ماہرہ خان کی دوسری شادی پہ غم زدہ عوام


ماہرہ خان کی شادی پہ ایک ہوک کا سا عالم ہے، ایک غم ہے، سوگ ہے، غصہ ہے۔ سوشل میڈیا پہ، میڈیا پہ اور نجی محفلوں میں سب کو سانپ سونگھ گیا ہو

ایسا کیوں ہے؟

یہ ہمارے قومی مزاج کی نشانی ہے کہ ہم کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہوتے بلکہ ہم کسی بھی عورت، چاہے وہ کسی بھی مقام پہ ہو، کسی بھی شعبہ میں ہو۔ خود کو اس کا چا چا، ماما ہی سمجھ رہے ہوتے ہیں اور اس کو اپنی ملکیت۔

ہمارے لئے کینیڈا کی اسی سالہ بھابھی، ناروے کی نوے سالہ سالی، برطانیہ کی سو سالہ نانی سب اپنے لاڈلے لعلوں کے لئے قبول ہے نو دس بچوں کا باپ سات آٹھ بچوں کی ماں کا بھاگ کر محبت کی شادی بھی قبول ہے بڈھے ٹھرکیوں کی پوتی کی عمر کی عمر والی سے سہاگ رات بھی قبول ہے لیکن یہ قبول نہیں ہے کہ ایک عورت جو ایک ماں بھی ہے وہ اپنے ہی ملک کے، اپنے ہی مرتبے کے، اپنے ہی تقریباً ہم عمر دوست سے شادی کر لے۔

ہم نے تو اپنے سماج میں مرد دوست کا لفظ اپنی ٹھرک نما مردانگی کے لئے رکھا ہوا ہے۔ ارے، اس لڑکی نے یہ کیا کیا دوست کو شوہر بنا لیا اور بھیا یہ شہزادہ سلیم ہم مردوں سے کتنی بے وفائی کر گیا۔ بھلا دوست لڑکی سے شادی کر کے ہمارے میلے مقاصد کا اس نے نام ہی بدل دیا۔ او ظالم بیوی تو ہم لطیفوں اور گالیوں کے لئے رکھتے ہیں اور دوست لڑکی سے ہمدردی والی محبت کی بھیک کا کشکول لئے میلی آنکھ سے اس کے سراپا پہ سانپ بن کر کھیلتے ہیں۔

اب عورت دوست کو ماہرہ والا گھریلو مقام دینے کو دلیل دے دی تم نے شہزادے سلیم
بس شہزادے اور بازاری مرد میں اتنا ہی فرق ہوتا۔

ماہرہ تم نے تو دوست دوست نہ رہا والا مردانہ بہانہ بھی مٹی میں دفن کر دیا ہے کہ مرد ہمیشہ دوست رہ کر محبوب والی سہولیات اور بے غم والی ضروریات کا رونا روتا رہا ہے۔ تم نے اس بے کلاس سوچ کو آسمان پہ چڑھا دیا ہے کہ ایک پرانا دوست ہی ایک جیون ساتھی اور شوہر ہو سکتا ہے ورنہ کوئی عاشق عام سا ہوتا تو کہتا ”نہیں بھئی میں بچوں والی عورت کے ساتھ نہیں رہ سکتا“ کوئی بے بچہ، تازہ، نا تجربہ کار ہو تاکہ میں اپنے ہنر سے متاثر کر سکوں۔

اب اس رشتے میں متاثر کرنے کی سہولت بھی نہیں چھوڑی تم نے
چاروں شانے چت

ابھی کچھ دن پہلے ہی کی بات ہے اداکارہ نور بخاری کو بخار تھا اور انہوں نے ماہرہ کو مشورہ دیا تھا کہ اب ان کو تسبیحات والی توجیحات کی طرف آ جانا چاہیے۔ مذہب کی طرف رجحان کرنا چاہیے۔ یہ بات بہت وائرل ہوئی تب بھی ہمارا خیال تھا کہ یہ کسی ”نورے“ نے نور کے توسط سے اپنا رشتہ بھیجا ہے۔

یہ ہمارا دوسرا مشہور قومی مزاج ہے دوسروں کی زندگی میں ٹانگ اڑانے والا مزاج۔

سوچیں اگر شیخ رشید نے یونہی اتنے ہی بجٹ میں، ایسی ہی جگہ، اسی دن شادی کی ہوتی تو سوشل میڈیا پہ، عوام میں، لال حویلی کے باہر کیسی دھمال ڈالی جاتی۔ کیا کیا مردانہ لطیفے وائرل ہوتے۔ کیسی کیسی مزے دار پوسٹ لگتیں۔ کس قدر مبارک ملتی۔ پتا چلتا کہ مرد تو گھوڑا اور دولہا ہوتا ہے کسی بھی عمر میں، بے شمار مرتبہ باپ بننے کے بعد بھی شادی کر سکتا ہے مگر عورت کے لئے عمر اور غیر شادی شدہ ہونے کی قید ہے۔ باقی سب جذباتی مکالمے ہیں جو ہم گفتگو میں استعمال کرتے ہیں جن کا عمل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

عملی طور پہ اگر ہمارے ظرف بڑے ہوتے تو اس شادی پہ بھی مبارک کے گلدستے ہوتے مگر ہوا یہ ہے کہ اس شادی کے بعد بے شمار مردوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ ماہرہ خان کون ہے اور کیا ہوا ہے۔

مرد تو مرد عورتوں کی طرف سے بھی سرد رویہ دکھائی دیا کہ بہن اگلی کے نماز روزے کے دن آنے والے تھے اور اس نے سہاگ سجا لیا بھلا بیٹے کی شادی کی عمر تھی۔ اس نے اپنی رخصتی میں، جہیز میں بیٹا ہی ساتھ کر لیا۔ ہم کس منہ سے اپنی اولاد کو اپنا منہ دکھائیں گے۔

دماغوں کی بند گلیوں کی غلام گردشوں میں گالیاں گردش کر رہی ہیں۔ ایک عورت نے ٹیبو توڑ دیا ہے۔ سماج کے منہ پہ زناٹے کا تھپڑ دے مارا ہے۔ طلاق یافتہ ماں نے شادی دھوم دھام سے کر لی ہے۔

یہ ہے سماج جو طلاق یافتہ، بیوہ سے شادی کی باتیں تو کرتا ہے لیکن ہم عملی طور پہ یہ سوگ پرست قوم ہیں۔ خوشی میں بھی غم کا پہلو نکال لیتے ہیں۔ پہلو نکال کر اس پہ ماتم بھی کرتے ہیں۔ دوسروں کی خوشیوں سے حسد کرتے ہیں، دوست یا مخلص کی تعریف ہی یہ کرتے ہیں ”جو مشکل میں ساتھ کھڑا ہو وہ دوست ہے“ ۔ ارے نہیں، یہ تعریف تجربے کی کسوٹی پہ پوری نہیں اترتی۔ میت کے ساتھ تو راہ گیر اور غیر بھی چل پڑتے ہیں

”دوست وہ ہوتا ہے جو خوشی میں خوشی سے ساتھ کھڑا ہوتا ہے“ ۔

ماہرہ نے جس طرح اپنے ماضی اور حال کے ساتھ شادی کی ہے شاید ہی کسی نے اس ملک میں کی ہو۔ ایک طرف بیٹے کا ہاتھ تھاما ہوا ہے اور دوسری طرف جیون ساتھی کو گلے لگایا ہے۔

ایک اور سماجی پہلو یہ بھی رہا ہے کہ ایک کامیاب عورت کو سماج خود بھی تنہا دیکھنا چاہتا ہے تاکہ یہ کہا جا سکے کہ یا تو عورت کیریر بنا سکتی ہے یا گھر بسا سکتی ہے۔ اس لئے مرد نے کامیاب عورت سے شادی کرتا بھی نہیں کہ اسے نقصان ہو گا۔ ٹھرک اور بھڑک وبرک سب ہاتھ سے جاتے رہیں گے۔

اب کوئی بھی نہیں کہہ رہا کہ ایک ماں نے اسلام کا پرچم سر بلند کرتے ہوئے نکاح کیا ہے چودہ سو سال پہلے اسے جو حق ملا تھا اس نے اس کا استعمال کیا ہے۔

آپ کی چار شادیاں شرعی ہیں اس کا دوسرا نکاح کیوں نہیں؟
پہلے تو آپ کہتے تھے رشتے آسمانوں پہ بنتے ہیں۔ اب کیا ہوا؟

جو کام مرد نہیں کر سکتا، ہمیشہ عورت کرتی رہی ہے۔ اب تو مان لیں مردانہ کمزوری کے اشتہار سچے ہیں۔ حقیقت نعروں اور اشاروں سے بدلتی تو آج آپ کسی کو زندگی کا نیا رنگین سفر کرنے پہ مبارک دیتے مگر آپ کا بس نہیں چل رہا کہ چپل ہو اور۔

نہیں اب یہ ہو نہیں سکتا۔

ایک مسئلہ سب کو یہ لاحق ہے کہ بھئی اس نے شہزادے سلیم کی امیری سے شادی کی ہے تو حضور وہ خود بھی فقیر تو نہیں تھی۔ اس کا اپنا ایک مقام ہے اس نے خود بھی بہت کمایا ہے۔ اس ملک کا نام لے کر دنیا کی بڑی فلمی صنعت میں کام کر کے آئی ہے۔ وہ خود بھی شہزادی ہے اور اس نے کسی اپنے جیسے سے ہی شادی کی ہے۔

ہم نے ماہرہ کے شہزادہ سلیم کی نم آنکھ والی تصویر پہ ماہرہ کو مبارک دی کہ وہ بہت خوش بخت ہے کہ کوئی اسے نم آنکھ سے لے جا رہا ہے تو ہماری بہت ہی پیاری دوست (جن کا تعلق شعبہ شوبز سے ہے ) نے بتایا ”رابعہ، ماہرہ کو میں جانتی ہوں اسے جو بھی لے جاتا نم آنکھ سے ہی لے جاتا۔ وہ بندی ہی اتنی خاص ہے۔ وہ کوئی کافر ہی ہو گا جو اسے چھوڑے گا۔ اس نے اچھا ادب پڑھ رکھا ہے۔ اس کا مطالعہ بولتا ہے اور اس نے باوقار طریقے سے خود کو منوایا ہے“

ہماری دوست کی بات کو ہم مشاہدے کی کسوٹی پہ سمجھ ہی سکتے ہیں اور اب جب اس کے کردار پہ کیچڑ اچھالنے والی ٹویٹس سامنے آ رہی ہیں تو اور بہت کچھ سمجھ آ رہا ہے۔ دل بہت زور سے ٹوٹا ہے حسینہ، آگ برابر لگی ہوئی ہے۔

اس تصویر کے دوسری طرف دیکھئے تو

جس وقت وہ بندی محنت اور مشکل وقت سے گزر رہی ہو گی، کسی نے اس کا وہ وقت نہیں دیکھا ہو گا مگر خوش سب ہوں گے۔ ہائے بے چاری ایک بچہ کیسے پالے گی؟ جب محنت رنگ لے آئی، نصیب ساتھ دے گئے، اس نے زندگی کو ایک بار پھر خوش آمدید کہا تو سب کے فیوز اڑ گئے

یہ ہے میری پیاری قوم کا اصل چہرہ، غم میں ہم آپ کے ہیں۔ خوشی ہم سے کسی کی برداشت نہیں ہوتی۔

ماہرہ خان تم کو شادی مبارک۔ ہمیشہ خوش رہو۔ تم نے وہ کر دکھایا جیسے زندگی جینا کہتے ہیں۔ وقت پہ پہلی شادی کی، نہیں چل سکی بوجھ نہیں بنایا، اس کے بعد ایک ماں کے طور پہ اپنا کیرئیر شروع کیا۔ بچہ پالا، اپنی زندگی کا سفر کیا۔ زندگی نے دوسرا موقع دیا تو ایک بار پھر رشتے میں داخل ہوئیں اس لئے نہیں کہ سماج کا دباؤ تھا مجبوری تھی بلکہ اس لئے کہ تم کو خود رشتہ پسند تھا۔ ایک رشتہ ختم ہو جانے نے تمہارا انسان اور مرد سے اعتماد ختم نہیں کیا۔

سماجی ٹیبوز کو یونہی کسی ایک کو چیلنج کرنا ہوتا ہے اور بہت سوں کے در کھل جاتے ہیں اور راہیں ہموار ہو جاتی ہیں۔ دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہونا ظرف ہے ہم نے شادی پہ ظروف دیکھے ہیں۔

Facebook Comments HS