ایک کہانی اور انسانیت کا درس
یہ ستمبر کی ایک دوپہر تھی، شرمین پھپھو کو سانس لینے میں دشواری سی محسوس ہونے لگی، اکلوتا بیٹا بیرون ملک مقیم اور پاکستان آنے سے قاصر تھا، اس لئے انہوں نے بے انتہا محبت کرنے والی بھتیجی رخشندہ کو فوری اطلاع دی جو خود بھی ایک ڈاکٹر تھی۔
بہزاد آپ فوراً شرمین پھپھو کے گھر آ جائیں میرا دل گھبرا رہا ہے، ان کی آکسیجن سیچوریشن کم ہو رہی ہے، رخشندہ نے اپنی پھپھو کے گھر پہنچ کر شوہر کو فون کیا۔
شرمین پھپھو ہمیشہ سے بہت فعال خاتون رہی تھیں۔ مختصر وقت کی علالت نے بستر پر لیٹنے پر مجبور کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ اس کوشش میں تھیں کہ جلد از جلد دوبارہ سے چلنا پھرنا شروع کریں، اس کے ساتھ ساتھ ان کی بھتیجی اور اس کا شوہر بھی انہیں جلد صحتیاب دیکھنے کی بھرپور کوشش میں مصروف تھے۔
ڈاکٹر رخشندہ ہمیشہ خدمت کے جذبہ سے سرشار نظر آتی تھی، اپنا تو اپنا، کسی غیر کو ضرورت ہو تو بھی بغیر سوچے آرام اور سب کچھ قربان کر دیتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر ہر بھلائی کے کام میں اس کے ساتھ تھا اور اسے یہ بھی پتا تھا کہ ایک مسلمان ہونے کے ناتے ان سب معاملات کی قبولیت کی چابی بھی اس دنیا میں اس کے شوہر کے ہی ہاتھ میں تھی جس کی ہاں میں رخشندہ کی جنت پوشیدہ تھی، میاں کی رضامندی اور حقوق و فرائض میں رعایت سے ہی اس کی نیکیوں کی قبولیت ممکن تھی۔
بہزاد نے آکسیجن کے سلنڈرز کا فوری بندوبست کیا اور آکسیجن کنسنٹریٹر بھی اپنی کار میں رکھ کر شرمین پھپھو کے گھر پہنچ گیا جو اسی علاقہ میں واقع تھا۔
آکسیجن سیچوریشن خاصی کم ہے، جلدی سے کچھ کریں، ڈاکٹر رخشندہ نے اپنے شوہر سے گھبراہٹ کے عالم میں کہا۔ تھی تو وہ ایک ڈاکٹر لیکن بعض دفعہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ڈاکٹر کے پاس بھی عام انسان جیسا دل اور جذبات ہوتے ہیں اور اسے بھی ایک انسان سمجھا جانا چاہیے خاص طور پر جب کوئی اپنا اس کے سامنے تکلیف میں ہو۔
میاں بیوی کے ذہن میں دو سال پہلے کے وہ واقعات بھی تازہ ہو گئے تھے جب ان کے گھر کے دو قیمتی افراد کرونا کے باعث یہ دنیا چھوڑ گئے تھے، اس لئے اس دفعہ خدشات کا ہونا بھی حیران کن نہیں تھا۔
چلو شکر ہے آکسیجن کا لیول بہتر ہو رہا ہے، بہزاد نے ماسک شرمین پھپھو کو لگا کر کہا۔ کچھ تسلی ہوئی، رخشندہ نے سکون کا سانس لیتے ہوئے بولا۔
رخشندہ اور بہزاد کے دو معصوم بچے ان کی ہر مشکل اور ذمہ داری میں ساتھ دیتے تھے، گھر پر اکثر تنہا بھی چھوڑنا پڑتا تھا لیکن موٹی موٹی آنکھوں سے آنسو بہا کر مضبوط ہونے کی اداکاری کرتے تھے اور ماں باپ کی ہمت بڑھا دیتے تھے۔
کچھ دن گزرے تو آکسیجن لگانے کے بعد بھی سیچوریشن کم رہنے لگی۔ شرمین پھپھو ایک مشہور ڈاکٹر عباسی کے زیر علاج تھیں جن سے ان کی کلینک پر ملنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہوتا تھا، ایک گھنٹہ ملاقات سے پہلے اور ایک گھنٹہ ملاقات کے بعد نسخے کے حصول کے لئے انتظار لازم تھا جب پہلے کسی اور مریض کی باری نہ ہو، اگر مریض زیادہ ہوں تو کئی نمازوں کے اوقات کلینک پر ہی گزرتے تھے۔
بہرحال اس وقت مجبوری ایسی تھی کہ پمز کے نزدیک ان کی کلینک پر مریض کے بغیر مشورے کے لئے بہزاد اور رخشندہ کو فوری طور پر جانا پڑا، 3500 روپے فیس ہر دفعہ جیب سے نکلنے سے انکار کرتی لیکن ریسیپشن پر سلام کا جواب بھی فیس کے بعد ملتا تھا۔
ڈاکٹر صاحب دوائیں تو پابندی سے جاری ہیں لیکن پھپھو کی سانس خراب ہو گئی ہے، ڈاکٹر رخشندہ نے میڈیکل کی زبان میں مزید تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اصرار کیا کہ سانس کی تکلیف کے علاج کے لئے اسی ہسپتال میں داخل کرایا جائے جہاں وہ خود ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع قائداعظم کی یاد دلاتے ہوئے اس انٹرنیشنل ہسپتال کے متعلق بہزاد اور رخشندہ نے لوگوں کی رائے اور تجربات صرف برے نہیں بلکہ بد ترین سن رکھے تھے لیکن چارہ کوئی نہیں تھا اس لئے شرمین پھوپھو کو داخل کرا دیا گیا۔
ہسپتال کی ایمرجنسی میں گپ شپ اور کھانے پینے میں مصروف ڈاکٹرز اور سٹاف بے حس محسوس ہوئے۔ علاج شروع کرنے سے پہلے دو لاکھ روپے ایڈوانس جمع کرانے کا کہا گیا۔
ایمرجنسی میں رکھنے کے بعد کچھ دن آئی سی یو میں رکھ کر شرمین پھپھو کو کمرے میں شفٹ کر دیا گیا۔
ہسپتال کے عملے کی لاپرواہی کا یہ عالم تھا کہ اکثر سٹاف کو بتانا پڑتا تھا کہ فلاں دوا کا وقت ہو گیا ہے۔ حد تو یہ تھی کہ ہفتہ اور اتوار کو ڈیوٹی نرس کو یاد ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ ہوٹل نہیں ہسپتال تھا اور دوائیں مریض کی اہم ضرورت اور ان کی ذمہ داری تھی۔ عملے کے ایک شریف آدمی نے بہزاد کی حیرت اس وقت ختم کردی جب یہ بتایا کہ مہنگا ترین ہسپتال ہونے کے باوجود وہاں ملازمین کو تنخواہیں وقت پر نہیں دی جاتی تھیں۔
کافی سارے ٹیسٹ کرنے کے بعد ڈاکٹر رخشندہ کو بتایا گیا کہ شرمین پھپھو کے پھیپھڑوں میں پانی تھا جس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری تھی۔
مریضہ کے پھیپھڑوں میں ریڈیالوجسٹ نے ایک ٹیوب ڈالنی ہے اور پانی ختم ہونے پر میں پلیوروڈیسس پروسیجر کروں گا تاکہ پانی پھیپھڑوں میں جمع ہونا رک جائے، یہ کہنا تھا ڈاکٹر علی کا جو بہت پر اعتماد دکھائی دیتے تھے، ظاہر ہے آئی سی یو کے ڈاکٹر تھے اور سیریس مریضوں کا علاج کرتے تھے۔ اعتماد کے ساتھ قابلیت بھی ہوتی تو کیا خوب ہوتا۔
شرمین پھپھو کا بینک اکاؤنٹ سولہ دن تک خالی کیا جاتا رہا اور نہ ہسپتال کی طرف سے کوئی توجہ تھی اور نہ انسانیت نظر آتی تھی۔
ایک دن ڈاکٹر علی نے نا صرف پروسیجر ناکام کر دیا بلکہ پھیپھڑوں میں لگی ٹیوب بھی جگہ سے کھینچ ڈالی۔
ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی سب سے سینئر لیڈی ڈاکٹر نے فوری مدد سے معذرت کرتے ہوئے اگلے دن کا وقت دیا لیکن بے انتہا تکلیف اور انتظار کے بعد یہ کہہ کر پھیپھڑوں والی ٹیوب کو دوبارہ ڈالنے سے انکار کر دیا کہ انہیں ڈاکٹر علی کی اجازت دوبارہ چاہیے تھی اور وہ کال نہیں سن رہے تھے۔ کھال میں پھنسی ہوئی ٹیوب کے ساتھ شرمین پھپھو کو واپس کمرے میں بھیج دیا گیا۔
سترہ دن کے ہسپتال میں قیام کے بعد بھی شرمین پھپھو پہلے دن والی حالت میں نظر آ رہی ہیں، رخشندہ نے افسوس کے عالم میں کہا۔ ظاہر ہے ڈاکٹر نے ٹیوب جو ہلا دی ہے، پانی پھر سے پھیپھڑوں میں بھر رہا ہے، آکسیجن تو کم ہو گی ہی، بہزاد کی آواز میں بھی خاصا دکھ تھا۔
شور شرابا کرنے کے بعد ڈاکٹر عباسی نے وہ ٹیوب تو دوبارہ ڈلوا دی لیکن اعتماد بحال نہیں کرا سکے۔
بالآخر شرمین پھپھو کی خواہش اور ان کے ڈاکٹر کی رضامندی پر رخشندہ اور بہزاد انہیں اسی حالت میں گھر لے آئے۔
رخشندہ کی پھپھو اب گھر پر ہیں اور پھیپھڑوں کے پانی کے ختم ہونے کے انتظار میں ہیں تاکہ علاج آگے بڑھایا جا سکے۔
اس کہانی کو لکھنے کا مقصد ایک سچا واقعہ بتاتے ہوئے انسانیت کا درس دینا تھا، کردار اور جگہوں کے نام کو مصلحتاً تبدیل کیا گیا ہے یا چھپایا گیا ہے لیکن ضرورت ہے اصل پیغام کو سمجھنے کی جو میرے اس شعر میں بھی موجود ہے۔
مال دنیا کو امر کرنا ہے ممکن نہیں
وقت روانگی تو بٹوا بھی نہیں ہوتا
آپ جس شعبے میں بھی ہیں اپنی آمدنی کو حلال رکھیں، خدمت اور نیکی کا موقع ملنا بھی اللہ کی رحمت اور اسی کا انتخاب ہوتا ہے، ایسا موقع کبھی نہ گنوائیں۔
دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کو کبھی ہسپتال سے واسطہ نہ پڑے۔ مظلوم کی آج کی آہ ظالم کے کل کی یقینی تباہی ہے۔
کمزور یا طاقتور وقت آئے تو چلا جاتا ہے
اسیر ہوس بشر کیوں شر سے ملا جاتا ہے
مقصد سے ہوا گر دور بھٹک گیا وہ انسان
قبر کی یکساں پیمائش بھی بھولا جاتا ہے


