وہی گھسے پٹے مناظر
کیا کبھی آپ کو کوئی ڈراما دیکھتے ہوئے ایسا لگا کہ ارے سین یہ تو ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ Dejavu
آپ ٹھیک سمجھے ہیں۔ کچھ سین ایسے ہیں جو مختلف ڈراموں میں دہرائے جاتے ہیں۔ آئیے ایسے سین پر بات کرتے ہیں جو ہر ڈرامے میں بار بار دکھائے جاتے ہیں۔
تھپڑ والا سین۔
تقریباً ہر ڈرامے میں ایک تھپڑ والا سین ڈال دیا جاتا ہے شاید لہو کو گرمانے کے لیے۔ دیکھنے والے بھی اس تھپڑ کو دیکھ کر شاید کچھ خوشی محسوس کرتے ہوں کیونکہ سارا ملک ہی سیڈیزم کا شکار ہے۔ دوسرے کی توہین اور تذلیل ہوتی دیکھ کر ایک کمینی سی مسرت ہوتی ہے۔ یہ تھپڑ کبھی ساس اپنی بہو کو لگاتی ہے۔ کبھی بہن اپنی بہن کو اور کبھی سہیلی اپنی بیسٹ فرینڈ کو، کبھی ماں اپنی بیٹی کو اور کبھی باپ اپنے بیٹے کو۔ حال ہی میں ایک ڈراما دیکھا جس میں باپ اپنے جوان بیٹے کو سب کے سامنے زور کا تھپڑ رسید کرتا ہے کیونکہ بیٹے نے ارینج میریج سے انکار کیا تھا۔ تشدد صرف کرنا ہی نہیں ہوتا، ہوتے ہوئے دکھانا بھی غلط ہے۔
چائے کی ٹرالی والا سین۔
حد ہے بھئی اب بھی لڑکیوں کو رشتہ لانے والوں کے سامنے ٹرالی سجا کر لانا ہوتا ہے۔ بجائے اس کہ اس بے ہودہ رسم کو ختم کیا جائے ہمارے ڈرامے اسے فروغ دے رہے ہیں۔ آنے والیاں لڑکی کو تولنے والی نظروں سے دیکھتی ہیں، لڑکی اپنے آپ میں سمٹ جاتی ہے۔ وہیں سب کے سامنے کچھ کھسر پھسر بھی ہوتی ہے جو لڑکی کے کانوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لڑکی پسند آ گئی تو اس کے بعد منگنی، ڈھولک، مایوں، مہندی اور شادی کے وہی گھسے پٹے سین۔ لڑکی پسند آئے تو تو پھر وہی رونا دھونا اور سوگواری۔
جنازے والا سین
کچھ عرصے سے ڈراموں میں جنازے والے سین ڈالے جانے لگے ہیں۔ کسی کی وفات ہو جائے تو اس سین کو اس قدر طول دیا جاتا ہے کہ طبیعت مرجھا کر رہ جاتی ہے۔ عورتیں بیٹھی سیپارے پڑھ رہی ہیں یا کھجور کی گٹھلیوں پر کچھ پڑھا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی اونچی سرگوشیوں میں غیبت بھی جاری ہے جو گھر والے بھی سن لیتے ہیں۔ پھر جنازہ اٹھنے کا وقت آتا ہے تو کسی جوان لڑکی کی چیخ و پکار مچ جاتی ہے۔ ’نہیں۔ میرے بابا کو مت لے کر جاؤ۔ میں نہیں جانے دوں گی۔ بابا۔ بابا۔ اٹھ جائیے۔ آنکھیں کھولیے‘ ۔ یہ سین کئی بار کئی ڈراموں میں دیکھا۔ اس کے بغیر بھی کہانی آگے بڑھ سکتی ہے لیکن ناظرین کو جذباتی مناظر دکھا کر افسردہ کرنا شاید بہتر سمجھا جاتا ہے۔
شاپنگ مال والا سین
جب سے نئے ماڈرن شاپنگ مال بڑے شہروں میں کھلے ہیں ہمارے ڈرامے بھی اس کے سحر میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ہر دوسرے تیسرے ڈرامے میں مال کا چکر ضرور دکھایا جاتا ہے۔ وہی مال، وہی دکانیں، وہی اسکیلیٹر، اور ویسی ہی سچویشن۔ یہاں اتفاق سے کسی کی کسی سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے۔ کوئی کسی کو رنگے ہاتھوں پکڑ بھی لیتا ہے۔ کوئی چھپ کر خود کو بچا لیتا ہے۔ شاپنگ مال ڈرامے کو موڑ دینے کے کام آتا ہے۔
عدالت کا سین
یہ سین اکثر ڈراموں میں تو نہیں ہوتا لیکن کچھ میں ضرور دیکھا۔ اس سین پر سب سے کم محنت کی جاتی ہے۔ نہایت گھٹیا اور غیر معیاری سین۔ کوئی محنت نہیں کی جاتی کوئی تحقیق بھی نہیں کی جاتی کہ عدالت لگتی کیسے ہے اور عدالتی معاملات کیسے نبٹائے جاتے ہیں۔ بس ایک جج بٹھا دیا، دو وکیل کھڑے کر دیے اور روتا پیٹتا مدعی۔
گانے
اب ہمارے ڈراموں میں ایک عدد گانا بھی ہوتا ہے۔ ہر ڈرامائی سچویشن پر یہ گانا بجایا جاتا ہے اور کافی وقت اس پر ہی صرف ہو جاتا ہے۔ ایک بڑا پیارا گیت تھا ’مجھے پیار ہوا تھا‘ اس گیت کو اسی نام کے ایک ڈرامے میں اتنا چلایا گیا کہ اچھا خاصا میٹھا گیت دل سے اتر گیا۔ ڈرامے کی قسط کا کافی حصٓہ گانے کے زور پر ہے۔


