محمد اظہار الحق کی شخصیت اور ان کا شعری مجموعہ ”اے آسماں نیچے اتر آ“


میرا کتب بینی کا مشغلہ کوئی اتنا پرانا نہیں۔ بس میٹرک کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا، یعنی آج سے یہی کوئی دو اڑھائی برس قبل! اس دوران علمی شخصیات سے مرحلہ وار میں متعارف ہوتا گیا، لیکن محمد اظہار الحق کے نام سے پہلی واقفیت ذیشان ہاشم کی کتاب ”غربت اور غلامی کا خاتمہ کیسے“ کے ”تعارف“ میں ہوا تھا۔ اس کتاب کا دیباچہ اظہار صاحب نے ہی لکھا، اور کیا شاندار لکھا۔ پھر بک کارنر سے جب ان کی کتاب ”عاشق مست جلالی“ چھپی تو میں نے فیس بک پر ان کا نام سرچ کیا، اور فرینڈ ریکویسٹ بھیجی۔ پھر ان سے مزید تعلق یوں استوار ہوا کہ ہمارے تلہ گنگ میں اس سال پہلی بار ادبی فیسٹول منعقد ہوا۔ جس میں اظہار صاحب نے بھی شرکت کی، اور وہاں ان سے سرسری سی میری ملاقات ہوئی۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اور کہا سر آپ کے کالمز میں نے پڑھے ہیں۔ اظہار صاحب کہتے ہیں اچھا! بتاؤ میرا نام کیا ہے؟ میں نے بتایا تو وہ ہنس کے کہتے ہیں کہیں میرے نام سے کسی اور کے تو نہیں پڑھ لیے؟ میں نے پھر انہیں یقین دلایا کہ آپ کی کتاب ابھی ابھی بک کارنر سے چھپی ہے اور میں آپ کا قاری ہوں۔ بہرحال وہاں دو چار اور باتیں ہوئیں، لیکن یہ ایک قسم کی تعارفی ملاقات تھی۔ انہوں نے مجھ پر اچھا اثر چھوڑا اور مزید تشنگی صحبت باقی رہ گئی۔

اظہار صاحب کے کالمز سوشل میڈیا پر وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان کے کالمز پڑھ کے آدمی ششدر رہ جاتا کہ ’اچھا! فلاں فلاں معاملات کو دیکھنے کا زاویہ یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اظہار صاحب کے وہ کالمز جو ہمارے معاشرتی یا غیر انسانی رویوں پر ہیں، اس پر ان جیسا شاید ہی کوئی لکھتا ہو۔ ہمارے ہاں تقریباً سبھی کالم نگار ہر موضوع کو اپنے کالم کا حصہ بناتے ہیں اور تقریباً سبھی (سوائے چند کے ) ایک ہی جیسی باتیں دہرا رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اظہار صاحب جہاں نئے موضوعات تراشتے ہیں وہیں پر زیر بحث مدعے پر ایک الگ رخ دکھانا ان کی انفرادیت ہے، جو انہیں باقیوں سے نمایاں بھی کرتی ہے۔ مثلاً مجھے یاد پڑتا ہے انہوں نے مزدور ڈے پر ایک کالم لکھا تھا، جو اس طبقہ کا ایک رخ یہ بھی دکھاتا ہے کہ یہ لوگ کیسے کام چوری کرتے اور اپنے آجر کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک کالم ہماری تباہ کن عادات پر تھا۔ ایسی عادات جو ہمیں اپنے میں دکھائی نہیں دیتیں، صرف حاکموں میں دکھائی دیتی ہیں۔ اظہار صاحب ایسے رویوں میں ہمیں صرف آئینہ نہیں دکھاتے، بلکہ باقاعدہ سجھا دینے کا کام بھی کرتے ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے کہ اے ہر وقت حاکموں کو کوسنے والو! تم خود اپنے اپنے احاطہ قدرت میں کس قدر ظالم اور مکار ہو۔ حاکموں کا گلہ تو تب بنتا جب تم نے اپنے حصہ کا کام کر لیا ہو، جبکہ تم صرف چارپائیاں توڑنے کا کام کرتے ہو!

ابھی کچھ عرصہ پہلے ان کا بک کارنر سے شعری مجموعہ ”اے آسماں نیچے اتر آ“ کے نام سے چھپا، تو میں نے بھی چند دن پہلے یہ کتاب منگوا لی۔ بڑے شعر کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ اسے ہر پڑھنے والا اپنے علم یا مشاہدے کے مطابق اس کا اثر لیتا ہے، اور یوں وہ شعر جامد یا یک معنی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے بہت سارے مطلب اور مفاہیم ہوتے ہیں۔ وہ قاری کا اپنا تجربہ بن جاتا ہے، نئے احوال اور نئے خیالات کے ساتھ!

اظہار صاحب کی غزلوں کے تمام اشعار میں یہ وصف نمایاں ہے۔ پھر جمالیاتی حس کی تسکین کے لیے جن تشبیہات یا استعاروں کا انہوں نے سہارا لیا ہے، وہ اپنی مثل آپ ہیں۔ یہ صرف کہنے کی حد تک نہیں۔ انہوں نے اپنے اشعار کی زرخیز زمین پر نئی تشبیہات اور نئے استعارے متعارف کروائے۔ وہ لوگ جو بالخصوص اسلامی تاریخ و تہذیب سے واقف ہیں، وہ ان اشعار پر دل سے اٹھنے والی واہ واہ کے بغیر گزر ہی نہیں سکتے۔ ابھی میں بطور مثال چند شعر پیش کرتا ہوں، وہ اشعار جنہوں نے مجھے متاثر کیا۔ ویسے تو بہت ہیں لیکن بطور نمونہ بس چند ایک ہی عرض کروں گا۔ حسب روایت اس کتاب کی شعریات کا آغاز بھی خدا کی حمد و ثناء سے ہوتا ہے۔ اس حمد میں سے دو شعر عرض ہیں۔

تو ہے جو ہوا کو قید کر کے
پانی میں حباب پالتا ہے
رکھ کر ہمیں موت کی پنہ میں
کچھ روز تو حشر ٹالتا ہے
سبحان اللہ! بس پڑھتے ہی دل ایک اثر قبول کرتا ہے، خدا واحد کی شان کیا احسن انداز میں بیان کی ہے۔

مدینہ اور والی مدینہ کی شان میں اظہار صاحب کے شعر بہت خوبصورت، بہت متاثر کن اور حضور ﷺ سے عقیدت سے لبریز کرنے اور کر دینے والے شعر ہیں :

مدینے کی ہوا ہے اور رخساروں پہ پانی
کوئی ایسی لغت جس میں سناؤں یہ کہانی
ہوا اس شہر کی جنت کے پھولوں نے بنائی
گدا اس شہر کے میں اور سعدی اور قآنی
مطہر جسم پر دیکھو چٹائی کے نشاں ہیں
چٹائی کے نشاں اور دو جہاں کی حکم رانی
میرے خیال کے مطابق یہ اشعار ہماری نعتیہ روایت کے بہت شاندار اشعار میں شمار ہوں گے!

ایک شعر جو ہماری ہر وقت، ہر کسی پر لگی بھدی امیدوں کی نظر ہے۔ پھر جب یہ امیدیں پارہ پارہ ہوتی ہیں تو ہم ٹوٹ سے جاتے ہیں۔ اس شعر میں ایسی ہی امیدوں سے چھٹکارے کی التجا ہے :

گٹھری سر پر امیدوں کی
چھٹکارا اس سامان سے دے

ایک اور شعر ہے جس کا مفہوم شاید سادہ ہو، لیکن فنکار نے الفاظ میں ایسا پرویا ہے کہ بندہ عش عش کر اٹھتا ہے :

میں خاک کے فرش پر ہوں، دست دعا اٹھائے
وہ فیصلے جو ہیں آسمانی، بدل رہا ہوں

سبحان اللہ! اسلامی پس منظر کے ساتھ ساتھ محمد اظہار الحق کی شاعری میں ایک خاص قسم کی اپنے بچوں سے محبت، پوتے پوتیوں سے انس اور پھر ان اشعار میں سے نکلتے چشمے جو ہر ایک کو ایک احساس سے منور کرتے ہیں۔ مختلف غزلوں سے اس ضمن میں منتخب اشعار دیکھیے :

جواں تو بیٹے ہوئے ہیں، رکھے خدا سلامت
مجھے لگا جیسے میں جوانی بدل رہا ہوں
دل تو بیٹے کی جدائی میں بھی صحرا ہے مگر
ہجر پوتے کا نہ پوچھو ہے بگولا کیسا
لہو روتا ہوں تڑپتا ہوں جو یہ سوچتا ہوں
کس قدر ہے مجھے محبوب نواسا میرا

جس طرح مستنصر صاحب نے لکھا ہے کہ ”محمد اظہار الحق کی شاعری ایک اجڑا ہوا خیمہ ہے اور وہ اس اجڑے ہوئے خیمے کے نوحے لکھتے ہیں۔“ بالکل ایسا ہی ہے۔ ان کی شاعری میں ایک خاص قسم کا ناسٹلجیا اور گزری یادوں بچھڑے یاروں سے انسیت کا اظہار ہے۔ تقریباً ہر دوسری تیسری غزل میں شعر کو مذکورہ موضوع سے مزین ضرور کیا ہے۔ چند ذیل میں دیکھیے :

اب وہ شطرنج نہ حقے نہ چھلکتی گلیاں
دیکھتے دیکھتے اجڑا ہے محلہ کیسا
لوگ آتے ہیں ٹھہرتے ہیں چلے جاتے ہیں
پھر پلٹتے نہیں، بولو ہے تماشا کیسا
کیا کیا تھے دن کو اسپ سواری کے ذائقے
قاف اور پری کے رات کو قصے لگے ہوئے
ہر یاد اپنا حصہ الگ مانگنے لگی
دل میں جائیداد کے جھگڑے پڑے ہوئے
سدا رہیں میری تنہائی میرے اندیشے
یہ وہ ستون ہیں جن سے لپٹ کے روتا ہوں
کیا یار بھی پھر اٹھیں گے میرے؟
انصاف! مرے خدا! مرے ساتھ

اللہ اکبر! کیا شاندار الفاظ کی بنت، تخیل اور کاریگری ہے اظہار صاحب کی۔ اسی ضمن میں ایک المیے کو یوں بیان کیا:

اولاد میری سات سمندر کے اس طرف
اجداد میرے خاک کے نیچے پڑے ہوئے
اپنے والد کی یاد میں ایک شاندار غزل جس میں کہا ہی خوبصورت شعر درج تھا:
آنکھ سے اوجھل ہوئے اس پیکر کے خطوط
جتنی تصویریں تھیں میرے سامنے دھندلا گئیں

ناظرین یہ کچھ اچھا بھی نہیں اور مجھے سوٹ بھی نہیں کرتا کہ میں یہاں پر ساری کتاب کے اشعار لگا دوں۔ بخدا اس کتاب کا ایک ایک شعر قابل توجہ اور پرکشش ہے۔ اگر آپ شاعری سے لگاؤ رکھتے ہیں اور آپ کے پاس ابھی تک یہ کتاب نہیں تو آپ ایک طرح کی محرومی کا شکار ہیں۔ یہ کتاب ضرور پڑھیے۔ آپ کو اس کتاب میں اشعار کی صورت، بہترین تخیل، انواع و اقسام کے موضوعات، نیا اظہار خیال اور اپنی بچھڑی روایت کی جھلک ضرور ملے گی۔

 

Facebook Comments HS