پاکستانی سماج کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟


پاکستانی سماج کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود مزید بہت کچھ لکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی سماج میں ہر وہ مسئلہ موجود ہے جسے بنیادی مسئلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ قاسم یعقوب نے نے نقاط شمارہ کا ایک خصوصی نمبر اس حوالے سے شایع کیا ہے جس میں بتیس کے قریب مسائل کا ذکر کیا ہے جسے پاکستانی سماج کے بنیادی مسائل کی حیثیت سے سامنے لایا گیا ہے اور اس کے نقصانات و اثرات کا گہرائی سے تجزیہ کیا گیا ہے۔

پاکستانی سماج میں سب سے بڑا اور اہم مسئلہ کیا ہے۔ اس کی تعین ممکن نہیں ہے۔ میری ذاتی رائے میں پاکستان ہی پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے۔ پاکستان کے قیام کی ضرورت کسی بھی حوالے سے سمجھ میں نہیں آتی۔ مذہبی حلقہ اسے کسی معجزے سے کم تصور نہیں کرتا اور سیاسی حلقہ اسے اپنی جائیداد کی افزائش و محافظت کا بہترین جائے امان سمجھتا ہے۔

کسی بھی حلقہ سے پاکستان کے مسائل کا ذکر کے دیکھ لیجیے۔ ایک انبار مسائل کا لیے بیٹھا ہے۔ پاکستان کا بنیادی مسئلہ قیام پاکستان کے اغراض و مقاصد کی تعین ہے۔ پاکستان بنانے والوں نے اس کی بنیاد میں مسائل کا انبار رکھ دیا تھا جس کی اولاد اب اس قدر افزائش کر چکی ہے کہ اینٹ، پتھر اور کنکر خاشاک کے نیچے مسائل کا بچھو ڈنک پسارے بیٹھا ہے۔ پاکستان کو کوئی ایک مسئلہ لاحق ہو تو اس کا سدباب کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تو مسائل کا ایک نگار خانہ ہے۔

پاکستان کے چند اہم مسائل میں مذہبی منافرت کی انتہا پسندی، سیاسی بصیرت کی کج آرائی، اداروں کی حد متجاوز کی روش، فارن پالیسی کا فقدان، رشوت، لوٹ مار، بد انتظامی، لا قانونیت، ناقص تعلیم، ناقص نظام حکومت اور آبادی کا بے تحاشا سر فہرست ہے۔ پاکستان میں یہ مسائل بقول ڈاکٹر ناصر عباس نیئر ایک درخت کی صورت زمین میں گہری جڑیں پیوست کیے آپس میں یوں متصل و مدغم ہیں کہ کسی ایک جڑ کو پکڑیں تو پورا تنا باہر نکل آتا ہے۔

پاکستان کے مسائل کچھ تو اس کی بنیاد میں شامل کر دیے گئے، کچھ اسے بطور تحفہ عنایت ہوئے اور کچھ مرور وقت کے ساتھ حادثاتی طور پر اس سے لاحق ہو گئے۔ پاکستانیوں کو مسائل کا ذکر کرنے اور اس لذت سے حظ اٹھانے کا ایسا چسکہ پڑا ہے کہ پچاس سے زائد ٹی وی چینل اور تیس سے زائد اخبارات میں دن رات پاکستانی سماج کے مسائل کا پے در پئے ذکر ہو رہا ہے۔ پاکستانی مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر وہ شخص زیادہ شہرت اور پہچان رکھتا ہے جو سب سے زیادہ اور نت نئے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔

اینکر پرسن تماشائیوں کا دل لبھانے اور ریٹنگ بڑھانے کے لیے پاکستان کی سالمیت، معیشت، تعلیم اور انتظامی و بین الاقوامی معاملات سے متصل ایسے ایسے نادیدہ و نا آزمودہ مسائل کا ذکر کرتے ہیں جنھیں سن کر محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نزع کی حالت میں ہے اور کل کا دن اس کی موت کے اعلان کا دن ہو گا۔ کل کا دن گزر جاتا ہے اور پھر کئی کل ماضی کی دھول میں نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ گاڑی کا پہیہ جوں کا توں برق رفتار گھومتا رہتا ہے۔

مذہبی پیشواؤں کے پاس خلافت کے نفاذ کے سوا ان مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔ سیاسی راہنماؤں کے پاس دائمی اختیار کا قلم دان دے کر احتساب سے ماورا کر دینے کی خواہش میں ان مسائل کا مستقل حل پنہاں ہے۔ بیوروکریسی کے پاس تمام وسائل کی اپنے تئیں من مرضی کی تقسیم کے ساتھ ان مسائل کے حل کی جملہ تجاویز متصل ہیں۔ پاکستان میں اعلیٰ سے اعلیٰ اور فضول سے فضول اذہان موجود ہیں۔ گزشتہ چھے ماہ سے میں سوشل میڈیا پر مختلف یو ٹیوب چینل پر پوڈ کاسٹ، وی لاگز اور انٹرویوز وغیرہ میں مدعو ہونے والی شخصیات کی آرا کو سن رہا ہوں۔

ان شخصیات میں سابق وزیر اعظم سے لے کر گلی محلے کے ناظم تک کی جملہ شخصیات مدعو کی جاتی ہیں۔ ان شخصیات کی فلسفیانہ، مفکرانہ اور مسائل کے حل کی ممکنہ تجاویز سمیت مفصل گفتگو کا ماحصل یہی ہے کہ مجھے اختیار دیا جائے میں یہ کر دوں گا، میں وہ کر دوں گا۔ فلاں نے یہ کیا ہے، فلاں نے وہ کیا ہے۔ فلاں یہ کر گیا اور فلاں وہ کر گیا۔ سابق وزیر اعظم کہتا ہے کہ اگرچہ میں وزارت عظمیٰ پر فائز تھا لیکن اختیار میرے پاس نہیں تھا۔

میں صرف دستخط کرتا تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ او ر وزیر کا بھی یہی شکوہ ہے کہ حکومت میں ہونے کے باوجود ہم بے اختیار اور مجبور محض تھے۔ اس ملک کا اصل حکمران کون ہے؟ اس سوال کا جواب سب کو معلوم ہے لیکن کوئی حوصلہ کر کے اس جواب کے پیچھے کارفرما طاقت کو نکیل ڈالنے کی جرات نہیں کرتا کہ میرا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہو جائے گا۔ پاکستان کے اسی فیصد مسائل دولت و اختیار کی غیر منصفانہ تقسیم سے پیدا ہوئے ہیں جنھیں میرٹ کی بنیاد پر ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

پاک فوج کا ادارہ جسے اسٹبلشمنٹ کا نام دے کر پاکستان کی جملہ ناکامیوں اور خرابیوں کا قصور وار قرار دیا جاتا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ ایک سیاست دان سیاست میں کیوں آتا ہے؟ وہ اس لیے آتا ہے کہ اس نے مال پیسہ کمانا ہے۔ ایک ایم پی اے کا الیکشن لڑنے کے لیے بیس سے پچاس کروڑ روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اتنا روپیہ انوسٹ کرنے کے بعد جو شخص اسمبلی میں بیٹھے گا۔ اس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ عوام کی فلاح اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے سوچے گا۔

یہ نہیں ہو سکتا۔ ایک ہزار سے دس ہزار تک فی ووٹ خرید کر اسمبلی تک رسائی حاصل کرنے والے پہلے اپنی پرنسپل اماؤنٹ پوری کرے گا پھر اس پر مختلف کاروباری و تعمیراتی ٹینڈر اور ٹھیکوں کی مد میں منافع کمائے گا۔ اس منافع کی زکٰوۃ نکال کر اپنے حلقے کے چند کام بھی کروا دے گا تاکہ آئندہ الیکشن کی تیاری کے عمل میں تیزی آ سکے۔ کیا یہ سب پاکستانی سماج میں نہیں ہو رہا؟ پاکستان میں اکیسویں صدی میں اگر یہ فرض کیا جائے کہ ملک کی بیس فیصد آبادی کو یہ علم نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے اور ووٹ کا درست اور غلط استعمال کیا ہے اور سیاست و حکومت اور انتظامیہ و عدلیہ کیا کر رہی ہے اور ملک کس سمت جا رہا ہے۔

یہ بیس فیصدی شرح گھٹ کر پانچ فیصد پر آ جائے گی۔ پاکستان میں نوے فیصد ووٹر سیاست کی جملہ کارفرمائیوں سے نہ صرف اچھی آگاہ ہیں بلکہ وہ سب کچھ جانتے ہیں جو اس ملک میں سیاست و مذہب و حکومت و اختیار کے نام پر ہور ہا ہے۔ ملک میں کوئی ایسا ادارہ نشان زد کریں جہاں بے ایمانی، رشوت خوری، در اندازی، حد متجاوز کی روش اور اختیار و ذرائع کا غلط استعمال نہیں ہو رہا۔ پاکستان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں کام کرنے والے کی تذلیل اور فرض سے فرار کا رویہ اختیار کرنے والی کی تحسین کی جاتی ہے۔

دنیا اس طرح نہیں چلتی۔ ہر ملک کے مسائل ہیں۔ ہر ملک میں وہ سب خرابیاں اور کوتاہیاں موجود ہیں جو پاکستانی سماج میں موجود ہیں۔ امریکہ، کینیڈا، روس، چائنہ میں کیا رشوت، ریپ، ناقص کارکردگی، اختیار ات کا ناجائز استعمال، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور لوٹ مال کے عناصر موجود نہیں ہیں۔ بات یہ ہے کہ اس ملک میں جس کی لاٹھی ہے اس کی بھینس ہے۔ پاکستانی اشرافیہ، عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ اور مذہبی پیشوا کا یہ عناصر خمسہ پاکستانی سماج میں مثبت بدلاؤ، مثالی اقدار کا احیا، تعلیم و آگہی کا شعور سمیت ترقی و خوشحالی کی درست سمت کا تعین کرنا ہی نہیں چاہتا۔

پاکستانی سماج کو جان بوجھ کر مصنوعی مسائل میں پھنسایا گیا ہے۔ ملک کی جملہ دولت اور وسائل کو چند گھرانوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ ان لٹیروں، بے حسوں اور دولت و اختیارات کے پجاریوں کے پیٹ پچھتر برس سے اس ملک کو لوٹ لوٹ کر نہیں بھرے اور نہ کبھی یہ بھر سکتے ہیں۔ قبر کی مٹی ہی ان کے منحوس پیٹ کو بھرے گی۔ پاکستانی سماج کی اصلاح کے لیے ہر صاحب اختیار و صاحب اقتدار کے پاس کامیاب حل کا نظام موجود ہے لیکن وہ یہ کام کبھی نہیں کرے گا۔

پاکستانی قوم مسیحا کا انتظار کرتی رہے گی۔ چور، ڈاکو، لٹیرے مسیحا بن کر آتے رہیں۔ انھیں ترقی و خوشحالی کے خواب دکھا کر کنگال و ادھ موا کر کے بدیسی جنت جاتے رہیں گے۔ پاکستانی سماج کو نہ تو خون کے انقلاب کی ضرورت ہے اور بندوق کے آہنی نظام کی۔ اس سماج کی تاریکی کو تعلیم و شعور کے احساس فراواں کی شمع سے دور کیا جاسکتا ہے۔ ظلم تو یہ ہے کہ تعلیم و آگہی کی اس شمع پر سیاست و بندوق کی کالی نالی کا جب تک پہرہ رہے گا۔ تب تک تاریکی کے منحوس بادل چھٹ نہیں سکتے۔

Facebook Comments HS