افغان مہاجرین، افغانستان کے حالات اور پاکستان کے مسائل


پاکستانی نگران وزیر داخلہ نے کچھ دن قبل ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے، سکیورٹی وجوہات کو جواز بناتے ہوئے غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو 31 اکتوبر تک پاکستان چھوڑنے کے حکومتی فیصلے سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق دوسری صورت میں ان غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کو ملک بدر کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ رواں سال 24 میں سے 14 خودکش حملے غیر ملکیوں نے کیے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے ہے۔ تب سے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان سا امڈ آیا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا چاہیے یا نہیں، اور تب سے ہی افغان مہاجرین میں ملک بدر ہونے کی اک تشویش لاحق ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں صرف افغان مہاجرین نہیں رہتے بلکہ بنگالی، ایرانی، برمی اور دیگر ممالک کے مہاجرین بھی ہیں۔

حکومت پاکستان کے مطابق ملک بھر میں غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد 17 لاکھ ہے جبکہ حکومت کے مطابق کل مہاجرین کی تعداد 44 لاکھ ہے۔

افغان نگران وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کی اس پالیسی کا سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر جواب دیتے ہوئے لکھا کہ افغان پاکستانی سکیورٹی کے مسائل کا سبب نہیں ہیں۔ پاکستان کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے اور افغان مہاجرین کے ساتھ تحمل کا رویہ رکھنا چاہیے۔ لیکن پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے جمعرات کو حکومت پاکستان کے اس فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ تمام غیر قانونی مہاجرین بشمول افغانوں، کو پاکستان چھوڑنا چاہیے اور مزید کہا کہ کوئی بھی ملک غیر قانونی مہاجرین کو رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

افغان مہاجرین کا مختلف ادوار میں پاکستان آ نا:۔

ویسے تو افغان مہاجرین 1980 ء سے مسلسل آ رہے ہیں لیکن پھر بھی اس انخلا کو تین مراحل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا مرحلہ 1980 ء میں جب ثور انقلاب کے بعد سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کر کے قبضہ کر دیا۔ اس وقت تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان ہجرت کر کے آئے۔ آزاد ذرائع کے مطابق اس وقت جنرل ضیاء الحق کہا کرتے تھے کہ یہ مہاجرین ہمارے اسلامی بھائی ہیں اور ان کو پناہ دینا ہمارا دینی فریضہ ہے۔ اس کے بعد جب 2001 ء میں 9 / 11 کے حملوں کے بعد افغان مہاجرین بڑی تعداد میں پاکستان آئے۔ تاہم یاد رہے کہ یہ مہاجرین وقتاً فوقتاً واپس افغانستان بھی گئے اور تیسرا بڑا انخلا 2021 ء میں تب ہوا جب امریکہ افغانستان چھوڑ کر چلا گیا اور طالبان نے اشرف غنی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس دوران حکومت کے مطابق تقریباً 6 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں داخل ہوئے۔

یاد رہے کہ حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کل بسنے والے مہاجرین کی تعداد 44 لاکھ ہے جس میں سے 17 لاکھ کے پاس پاکستان میں رہنے کا کوئی دستاویز موجود نہیں ہے۔ یو۔ این۔ ایچ۔ سی۔ آر کے مطابق ان مہاجرین میں سے 52 فیصد خیبرپختونخوا میں، 24 فیصد بلوچستان میں، 14.3 فیصد پنجاب میں، 5.5 فیصد سندھ میں جبکہ 3.1 فیصد اسلام آباد میں رہتے ہیں۔

ماضی میں اس طرز کے آپریشنز اور ان کے نتائج:۔

اگر ماضی پر نظر دوڑائیں تو 2016 ء میں حکومت پاکستان نے اس طرز کا آپریشن شروع کیا تھا جس کو 2017 ء اور 2018 ء میں بھی جاری رکھا گیا۔ یو۔ ین۔ ایچ۔ سی۔ آر کے مطابق 6 لاکھ، ڈیڑھ لاکھ اور پچاس ہزار افغان مہاجرین کو بالترتیب پاکستان سے نکالا گیا۔ اس میں رجسٹرڈ اور نان۔ رجسٹرڈ دونوں طرح کے مہاجرین شامل تھے۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ نے اسے حالیہ عرصے میں پناہ گزینوں کی دنیا کی سب سے بڑی غیر قانونی جبراً واپسی قرار دیا۔ اس وقت بھی یہی الزامات لگائے گئے تھے کہ افغان مہاجرین دہشت گردی میں ملوث ہیں اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

تاہم اگر اس آپریشن کا انسانی پہلو دیکھا جائے تو ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس آپریشن کی وجہ سے افغان مہاجرین کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن میں ملک بدری کے خطرات، روزانہ کی بنیاد پر پولیس کی بھتہ خوری جس سے مہاجرین کو ضروریات زندگی پورا کرنا مشکل رہا، پولیس کی بے جا حراست، تشدد اور گھروں پر چھاپے، مہاجرین کے بچوں کو پاکستانی سکولوں سے نکالنا اور مہاجرین کے سکولوں کو بند کرنا شامل ہے۔

افغانستان کی موجودہ صورت حال:۔

طالبان نے اگست 2021 ء میں اشرف غنی کی حکومت کو ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ تب سے افغانستان کی خراب صورتحال خراب تر ہوتی گئی اور آج کل حالات کے ہیومن رائٹس واچ کے مطابق کچھ اس طرح ہیں کہ لڑکیاں پرائمری کے بعد تعلیم حاصل نہیں کر سکتیں۔ خواتین کی نقل و حرکت، کام کی آزادی، بولنے کی اور اظہار رائے کی آزادی پر مختلف طرز کی قدغنیں لگائی جا چکی ہیں۔ خواتین اپنے گھر کے مرد کے بغیر اکیلے میں سفر نہیں کر سکتی اور اگر ایسا کریں گی تو خواتین کے ساتھ ساتھ گھر کے مردوں کو بھی سزا دی جائے گی۔ سماجی رابطے کی سائٹ X پر حالیہ دنوں میں ایک وڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک عورت کو مردوں کے درمیان بیٹھا کر کوڑے مارے جاتے ہیں جو کہ انتہائی تکلیف دہ اور نا قابل برداشت ہوتے ہیں اور شاید ہی جدید دنیا میں اس طرح کے سلوک کا کوئی سوچ بھی سکتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق اگست 2021 ء میں طالبان کے اقتدار پر قبضہ کے بعد 97 فیصد لوگ سطح غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں جو کہ 2020 ء میں 47 فیصد تھی۔ اس شدید غربت کی وجہ سے لوگ چھوٹی عمر کی بچیوں کی شادی کرنے اور انسانی جسم کے اعضاء بیچنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ 15 اگست 2021 ء اور 15 جنوری 2022 ء کے درمیان 237 لوگوں کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا جن میں زیادہ تر کی تعداد سابقہ حکومت ( اشرف غنی کی حکومت) کے اہلکار تھے۔ لیکن طالبان حکومت ماورائے عدالتی قتل کے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتی ہے۔

اس کے علاوہ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق آئی۔ ایس۔ کے۔ پی (اسلامک اسٹیٹ آف خراسان پروونس) بے دردی سے ہزارہ شیعہ کو قتل کر رہی ہے اور طالبان حکومت سکیورٹی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ صرف 2022 ء میں 700 ہزارہ شیعہ کو قتل اور زخمی کر دیا گیا جس کی ذمہ داری آئی۔ ایس۔ کے۔ پی قبول کرتی ہے۔

افغان میڈیا پر بھی بہت ساری قدغنیں لگائی گئی ہیں۔ صحافیوں کو ہراساں اور قتل کیا جا رہا ہے۔ سینکڑوں میڈیا گروپ بند کر دے گئے ہیں جس کی وجہ سے 80 فیصد خواتین صحافیوں سے نوکری ہاتھ سے چلی گئی ہے۔ عالمی میڈیا پر بھی قدغنیں لگائی گئی ہیں جیسا کہ بی۔ بی۔ بی۔ سی اور وائس آف امریکہ کے مقامی زبانوں (پشتو، ازبک اور دری) کے پروگرامز کو بند کر دیا گیا ہے ۔

اگر ان حالات میں کئی لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکال کر واپس افغانستان بھیج دیا گیا تو صورتحال کیا ہوگی؟ اس کا جواب افغانستان کے حالات دے رہے ہیں۔ خصوصاً ان مہاجرین کا کیا بنے گا جن کا تعلق سابقہ حکومت سے ہے یا جو صحافی ہیں یا خواتین ہیں یا جو لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہیں ہیں یا حاصل کرنا چاہتی ہیں یا جو گلوکار یا موسیقار ہیں یا طالبان کے ناقد ہیں یا ہزارہ شیعہ جو مہاجر بن کے آئے ہیں۔

افغان مہاجرین کو نکالنے کے اصل وجوہات:۔

بہت سارے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کو نکالنے کی اصل وجہ افغان طالبان کا پاکستان کی بات نہ ماننا ہے۔ کیونکہ افغان طالبان، ٹی۔ ٹی۔ پی کو پاکستان پر سرحد پار سے حملے کرنے سے روک نہیں رہا تو پاکستان افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لئے یہ سب کچھ کر رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے پاکستان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ماضی کے اچھے طالبان اور برے طالبان ایک ہوچکے ہیں جس کے نتائج افغان مہاجرین کو بھگتنا پڑ رہے ہیں جو خود طالبان کی قہر سے اپنے گھر بار چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آئیے ہیں۔

صحافی و تجزیہ کار وسعت اللہ خان کا کہنا ہے کہ ”سرحد پار سے کالعدم ٹی۔ ٹی۔ پی کے حملوں میں حالیہ تیزی کے بعد پاکستانی ریاست کو پھر غصہ آیا ہے اور ہر بار کی طرح یہ غصہ پناہ گزینوں پر ہی نکل رہا ہے۔“

افغان مہاجرین پر پہلے بھی دہشتگردی کے الزامات لگتے تھے اور اب بھی لگ رہے ہیں۔ لیکن یہ اگر مان بھی لیا جائے تو کیا چند لوگ جو دہشتگردی میں مبینہ طور پر ملوث ہیں ان کی وجہ سے تمام افغان مہاجرین قصوروار ثابت ہو گئے۔ کس طرح؟ اور کیا تمام مہاجرین کو اس کی سزا دی جائے گی؟ پاکستان جو عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کو ختم کرنے کا پرچار کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ چند دہشتگردوں کی وجہ سے تمام مسلمان دہشتگرد نہیں ہو پاتے تو چند مہاجرین کی جرم کی سزا تمام مہاجرین کو کس طرح دی جا سکتی ہے۔ اور کیا اس سے نفرت اور عداوت کے جذبات نہیں بڑھیں گے؟

مہاجرین کے عالمی اور قومی قوانین:۔

پاکستان مہاجرین کے متعلق یو۔ این کے 1951 ء کے کنوینشن برائے مہاجرین اور اس کے 1967 ء کے پروٹوکول برائے مہاجرین کا دستخط کنندگان میں شامل نہیں ہے جو کہ مہاجرین کی حفاظت کے حوالے سے بہت اہم عالمی معاہدہ ہے۔ اور اس کے مطابق کسی بھی پناہ گزین کو اس ملک میں زبردستی واپس نہیں جائے گا جہاں اس کی زندگی یا آزادی کو خطرہ ہو۔ اور مزید یہ معاہدہ مہاجرین کو گھر کا حق، تعلیم کا حق اور کام کرنے کا حق دیتا ہے تاکہ پناہ گزین عزت سے آزاد زندگی گزار سکیں۔

لیکن عام طور پر پاکستان یو۔ این۔ ایچ۔ سی۔ آر کی سفارشات پر کسی بھی نان۔ رجسٹرڈ مہاجر کو رجسٹرڈ مہاجر کا اسٹیٹس دے دیتا ہے۔

پاکستان کے شہریت ایکٹ 1951 ء کے مطابق جو شخص پاکستان میں پیدا ہوا ہے وہ پاکستانی شہری ہے (سوائے عالمی سفارتکار اور غیر ملکی دشمن کے ) ۔ اس قانون میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ مہاجرین کے ہاں پیدا ہونے والے بچے مہاجرین تصور کیے جائیں اور ان کو پاکستانی شہری نہیں مانا جائے گا۔ بلکہ 2018 ء اسلام آباد ہائیکورٹ نے سعید عابد محمود نامی شخص کو شہریت بھی فراہم کی ہے جو کہ صومالی والدین کے ہاں پاکستان میں پیدا ہوا تھا۔

اور مزید یہ کہ گزشتہ سال چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللۂ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ جو شخص پاکستان میں پیدا ہوا ہے وہ پاکستانی قانون کے مطابق پاکستان کا شہری ہے اور قانون اسے شہریت حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ کیس 24 سالہ افغان مہاجر فضل حق نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کیا تھا۔ فضل پاکستان میں پیدا ہوئے اور پاکستان میں ہی پلے بڑھے ہیں۔

سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کے خیالات:۔

افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کی پالیسی کو سیاسی رہنما، انسانی حقوق کے کارکنان اور انسانی حقوق کے تحفظ کے اداروں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ افغان پناہ گزینوں کی حمایت جاری رکھے تاکہ وہ عزت کے ساتھ آزاد زندگی گزار سکیں جہاں مہاجرین کو اس بات کا ڈر نہ ہو کہ انھیں واپس افغانستان بھیج دیا جائے گا جہاں ان کو طالبان کے ظلم و ستم کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے اے۔ پی کے مطابق ”یو۔ این نے ہفتے کے روز پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کرنے سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو سکتی ہیں۔“

این ڈی ایم کے رہنما افراسیاب خٹک کا سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر کہنا ہے کہ ”افغانستان پر طالبان مسلط کرنے کے بعد پاکستان سیکیورٹی اسٹیٹ افغانوں کے ساتھ مفتوح لوگوں کی طرح سلوک کر رہی ہے۔ افغان مہاجرین اس کا خاص ہدف ہے۔ آج جو شدید نفرت کا بیج بویا جا رہا ہے وہ دشمنی کو جنم دے گی جس کو آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔ پاک افغان پالیسی کا یہ سیاہ ترین باب ہے۔“

عملی منصوبہ بندی:۔

یہ اس طرح واقعہ نہیں کہ پاکستان سے مہاجرین کو خصوصاً افغان مہاجرین کو نکالنے کا عندیہ دیا گیا ہو۔ لیکن آگر اس دفعہ حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو آئیے دیکھتے ہیں کہ ایسا کرنے میں کون کون سی سے ممکنہ مشکلات ہیں جن سے حکومت کا سامنا پڑ سکتا ہے۔ جیسا کہ پاکستان میں کل بسنے والے مہاجرین کی صحیح تعداد کتنی ہے اور گزشتہ چالیس سالوں میں کتنے آئے ہیں اور کتنے واپس گئے ہیں۔ اور جو ابھی موجود ہیں وہ ملک کے کس کس کونے میں ہیں اور کیا کاروبار کر رہے ہیں۔

کتنے ایسے ہیں جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ موجود ہے۔ اور اگر مہاجرین واپس نہ جائیں تو کس طرح ملک بدر کیا جائے گا۔ کیا تمام 17 لاکھ نان۔ رجسٹرڈز کو گرفتار کیا جائے گا۔ ان کو ڈی۔ پورٹ کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ کے انتظامات اور اخراجات کون دے گا۔ اور اگر افغانستان یا کوئی اور ملک یہ ماننے سے انکار کر کے کہ یہ ہمارے شہری نہیں تو کس طرح ثابت کیا جائے گا کہ یہ متعلقہ ملک کے ہی باشندے ہیں۔ اور افغان مہاجرین جو پاکستان میں پیدا ہوئے مگر ان کے پاس کوئی پی۔ آر۔ آؤ کارڈ نہیں کیا ان کو بھی واپس بھیجا جائے گا یا نہیں۔

پاکستان کے موجودہ مسائل اور افغان مہاجرین:۔

پاکستان اس وقت مسائل کے بھنور میں پھنس چکا ہے۔ لیکن اگر اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے مسائل کو دیکھا جائے تو وہ تین ہیں سماجی، معاشی اور سکیورٹی مسائل۔

اکثر اوقات افغان مہاجرین کو پاکستانی معیشت پر بوجھ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن کیا اگر افغان مہاجرین کو ملک سے نکال۔ دیا جائے تو کیا پاکستان کے معاشی مسائل حل ہو جائیں گے؟ اگر پھر بھی مسائل حل نہ ہوئے تو الزام کس پر دیا جائے گا۔

پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ سیاسی بحران ہے۔ کیا افغان مہاجرین کے انخلاء سے پاکستان کا سیاسی بحران حل ہو جائے گا؟

پاکستان کا تیسرا بڑا بحران سکیورٹی کاہے۔ آئے روز ملک میں خود کش دھماکے ہو رہے ہیں خاص کر خیبرپختونخوا اور بلوچستان اس سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ حال ہی میں بارہ ربیع الاول کو بلوچستان کے شہر مستونگ میں عید میلاد النبی کے جلوس میں خود کش حملے میں ستر عام شہری ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ نگران وزیر داخلہ کے مطابق رواں سال میں چوبیس خود کش دھماکوں میں چودہ افغان نیشنلز نے کیے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ دھماکے افغان مہاجرین نے کیے یا خود کش حملہ آور دھماکے کرنے بارڈر پار سے آئے اور دھماکے کرلئے اور اگر ایسا ہے تو بارڈر فورسز کیا کر رہی تھی اس وقت اور دہشتگردی کو بارڈر پر روکنا فورسز کا کام ہے یا افغان مہاجرین کا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ باقی دس خودکش دھماکے کس نے کیے اور ان کو کیا سزا دی جائے گی۔

اگر پاکستان افغان مہاجرین کو دہشتگردی کی وجہ سے نکال بھی دے تو اس کیا اس دہشتگردی کم ہو جائے گی۔ اور کیا ماضی میں ریاست نے خود دہشتگردوں کی سرپرستی نہیں کی اور ملا منصور کوئٹہ میں، اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں اور ملا عمر کراچی کے ہسپتال میں پائے گئے۔ جس کی وجہ سے عالمی سطح پر ہزیمت اٹھانی پڑی۔ اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو کیا سزائیں دیں گئیں۔

مزید یہ کہ جو پاکستانی کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں ہیں ان کا ساتھ کیا رویہ رکھا جائے گا۔ خطے میں داعش اور القاعدہ جیسی تنظیمیں بھی موجود ہیں ان کے ساتھ کیسے نپٹا جائے گا۔ ولسن سنٹر سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس دہشتگردی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لئے کوئی جامع منصوبہ بندی موجود نہیں۔

اور مزید یہ کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی بڑ رہی ہے جس کی وجہ سے جڑانوالہ، سیالکوٹ اور اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں اس کا کیا حل نکالا جائے گا۔ صحافی و تجزیہ نگار ندیم فاروق پراچہ کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں اس وقت یہاں سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ ہم ایک ناکام ریاست بننے کے دھانے پر ہیں۔

مہاجرین کو نکالنے سے پہلے پاکستان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ پاکستان کا تاریخی طور پر افغانستان میں کیا کردار رہا ہے۔ اور ہمیشہ کی طرح پاکستان اپنے کیے کا الزام آوروں پر لگا رہا ہے اور ماضی سے نہ سیکھتے ہوئے پھر سے وہی غلطیاں دوہرا رہا ہے۔ افغان مہاجرین کا پاکستان کے مسائل میں کوئی کردار نہیں بلکہ پاکستان کی اپنی ناکام پالیسیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور اس طرح اب اپنے مسائل کو مہاجرین سے جوڑنا مہاجرین کے ساتھ زیادتی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کا حل بہتر معاشی پالیسی، وقت پر انتخابات کرنا اور مذہبی انتہا پسندی کم کرنے میں ہے۔

Facebook Comments HS