اللہ پاکستان پر رحم اور فضل فرمائے
بد قسمتی سے اندرونی اور بیرونی سازشوں میں گھرے پاکستان سے کوئی اچھی، خوشگوار اور ہونٹوں پر مسکان لانے والی خبریں کانوں تک نہیں پہنچتیں جبکہ حیرت سے آنکھیں کھول دینے والی خبروں کی کوئی کمی نہیں۔ روز ہی ایک سے بڑھ کر ایک پریشان کن خبر ملتی ہے۔ اب تک انڈیا کے بارڈرز کے حوالے سے دہائیوں تک سیاسی فوائد سمیٹے گئے۔ اب افغانستان کے سرحدی علاقوں پر ”چھیڑ خانی“ شروع ہو چکی ہے۔ دور حاضر میں دوست ممالک کی تعداد میں کمی اور دشمن ممالک میں اضافہ اچھے اشاریے بالکل نہیں ہیں۔
انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کا پیچھا جاری ہے، نہ وہ ختم ہو رہے ہیں نہ ہم تھکتے دکھائی دیتے ہیں۔ پتہ نہیں یونہی یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ بیرون ملک میں کبھی اچھے موڈ کے ساتھ کوئی بھی نیوز چینل آن کر لیں تو کچھ دیر بعد ہی بعد گھبرا کر بند کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی نیوز چینلز سننا تقریباً چھوٹ ہی چکا ہے کیونکہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ کبھی کبھار جب ہمت کر ہی لی جائے تو چند منٹوں تک ہی آن رہتا ہے۔
آج بھی جب ڈرتے ڈرتے آن کیا تو الحمدللہ چند منٹوں سے زائد دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس دوران پاکستانی سیاست دانوں کے چین کے لئے تعریفوں و خوشامدوں پر مبنی بیانات چل رہے تھے جو چین کی 74 سالگرہ پر جاری کیے تھے۔ حالانکہ چین کو اس قسم کے بیانات کی کوئی ضرورت نہیں ہے نہ ہی وہ ان کو کوئی اہمیت دیتا ہے کیونکہ چینی لوگ خوشامد و تعریفوں پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ وہ محنت، عمل اور دیانت پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم دینے والے ہاتھ ہیں۔
دن رات کی محنت نے ان کو اتنا کچھ دیا ہوا ہے کہ وہ اب قرضے اور امداد بھی دونوں ہاتھوں سے دیتے ہیں۔ تعریف اور خوشامد کرنا ہمیشہ لینے والوں کا مقدر ٹھہرتا ہے جو دونوں ہاتھوں سے لیتے ہیں۔ چین کے 74 اور ہمارے 76 سال، دونوں کا کوئی موازنہ بنتا ہی نہیں ہے۔ مناسب ہو گا کہ دوسروں کی تعریفوں کے پل باندھنے کی بجائے اپنے اس گھر کی حالت ویسی کریں جیسی آج چین کی ہے۔ المیہ ہے کہ نیوز چینلز صحافت کے حقیقی تقاضے پورے نہیں کر رہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ نیوز چینلز ذہنی اور نفسیاتی بیماریاں بانٹ رہے ہیں تو غلط نہیں ہو گا۔ ایسی ہی خبروں اور مناظر سے خوف، مایوسی، بے یقینی معاشرے میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ نیوز چینلز پر جھوٹ، مذہبی و سیاسی نفرت پر مبنی ٹاک شوز، مار دھاڑ سے بھرپور لائیو شوز، دہشتگردی کے واقعات، روزانہ کی بنیاد پر اٹھتے ہوئے جنازوں کے مناظر، بچوں کے ساتھ جنسی ریپ کے واقعات، کرپشن کے ہوشربا قصوں کے ساتھ ساتھ اداروں کی زوال پذیری پرکی خبریں ہی سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں۔
سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندوں کا لائیو شو میں نفرت پھیلانا اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ گھروں میں بیٹھے بچے یہ سب سن کر سمجھتے ہیں کہ بہترین مسلمان ہونے کے لئے بس ایسا کرنا اور بولنا لازم ہے۔ یہ وہ سب منفی عوامل ہیں جو انسانی ذہن کو شدید متاثر اور بیمار کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ نیوز چینلز پر پٹرولیم کی مصنوعات کی آسمان کو چھوتی قیمتوں پر عوامی تبصرے کمنٹس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ کس حد تک مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔
ان کا کسی پر بھی کوئی بھروسا نہیں رہا۔ انہوں نے موجودہ حالات کو قسمت اور مقدر جان کر قبول کر لیا ہے۔ شاید وہ جسمانی طور پر اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ مزاحمت کرنے کی سکت بھی نہیں رکھتے۔ اور ذہنی طور پر اتنے پسماندہ ہو چکے ہیں کہ تمیز نہیں کر سکتے کہ اصلی اور نقلی پاکستانی کون ہے؟ اور یہ کہ ان پر مسلط کون لوگ ہیں؟ شاید پریشان حال عوام الناس یقین کرچکی ہے کہ ان کی دین اور دنیا دونوں ہی لٹ چکی ہے۔
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
بہتی گنگا میں سبھی نے ہاتھ دھوئے ہیں۔ مذہبی اشرافیہ نے مذہب کے نام پر ریاستی رٹ کو پاؤں تلے رکھ کر پورے ریاستی سسٹم کو یرغمال بنا رکھا ہے جبکہ سیاسی اشرافیہ نے خاندانی تسلط کے ساتھ صوبوں پر قبضے کر رکھے ہیں اور وہاں حکمرانی کرنا خاندانی حق سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک چوبیس کروڑ میں کوئی بھی پاکستانی شہری ایک ٹاؤن، شہر، صوبہ اور ملک چلانے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ موجودہ سیاسی لڑائی اور کشمکش بھی اسی تناظر میں لڑی جا رہی ہے۔
اس سے زیادہ وطن دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے کہ عام پاکستانی شہری کے لئے اپنے ہی وطن میں زمین تنگ کردی گئی ہے۔ لاکھوں پاکستانی جن میں بڑی تعداد ڈاکٹرز انجینئرز کی ہے چھ ماہ میں بیرون ممالک چلے گئے ہیں جب کہ لاکھوں پر تول رہے ہیں۔ عام گھر کی ضرورت آٹا، ٹماٹر ادرک، مصالحے اور گھی چینی ہیں لیکن ان کی قیمتیں اور ان کا حصول دیہاڑی دار اور مزدور و ملازم پیشہ کے لئے ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ چینی کے بغیر بچہ دودھ اور بڑا چائے نہیں پی سکتا۔
گھی مصالحوں سبزیوں کے بغیر ایک وقت کی ہانڈی نہیں پک سکتی، آٹے کے بغیر روٹی نہیں مل سکتی۔ جسموں جو تھوڑی بہت جان ہے وہ بجلی کے بل نکال لیتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی ایک سماجی لعنت ہے۔ چینی، آٹا، گھی ذخیرہ اندوزوں کے بعد اب ڈالرز اور کرنسی کے ذخیرہ اندوز بھی منظر عام پر آ چکے ہیں۔ گھروں کے اندر اور تہہ خانوں سے کروڑوں روپے اور غیر ملکی کرنسی پکڑی جا چکی ہے۔ یہ وہ
امور ہیں جو عوام الناس خصوصاً نوجوان طبقہ میں باغی اور جرائم کی طرف راغب ہونے کے جراثیم پیدا کرتے ہیں اور پھر گھریلو اور معاشرے میں ان کا ردعمل مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے۔ ایک بار پھر حالات ایسے جنم لے چکے ہیں کہ باہر نکلنا بم دھماکوں کی موت کا خوف اور گھروں میں رہو تو بھوک کی شکار۔ گلیوں میں بدبودار گٹروں کے ڈھکن چوری کر لئے جاتے ہیں جس میں ننھی ننھی جانیں کر کر ہلاک ہوتی رہی ہیں۔ باؤلا کتا کاٹ لے تو اس کے علاج کی ویکسین دستیاب نہیں ہوتی۔
گھروں میں کام کرنے والی بچیوں پر تشدد اور جنسی تشدد کے بعد قتل کے متعدد واقعات نے عالمی شہرت حاصل کی ہے لیکن عدالتوں میں پھر بھی سیاسی کیسوں کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جاتا ہے۔ یہ تو ہماری فکر کا حال ہے۔ ماضی و حال کے حکمرانوں نے نا اہلی میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سات دہائیوں میں ملک کے اندر یہ سب مل کر بھی کوئی مضبوط انفراسٹرکچر قائم نہیں کرسکے۔ بطور مسلمان ہم یقین تو رکھتے ہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن ہر سال عید الضحی کے موقع پر ہماری اور اداروں کی حقیقت کھل جاتی ہے اور عملی طور انکار کرتے ہیں۔
سات دہائیوں میں قربانی کے جانوروں کی الائشیں اور فضلہ کہیں پھینکنے کا انتظام نہیں کرسکے۔ مغربی کفار کے ممالک میں بھی گندگی ہوگی لیکن مجموعی طور پر وہ انتہائی صفائی پسند ہیں سڑکیں، گلیاں عام دنوں میں بھی صاف ستھری چمکدار ہوتی ہیں۔ اسی طرح مشرقی وسطیٰ کے اسلامی ممالک میں بھی اعلیٰ صفائی کے معیار ہیں لیکن ہم ”وکھری ٹائپ“ کے ہیں کیونکہ ہم ملائیت کے پیروکار ہیں۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانی کی میٹنگ میں سیکرٹری اوورسیز نے کمیٹی کی میٹنگ میں جو کچھ کہا ہے اس سے ہماری اندرونی صورتحال کی مکمل عکاسی ہوتی ہے سیکرٹری کے مطابق فقیر سب سے زیادہ باہر جا رہے ہیں۔
اوورسیز سیکرٹری کے مطابق بیرون ملک میں گرفتار ہونے والے نوے فیصد پاکستانی ہوتے ہیں۔ اس خبر کے اگلے دن ہی جہاز سے سولہ افراد پر مبنی فیملی جہاز سے اتاری گئی جو بھیک مانگنے سعودی عرب جا رہی تھی۔ اسی طرح سڑکوں پر خوفناک ٹریفک حادثات اور ریلوے کی ٹرینوں کے حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ پی آئی اے کے جہازوں میں خرابیوں کی خبریں روز ہی مسافروں کو پریشان کرتی رہتی ہیں۔ ایسا سب کچھ تب ہوتا ہے جب ادارے سفارش اور اقربا پروری کی بنیاد پر نا اہل افراد کے سپرد کر دیے جاتے ہیں۔ بانی پاکستان نے دستور ساز اسمبلی سے پہلے خطاب میں جن سماجی برائیوں کا ذکر کیا تھا ان میں اقربا پروری اور ذخیرہ اندوزی کا بھی ذکر فرمایا تھا اور اس سے بچنے کی ہدایت کی تھی لیکن حکمران طبقے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نہیں مانتے وہ قائد اعظم کی بھلا کیسے مانیں گے؟


