ہے۔ پاکستان پاکستان کی سیاست طویل عرصہ تک پیپلز پارٹی اور اینٹی پیپلز پارٹی کیمپوں میں منقسم رہی ہے۔ ابتدا میں یہ تقسیم بڑی حد تک نظریاتی بنیادوں پر بھی تھی لیکن جلد ہی اس تقسیم نے ذاتی عناد اور دشمنی شکل اختیار کر لی سیاست بڑا بے رحم کھیل ہے۔
آغا شورش کاشمیریؒ کہا کرتے تھے کہ ”سیاست دان کے ہاتھ میں رحم کی لکیر نہیں ہوا کرتی اقتدار کی خواہش باپ کو جیل میں ڈال دیتی ہے اور بھائی بھائی کی آنکھیں نکلوا دیتا ہے۔“ سو پاکستان میں بھی بے رحم سیاست دانوں نے جب جنرل ضیاء الحق کو یہ باور کرا دیا کہ قبر ایک ہے اور آدمی دو لہذا وہ اس بات کا انتخاب کر لیں کہ کس کو پہلے قبر میں اترنا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختہ تک پہنچانے میں سیاست دانوں کا بھی بڑا کردار تھا جنہوں نے ذوالفقار بھٹو سے ”خوفزدہ“ جرنیل کو انہیں تختہ دار پر لٹکانے پر مجبور کر دیا اور پھر بھٹو سے نبرد آزما ان سیاست دانوں نے سکھ کا سانس لیا جب انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا لیکن جب ضیا ء الحق نے اونٹ کو نکیل ڈالی تو انہوں نے 10 سال تک کسی سیاست دان کو سواری نہیں کرنے دی 50 سال قبل جو سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی کے خلاف صف آراء تھیں وہ آج پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔
وقت کے ساتھ سیاسی حلیف اور حریف بدلتے رہے سیاست میں پی ٹی آئی کا نیا عنصر شامل ہونے کے بعد نئی صف بندی ہوئی پی ٹی آئی کی دشمنی پر مبنی حکمرانی نے اس کے دشمنوں کو نہ صرف ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا بلکہ انہیں عمران خان سے اقتدار چھین کر 16 ماہ تک حکومت کرنے کا موقع فراہم کر دیا بلکہ عمران خان کو جیل بھجوا کر دم لیا آج عمران خان اٹک کے بعد اڈیالہ کی اس جیل میں رکھا گیا ہے۔ جہاں نواز شریف کو رکھا گیا تھا۔
70 ء کے عشرے میں مسلم لیگ کونسل ہوا کرتی تھی جس کے قائد میاں ممتاز دولتانہ تھے جنہوں نے پاکستان کے مستقبل سے مایوس ہو کر برطانیہ میں ہائی کمشنری کا منصب قبول کر لی تھی۔ دائیں بازو اور بائیں بازو کی کشمکش میں جماعت اسلامی پیش پیش تھی جب کہ مسلم لیگ کی قیادت پیر صاحب پگارا کے پاس تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو پیر صاحب پگارا کے مذہبی مقام کے پیش نظر ان کے شایان شان سلوک روا رکھتے تھے لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے میاں طفیل محمد اور ملک قاسم کے ساتھ لاہور قلعہ کے عقوبت خانہ میں جو کچھ کیا وہ ہماری سیاسی تاریخ کا بدنما داغ ہے جسے تمام تر کوشش کے باوجود فراموش نہیں کیا جاسکتا ذوالفقار علی بھٹو نے خان عبدالولی خان، ائرمارشل اصغر خان اور چوہدری ظہور الہی کو ٹھکانے لگانے کی بڑی کوشش کی لیکن وہ محفوظ رہے پھر یہی شخصیات ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پہنچانے میں پیش پیش رہیں۔
بے نظیر بھٹو کے پاس پیپلز پارٹی کی قیادت آئی تو ان کا سامنا مسلم لیگ (ن) کے تازہ دم قائد نواز شریف سے ہوا ان ہی کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) بنی جو اب تک قائم ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان محاذ آرائی عروج پر رہی ہے۔ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتی رہی جب پرویز مشرف نے نواز شریف کے بعد بے نظیر بھٹو کو جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا تو پھر دونوں کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوا اور ان کے درمیان لندن میں مئی 2006 ء تاریخی ”میثاق جمہوریت“ ہوا۔ اس معاہدہ پر پوری طرح عمل درآمد تو نہ کیا گیا لیکن جمہوری عمل کو جاری و ساری رکھنے کے کسی حد تک عمل درآمد ہوا اس معاہدہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ملک کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی ختم ہو گئی بھلا ہو عمران خان کا جب ان کو مسند اقتدار پر بیٹھنے کا موقع ملا تو ان کے اندر چھپے فرعون اور فاشسٹ حکمران نے اپنے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے کر دیا عمران خان میں ذرا بھی سیاسی سوچ ہوتی تو وہ نہ صرف اپنی آئینی مدت مکمل کرتے بلکہ اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا نہ ہونے دیتے اقتدار سے محرومی کے بعد ملک کے ایک سینئر صحافی نے عمران خان سے کہا کہ ”آپ کیسے سیاست دان ہیں۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو اپنے خلاف اکٹھا کر دیا آپ آصف علی زرداری کو اپنے قریب تر کر کے نواز شریف کو تنہا کر سکتے تھے۔ دشمن کا دشمن دوست بن جایا کرتا ہے۔“ یہی وجہ ہے۔ عمران خان کے خوف نے مختلف الخیال جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے کر دیا سیاست میں بہت کم ایسا ہوتا ہے۔
آصف علی زرداری چل کر شہباز شریف کے پاس گئے اور انہیں وزارت عظمٰی طشتری میں پیش کی اور اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کو شہباز شریف کی کابینہ میں وزیر خارجہ بنوا دیا 16 ماہ تک آصف علی زرداری اور نواز شریف باہم ”شیرو شکر“ رہے آصف علی زرداری کے ایک اشارہ ابرو پر شہباز دوڑے چلے آتے زرداری کی ”پرچی“ چلتی تھی جوں ہی شہباز شریف کی حکومت ختم ہوئی انوار الحق کاکڑ نے مسند وزارت عظمیٰ سنبھالی تو پیپلز پارٹی کچھ کچھ اکھڑی اکھڑی سی نظر آنے لگی فواد حسن فواد اور ممتاز تارڑ کے بطور وفاقی وزیر حلف اٹھانے کے بعد تو پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر طنزو تشنیع کے تیر چلانا شروع کر دیے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرنے میں پیش پیش ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی پیپلز پارٹی کے دوسرے درجے کے لیڈر بھی حاضری کے لئے اپنا ”لچ“ تل رہے ہیں جس سے ”سرد جنگ“ کو ”گرم جنگ“ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بعض اوقات دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے لیڈر اپنی تمام حدود کراس کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ کی شکایت کسی اور سے نہیں صرف مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ کسی اور سے شکایت کی ہوتی تو اس کا نام لے کر شکایت کرتا لیکن یہ رونا دھونا ایسے ہی جیسے پنجابی میں کہتے ہیں۔ ”روندی یاراں نوں ناں لے کے بھرواں دا“ اب انہوں نے اپنی گیند آصف علی زرداری کی کورٹ میں پھینک دی اور کہا ہے کہ وہی اس ایشو کا حل نکالیں گے۔ انتخابات کی تاریخ و شیڈول دینے کا اختیار اسٹیبلشمنٹ یا کسی اور کے پاس نہیں الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔ پیپلز پارٹی نواز شریف کی واپسی کو ویلکم کرے گی۔ ہم اپنے مقدمات کا سامنا کریں گے۔ وہ اپنے مقدمات کا سامنا کریں
جب کہ مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر خرم دستگیر خان نے پیپلز پارٹی کی تنقید کا واضح جواب دینے سے گریز کیا ہے اور کہا کہ 16 ماہ پر مشتمل 15 جماعتوں کی مشترکہ حکومت میں مثالی اتحاد پایا جاتا تھا۔ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت میں شامل جماعتوں کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے سر دست بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) گلے شکوے نہیں کر رہے البتہ انہیں اس بات سے پریشانی ہے۔ مسلم لیگ (ن) آئندہ سیٹ اپ سے کہیں پیپلز پارٹی کو ہی نہ نکلوا دے۔

