’نعمت خانہ‘ ایک سماجی و ثقافتی ناول


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

پروفیسر خالد جاوید کا شہرہ آفاق ناول ’نعمت خانہ‘ ایک سماجی و ثقافتی ناول ہے جو حقیقت نگاری پر مبنی ہے۔ اس ناول میں متوسط طبقے کے ایک مشترکہ خاندان کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ ناول میں باورچی خانہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اسے نعمت خانہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے اور ناول کے اہم واقعات یہی انجام پاتے ہیں۔ باورچی خانے کا ماحول اس میں موجود برتن و دیگر سامان کہیں تشبیہ، کہیں استعارے تو کہیں تمثیل کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔

ناول 2014 ء میں دہلی سے شائع ہوا۔ شمس الرحمن فاروقی کی بیٹی باراں فاروقی نے اس کا انگریزی ترجمہ کیا اور اسے ”دی پیرا ڈائز آف فوڈ“ کا نام دیا۔ 2022 ء میں ”نعمت خانہ“ کے انگریزی ایڈیشن کو ’جے سی پی پرائز فار لٹریچر‘ سے نوازا گیا۔ جس پر خالد جاوید کا کہنا تھا: ”یہ پوری اردو دنیا کی کامیابی ہے اور لوگ جس اپنائیت سے اسے منا رہے ہیں وہ ناقابل بیان خوشی ہے۔“ انہوں نے مزید کہا: ”انہیں کبھی امید نہیں تھی کہ ان کا یہ ناول یہ اعزاز حاصل کرے گا۔ ہم ہر ایک دن اور اپنی دنیا کے مختلف کونوں میں خوشی تلاش کرتے ہیں۔ لیکن آج میں نے حقیقی خوشی محسوس کی ہے۔ میں نے یہ ناول 2014 ء میں لکھا تھا اور آج اسے تسلیم کیا گیا ہے۔“

شمس الرحمن فاروقی کی نعمت خانہ کے بارے میں رائے : ”ایسا ناول اردو تو اردو انگریزی زبان میں بھی نہیں لکھا گیا۔“

ناول کا اسلوب بیانیہ و فلسفیانہ ہے اور اسے پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ ’ہوا‘ ، دوسرا ’شور‘ ، تیسرا ’نزلہ‘ ، چوتھا پھر ’شور‘ اور پانچواں حصہ ’سناٹا‘ ہے۔ یہ پانچ حصے پانچ مختلف ادوار کی عکاسی کرتے ہیں اور خالد جاوید نے ان پانچ ادوار کو ایک ماہر فلسفی کی طرح نام دیے ہیں۔

ناول کا مرکزی کردار حفیظ الدین بابر عرف گڈو میاں ہے۔ ناول کے آغاز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گڈو میاں یہاں مشترکہ خاندان کے ہمراہ ایک پرانے اور خستہ حال مکان میں مقیم ہے۔ اسی گھر میں اس کے دور و نزدیک کے عزیز و اقارب ایک ساتھ سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ گڈو میاں انٹر میڈیٹ تک تعلیم اسی چھوٹے سے شہر کے ایک سکول سے حاصل کرتا ہے اور پھر اعلی تعلیم کے لیے دوسرے شہر منتقل ہو جاتا ہے جہاں سے وہ وکالت کی تعلیم حاصل کرتا ہے۔

ناول کے آخری حصے میں وہ سسرال کی طرف سے دیے گئے ایک فلیٹ میں اپنی دشمن نما بیوی انجم اور دو بیٹوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ یہ خاندان شتر بے مہار ہے، یہاں ہر کوئی اپنی مرضی کا مالک ہے۔ بیوی اس کی حریف ہے اور بیٹے مذہبی ہونے کے باوجود بھی گستاخ ہیں اور باپ کی ہر بات سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ اس قدر خود غرض ہیں کہ جب باپ ان کے کہنے پر اپنا موروثی مکان بیچنے سے انکاری ہو جاتا ہے تو وہ ماں کے سامنے ہی باورچی خانے میں اس کا قتل کر دیتے ہیں۔

یہاں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ گڈو میاں کو بچپن سے لے کر بڑھاپے تک جن خواتین نے متاثر کیا ہے اتفاق سے ان تمام کے نام انجم ہیں۔ جیسے انجم باجی، انجم آپا، انجم بانو، انجم جان، اور اس کی بیوی انجم۔ انجم باجی گڈو میاں کی کزن ہے اور انجم آپا محلے دار۔ وہ دونوں کو پسند کرتا ہے اور ان کے لیے ہمدردی اور غیر پاکیزہ جذبات رکھتا ہے اور اپنے ذہن میں ان کے برہنہ جسموں کے تخیلاتی خاکے بھی بناتا ہے۔ پھر وہ انہی دونوں سے منسلک دو مردوں کا پچپن میں ہی منصوبہ بندی کے ساتھ قتل کر دیتا ہے اور یہ وارداتیں وہ باورچی خانے میں ہی انجام دیتا ہے اور کم عمر ہونے کی وجہ سے کوئی اس پر شک بھی نہیں کرتا۔

مصنف فلسفی انداز میں بھوک و افلاس کی منظر نگاری کرتا ہے، وہ موت و زیست کے مسائل کو زیر بحث لاتا ہے، وہ گہری بصیرت سے نادیدہ حقیقتوں کی پردہ کشائی کرتا ہے اور وہ بعض گھٹیا پن پر اترے ہوئے کرداروں سے واقفیت کرواتا ہے۔ یہ ایسے کردار ہیں جو ہر کسی کی زندگی میں کسی نہ کسی صورت میں یا تو آ چکے ہوتے ہیں یا پھر آنے کو تیار ہیں۔

نعمت خانہ بھوک کی ایک تصوراتی دنیا ہے جو حقیقت پر مبنی ہے۔ اس ناول میں دو طرح کی بھوک کا ذکر ملتا ہے۔ ایک بھوک وہ ہے جس سے غریب و متوسط طبقے کے افراد نبردآزما رہتے ہیں۔ یہ وہ بھوک ہے جس کو مٹانے کے لیے منہ سے نوالے حلق میں اتارے جاتے ہیں، جو معدے سے ہوتے ہوئے انتڑیوں تک پہنچتے ہیں اور فضلے کی صورت میں خارج ہو جاتے ہیں۔ اس بھوک کو مٹانے کے لیے انسان پیدائش سے لے کر موت تک جہد مسلسل میں ہے اور جب تک لحد میں نہیں اتر جاتا یہ بھوک قائم رہتی ہے۔ اس بھوک کو مٹانے کے لیے انسان ہر حد کو پار کر جاتا ہے، وہ ایسا حربہ بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتا جسے معاشرے میں جرم تصور کیا جاتا ہے۔

دوسری بھوک وہ ہے جس کا تعلق معدے سے تو نہیں البتہ اس سے حاصل ہونے والی ایسی قوت سے ہے جو انسان میں جنسی ہوس ابھارتی ہے۔ مصنف نے بہترین انداز میں یہ باور کروایا ہے کہ جنسی خواہش انسانوں کی مضبوط ترین خواہشوں میں سے ایک ہے۔ بھوک کی اس قسم میں مصنف جنسی خواہشات اور اس کے ردعمل کو واقعات کا روپ دے کر قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔ پیٹ کی بھوک اور نفسانی بھوک دونوں ایسی حقیقتیں ہیں کہ جس کی وجہ سے معاشرت میں ایسے اتار چڑھاؤ پیدا ہوتے ہیں جن کے اثرات دیر تک قائم رہتے ہیں۔

ناول سے لیا گیا ایک اقتباس مرکزی خیال کا احاطہ کچھ یوں کرتا ہے، ملاحظہ فرمائیں : ”کاش کھانے نہ ہوتے، تب شاید دنیا میں خالص محبت کا وجود ہوتا مگر کمبخت کھانے، جو باورچی خانے میں تیار ہوتے ہیں اور باورچی خانہ جو گھر کا سب سے خطرناک مقام ہے۔ یہ کھانے جو جنسی شہوت بڑھاتے ہیں، آدم اور حوا کو بہکاتے ہیں اور حبوط آدم کا سبب بنتے ہیں۔“

اس ایک اقتباس میں ناول کا تمام تر نچوڑ موجود ہے۔ اسی میں بھوک، افلاس اور باورچی خانے کا مشترک خلاصہ پنہاں ہے۔ مصنف باورچی خانے کو گھر کا سب سے خطرناک حصہ قرار دیتا ہے۔ اسی اقتباس میں وہ آدم و حوا کے قصے کو بھی اس انداز میں بیان کر جاتا ہے کہ مختصر ترین جملہ ہونے کے باوجود سارا قصہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔

بہرصورت یہ دنیائے ادب کا بہترین ناول ہے۔ ڈاکٹر خالد جاوید اس کامیاب اور متاثرکن تخلیق پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کہانی عام ہے لیکن اسے جس انداز میں کہا گیا ہے وہ سراہنے کے قابل ہے۔ اس میں جو تشبیہات، استعارات، اور تمثیلات استعمال کی گئی ہیں وہ ایک ماہر اردو دان ہی کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS