موت کا منظر مع مرنے کے بعد کیا ہوگا
آج کل قوم پر کرکٹ ورلڈ کپ کا بھوت سوار ہے اور فلسطین میں اسرائیل پر حماس کے حالیہ حملوں کے بعد غزہ کی پٹی پر ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ اس لیے عوام مہنگائی، بجلی کے بل اور پیٹرول کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو وقتی طور پر بھلائے بیٹھے ہیں۔ ”اصل حکمرانوں“ کو اندازہ ہے کہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے بری طرح دب چکے ہیں اور کسی بھی وقت ”اصل حکمران“ عوام کے غیض و غضب کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے بھی ڈالر، سونے اور پیٹرول کی قیمتوں کو قابو میں لانا شروع کر دیا ہے۔
معاشی استحکام کے لئے کیے گئے اقدامات کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، مہنگائی مئی میں 38.0 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ستمبر میں 4۔ 31 فیصد پر آ گئی۔ پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغانیوں پر بھی دست شفقت کی جگہ دست دہشت دراز کر دیا ہے۔ ویسے یہ حالیہ اقدامات بھی بحث طلب ہیں کہ سب کچھ پہلے کیوں نہ کیا گیا، ابھی نہ کوئی صنعت لگی، نہ بیرونی سرمایہ کاری آئی، نہ کسی ملک سے کوئی امداد ملی۔ صرف مغربی سرحد پر موجود سول اور ملٹری بیورو کریسی کے کار پردازوں کو ہوشیار باش کہنے سے اور اجارہ داری قائم کرنے والے گروہوں پر ہلکا سا ہاتھ پڑتے ہی ڈالر دو ماہ میں 50 رو پے نیچے آ گیا۔
حصص کے کارو بار میں تیزی بھی آ گئی۔ اس بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہی ذبح بھی کرے ہے اور وہی لے ثواب الٹا۔ مختلف میڈیا چینلوں پر ملک کے ڈیفالٹ ہونے پر برپا ہونے والے مباحثے بھی کرکٹ کمنٹری اور حماس اسرائیل تنازعہ کے شور میں دب گئے ہیں، لیکن ڈنڈے کے زور پر کیے گئے یہ نمائشی اقدامات ملک کی مجموعی پیداوار (GDP) کی شرح کو بڑھا نہیں سکتے۔ 2023 میں تین فیصد سے زیادہ شرح نمو کی امید نہیں کی جا رہی۔ دوسری طرف غیر ملکی قرضوں کا حجم بھی 126 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
اپنے قرض کی ادائیگی اور خود ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے، برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور غیر ملک میں مقیم پاکستانی کارکنوں سے ترسیلات زر کی آمد بہت ضروری ہے۔ تاہم، تینوں آمدن کے درآمدی بل کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے قرض کی ادائیگی کے دباؤ کے ساتھ رفتار برقرار نہ رکھنے کا امکان ہے۔ مثال کے طور پر، پچھلے تین سالوں کے دوران، پاکستان کی برآمدی آمدنی اور ترسیلات مجموعی طور پر 164 ارب ڈالر تھیں، جبکہ اس کے مقابلے میں 170 ارب ڈالر کی اشیا کی درآمدات تھیں۔
اگلے تین سالوں میں بھی، درآمدات برآمدات اور ترسیلات زر کی کل ڈالر کی رقم سے زیادہ ہونے کا امکان ہے، جو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا باعث بنے گا جس کے لیے بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہوگی۔ آئی ایم ایف نے 2022۔ 23 کے لیے تقریباً 36 ارب ڈالر کی برآمدات کا تخمینہ لگایا تھا۔ اس پر اب 28۔ 29 ارب ڈالر کے نئے تخمینے کے ساتھ نظر ثانی کی گئی ہے، جس کی ایک وجہ ملک میں غیر یقینی صورتحال کے نتیجے میں کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت اور معاشی بدحالی ہے۔
غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ حالیہ برسوں میں کارو با ری ماحول اور پالیسی میں بار بار تبدیلی ہے۔ عالمی بنک کے مطابق پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ہندوستان کے ساتھ باقاعدہ تجارتی تعلقات قائم کرلئے جائیں۔ بھارت، افغان اور بھارت ایران تجارتی راہداری کھول دی جائے۔ مزید براں پاکستان اپنے توانائی کے بحران پر بھی قابو پا سکتا ہے اگر ایران، پاکستان اور بھارت گیس اور تیل پائپ لائن کو مکمل کر لیا جائے۔ ملکی معیشت کی حالت ہنوز دگرگوں ہے جس کے نتیجے میں سماج میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔
1970 کی بات ہے میں نویں جماعت کا طالب علم تھا والدہ اور بہن، بھائیوں کے ساتھ کراچی سے بذریعہ ریل اپنے ماموں کی شادی میں شرکت کر نے ہندوستان کے شہر لکھنو، بذریعہ لاہور جا رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں صنعتی ترقی بام عروج پر تھی۔ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر کراچی تھا باقی شہروں میں بھی کچھ صنعتیں موجود تھیں، لیکن میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب ریل گاڑی لاہور کے قریب پہنچی تو اس کی رفتار کم ہو گئی جیسے ہی ریل گاڑی نے کوٹ لکھپت کا ریلوے اسٹیشن کراس کیا اور بادامی باغ کا علاقہ شروع ہوا، بیکو یعنی بٹالہ انجینئر نگ کمپنی کی بیرونی دیوار شروع ہو گئی اور اس دیوار کے ساتھ کمپنی کی مصنوعات کے اشتہارات ریلوے لائن کے ساتھ دیوار پر نظر آنے شروع ہو گئے۔
اشتہارات جلی حروف میں تحریر تھے اور ان پر بیکو کی مصنوعات کی تصویریں بھی بنی ہوئی تھیں۔ ان مصنوعات میں بائیسکل، موٹرز، پمپ بجلی کی ترسیل کرنے والے دیو ہیکل فولادی ٹاور، ٹیکسٹائل مشنری فولادی گرڈرز چینل، کنکریٹ مکسر اور بہت سی مزید مصنوعات شامل تھیں۔ دیوار تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی اور مصنوعات بھی ختم نہیں ہو رہی تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ میں جوانی کی حدود میں داخل ہو رہا تھا۔ دنیا کی خبر رکھنے کی جستجو بھی رہتی تھی۔
میں بیکو کی فیکٹری اور اس میں تیار ہونے والی مصنوعات سے خاصہ متاثر ہوا۔ پتہ چلا جاپان اور چین کی حکومتیں اپنے لوگوں کو تربیت کے لئے بیکو بھیجتی ہیں۔ 1971 ء میں پاکستان دولخت ہو گیا اور ذوالفقار علی بھٹو موجودہ پاکستان کے صدر اور بعد ازاں وزیراعظم بن گئے بھٹو نے 1972 ء میں ملک کے تمام بڑے صنعتی گروپ قومیا لئے، یوں صدر کے ایک حکم سے ملک بھر کے تمام بڑے صنعت کار فٹ پاتھ پر آ گئے۔
1972 ء میں جب بھٹو نے بیکو کو سرکاری تحویل میں لیا۔ اس وقت اس فیکٹری میں چھ ہزار ملازمین کام کرتے تھے اور یہ اربوں روپے سالانہ کا کاروبار کرتی تھی لیکن یہ فیکٹری بعد ازاں زوال کا استعارہ بن گئی حکومت نے اس کا نام بیکو سے پیکو کر دیا تھا پیکو نے 1998 ء تک اربوں روپے کا نقصان کیا۔ یہ ہر سال حکومتی خزانے کا جی بھر کر خون چوستی تھی جس طرح آج پی آئی اے، اسٹیل مل اور ریلوے جیسے ادارے قومی خزانے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔
بیکو بادامی باغ کے علاقہ میں واقع تھی اس کی وجہ سے یہ علاقہ کبھی پاکستانی صنعت کا لالہ زار کہلاتا تھا۔ لیکن حکومت کی ایک غلط پالیسی اور ہماری سماجی نفسیات میں موجود حسد اور خودکشی کے جذبے نے اس ہمہ وقت مصروف صنعتی بستی کو صنعتی اداروں کا قبرستان بنا دیا اور لوگ نہ صرف بیکو کی اینٹیں تک اکھاڑ کر لے گئے بلکہ انہوں نے بنیادوں اور چھتوں کا سریا تک نکال کر بیچ دیا۔
میں 1980 میں ایک دفعہ پھر ریل کے ذریعے لاہور گیا اس وقت تک بیکو فیکٹری عالم نزع میں تھی۔ لیکن فیکٹری کی دیوار قائم تھی حالانکہ دیوار بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ اس دیوار پر بیکو کی مصنوعات کے اشتہار بھی غائب ہو چکے تھے اور اس دیوار پر تواتر کے ساتھ ایک کتاب کا اشتہار تحریر تھا جو جناب خواجہ محمد اسلام کی تحریر کردہ تھی، کتاب کا نام تھا ”موت کا منظر مع مرنے کے بعد کیا ہو گا“ ۔ اس ٹوٹی پھوٹی دیوار پر اس کتاب کا اشتہار جلی حروف میں کم از کم 100 دفعہ تحریر تھا۔ اس واقعہ کو اب بھی تیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا۔ لیکن پاکستان کی معیشت اور سماج پر سے موت کا منظر ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ یاد رہے بیکو / پیکو 2019 میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گئی ہے۔


