پوٹھوہار خطہ دلربا
بعض کتابیں صرف پڑھنے کے لئے ہوتی ہیں، بعض کتابیں پڑھنے اور سرہانے کے نیچے رکھنے کے لئے ہوتی ہیں، بعض کتابیں روز روز پڑھنے اور دل سے لگا کر رکھنے کے لئے ہوتی ہیں اور پوٹھوہار خطہ دلربا ان کتابوں میں سے ہے جو روز روز پڑھنے کے بعد سینے سے لگا کر رکھنے کے لئے ہوتی ہیں۔
یہ کتاب دراصل بہت اہتمام کے ساتھ ترتیب دی گئی ہے کیونکہ یہ شاہد صدیقی صاحب نے لکھی ہی اہتمام کے ساتھ ہے۔ کتاب کے ابواب، ہر باب میں چھوٹے چھوٹے ذیلی ابواب۔ ترتیب سے آغاز، ترتیب سے انجام، خوبصورت کمپوزنگ اور خوبصورت چھپائی، یعنی کتاب دلہن کی طرح سجائی ہوئی ہے بس اس کے چہرے سے دونوں جانب پلوؤں کو سرکانا ہے پھر تو یہ پہلی نظر میں اپنی دلکشی سے اپنے دلہا ( قاری ) کو سحر میں لے لیتی ہے، پھر اس کے ہر ورک کو پلٹاتے جائیں اور پڑھتے جائیں۔
یہ کتاب دراصل پوٹھوہار کی تاریخ ہے جس میں شاہد صدیقی صاحب کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں کہ یہ انھوں نے کوئی تاریخ نہیں لکھی۔
دراصل یہ کتاب جس نے گاؤں کی اصل زندگی گزاری ہو وہ اس کتاب سے بدرجہ اتم لطف اٹھا سکتے ہیں، یعنی گاؤں میں بارش اور آندھی کا آنا، بیری سے بیر کے دانوں کا ٹپ ٹپ گرنا، ننگے پاؤں بیری کے نیچے بھاگنا اور بیر کے دانوں سے جیبیں بھرنا، صحن میں مٹی کے بنے چھولوں یا تندور کو کسی پلاسٹ، لکڑی یا کپڑے دھونے والے بڑے تسلے سے ڈھانپا، پرنالوں سے بارش کا پانی زور و شور سے گرنا اور اس پانی کے لئے نیچے پتھر رکھنا تاکہ ملحقہ گھر کی بنیادوں میں پانی نہ چلا جائے یا ادھر کوئی بڑا گڑھا نہ بن جائے، بارشوں کے پانی کے لئے گاؤں کے قریب تالاب کا بننا، یا گرمیوں میں جب ہم سب باہر صحن میں سو رہے ہوتے تھے جب عین آدھی رات میں بارش شروع ہو جاتی تھی اور جلدی جلدی اٹھ کر چارپائیوں کو اندر کمرے یا دالان یا ڈیوڑھی میں لے جاتے تھے اور کبھی کبھار تو بارش کی وجہ سے یہ اندر باہر کا سلسلہ ساری رات چلتا رہتا تھا۔ یا پھر جب جھڑی شروع ہو جاتی تھی، یا پھر قوس قزح نکل آتی تھی جسے پنجابی میں بڑھیا کی پینگ اور پشتو میں د بڈھے ٹال جس کے معنی بڑھیا کا جھولا ہوتا ہے۔ فصل کی کٹائی نظام اشتراک جسے پشتو میں اشر کہتے ہیں۔ کٹائی کے دوران کٹی ہوئی فصل کی چھوٹی چھوٹی گڈیاں بنائی جاتی تھی جس کو پنجابی میں پھڑیا اور پشتو میں کودہ بولتے ہیں پھر ہر پھڑی کو باندھ دیا جاتا تھا اور اس کے بانھنے کے بینڈ کو پنجابی میں سمبی اور پشتو میں وندنا بولتے ہیں، پھر گا کھولنا جسے پشتو میں غوبل کہتے ہیں کھلاونا کو درمن، ترینگل کو درے غاخے اور پھواڑا کو بوساڑہ، شادی بیاہ میں دولہے پر سکے پیسوں کا اچھالنا اور بچوں کا اس پر ہلہ بولنا گاؤں کے یہ سب کچھ میلے جھمیلے اس کتاب میں موجود ہیں اور میری خوش قسمتی ہے کہ یہ سب کچھ میں نے گاؤں میں دیکھا ہے اس میں شامل رہا ہوں اور میں اس کو نہ صرف سمجھ رہا ہوں بلکہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ کچھ لمحوں کے لئے پھر اس دور میں چلا جاتا ہوں جو اب ناپید ہے، جو اب ہاتھوں میں نہیں صرف خیالوں اور یادوں میں ہے۔
اس کتاب میں آپ کو مقالے کا رنگ، اس میں خود نوشت کا ڈھنگ، اس میں نظم یا شاعری کا آھنگ، اس میں موسیقی کا ترنگ اور مصوری کا رنگ تھرنگ کے ساتھ ساتھ موضوع اور ذخیرہ الفاظ کا فرہنگ قاری کو مسحور کرنے کے لئے ملے گا۔
اس کتاب میں داستان گوئی، ناول اور افسانے کا تجسس، کردار نگاری۔ مکالمے، آغاز، عروج اور انجام ملے گا۔ اس کتاب میں خاکے اور انشائیہ کی طرح شخصیت یا کسی چیز جگہ یا ادارے کے چھپے گوشے ایسے مزے مزے سے قاری پر اویدہ کیے جاتے ہیں جس میں ماتن مفسر کم اور مبصر زیادہ نظر آرہے ہوں گے موضوع سے گریز اور رجوع تو جیسے انشائیے کا وصف ہو۔ رپورتاژ کی طرح دلکش اور دامن دل کھینچنے والی کمنٹری بار بار پڑھنے پر اکساتا ہے۔
اس کتاب میں وہ تخلیقی جملے شاہد صدیقی صاحب نے تخلیق کیے ہیں جس میں غزل کا تغزل اور تخیل پایا جاتا ہے۔ جیسے کہ ”سمت کا اندازہ کر کے میں چلتا گیا اور پھر ایک بوسیدہ درخت کے قریب مجھے ماں کی قبر مل گئی۔ قبر کی لوح جہاں پر نام اور تاریخ وفات درج تھے، گھاس میں چھپ گئی تھی۔ میں قبر کے پاس بیٹھ گیا اور گھاس کو ہاتھ سے ایک طرف ہٹانے لگا، بالکل ویسے ہی جس طرح بچپن میں ماں میری پیشانی سے بال ہٹاتی تھی“ ۔ یا یہ کہ
” ہر بار میرے پوچھنے پر والد صاحب بتاتے تھے کہ آکاس بیل کیا ہے اور کیسے یہ پودوں سے لپٹ کر ان کا رس چوستی ہے۔ بڑے ہو کر مجھے پتہ چلا کہ صرف بیلیں ہی نہیں بعض لوگوں کے گروہ اور ممالک بھی پیراسائٹ ہوتے ہیں“ ۔
اس کتاب میں سیاست بھی ہے اور معیشت بھی اس کتاب میں اخلاقیات بھی ہیں اور تصوف بھی اس کتاب میں تاریخ بھی ہے اور تعلیم بھی اس کتاب میں سماج بھی ہے اور حالات و آلات سامراج بھی اس کتاب میں سائنس بھی ہے اور مجموعہ سوشل سائنسز بھی۔
راولپنڈی کی تاریخ، تاریخی مقامات، شخصیات، فصلیں، موسم، فن و فنکار، سب اس کتاب میں موجود ہیں وہ ٹیکسلا ہو، روہتاس کا قلعہ ہو، البیرونی ہو پائنینی ہو، شیر شاہ سوری ہو سارنگ ہو، پورس ہو، گلزار ہو مینا کماری ہو یا سنیل دت ہو اس کے علاوہ اس خطہ دلربا کے چار نشان حیدر پانے والے فوجی جوان ہوں وہ سب اس کتاب میں اپنی اپنی جگہ شاہد صدیقی کے رنگ اسلوب میں موجود ہیں۔
شاہد صدیقی صاحب کو قاری کو مصروف رکھنے کا گر بھی بڑے احسن طریقے سے آتا ہے جیسے کہ جب وہ مری مال روڈ پر پرانی کتابوں کی دکان کے سامنے بیٹھ کر جب مری کی تاریخ بیان کرتے ہیں اور عین وسط میں ان کو سنجیدگی کا احساس ہو کر یک دم اٹھ جاتے ہیں اور قاری کو انگلی سے پکڑ کر مری کے خوبصورت نظاروں پر لے جاتے ہیں۔
اس کتاب میں وہ سب کچھ ہے جو پوٹھوہار میں تھے، پوٹھوہار میں ہیں اور پوٹھوہار میں رہیں گے بس اس کو پڑھنے کے لئے ایک ذہین ایک فطین اور ایک زیرک قاری کی ضرورت ہے۔


