لتا منگیشکر ۔ حصہ اول
جہاں سے تم موڑ مڑ گئے تھے، وہ موڑ اب بھی وہیں کھڑے ہیں۔
یہ نوحہ نہیں ہے۔ ہرگز نہیں۔ لتا منگیشکر کا اس جہاں کو چھوڑ جانا، اُس کی چتا کے شعلے، ان ستاروں کا آخری دیدار کے لئے آنا، ڈینائیل ہی شاید بہترین ڈیفنس ہے۔ یہ قصیدہ بھی نہیں۔ لتا منگیشکر کے گانے اور آواز کی تعریف میرے قلم کی دسترس سے باہر ہے۔
جاوید اختر جن کے گیتوں کو لتا جی امر کر گئیں، نسرین منی کبیر کی انٹرویو کتاب میں کہتے ہیں کہ لتا منگیشکر پس پردہ موسیقی کے لئے وہی ہیں جو ادب کے لئے شیکسپئیر ہے۔ بی بی سی والے کہتے ہیں ایک عہد، تمام گانے، ایک گلوکار۔ زمان و مکان سے آزاد، برصغیر کی ثقافت، تمدن، زبان، فلم، شاعری، موسیقی، مذہب، رہن سہن سب اس ایک خاتون کے ذکر کے بغیر نامکمل ہیں۔ لتا جی نے موسیقی اور معاشرتی زوال پر کہا تھا کہ وقت کا پہیہ گول گھوم کر واپس پرانی جگہ آتا ہے۔ فی الحال تو ہم گھوم کر اور جھوم زیادہ رہے ہیں مگر گھوم پھر کر جب اپنے اصل کو لوٹیں گے تو اس اصل کا بے حد اہم حصہ لتا جی کی آواز میں ہی ہو گا۔
20 / 9 / 2012، قریباً دس سال اور کچھ مہینے قبل۔ لتا جی سے ٹیلی فونک گفتگو۔ قرۃ العین حیدر نے انگلستان کے ایک گرجے میں ایک گمنام مصنف کی لائن یوں نقل کی، ”کیونکہ اپنی تمام تر بے ہودگیوں اور کلفتوں کے باوجود دنیا بڑی خوبصورت جگہ ہے۔“ مگر یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا، دنیا خوبصورت جگہ لتا جی کی آواز، غالب و میر کے الفاظ اور بسمہ اللہ خان کے ساز ہی کی وجہ سے ہے۔
آر۔ جے انمول نے فیسبک پہ کہا کہ جو بہترین کمنٹ کرے گا وہ لتا جی کی سالگرہ پر ان سے بات کرے گا۔ ہم جہاں موجود تھے، وہاں سے فوراً کمنٹ کیے اور لیجیے ایک کال آئی کہ کل اس وقت فون فارغ رکھیں۔ خدا کی اصل نائب، اشرف المخلوقات میں سب سے اشرف آواز آپ کے لئے آپ کے فون کے سپیکر سے نکلے گی۔
خوشونت سنگھ کو علی سفیان آفاقی نے نقل کیا کہ ”لتا معمولی شکل کی ہوتے ہوئے بھی اپنی آواز کی بدولت بے حد حسین لگتی ہے۔“ ہماری نسل کو لتا جی کی جوان اور حسین آواز معمر جسم میں ملی۔ چہرے کے گرد وہ نور کا ہالہ اور سفید ساڑھی مع رنگدار بارڈر میں لپٹی گریس فل خاتون کبھی ملکۂِ حسن سے کم نہیں لگی۔ مدھوبالا پر فلمایا گیت ہو یا ایشوریہ رائے پر، مجھے ذاتی طور پر لتا جی کے لائیو کانسرٹ والا ورژن ہی بہترین لگا۔ نجانے وہ بے شمار کانسرٹ کسی نے فلمائے بھی یا نہیں۔ کوئی ان انمول گھڑیوں کو محفوظ کر پایا یا نہیں۔
سہ پہر 04:30 کا وقت، جی۔ ٹی روڈ، گلزار کے دینہ کے قریب فون بجا، طویل نمبر سکرین پر نمودار ہوا، آر جے انمول کی آواز، پاکستان سے اسامہ لائن پر ہیں۔ اس سمے دی دی آپ کو سن رہی ہیں، آپ دی دی سے بات کر سکتے ہیں۔ اس احساس کو بیان کرنا ناممکن ہے۔ 2007 میں الفاظ ساتھ چھوڑ گئے تھے جب خدا کے گھر کے روبرو ہوا تھا، 2012 میں پھر ساتھ چھوڑ گئے کہ خدا کی دنیا میں موجود شاید بہترین مخلوق کے روبرو تھا۔
موسیقار اعظم نوشاد صاحب کی ایک بات کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ گیت کا خالق سنگیت کار ہوتا ہے اور گلوکار محض ”انٹرپریٹر“ ۔ جس طرح کسی ریستوران میں جائیں اور کھانا لذیذ ہو تو داد ویٹر جو کہ کھانا لے کے آتا ہے اسے نہیں دی جاتی بلکہ کک کو دی جاتی ہے، اسی طرح اچھے گیت کی داد کا حقدار سنگیت کار ہوتا ہے۔ نوشاد صاحب خوش رہیں جنت کے باغوں میں، آپ پچھلے دس سال سے انٹرپریٹر ڈھونڈ رہے ہیں۔ ملا کوئی لتا منگیشکر کا سا؟ بھیج دیا ہم نے آخر یا آپ نے خدا سے ساز باز کر کے بلوا لیا۔
”لتا جی، کیسی ہیں آپ؟ سال میں کوئی ایک البم تو دے دیا کریں غزلوں کا، جاوید اختر کے ساتھ، ہمیں بہت انتظار رہتا ہے“۔ اتھل، پتھل سانسوں کے ساتھ میں نے بات شروع کر ہی دی۔ جی، آپ نے کون سی سنی ہے میری البم ”آج کی زبان میں او۔ ایم۔ جی مومنٹ۔ لتا منگیشکر جو آواز ہمیشہ ہی مجھے خود سے مخاطب محسوس ہوئی، ٹی وی سے، موبائل اور گاڑی کے سپیکر سے، آج واقعی مجھ سے مخاطب تھی اور قربان جاؤں اس سادگی کہ کون سی البم سنی ہے۔ جواب میں ہم نے غالب سے لے کر سرحدیں سب گنوا ڈالیں۔
چاند اپنا سفر ختم کرتا رہا۔ ناقدین نے ہم آپ کے ہیں کون پر کہا کہ اب 65 برس کے قریب طبعی عمر ہے لہٰذا لتا جی کا کیرئیر ختم، 1995 میں آئی، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، اس دوران کی کم چلنے والی یا وہ قلمیں جن میں ایک یا دو گانے لتا جی کے تھے وہ میں نے جان کر چھوڑ دیں ہیں۔ ورنہ اگلے 70 سال میں لکھتا رہوں گا اور اگلے 70 سال آپ پڑھتے رہیں گے۔ دل والے دلہنیا لے جائیں گے نے سب ریکارڈ توڑ ڈالے۔ میں متعصب ہوں، کم عقل ہوں، راگوں راگنیوں کی شد بد نہیں رکھتا مگر میری طرح کروڑوں لوگ انہی عارضوں میں مبتلا ہیں جو آج بھی دل والے دلہنیا لے جائیں گے کے گانے اور لتا کی آواز کے سحر میں مبتلا ہیں۔ یش چوپڑہ نے فلم بنائی، موسیقی کس کی ہے مجھے نہیں معلوم، نہ میں گوگل کر کے نقل کروں گا اور اپنی علمیت کی دھاک بٹھاؤں گا۔ خدا کی تخلیق کردہ اس آواز سے اندھا اور آج کے دانشوروں کی نظر میں قدرے جاہلانہ عشق مجھے بے حد عزیز ہے۔ جب دل والے دلہنیا لے جائیں گے کو معراج کہا گیا اور لتا جی کو متروک ہونے کے دہانے پر قرار دے دیا گیا تو یش چوپڑہ کی ”دل تو پاگل ہے“ آئی۔ میں قصداً درمیان کی فلمیں پھر گول کر گیا ہوں۔ لتا جی فسانہ بنی نہیں وہ فسانہ تھیں، ہیں اور رہیں گی۔
دل سے اور دشمن جیسی بلاک بسٹر ہٹس دے کر بیسویں صدی کا اختتام، لتا جی نے کچے دھاگے پر کیا اور نصرت فتح علی خان کی دھنوں کی انٹرپریٹر بنیں۔ برصغیر کی موسیقی پر ایسا راج نور جہاں اور لتا کے علاقہ بیسویں صدی میں کسی ذی روح کے حصے میں نہ آیا۔ نئی صدی کی شروعات کی، محبتیں سے، ایشوریہ رائے کا حسن، لتا کی آواز، ہم زلفیں تو بکھرا دیں، دن میں رات نہ ہو جائے۔ لوگ کہتے تھے کہ لتا جی پر بیسویں صدی میں رات آئے گی اور زندہ رہیں گی پرانی محبتیں، پرانے گیت اور شاید نیا کچھ نہ ہو گا۔ لتا 70 سال اس جسم و آواز کے ساتھ پورے کر چکی تھیں۔
”لتا جی۔ آپ پاکستان کب آئیں گی، دیکھیں ہم نے میڈم نور جہاں کو دو دفعہ انڈیا بھیجا مگر آپ پاکستان نہیں آئیں۔ لتا جی کا نرم اور قدرے بے تکلف انداز دیکھ کر موسیٰ نے دیدار کی فرمائش داغ دی۔ معلوم نہ تھا کہ اس سے کئی کو ہِ طور جل سکتے ہیں۔
”آپ بلاتے ہیں نہیں ہیں،“ ۔ شہد آگیں جواب آیا۔ پھر میں نے اس بے چین انداز میں اپنے ہم وطنوں کے جذبات پہنچائے اور اس سروں کی دیوی نے اقرار کیا کہ انہیں اندازہ ہے کہ سرحد پار ان کے مداح انہیں کتنا چاہتے ہیں۔
فرض کے بے مثال گیتوں کے بعد لتا جی 2001 میں کبھی خوشی کبھی غم کا ٹائٹل گیت گائیں تو پھر وہی شور اٹھا کر یہ تو آخری گیت ہو گا مگر پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست، سات، آٹھ فلموں اور کچھ غیر فلمی گیتوں کے بعد مدن بھیا کی دھنوں کی انٹرپریٹر بن کر ویر زارا میں پاکستانی زارا کی آواز لتا جی ہی کو بننا تھا۔ 75 سال کی طبعی عمر میں نوخیز کلی نما ہیروئن کو پلے بیک دینا، معجزہ ہی ہے۔ میرے ایک ملحد دوست کا کہنا ہے کہ تم کیسے سائیکاٹرسٹ اور سائنس کے طالب علم ہو کہ خدا پر یقین رکھتے ہو۔ میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ میرے آپ کے جیسے لوگ تو بگ بینگ کی پیداوار ہو سکتے یا بندروں کے ارتقاء کی پروڈکشن مگر لتا جی بیسویں اور اکیسویں صدی میں اللہ کے وجود کا مظہر ہیں اور معجزہ ہیں۔ میں مان ہی نہیں سکتا کہ اس طرح کی پروڈکٹ حادثاتی یا ارتقائی ہو سکتی۔ کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا دیا ہے، وہی لتا جی کو گوا رہا ہے۔ اصل سنگیت کار تو وہ ہے یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا۔
ابھی ویر زارا کا خمار قائم تھا کہ اے آر رحمن نے جادو جگایا اور ”لکا چھپی“ جیسے شاہکار نے جنم لیا۔ 77 سالہ لتا ہی کیوں انٹرپریٹر بنیں اس گیت کی؟ رحمن صاحب نے کسی اور کا انتخاب کیوں نہیں کیا۔ نوشاد صاحب نے نصف صدی پہلے کیوں کسی اور کو نہیں چنا۔ ایک نور جہاں ہی بارڈر کی لکیر پار کر آئی تھی باقی تو کروڑوں لوگ اور سینکڑوں گلوکار ادھر ہی تھے۔ نوشاد صاحب آپ عظیم موسیقار، آپ کے ہم پر اور ہندوستان موسیقی پر اور لتا منگیشکر پر بے حد احسان مگر یہ بات ہم پر بہت بھاری گزری ہے۔
”اچھا، اوسامہ صاحب!“ گردشِ ایام رک سی گئی۔ سروں کی دیوی نے میرا نام لیا۔ الف کے اوپر پیش کو ’و‘ میں بدل دیا اور صاحب کا لاحقہ ساتھ لگا دیا مگر میرا نام لیا اور پوچھا بھی تو کیا کہ ’آپ نے سنی وہ غزل جو مہدی حسن کے ساتھ میں نے گائی۔‘ لتا جی پوچھ لیا ہوتا کہ سانس لیتے ہو، پانی پیتے ہو۔ بکرے کا گوشت کھاتے ہو؟ اس میں ”ناں“ کی گنجائش نکلتی تھی مگر اس سوال میں نہیں۔
گیارہ منٹ کی کال میں جس میں سے چار منٹ کی ایڈیٹ شدہ پروگرام میں جلائی گئی لتا جی کا فوکس مہدی حسن اور نورجہاں پر تھا۔ میرے کانوں نے سنا، مخاطب میں تھا، ”وہ بہت بڑے لوگ تھے، میں ان کے سامنے کیا ہوں، کچھ بھی نہیں۔“ لوگ لتا جی اور نور جہاں کا پیار و نفرت تعلق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہو گا مگر ٹھوس ثبوت نہیں کوئی۔ لتا جی انسان تھیں، آواز کے علاوہ تمام خوبیاں اور خامیاں انسانوں والی تھیں اور ہونی بھی چاہیے تھیں۔ یہاں ہماری برادری کا ایک ڈاکٹر کوئی ڈگری لے کر کلینک کھولے تو کسی دوسرے کا وجود برداشت نہیں کرتا، وہ تو بلبل ہند تھیں۔ جلاپا (اگر تھا) تو اس جلاپے کو نہیں اس کی وجہ کو دیکھیں اور وجہ کس قدر حسین ہے دونوں مہیلاؤں کی آواز۔ لندن میں 90 کی دہائی کے شروع میں سینٹ جیمس کورٹ ہوٹل میں دونوں کی تصویر میں چہروں کے تاثرات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پروفیشنل جیلسی اپنی جگہ ہو گی مگر دونوں ایک دوسرے کی مداح بھی تھیں۔ 80 / 70 کی دہائی میں دونوں ایک سٹیج پر گائیں اور صحت مند مقابلے کی فضا قائم کر کے گائیں۔
خیام صاحب کے لاہور دورے میں میڈم کے ہاں بار بار رضیہ سلطان کے گیتوں کا بجنا بھی میڈم کے مداح ہونے کا ثبوت ہے۔ ’جلتا ہے بدن‘ تو میرے بھی پسندیدہ ترین گیتوں میں سے ایک ہے۔ افسوس بول ”تھوڑے“ بولڈ ہونے کے باعث یہ شاہکار شاید کبھی لائیو کانسرٹ کی زینت نہ بن سکا۔ نور جہاں / فتور جہاں میں یہ بات بھی چھپی ہوئی ہے کہ کرکٹر نذر محمد جو نور جہاں کے چاہنے والے تھے۔ ان کو بھارت میں فلم کی پیشکش ہوئی تو لتا جی نے فون کر کے نور جہاں کو مکمل رپورٹ دی۔ گائیکی کی سوکن، سہیلی بن گئی؟ دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے!
”میں مانتی ہوں کہ پاکستان میں میرے کام سے پیار کرنے والے بہت لوگ ہیں۔“ جی ٹی روڈ پر سنی گئی وہ آواز آج بھی ساتھ ہے۔ ”مایا میم صاحب“ اور ”لیکن“ کی موسیقی پر سیر حاصل گفتگو جو ریڈیو شو کی ریکارڈنگ سے کٹ ہو گئی آج بھی ذہن کی غلام گردشوں میں بازگشت کے طور پر موجود ہے۔ عینی بی بی نے صوفیانہ رنگ دیتے ہوئے کارِ جہاں دراز ہے میں دنیا کو بکری کی چھینک سے تشبیہ دی ہے۔ لتا جی کے دنیا چھوڑ جانے پر 70 سال کا وہ سفر۔ بکری کی چھینک ہی تو لگتا۔ کار جہاں کتنا دراز تھا، صرف 92 سال۔ اسی کتاب میں جو نیم آسمانی کتاب لگتی ہے، اساطیر الاولین کے حوالے سے لتا جی کا ذکر بارہا آیا۔ خوش نصیبی کی یہ ایک اور ہی معراج کہ قرۃ العین حیدر کا قلم آپ کا نام لکھے۔
لتا جی نورجہاں سے جلتی تھیں، آشا سے خار کھاتی تھیں، شمشاد سے غیرمحفوظ تھیں اور یہ فہرست موسیقی اور تنقید کے ٹھیکیدار تھمنے نہیں دیتے۔ بحیثیت انسانی رویوں کے طالبعلم میرا یہ ماننا ہے کہ اگر یہ جذبات لتا جی میں نہ ابھرتے تو شاید ابنارمل بات ہوتی۔ وہ انسان تھیں اور انسان کو جذبات کی حدت اور قوت ہی آگے بڑھاتی ہے۔ مگر وہ کیا جذبہ تھا کہ اپنی فلم کے لئے ثریا جیسی موہنی آواز بھی لتا جی کی بیساکھی کی محتاج ہو گئی، راج کپور جیسا عظیم اور بے شمار وسائل کا مالک فلمساز بھی کئی دہائیوں تک لتا کی شرائط پر لتا کے ساتھ کام کرتا رہا؟ اور راج صاحب کی زندگی کی آخری پروڈکشن میں تو لتا جی کی آواز سے زیبا بختیار کی زندگی بدل گئی۔ لتا جی کو شروع میں جب وہ جذبات سے عاری چہرے کے ساتھ گاتی تھیں تو لوگ گانے کی مشین کہتے تھے۔ کوئی یہ بھی کوڑی لایا کہ نورجہاں جذبات کی اور لتا لفظ کی گلوکارہ ہیں۔ لفظ کی گلوکارہ ہی سہی، گائیکی کی مشین ہی سہی، پروڈکٹ تو دیکھئے۔ زیبا بختیار بھی اداکاری کی مشین ہی لگتی تھیں۔ شروعات میں حسین، جوان، گڑیا جس کے تاثرات بھی شاید ہدایت کار کی چابی کے محتاج ہوں۔ ”جانے والے او جانے والے کیا تجھے ہم نے رب کے حوالے“ ۔ برسوں بعد 2005 میں لکی فلم کے لئے ایک دو گانا لتا جی نے عدنان سمیع خان کے ساتھ کی ریکارڈ کرایا۔ طبعی عمر 76 سال۔
لتا جی کے فن کی وسعت اور ان سے محبت کی مختلف جہتوں میں تحریر پنچھی بنی اڑتی پھر رہی ہے۔ راج کپور۔ لتا جی، دو نام کئی کہانیاں۔ برسات، میرا نام جوکر، ستیم شوم سندرم کا تنازعہ، راج صاحب کی اکڑ، لتا جی کا جواب اس سب میں بھی موسیقی ایسی کہ جواب نہیں۔ تو عورت ہے میں محبوبہ، تو سب کچھ ہے میں کچھ بھی نہیں۔ لوگ لتا جی کی اکڑ پر بہت قلم سوزی کرتے ہیں مگر اپنے سے آدھی صدی چھوٹے میوزک ڈائریکٹر سے بھی کبھی گیت کی تکنیک یا دھن پر بحث کا کوئی واقعہ منظر عام پر نہیں۔ حالانکہ لتا جی ”آنند گھان“ فلم پر بہترین میوزک ڈائریکٹر کا ایوارڈ بھی جیت چکی ہیں۔ مناڈے نے اپنی کتاب میں پورا پیراگراف لکھا ہے کہ کیسے راج صاحب اپنی شرائط پر لتا جی سے کام کراتے تھے اور اس مغنیہ اعظم سے مطمئن ہونے تک گیت دہراتے رہتے تھے۔
اپنے ساڑھے چار سالہ فرزند ارجمند کو جو دو سال ولایت میں رہ کے آیا تھا، اردو سکھانا، جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ”ض“ سے ”ضعیف“ پڑھایا تو سوال آیا کہ ”ضعیف“ کیا ہوتا ہے؟ جواب اس کی روزمرہ کی روٹین کو دیکھ کر بنایا کہ ضعیف وہ ہوتا ہے جو مسجد گاڑی پہ جاتا ہے، اپنے کام خود نہیں کرتا اور تمام دن بستر توڑتا ہے۔ اس اپنی بنائی تعریف پر ہم 35 سال کی عمر میں ضعیف اور لتا جی سفرِ آخرت پہ روانگی تک فعال تھیں بلکہ شاید چپلیں اتار کر گاتے ہوئے ہی ہسپتال اور پھر عدم جا پہنچیں۔ ہسپتال سے مختلف نلکیوں والی آخری ویڈیو میں بھی پاؤں جوتی سے خالی تھے۔ موسیقی کو عبادت سمجھنے والی بھلا خالقِ کائنات کے پاس جاتے ہوئے قسم کیسے توڑ دیتی، کیسے چپل پہن کر سفرِ آخرت کرتی۔ ساٹھ سال کے بعد جب ہم معاشرے کے افراد کو ”ضعیف“ کی کیٹگری میں ٹھونسنا شروع کر دیتے ہیں۔ لتا جی کے میرے ذاتی پسندیدہ گیت ان کی اس عمر کے بعد کے ہی ہیں۔ شاید وہ میری پیدائش کے بعد کے ہیں، شاید وہ گیت میرے ساتھ جوان ہوئے اور مجھے ڈر ہے کہ مجھے بوڑھا کر کے بھی جوان رہیں گے۔
مایا میم صاحب، لیکن اور دو رالی کا ذکر پہلے آ چکا۔ رام لکن کا صرف ایک گانا، ایل پی کی موسیقی، لتا کی آواز، سروج خان کی کوریو گرافی اور مادھوری ڈکشٹ کے بے مثال تاثرات، نجانے تاثرات لفظ ایکسپریشن کا مفہوم دیتے ہیں جو لتا کی آواز اور مادھوری کا چہرہ اس گیت میں ادا کرتا ہے یا نہیں۔ ممتا کلکرنی، سلمان خان، کرن ارجن، اک منڈا میری عمر دا۔ دل والے دلہنیا لے جائیں گے، ڈر اور دوسری کئی فلموں کا ذکر غیر ضروری ہے ایک گاؤں آئے گا، میری گھر آئے گا، جا میرے گھر جا۔ ماچس کی سی موسیقی بھی کم کم ہی بنی اور سنی گئی۔ میں جان بوجھ کر 90 اور 2000 کی دہائی کی مشہور یا پہلے ذکر کی ہوئی فلمیں بیان نہیں کر رہا۔ کرینہ کپور پر فلمایا بے فا ( 2005 ) کا گانا ندیم شیرون نے لتا جی سے گنوایا (کیسے پیا سے کہوں ) اور ٹیپیکلl ہندی فلم گیت جو 40 کی دہائی سے آج تک ان ہے اور ہندی فلم ہیروئن کی پہچان بنتا ہے، اس روایت کو برقرار رکھا۔ مدھر بھنڈارکر کی فلم بھی 2005 میں آئی، فلم کا موضوع سماج کی ایک لعنت اور ٹائٹل سونگ زندگی کی حقیقت کے گرد گھومتے نظر آئے۔ کتنے عجیب رشتے ہیں یہاں پر اور 2008 میں 80 کے پیٹے میں داخل ہو کر لال سلام کے گانے۔ نندتا داس نے امر ہونا تھا۔ آرٹ فلم لال سلام کے چھ گانے اور یہ تو مجھے خود لتا جی نے فون کال میں بتایا تھا کہ اپنے بھائی کی دھنوں سے انہیں اپنے والد کی موسیقی یاد آتی ہے اور پھر جو وہ گاتی ہیں۔ پریتی گا، بائی گا، اسگ چاند گفہ میں رین ہماری پریتی گاہ، ہم کو بھی داغ لگا گئی پریتی گا، بائی گا۔ اس فلم کے چھ گانوں میں کچھ نہیں۔ کچھ بھی نہیں۔ سوائے والد اور بھائی کی موسیقی کی محبت، 8 دہائیوں اور زبان سے عشق کے، سر اور لفظ کے انمول رشتے کے، اس کے سوا یہ دیوی اس دنیا میں کچھ اور دینے بھی نہ آئی تھی۔
لتا جی 6 فروری 2022 کو اپنے وجود، اپنی روح، اپنی موسیقی کا کچھ حصہ یہاں چھوڑ گئیں اور ہماری روحوں، شعور اور لاشعور کا کچھ حصہ ساتھ لے گئیں یا شاید سب کچھ ان کے وجود کی راکھ کے ساتھ گوداوری، ندی اور بحیرہ عرب کے ذریعے اسی جہان میں گردش کرتا رہے گا۔ لتا جی کے کچھ اصولوں اور ان پر بنی بیانات کو تروڑ مروڑ کے بھی پیش کیا جاتا رہا، انہوں نے لچر الفاظ یا ضرورت سے زیادہ بولڈ گانے گانے سے پرہیز کیا مگر ڈانس نمبر، مجرے اور قابلِ قبول موسیقی و شاعری والے قدرے بولڈ گانے آخر تک گائے۔ بلکہ کمال گائے۔ یہ الفاظ لکھتے ہوئے بھی میرے کان اور دماغ کا سرکٹ سرشاری کی کیفیت میں جا رہا ہے، پاؤں زمین پر ردھم بنا رہے ہیں اور یاد میں شیرینی سی گھل رہی ہے۔ چھپ جا چاند ستاروں کی نیت ٹھیک نہیں (ریکھا، پنچم دا 1979 ) ، اک طوائف، اک ڈاکو، یارانہ پرانا۔ مجرا سونگ، قدرے معمولی شاعری مگر موسیقی کے مذہب کی کافر ہو جاتی لتا منگیشکر، گر پنچم کی یہ دھن نہ گاتی۔ لکشمی کانت پیارے لال کی موسیقی، ریکھا جیسی رقاصہ اور سننے والوں کا آج امتحان ہے کہ کتنا سرشار ہو سکتے ہیں اور سر دھن سکتے ہیں کیونکہ 18 برس کی ہونے کو آئی۔ بہت سے مشہور مجرے چھوڑ کے چاندنی کے ڈانس نمبر، اور پھر فلم میں بھول رہا ہوں مگر گیت ازبر ہے، توبہ کیسے ہیں نادان، ہندو ہیں نہ مسلمان، گھنگھرو پائل کے۔ 90 کی دہائی کے اوائل میں 60 کے پیٹے میں داخل لتا منگیشکر کو ہرگز انکار نہ تھا تیری پائل میرے گیت کے مجرے گاتے ہوئے۔ کیا کہیں آج کیا ہو گیا، نوشاد صاحب کو کئی دہائیوں بعد بھی اپنی دھنوں کے لئے بہتر انٹرپریٹر نہ ملا۔


