زندگی کی تلخ حقیقتیں
ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر دوسرا نکاح بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ پہلی شادی یا نکاح کے ٹوٹنے کا الزام بھی اکثر عورت کے سر پر آتا ہے۔ پھر آج کل یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ پڑھی لکھی عورتوں میں شرح طلاق زیادہ ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ باشعور ’خود مختار‘ پڑھی لکھی ہونے کے ساتھ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا جانتی ہیں۔ لیکن ابھی بھی بہت سارے گھرانے ایسے ہیں جہاں پڑھی لکھی بیٹیاں اپنے حق کے لیے صرف اس لیے نہیں بولتیں کہ اولاد ان کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے۔ بچوں کا مستقبل آڑے آ جاتا ہے یا ماں باپ کی دی ہوئی قسم ’جڑے ہوئے ہاتھ کہ ان کی عزت کی لاج رکھی جائے‘ رشتہ دار کیا کہیں گے ان کی سوچوں کو باندھ دیتا ہے لہذا صبر کر لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ضرور اجر دے گا وغیرہ وغیرہ۔
یہ وقت اپنی سوچ کو بدلنے کا ہے۔ جہاں وقت بدل گیا ہے وہاں ان فرسودہ روایات کو بھی بدلنا چاہیے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کی تربیت اس طرز پر کرنی چاہیے کہ وہ کسی بھی قسم کا ظلم نہ نہ سہیں۔ ان کو سمجھائیں اور رخصتی کے وقت خاص طور پر یہ باور کروائیں کہ اگر اس گھر میں تمہاری ذات کی کوئی اہمیت نہیں یا حق تلافی کی جاتی ہے تو واپسی کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں۔ بیٹی کی جان سے بڑھ کر ’اس کی خوشی اور سکون سے بڑھ کر والدین کے لیے کچھ نہیں ہونا چاہیے۔
یہ ایک الگ بات ہے کہ بات علیحدہ ہونے تک نہ آئے کیونکہ یہ یاد رکھا جائے کہ گھروں میں چھوٹے موٹے جھگڑے ہوتے رہتے ہیں ظاہر ہے کہ جب دو برتن ہوں گے تو آپس میں ٹکرائیں گے ضرور اور شور بھی برپا ہو گا۔ مسائل کو یا باہمی اختلافات کو بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے لیکن مسلسل تذلیل اور ظلم برداشت نہیں ہوتا یا کسی حد تک ہی برداشت کیا جا سکتا ہے اس حقیقت سے بھی منہ نہیں موڑا جا سکتا۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر شادی کے اوائل میں ہی ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوتی یا لڑکے میں کوئی ذہنی یا کوئی اور مسائل نظر آتے ہیں تو لڑکی کے لیے یہ راستہ کھلا ہونا چاہیے کہ وہ اپنے والدین کو اپنے حالات بتا سکے۔ اس کے علاوہ بھی اگر زندگی میں کبھی محسوس ہو کہ راستے الگ ہونے چاہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ زندگی ایک بار ملتی ہے اور اس کو بھرپور گزارنے کا حق سب کو حاصل ہے۔ رو دھو کر ہر بات پر اپنی نفی کر کے ’اپنی تذلیل کرا کے زندگی گزارنے سے بہتر ہے کہ الگ ہو جائیں اور پر سکون زندگی کا آغاز کریں۔
ظاہر ہے یہ اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا کہنا اور لکھنا ہوتا ہے لیکن ذہنی مریض بننے‘ گھٹ گھٹ کر جینے یا موت کو گلے لگانے سے کہیں بہتر ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر اکثریت ان خواتین کی ہے جو معاشی طور پر خود مختار نہیں ہوتیں ایسی صورتحال میں وہ اتنا بڑا فیصلہ نہیں لے سکتیں کیونکہ والدین بھی عمر کے اس حصے میں ہوتے ہیں جہاں وہ اپنی بیٹی کا اور ر اس کے بچوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے اور بھائی ’بھابھی بھی اس اضافی بوجھ کو اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ایسی صورتحال میں لڑکی سوچتی ہے کہ کوئی بات نہیں مار کھا کر اپنی تذلیل برداشت کر کے گزارا کر لے گی لیکن بچوں کو در بدر نہیں ہونے دے گی۔ دوسری صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ ماں کو اولاد سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک ماں کے لیے نا قابل برداشت ہوتا ہے۔
ہر عورت اپنی پوری کوشش کرتی ہے کہ اس کا گھر بسا رہے۔ اس لیے وہ ساس سسر کی خدمت بھی کرتی ہے ’نندوں اور ان کے سسرال کا بھی ہر طرح سے خیال رکھتی ہے‘ خاطر داری میں کوئی کمی نہیں آنے دیتی ’جان مار دیتی ہے لیکن اس کے باوجود سسرال والے خوش نہیں ہوتے اور انجام وہی ہوتا ہے جو کوئی بھی عورت نہیں چاہتی۔ زیادہ تر گھروں میں نندوں کا راج چلتا ہے۔ شادی شدہ ہونے کے باوجود جس گھر میں فیصلے شادی شدہ نندیں کریں اور گھر کے مرد صرف وہ کرتے‘ سنتے یا سوچتے ہوں جو ان کو دکھایا یا بتایا جاتا ہو تو وہ گھر جلد ہی تباہ ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی گھر کی خوشحالی اس گھر کے مردوں کا مضبوط ہونے اور رشتوں میں توازن رکھنے پر منحصر ہے۔
اگر پہلی شادی ناکام ہو جاتی ہے وجہ کوئی بھی ہو ’تو ہمیں اس کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے نہ ہی طعنے دینے چاہیے۔ جیسے ہم زندگی میں مختلف تجربات سے گزرتے ہیں تو اس کو بھی ا ایک بھیانک تجربہ سمجھ کر بھول جانا چاہیے اور آگے بڑھنے میں ہی حکمت ہے۔ ہمیں لوگوں کی باتوں کے ڈر اور خوف کی وجہ سے اپنی زندگی اور خوشیاں برباد نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی کسی کو اتنا حق دینا چاہیے کہ وہ آپ کے لیے مشکلات پیدا کرے یا زندگی کو اجیرن کرے۔
اسی طرح مرد اور عورت دونوں کو محبت کرنے کا حق بھی حاصل ہے اور محبت میں پہلی دوسری کی گردان نہیں ہوتی۔ محبت تو بس ایک خوبصورت جذبہ ہے جو کبھی بھی ’کسی سے بھی اور کہیں بھی ہو جاتی ہے۔ اس میں کیوں‘ کیسے اور کہاں جیسے سوال نہیں ہوتے ’نہ یہ پوچھ کر یا اجازت لے کر ہوتی ہے۔ ہاں اپنے دائرے کو یا حدود کو پار نہیں کرنا چاہیے اور اگر محبت ہو گئی ہے تو اس کو نکاح کی شکل دے دینا سب سے خوبصورت عمل ہے۔ پھر جب نکاح ہو گیا تو دوسرے یا تیسرے نکاح کی گردان فضول ہو جاتی ہے۔
اسلام نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے اسی طرح اگر عورت کی کسی وجہ سے پہلی شادی ناکام ہو جاتی ہے تو اس کے دوسرے نکاح میں قباحت کیسی؟
ماہرہ خان کی شادی کی تقاریب کی تصاویر جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو لوگوں نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق باتیں بنائیں اور شاید یہ باتیں ان کو اور ان جیسی کئی خواتین کو سننی پڑتی ہیں۔ ماہرہ خان نے ایک خوبصورت رشتے کا انتخاب کیا اور ایک نئے سفر کا محبت سے آغاز کیا۔ خوشی اور سرشاری ان کی تصاویر سے واضح ہے۔ اپنے نوجوان بیٹے اور بھائی کا ہاتھ پکڑ کر انتہائی سکون اور اطمینان سے تمام تقریبات کو بخوبی نبھایا۔ سلام ہے اس بچے پر جس نے ماں کا ساتھ دیا۔ اس کی خوشیوں کو مقدم جانا اور برابر کھڑے ہو کر فرماں بردار اولاد ہونے کا نہ صرف ثبوت دیا بلکہ حق بھی ادا کیا۔ ماہرہ خان ستاروں جیسے جھلمل کرتے لباس میں کوہ قاف کی شہزادی معلوم ہوئیں جو اپنے شہزادے سلیم کے ساتھ بہت خوش اور مطمئن نظر آئیں۔
اللہ اس جوڑے کی خوشیاں سلامت رکھیں اور ہمیں مثبت سوچنے کی صلاحیت عطا کریں۔ دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہونے والا اور سراہنے والا بنائیں اور آسانیاں بانٹنے والا بنائیں۔
لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے عام طور پر لڑکیوں کو ماہرہ خان یا ان جیسی دوسری لڑکیوں یا خواتین کو رول ماڈل بنا کر ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے حالات و واقعات یکسر مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اداکاروں ’فلم اسٹاروں‘ گلوکاروں کی زندگی جتنی ہمیں دور سے گلیمرس اور خوبصورت نظر آتی ہے حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا نہ ہی ہم حقیقی زندگی میں ان کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔ اکثر جو کہانیوں ’ڈراموں یا فلموں میں دکھایا جاتا ہے وہ لکھی گئی کہانیاں ہیں اور آج کل کے ڈرامے تو ویسے ہی گمراہی کی طرف لے کر جاتے ہیں۔
گھر بسانے کے لیے قربانی ہمیشہ ایک عورت کو ہی دینی پڑتی ہے اور اپنی انا کو مار کر زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ جیسا ہم سوچیں ویسا ہمیں شریک حیات ملے یا ذہنی و آپسی ہم آہنگی ہو ’ہماری زندگی میں شامل ہونے والا شخص ہمارے خوابوں کو سمجھ سکے اور ہمارا ساتھ دے سکے۔ جب اولاد ہو جاتی ہے تو اپنے خواب منوں مٹی تلے دفن کر کے ان کی تربیت میں لگ جانا چاہیے تاکہ ان کو ایک اچھا اور تابناک مستقبل مل سکے۔
یہ سب کہنا بھی آسان ہوتا ہے کہ کمپرومائز یعنی حالات سے سمجھوتہ کر لینا چاہیے لیکن جس پر گزرتی ہے وہی بہتر جانتا ہے کہ زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہوتی لمحہ بہ لمحہ کیسے خود کو کانٹوں پر گھسیٹنا پڑتا ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں کوشش کریں کہ طلاق تک نوبت نہ آئے لیکن جب بات حد سے گزر جائے تو اپنی مالی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کر لینا بہتر ہوتا ہے لیکن یہ یاد رکھیں کہ والدین یا بہن بھائی کب تک آپ کا بوجھ اٹھا پائیں گے آخر وہ بھی اکتا جائیں گے۔
لہذا ٹی وی ڈراموں یا فلموں کا اثر نہ لیں وہ دنیا بناوٹی ہے ہم عام انسان ہونے کے ناتے ایسے بڑے فیصلے اتنی آسانی سے نہیں لے سکتے اور نہ ہی حالات اچانک سے ڈرامے کی آخری قسط کی طرح ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اچھی زندگی گزارنے کے لیے ہمیں محنت ’محبت‘ درگزر ’جدوجہد اور قربانیوں سے آبیاری کرنی پڑتی ہے اور ہمیں تلخیوں کو بھلا کر اچھے وقت کو یاد کر کے خوش ہونے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔


