مغرب میں اردو شاعری۔ دوسری قسط۔
اس نئے سفر میں جس امتحان سے مہاجروں کو سب سے پہلے واسطہ پڑا وہ ان کی اپنی ذات تھی۔ انہیں جلد اندازہ ہو گیا کہ ان کی اپنی شخصیت ہی ہر موڑ پر دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی تھی انہیں آہستہ آہستہ اس حقیقت کا اندازہ ہو رہا تھا کہ ماضی کی یادوں، حال کی چکا چوند اور مستقبل کے خوابوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنی ذات کی پہچان اور اپنی صلاحیتوں کا عرفان نہایت ضروری ہے۔ ہجرت کے تجربے نے ان پر یہ منکشف کیا تھا۔
اپنی ذات سے غافل ہوں
آنکھیں ہیں اور اندھا ہوں
(تلاش: خالد سہیل)
ابھرے گا اپنی ذات کی پہچان کا سوال
گہرے سمندروں میں نہ جھانکا کرے کوئی
(ہم اجنبی ہیں :اشفاق حسین)
اس آگہی کے سفر کے مسافر پہلے تو اوروں سے اپنے بارے میں پوچھتے رہے اور کسی رہنما کی تلاش میں رہے۔
میں کون ہوں کیا ہوں میری پہچان بتا دے
میں کھوج میں ہوں کوئی مجھے میرا پتا دے
(ندائے امن:نزہت صدیقی)
لیکن انہیں جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ سفر خارجی نہیں داخلی ہے اور اس سفر میں انسان رہبروں اور رہزنوں سے بے نیاز ہو کر آگے بڑھتا ہے۔ کیونکہ اسے اپنے دل کی آواز اور اپنے شوق کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔
شوق خود راستہ دکھاتا ہے
رہبری راہبر پہ ختم نہیں
(برف زار:عبدالقوی ضیا)
چونکہ یہ سفر انسانوں کو اپنی ذات کی گہرائیوں اور تاریکیوں میں کرنا پڑتا ہے اسی لیے اس سفر میں بہت سے مسافر گھبرا کر لوٹ آتے ہیں کیونکہ ان کی آنکھیں پتھرانے لگتی ہیں۔
اس شب خود آگہی میں آئینے بولا کیے
جیسے پتھرانے لگی خود میرے ہی اندر کی آنکھ
(اند مال: حمیرا رحمان)
اس سفر میں انسانوں کو اپنے اندر کی ٹوٹ پھوٹ سے واسطہ پڑتا ہے جو ایک تکلیف دہ عمل ہے۔
یک رنگی رسوم سے دل جوڑنا بھی ہے
اندر کا قفل زنگ زدہ توڑنا بھی ہے
تعمیر کر کے دیکھنا ہے اپنے آپ کو
اور اس نگاہ سے کہ اسے چھوڑنا بھی ہے
(تیرے شہر وصال میں : افضال نوید)
اس جانگسل سفر کے لئے فارغ وقت اور تنہائی کے لمحات کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاکہ انسان اپنی زندگی اور ذات کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ سکے۔
اپنے بارے میں ذرا دھیان سے سوچا جائے
آج کا دن یونہی چپ چاپ گزرا جائے
(دوسرا گھر: سلمان اختر)
اس دشوار گزار سفر پر چلتے چلتے مہاجروں کو احساس ہو گیا کہ انہیں اپنے مقصد تک پہنچنے اور بصیرتوں کو پانے کے لئے کچھوے کی چال چلنا پڑے گا۔ کیونکہ انہیں ایک میرا تھون رنر کے صبر اور حوصلے کی ضرورت پڑے گی۔ اگر وہ خرگوش کی چال چلے تو جلد ہی راستے میں تھک کر سو جائیں گے اور منزل سے محروم رہ جائیں گے۔
اپنے جذبات خموشی سے مجھے سہنے دو
پھل یہ کچے ہیں انہیں پیڑ پہ ہی رہنے دو
ایک دن اپنے سمندر سے ملا دے گا مجھے
مجھ کو احساس کے دریا میں ابھی رہنے دو
(دوسرا گھر: سلمان اختر)
جب مہاجر اپنی ذات کی گہرائیوں میں اترے تو ان میں سے بعض کا اپنے احساس کمتری سے تعارف ہوا وہ احساس جن سے وہ آنکھیں کترا کر نکل جانے کی کوشش کرتے تھے لیکن وہ ہر موڑ پر ان کے پاؤں کی زنجیر بن جاتا تھا۔
کچھ اور بڑھ گیا میرا احساس کمتری
کچھ بھی نہ مل سکا مجھے اونچی اڑان سے
(غزال: افتخار نسیم)
وہ اس حقیقت سے بھی آشنا ہوئے کہ جب انسان خود اعتمادی کی دولت سے محروم ہو جائے تو وہ اپنے دل کی سرگوشیاں سننے کی بجائے دوسروں کے کہے پر بھیڑ چال چلنا شروع کر دیتا ہے اور پھر بعد میں پچھتاتا ہے۔
خود کو ہجوم دہر میں کھونا پڑا مجھے
جیسے تھے لوگ ویسے ہی ہونا پڑا مجھے
(غزال: افتخار نسیم)
خود اعتمادی کے فقدان سے انسان بہت سے خانوں میں بٹ جاتا ہے اور ایک داخلی تضاد کا شکار ہو جاتا ہے۔
ہیں اتنی شخصیتیں میری ذات میں پنہاں
محال ہے مرا بچنا کسی تصادم سے
(بے نشاں : شاہین)
اس داخلی سفر کے مسافروں کو یہ بصیرت حاصل ہوئی کہ ان کا دشمن کوئی غیر نہیں بلکہ ان کی اپنی ہی ذات ہے اور جب تک وہ اس داخلی جنگ کو ختم کر کے اپنی ذات سے صلح نہیں کریں گے وہ امن، سکون اور آشتی کو حاصل نہ کر پائیں گے۔
زمانہ ہو گیا خود سے مجھے لڑتے جھگڑتے
میں اپنے آپ سے اب صلح کرنا چاہتا ہوں
(مہردونیم:افتخار عارف)
ان مہاجروں کو یہ بھی احساس ہوا کہ بیسویں صدی کے دیگر انسانوں کی طرح انہیں بوسیدہ روایات و اقدار کا سراغ لگانا پڑے گا اور ایک دفعہ پھر گناہ کا سہارا لینا پڑے گا۔ پہلا گناہ انہیں جنت بنانے میں مدد کرے گا۔ بیسویں صدی کا انسان اس نفسیاتی حقیقت سے آگاہ ہو گیا ہے کہ۔
مجھے گناہ میں اپنا سراغ ملتا ہے
وگرنہ پارسا و دیندار میں بھی تھا
(زندہ پانی سچا: ساقی فاروقی)
گناہ
اسی نے چہرے کو تنویر میرے بخشی ہے
اسی نے چاند مری روح میں اتارا ہے
میں اعتماد کا پیکر بنا تو جان گیا
مرے گناہ نے کتنا مجھے سنوارا ہے
(خالد سہیل)
ذات کے اس سفر میں جب مہاجر اپنی روح میں اترنے میں کامیاب ہو گئے تو ایک طرف انہوں نے اس آگ کو دریافت کیا جو ایک نئی روشنی اور توانائی کا ماخذ تھی۔
ہر طرف ٹوٹ پھوٹ جاری تھی
ایک کہرام میرے اندر تھا
ایک دوزخ تھا میرے سینے میں
جس سے چہرہ مرا منور تھا
(زندہ پانی سچا: ساقی فاروقی)
اور دوسری طرف انہوں نے وہ سمندر تلاش کیا جو اپنے تمام تر طوفانوں کے باوجود اپنی آغوش میں گوہر مقصود لئے ہوئے تھا اور انسان کو خود اعتمادی کا پیکر بنانے کے لئے کافی تھا۔
یہ بیتاب موجیں اٹھیں گی وہ طوفان آئے گا اک دن
مجھے چاند کھینچے گا اک دن کہ مجھ میں سمندر چھپا ہے
(زندہ پانی سچا: ساقی فاروقی)
جب مہاجروں نے خود اعتمادی حاصل کر لی تو انہیں اپنی ذات کے ساتھ ساتھ ان گناہوں پر بھی فخر ہونے لگا جن کے بغیر وہ کبھی منزلوں سے بغل گیر نہ ہوتے۔ یہ گناہ بیسویں صدی کے ان جدید انسانوں کے گناہ تھے جو روحانی صوفیا کی طرح دنیاوی سود و زیاں سے بے نیاز رواتیوں کے بت توڑتے ہوئے عرفان کی نئی منزلیں تلاش کر رہے تھے۔
انسانی رشتے
ایک بہتر زندگی کی تلاش میں اپنی ذات سے نبرد آزما ہونے کے بعد مشرقی مہاجروں کو جس مسئلے سے واسطہ پڑا وہ انسانی رشتے تھے۔ انہوں نے ان رشتوں کو نئے زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کی کیوں کہ انہیں اندازہ تھا کہ روایتی رشتوں نے انسان کے ذہن اور قلب پر گناہ و ثواب کے نام پر بہت سی زنجیریں ڈال رکھی تھیں۔
اس سفر میں مہاجروں کو اندازہ ہوا کہ مشرقی طرز حیات میں انسانی رشتوں کے جسمانی پہلو کو نظر انداز کیا گیا تھا اور جسمانی خوشیوں اور لذتوں سے کنارہ کشی کی ترغیب دی گئی تھی۔ مغرب میں زندگی گزارنے سے ان مہاجروں نے انسانی جسم کا
از سر نو احترام کرنا سیکھا اور انہیں احساس ہوا کہ اگر انسانی رشتے معتبر اور مخلص ہوں تو جسمانی رشتے انسانی آزادی میں ممد ثابت ہوتے ہیں۔
محبتوں میں ہمارے بدن ہوئے آزاد
غرور ٹوٹ گیا روٹھنے منانے کا
(زخم زخم اجالا: ظفر زیدی)
ہر تیرگی مٹا دی اندھیرے مٹا دیے
اس کے بدن نے رات میں سورج اگا دیے
(دوسرا گھر: سلمان اختر)
مشرقی سوچ اور شاعری کا یہ خاصا رہا ہے کہ اس میں فراق کے تجربے پر تو بہت توجہ مرکوز کی گئی ہے لیکن وصل کے لمحات کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ یہ رویہ مشرقی ماحول اور طرز زندگی کا آئینہ دار ہے۔ جس میں مردوں اور عورتوں کے آپس میں کھل کر ملنے پر بیسیوں پابندیاں عائد رہی ہیں۔ مغرب میں چونکہ ایک آزادانہ فضا قائم ہے اس لیے مردوزن کا آپس میں ملنا آسان ہے اور محبوبوں کے لیے وصل کے لمحات سے محفوظ ہونے پر پابندیاں بہت کم ہیں۔
آج رکھ دیا میں نے سر کشادہ سینے پر
زندگی کو یاد آئے دل کے زیر و بم جیسے
(کف بہار:عرفانہ عزیز)
ہجر میں جسم کے اسرار کہاں کھلتے ہیں
اب وہی سحر کرے پیار سے آ کر لے جائے
(زندہ پانی سچا: ساقی فاروقی)
مغرب میں اگرچہ رومانوی اور جنسی رشتے قائم کرنا آسان تھا لیکن وہ رشتے نفسیاتی اور جذباتی مسائل سے الجھے ہوئے تھے اور وہ مسائل مجبوریاں بن کر رشتوں کے چاند اور سورج کو گرہن لگاتے رہتے۔
اپنے ٹھٹھرے ہوئے جذبات کی مجبوری سے
اجنبی جسموں سے قربت کی ابراہیم مانگیں
(تلاش: خالد سہیل)
اپنی مجبوری بتاتا رہا رو کر مجھ کو
وہ ملا بھی تو کسی اور کا ہو کر مجھ کو
(غزال: افتخار نسیم)
مغرب میں رومانوی رشتوں کا المیہ یہ تھا کہ ان میں فراوانی تو تھی پائداری نہ تھی جذبات کی شدت تو تھی وفاداری نہ تھی اور وہ محبوب جو آج زندگی کا محور ہوتے کل اجنبی بن جاتے۔
شب وصال سے بڑھ کر فراق کیا ہو گا
وہ مل رہا ہے گلے جو نہیں مقدر میں
(سپنے جاگتی آنکھوں کے : عابد جعفری)
اور وہ رشتے جب ٹوٹے تو مشرقی محبوبوں کے دل ٹوٹ جاتے۔ وہ مدتوں زخم چاٹتے رہتے اور ماضی کی یادوں سے ان کے ماتھوں پر ندامت اور شرمندگی کے قطرے ابھر آتے۔
ایک لمحے کی طلب نے کس طرح رسوا کیا
سوچتا ہوں اور ہوتی ہے پشیمانی مجھے
(غزال:افتخار نسیم)
شہر رومان کی سیر کرتے کرتے مہاجر محبوبوں کو احساس ہونے لگا کہ انسانی رشتے اتنے گنجلک اور پر اسرار ہیں کہ اکثر لوگ نہ تو ان کی تہوں تک پہنچ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی باریکیوں کو سمجھ پاتے ہیں۔ اور ان کے لیے اپنے رشتوں کو سمجھے بغیر ان کو نبھانا مشکل ہو جاتا ہے۔
مرے لیے تو سدا تار عنکبوت رہا
میں سوچتا ہوں وہ رشتہ نبھا گیا کیسے
(سپنے جاگتی آنکھوں کے :عابد جعفری)
بعض دفعہ نئے رشتے پرانے زخموں کو بھی تازہ کر دیتے ہیں۔
تازہ رفاقتوں کے حسیں ناخنوں کے ساتھ
ماضی کے سارے زخم کریدا کرے کوئی
(آزاد فضائیں : خالد سہیل)
مغرب کے شہر رومان میں بہت سا وقت گزارنے کے بعد مشرقی محبوبوں کو یہ احساس ہوا کہ انہیں انسانی رشتوں کے بارے میں ایک حقیقت پسند رویہ اپنانا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے محبوبوں سے دوستی کا رشتہ استوار کرنے کی کوشش کی اور انہیں ترغیب دی کہ وہ مثبت جذبوں کے ساتھ ساتھ منفی جذبات کا بھی اظہار کریں۔
مجھ سے نفرت ہے اگر اس کو تو اظہار کرے
کب میں کہتا ہوں مجھے پیار ہی کرتا جائے
(غزال: افتخار نسیم
تاکہ عشق اور محبت کی عمارت خلوص اور بے تکلفی کی بنیادوں پر استوار ہو سکے وہ انسانی رشتوں کو اس مقام پر لانا چاہتے تھے جہاں دو محبوب آقا اور غلام بننے کی بجائے دو دوست اور دو ہم سفر بن جاتے ہیں۔
مغرب میں طویل زندگی گزارنے کے بعد مشرقی محبوبوں کو یہ احساس ہوا کہ دوستی اور احترام وہ جذبے ہیں جو انسانی رشتوں کو صحت اور پائداری بخشتے ہیں، اگر محبت کا رشتہ دوستی کی بنیاد پر قائم ہے تو عشق کی آگ کے ٹھنڈے ہونے کے بعد بھی وہ خلوص کی خوشبو سے مہکتا رہے گا اور دو محبوب رومانوی رشتے کے ختم ہونے کے بعد بھی دوستوں کی طرح ملنے میں کامیاب ہوں گے۔
اب وہ محبوب نہیں اپنا مگر دوست تو ہے
اس سے یہ ایک تعلق ہی بہر سو رکھو
(غزال: افتخار نسیم)
رومانوی رشتوں میں دوستی کی قدر کا سراغ لگانا انسانی رشتوں کے ارتقا کے سفر کی ایک اہم منزل ہے۔ (جاری ہے )

