وہ اک تارا قسط نمبر7


ماسکو یونیورسٹی کے قیام نے ان کی ذہنی، فکری اور عملی تینوں طرح تربیت کی۔ مطالعہ کا تو انہیں شوق تھا ہی۔ اب عادی بھی ہو رہے تھے۔ لائبریری میں گھنٹوں بیٹھنا، نایاب اور اہم کتابیں پڑھنا، نوٹس لینے، سیاسی حالات پر ہفتہ وار، ماہانہ پرچوں اور ڈیلی اخبارات میں لکھنے کی چھوٹی موٹی مشق نے نہ صرف انہیں رواں کیا بلکہ تھوڑا سا قارئین سے متعارف بھی کروا دیا۔

دونوں بھرپور انداز میں میدان عمل میں اترے اور دن رات جدوجہد میں مصروف ہوئے۔
اینا کو آزاد اخبار ”نوایا“ میں سیاسی رپورٹر کی جاب مل گئی۔ ہیثم ”دی ماسکو نیوز“ میں چلا گیا۔

ایسے ہی دنوں میں سے ایک دن کوئی پانچ بجے ہیثم نے اپنی چابی سے فلیٹ کا بیرونی دروازہ کھولا۔ خیال نہیں تھا کہ وہ ہوگی پر گیلری سے آگے لاؤنج سے آتی روشنی نے اسے بتا دیا تھا کہ وہ ”گورکی“ سے آ چکی ہے۔ بے آواز چلتا ہوا جب وہ اور آگے بڑھا۔ اس نے دیکھا تھا وہ رائٹنگ ٹیبل پر بیٹھی دنیا و مافیہا سے بے خبر لکھنے میں جتی ہوئی ہے۔ دروازے کی جانب اس کی پشت تھی۔

وہ اس کے پیچھے جا کھڑا ہوا تھا۔ بڑے لیمپ کی روشنی میں کاغذ پر جو بکھرا ہوا تھا وہ ہائیڈروجن بم کے اہم روسی موجدوں میں سے ایک سخاروف کا انٹرویو تھا۔ جو ”گورکی“ میں نظر بند تھا۔ صفحے پر درد ناکیوں میں لتھڑے پتھڑے سخاروف کی سوتیلی بہو بیٹی کے جذبات تھے جو باہر جانے کی خواہش مند تھیں اور جنہیں اجازت نہیں مل رہی تھی۔ دونوں میاں بیوی مطالبے کی منظوری کے لئے بھوک ہڑتال پر تھے۔

اس نے سر سیدھا کیا۔ لمبی سانس بھری۔ کھڑکی سے باہر دیکھا۔ گھر کے سامنے پارک میں اگی گھاس بہت لمبی ہو رہی تھی۔ درختوں سے اڑتی سنبل جا بجا گھاس میں الجھی یوں نظر آتی تھی جیسے سر سبز قالین پر کسی نے جابجا پھولوں سے ڈیزائن بنا دیے ہیں۔ ہوا خوشگوار اور موسم میں ایک رومانوی سی کیفیت رقصاں نظر آتی تھی۔

وہ پھر پلٹا۔ اس پر جھکا۔ اس نے اپنی ٹھوڑی عین اس کی چمکتی لمبی مانگ کے آخری سرے پر رکھ دی اور دونوں بازو اس کے گلے میں حمائل کرتے ہوئے گنگنایا۔

”پہلے بم بناتے ہیں پھر امن کا پر چار کرتے ہیں۔“

وہ مسکرائی۔ اس نے اس کے بالوں سے پر صحت مند خوبصورت ہاتھ اور بازو کو اپنے ہاتھوں سے تھپتھپایا۔ پیار بھرا بوسہ دیا اور گردن اوپر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

”دیکھو ہیثم یہ ظلم کی انتہا ہے۔“

”یہ بھی آئن سٹائن بن گیا ہے۔ پہلے دنیا کو مروا دیا۔ پھر دکھ اور تاسف کا اظہار شروع ہو گیا۔ خیر سے مغرب کے میڈیا کو تو موقع ملے سوویت کو لتاڑنے کا ۔ پر یہ بھی جب ایسے تباہ کن کام کرتے ہیں تب انہیں احساس نہیں ہوتا۔ حکومتوں کو تباہی کے سامان بنا کر سونپتے ہوئے انہیں دنیا پر چھا جانے کی ترغیب دینے کے یہ لوگ بھی تو مجرم ہیں۔“

”مت بھولو ہیثم جوانی جینیئس لوگوں کے جوش عمل، صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کے اظہار کا وقت ہوتی ہے۔ انہیں کسی نہ کسی میدان میں کچھ نہ کچھ نیا دریافت یا ایجاد کرنا ہوتا ہے۔ دنیا اس سے کس انداز میں فیض یاب ہوتی ہے، یہ بعد کی بات ہے۔ اب اگر عمر کے کسی حصے میں غلطی کا احساس ہو جائے تو یہ بھی بڑی بات ہے۔

ہیثم ہمارا سخاروف تو پھر قابل فخر ہے کہ اس نے صرف چھتیس ( 36 ) سال کی عمر میں ایٹمی ٹیسٹ بند کر نے اور جینئس سائنس دانوں کی اسلحہ ساز کارخانوں میں تعیناتی کے خلاف آواز بلند کر دی تھی۔ اب ایسا شخص امریکہ روس ڈائیلاگ کی بات کرتا ہے۔ 67ء کی اسرائیل عرب جنگ میں روس کو مورد الزام ٹھہراتا ہے، افغانستان میں روسی فوج کشی کی سخت مذمت کرتا ہے تو وہ امن کا ہیرو ہے۔ کتنا ظلم ہو رہا ہے اس پر ؟ اور ہاں دیکھنا یہ بھوک ہڑتال اسے بستر مرگ پر لے جائے گی۔ ”

” چچ۔ چچ۔ چچ۔“ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا تھا۔
”تم ہنستے ہو ہیثم۔“ وہ رونکھی آواز میں بولی۔

”تو اور کیا کروں؟ اینا تمہیں سخاروف پر ہونے والے ظلم کا تو احساس ہے۔ اس کی بہو بیٹی کی فکر ہے۔ اگر نہیں فکر تو اس بندے کی۔ مجھے بتاؤ۔ کچھ میرے بارے میں بھی سوچ لو۔ نینا کا کہنا ہے کہ یہ سب میری کمزوری کا نتیجہ ہے۔

اب اپنے پیرو مرشد پشکن کی طرح میرا بھی دل اپنا گھر بنانے، سجانے، گھر والی کے ہاتھوں بنے گوبھی کے سوپ کا پیالہ پینے اور اسے اپنے سامنے دیکھتے رہنے کو چاہتا ہے۔

اب اس کے کھلکھلا کر ہنسنے کی باری تھی۔
”بس تمہاری تان اسی پر ٹوٹتی ہے۔ پلیز یہ مضمون دیکھو میں نے ابھی بھیجنا ہے۔ میں کافی بنا کر لائی۔“
کافی کا سپ لیتے ہوئے اس نے اتنا کہا۔
”یہ پوائنٹ بھی شامل کرو۔“

”افغانستان میں روس کی مداخلت پر اس کے واضح اور دو ٹوک موقف پر اسے اس کے اعزازات اور القابات سے محروم کر دینا حکومت کا گھٹیا اور کمینہ پن ہے۔“

حکومتوں کو شاید یہ شرف حاصل ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے دور میں گھٹیا اور کمینے کام ضرور کرنے ہیں۔ گوربا چوف ایسی ساری کمینگیاں اپنے پیش رووں کے کھاتے میں ڈالتا تھا۔ بار بار جتاتا تھا۔ پھر خود بھی وہی کام کرنے لگا۔

جونہی سنٹرل کمیٹی نے یہ قرارداد منظور کی کہ بزژنیف اور چیرننکو کے ناموں کی تختیاں گلی محلے یا کسی شاہراہ پر جہاں جہاں نصب ہیں اتار لی جائیں۔ پبلک لائبریریوں سے بزژنیف کی کتابیں اٹھالی جائیں۔ اینا کو تو تپ چڑھ گئی تھی۔

اس نے لمبا چوڑا زہریلا سا مضمون لکھ مارا۔
اگلے دن ایڈیٹر کے حضور طلبی ہوئی۔
اس نے پیٹھ ٹھونکی اور ساتھ کہا
”زہر ذرا شہد میں لپیٹ کر دو ۔ کڑواہٹ اور تلخی نگلی جاتی ہے اس سے۔“

Facebook Comments HS