تین ملکی یاترا اور سفید لفافہ


سفری دوستوں کے ساتھ بیٹھے بیٹھے باتوں ہی باتوں میں بات نکلی کہ دس پندرہ دنوں کے لیے کسی غیر ملکی یاترا پر نکلنا چاہیے، وقت اور منزل کا طے ہوا۔ موسم، معاشی، سماجی اور کام کے حالات دیکھ کر فیصلہ کیا کہ جولائی کا مہینہ گھومنے کے لیے ٹھیک رہے گا۔ کام کار سے بے فکر، آسودہ چار دوستوں کا کارواں بنا۔ یوں تو گروپ کی ریل گاڑی کے انجن ہیں پر باقی دوستوں کا کسی نہ کسی وجہ سے پروگرام اٹک رہا تھا، چلنے کے رنگ ہزار اور نہ چلانے کے بہانے بہت۔ پلاننگ فیز میں ہی گاڑی کے ڈبے سے کوئی کب اتر رہا تھا تو کوئی کب۔ خیر کہانی یوں آگے چلی کہ انڈونیشیا اور تھائی لینڈ تو پلان کا حصہ تھا ہی پر ملائیشیا ایجنٹ مہرباں کی وجہ سے شامل ہو گیا۔

ویزا کے پروسیس کے لیے آگے بڑھے تو جس مہرباں نے ہمیں پورا پلان بنا کے دیا تھا، وقت۔ حالات، بڑھتی مہنگائی اور ڈالر کی اڑان کی وجہ سے اس دل کے بہت ہی قریب دوست نے روزی کے ڈبے میں کچھ زیادہ ہی شکر ڈالنا شروع کی۔ پھر ہوا یوں کہ اس سے پہلے ہماری معاشیات کی ڈوری پگھلنا شروع کرے ہم نے اپنی ڈوریاں ہی چھوڑ ڈالی اور چلتی کشتی کو موجوں کے سپرد کر دیا، لہریں، روانی، دریا اور ہم۔ مجھے ہرشد مہتا، اسکیم 92 کے ہیرو کا اک شعر یاد آ گیا،

اس گھر میں رہتے ہیں ہم چھ لوگ
چار دیواریں، چھت اور میں

ڈالر کی رفتار اور اس کی قدر کا اندازہ تو ہمیں ہر گھڑی رہتا ہے کیوں کہ گزشتہ چند سالوں میں حکمرانوں کی مہربانیاں اتنی رہی ہے پر حیرانی اس وقت ہوئی جب انڈونیشین کونسلیٹ والوں نے کہا کہ ڈالر کے نئے نوٹ ہوں پرانے نوٹ واپس لے جاؤ یہ یہاں نہیں چلیں گے۔ یہ کہانی تو استاد جی ہمارے لیے بالکل ہی نئی تھی پھر کرنسی ایکسچینج والوں نے بھی وہی دھن لگائی؛ جناب! جانا کہاں ہے؟ وہاں پر تو وائیٹ نوٹ مطلب نئے ڈالر چلیں گے (یہ الگ بات ہے کہ وہاں ایسا نئے پرانے ڈالر کا سین کچھ بھی نہیں ہے ) ۔

بھائی جان؛ ڈگری ڈگری ہوتی ہے والی بات بس جیب میں بس ڈالر ہونے چاہیے پھر نئے ہو یا پرانے۔ تین ملکی ویزوں کے چکروں میں دس پندرہ دن گزر گئے اور پھر جب دوسرے ایجنٹ کے پاس پہنچے تو ڈالر کی بڑھتی اسپیڈ کے ساتھ جہاز کا کرایہ بھی پچیس تیس ہزار روپے بڑھ گیا تھا اس برخوردار نے تو بڑی شائستگی سے کہا، سرکار ان سب ممالک کی ویزے ویسے ہی لگ جاتے ہیں، لوگ تو امریکا، انگلینڈ اور یورپ کے ٹکٹ بھی پہلے ہی بک کروا لیتے ہیں آپ ٹکٹ دو مہینے پہلے سے بک کروا لیتے۔

ہم ٹھہرے نامعلوم اب جس کو تھا معلوم اس نے ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔ خیر ویزا اور ٹکٹ کے بعد ہم نے کچھ دن سکون کی چادر میں لپیٹ کے سونے کے بجائے تھوڑا کام کو جلدی سے سمیٹنا شروع کیا۔ خریداری کا سوچا کہ کچھ یہاں سے ہی شروعات کر لیں، لیکن ہمارے جگری دوست کہنے لگے وہاں سب کچھ سستا ہے سو بہتر ہے وہاں سے ہی اپنے لیے لینا اور ہمارے لیے لے کے آنا۔ پر کچھ قدردان اور فرض شناس لوگوں نے مشورہ دیا بھائی یہاں سے ہی سب کچھ لے جاؤ، سستی موت ہے باقی کچھ نہیں۔ مجھے اوشو (رجنیش) کی بات یاد آئی ؛ ”دنیا میں سب سے زیادہ جو چیز دی جاتی ہے وہ صلاح ہے اور سب سے کم جو چیز لی جاتی ہے وہ بھی صلاح ہے“ ۔ خیر صلاح دینے والے دیتے ہیں آپ کی مرضی ہے۔ سو مرضی کچھ دوستوں کی کچھ اپنی کچھ کپڑے لیے اور پھر چل پڑے۔

چاروں سفر کے متوالوں نے سوچا تو تھا وقت سے پہلے پہنچ کر کچھ نہ کچھ پلاننگ کریں گے پر ٹریفک کی رفاقت نے سب کو وقت سے پہلے ملنے کی مہلت نہیں دی اور عین وقت پر ائرپورٹ پر جا ملے۔ سفر کے شوق کا تاج پہن کر سب شہزادے ایک دم تیار، ایک سفید لفافہ میرے حوالے تھا ؛ کہا گیا کہ باس خود سے زیادہ اس کی حفاظت کرنی ہے۔ لفافے پرانے وقت میں خطوط کے لیے استعمال ہوتے تھے، پوسٹ آفس والا ایک خوبصورت دور۔ پھر یہ سفید بند لفافے شادیوں میں دیکھتے ہیں۔

سفر والا لفافہ یہ سین تو کچھ نیا ہی ہو گیا۔ عامر خان نے تو تھری ایڈیٹ پر گزارا کیا پر قدردان یہاں پر تو چار دوست اور وہ بھی مہا ہوشیار۔ ہمارے ہی ائرپورٹ پر ہم سے اتنے سوال کیے جتنے میں نے کبھی کسی انٹرویو میں نہ دیہ نہ ہی کسی سے پوچھے۔ سو لو جی وہاں سے انتظار گاہ میں پہنچ کر سوشل میڈیا پر اسٹیٹس لگا کے لوگوں کو مشغول کر دیا، سفری ڈھیر ساری دعائیں آنے لگی پھر بعد میں ان دعاؤں نے کیسے کیسے رنگ دکھائے یہ آگے پتا چلے گا۔

دو تین گھنٹے پہلے پہنچنا اور فلائیٹ کا وقت پر چلنا بھی اچھے سفر کی نشانی ہے۔ لال کمار بھی ہمارے ساتھ تھائی لینڈ تک تھے، حال، ماضی اور مستقبل محترم لال کمار سے بہت ہی شاندار گفتگو رہی۔ لال کمار کو پہلی منزل بینکاک کے ائرپورٹ پر الوداع کیا۔ ہماری منزل کچھ دیر کے قیام کے بعد انڈونیشیا کے شہر بالی کی تھی۔ ائرپورٹ پر چہل قدمی، انٹری، ایگزٹ، بھانت بھانت کے لوگوں کو دیکھنے میں وقت گزر گیا اور ہم اگلے سفر کے لیے رواں دواں ہوئے۔

سفید لفافے کی چھان بین کی، حالات اب تک تو ٹھیک تھے۔ اتنی زیادہ فارمیلٹیز اور کہیں نظر نہیں آئی جتنے وہاں اپنے ہی ائرپورٹ پر تھی۔ ان دیکھی منزل کی جستجو میں چار گھنٹے مزید گزر گئے پتا ہی نہیں چلا اور بالی شہر کی خوبصورتی کو ایریل ویو سے دیکھتے ہم ڈینپسار ائرپورٹ پر اترے۔ سامان سمیت ہم چار لوگ تھے اور ٹیکسی کی زمیواری منصور جانی نے سنبھال کر رکھی تھی اور فرنٹ سیٹ کی زمیواری میرے نازک کاندھوں پر تھی۔ مرشد!

جب ٹیکسی والے نے کرایہ بتایا تو چونک گئے ؛ یہ کوئی ستر اسی ہزار انڈونیشین روپیز تھا۔ پتا چلا انڈونیشیا کی کرنسی کا بہت ہی برا حال ہے۔ دو لاکھ ہو تو چار لوگ ایک وقت کا فاسٹ فوڈ کھا سکتے ہیں۔ ایک ہوٹل کی بکنگ جو ہم نے کنسلٹنٹ کو کہہ کر کروائی تھی وہاں پہنچے، سامان اتارا، ڈرائیور چلا گیا، ہوٹل والے نے بڑی عاجزی کے ساتھ کہا آپ کی بکنگ یہاں پر نہیں ہے۔ پروفیسر اسد والی بات اندر ہی اندر لڑکھڑانے لگی، سریش بھائی میں نے آئینے میں دیکھا اور پھر بولا یہ کیا؟

ایجنٹ سے معلوم کیا ہوٹل کا نام وہی تھا جگہ دوسری تھی پھر دوبارہ ٹیکسی پکڑی۔ اس تینوں ملکوں کے سفر میں جو بہترین بندہ ملا وہ بالی میں ڈرائیور پیٹر تھا۔ اس ہوٹل پر پہنچے، ایک تو بالکل ہی کونے میں تھی اور لاوارث لگ رہی تھی۔ سمجھ میں نہیں آیا جناب، ہوٹل چھوڑی اور ایجنٹ سے بات کر کے وہاں سے انشا جی کے ساتھ کوچ ہوئے۔ گروپ میں ہو یا اکیلے ہوٹل ایجنٹ پر اعتبار کرنے کے بجائے بکنگ ڈاٹ کام پر دیکھیں یا اس ہوٹل کے رویو دیکھ لیں۔ خیر تین چار ہوٹل دیکھنے کے بعد ایک اچھی ہوٹل ملی۔ سامان اتارا، سفید لفافے کے ساتھ ساتھ ہر چیز ٹھکانے پر تھی۔ شام کا وقت تھوڑا باہر گزارا اور پھر پیٹر سے کل صبح آٹھ بجے ساتھ چلنے کا وعدہ کر کے رخصت کیا۔

ہوٹل والے نے کہا اگر آپ بکنگ ڈاٹ سے روم بک کروائیں تو سستے پڑیں گے اور یہاں پر مہنگے۔ میرے محبوب! یہ ماجرا تھوڑا ہی نہیں پر پورا ہی بالکل ہی عجیب تھا پر ٹھیک یہی تھا۔ کھانے میں ہمارا (کی ایف سی) ہی مین ٹارگیٹ رہا جو سستا تھا۔ باہر فاسٹ فوڈ سستا اور غریب لوگوں کا کھانا ہے۔ ان دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا ہے، منصور بھائی کے پلان کے مطابق ہم نے بہت کچھ گھوما۔

بالی کا جتنا سنا تھا اس بھی زیادہ خوبصورت ہے۔ لوگوں نے فطرت سے ناتا جوڑ کے رکھا ہے۔ قریبی ممالک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ہونے کی وجہ سے گوروں نے زیادہ ہی ڈیرے ڈال کے رکھے ہیں۔ سننے میں یہ بھی آیا کہ ان کا بزنس بھی کافی یہاں ہے۔ تین چار دن بالی اور اس کے گرد ہی گزرے۔ ایک دن گھومتے وقت عجیب ماجرا ہوئی، پانڈوا بیچ کی طرف نکلے، بہت ہی دلکش منظر تھا، بنا کسی پلان کے آسماں جیسی نیلی خوبصورتی دیکھ کر نہانے کا پلان کیا۔

سامان، موبائیل، والٹ، شرٹ اتار کر کود پڑا تو آہستہ آہستہ سب دوست، صحبت بلوچ صاحب کو چھوڑ کر آ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس نکلے، جانے کی جلدی تھی، گاڑی میں جیب میں ہاتھ ڈالا تو موبائل کسی اور کے ہمراہ تھا۔ پھر تو دھڑکنیں جان سے جانے جان کی طرح ڈگمگانے لگی۔ پیٹر نے ہمت دی۔ اپنے موبائل سے کال کی ( واٹس ایپ ہاٹ اسپاٹ سے کنیکٹ تھا) ، بیل جا رہی تھی۔ بے جان جسم کنارے پر پہنچے، آلودہ لوگوں نے ترچھی نظروں سے دیکھا، ایک ہمدرد نے کہا؛ میرٰی جان پریشان مت ہو، آپ کا موبائل برابر والی دکان پر ہے۔ اور وہاں ایک مہرباں نے بایو میٹرک لے کے موبائل دیا اور کہا یہاں گر کوئی بھی چیز گم ہو جاتی ہے لوگ یہاں پر دے کے جاتے ہیں۔ خدا بھلا کرے ایسی خلق کا، جو مر چکا تھا وہ جی اٹھا اور گلزار کے بول بولا؛ ”تمہیں کیا بتاؤں میرے لیے تم کون ہو؟“ ۔

خوبصورت نظارے، چنچل لوگ، دلکش وادیاں، من بھاتے بیچز، رات کو مدہوش کرنے والی راتیں، ڈانس کلب، سب کو الوداع کر کے، سفید لفافے کو ساتھ لے کر ائرپورٹ کی طرف روانہ ہوئے اور ملائیشیا کی طرف نکل پڑے۔ آسماں کے سفر میں جب خود سے بات کرنے کی فرصت ملی، خود سے حال احوال لیا، جیب کی تلاشی لی، چنچل من بھڑک اٹھا، لے کے اک تڑپ اٹھا، ارے بھائی عجیب سماں آیا، جہاز کے باہر کی دھند جہاز کے اندر آ گئی، میرا مہربان، قدردان، ہمنواز، سفید لفافہ کہیں گر گیا یا کسی اور جگہ رکھا ہے۔

اندر میں دوڑ شروع ہو گئی۔ یار کو سندیش دینے والا لفافہ تو نہیں تھا پر سفر کو آسان کرنے والے سارے ہنر اس لفافے میں تھے، اس کے اس طرح غائب ہونے سے کچھ پل تو جیسے سارا سفر اختتام پر ہوتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ خود کو تسلی دی کہ سامان میں کہیں رکھا ہو گا۔ کولالمپور ائرپورٹ پر پہنچے جو پندرہ سال پہلے دیکھا تھا اس سے کئی گنہ تبدیلیاں آ چکی تھی۔ فارملٹیز پوری ہونے کے بعد لوٹے ہوئے مسافر کی طرح سارے سامان کی تلاشی کی، پر وہ سفید لفافہ کسی اپنے ہی رنگ کے ہمسائے کے ہاتھوں چلا گیا یا کسی ہم جیسے غریب کی عید ہوئی۔ سفر کے دل کو چھونے والے سب ساتھیوں کے چہرے بھی سرحد پر ہارے ہوئے سپاہی کی طرح مایوس ہو گئے۔ خیر خیر خیر، دنیا بڑی ہے یہاں پر بھی کوئی مل جائے گا مانجھی جو ڈوبتی کشتی کو اس پار لے جائے گا۔ اور مل ہی گیا۔

سبق حاصل یہ ہوا کہ سفر کے دوران پیسے ایک جگہ نہ رکھیں، بینک کارڈ بھی باہر جانے سے پہلے ایکٹو کروالیں۔ تصویروں کا شوق، ٹوپی، چشمہ، والٹ بس ایک کو سنبھالیں تو دوسری چیز نکل جاتی ہے۔ سفر میں چوکس رہنا ضروری ہے پر مجھ سے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ بڑا حادثہ ہوا۔

ملائیشیا بہت ہی آگے نکل چکا ہے۔ نوجوان میوزک اور اسپورٹس کے مقابلوں میں لگے ہوئے ہیں۔ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی آگے لے گئے ہیں، ہر ملک میں ٹیکس سسٹم بہت ہی مناسب طریقے سے رواں دواں ہے۔ پاکستان سے ہزاروں کے تعداد میں لوگ (خاص کر کے کے ہی کے سے ) یہاں پر کام کرتے ہیں۔ ریلوے کا نظام شاندار ہے۔ قومیں ترقی کیسے کرتی ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ملائشیا میں سب سے آسان کام وزیروں سے ملاقات کرنا ہے، میل کریں دو تین دنوں میں ملاقات کا ٹائم ملے گا اور سب سے مشکل ایک اسکول کو وزٹ کرنا ہے، تعلیم کا وزیر بھی اجازت دے پر جب تک ہیڈ ماسٹر اجازت نہیں دیتا آپ اسکول وزٹ نہیں کر سکتے۔

تین دن کے قیام کے بعد اب ہماری اگلی منزل تھائی لینڈ کے شہر پوکھیٹ کی تھی۔ دو گھنٹے کے مختصر سفر میں ہم وہاں پہنچ گئے۔ اس ملک کے اس علاقے کی خوبصورتی بہت ہی پروقار اور دل کو چھونے والی ہے۔ تینوں ملکوں کے مسائل وہ نہیں جو ہمارے ہیں۔ بھوک، بے ایمانی، مذہب اور سیکس سے بہت ہی آگے یہ ممالک نکل گئے ہیں۔ مستحکم معاشیات اولین ترجیح ہے۔ لوگوں کو سیاست میں عدم دلچسپی تھی۔ آگے جانے کی دوڑ کے جنون کے ساتھ وہ اپنی صحت میں بھی تندرست تھے۔ سائیکلنگ، ٹریکنگ، پیدل چلنا معمول کا حصہ ہے۔

یوں تو سوشل میڈیا پر یوٹیوب پر یا ولاگرز نے کہا ہے کہ وہاں پر لوگ بیوقوف بنا کر پیسے لے جاتے ہیں لیکن ایسی کوئی خاص بات ہم نے نہیں دیکھی۔ بندہ گر تھوڑی چالاکی سے رہتا ہے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہاں سودے بازی تھائی لینڈ میں بڑی ہے اس کی احتیاط کرنی ہو گی۔ اس کے بعد بینکاک اور پتایا سے گھوم کر تو آئے پر خوبصورتی صرف پوکھیٹ میں تھی اسے دیکھ کے پھر وہاں جانا وقت کو ضائع کرنا ہے۔ سو سنو جی تین ملکی یاترا کو باقی حسیں لمحوں کے ساتھ ساتھ سفید لفافے نے اور ہی یادگار بنا دیا جس میں دنیا سے جڑے رہنے کا سامان تھا۔

دوستوں کے ساتھ خوبصورت سفر کا گلدستہ دل کے آنگن میں سجا ہوا ہے کبھی ہلکا سا جھونکا تو کبھی تیز ہوا ایک بار پھر اس سفر کی حسیں وادیوں میں لے جاتی ہے۔ یہ تجربہ بہت ہی بہترین رہا کہ سفر میں چار لوگ ہو، ٹیکسی، گھومنا، خیالات، محفل بندہ مگن رہتا ہے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments