ملک چھوڑ کر جاتے قابل جوان اور ایوان میں سوتے گدھ


”میں ملک چھوڑ کر جانے کے سخت خلاف تھا اور دیکھو آج ہم ملک سے جانے کی تیاری کر رہے ہیں، ایک مرتبہ میں کسی کو ائر پورٹ پہ لینے گیا، وہاں ایک فیملی دکھی، ایک آدمی جا رہا تھا اس کی چھوٹی بچی بلک رہی تھی، اس کی ماں تڑپ تڑپ کر اس سے لپٹ رہی تھی، اور اس کی جوان بیوی خاموش کھڑی تھی، تب میں نے ایک تحریر لکھی تھی، کہ جب یہ لوٹ کر آئے گا اس کی بچی جوان ہو گی، اسے عمر بھر باپ کا پیار نہیں ملے گا، اس کی بیوی کے بالوں میں چاندی اتر آئے گی اور شاید یہ اپنی ماں سے آخری مرتبہ گلے مل رہا ہے، وہ تحریر لکھتے ہوئے میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اک روز میں بھی یہ ملک چھوڑ جاؤں گا لیکن یہاں اپرچونٹی ہی نہیں ہے تو ہم کیا کریں“

چمکیلی بھوری آنکھوں والے اس ذہین لڑکے کی اگلے ہفتے اس ملک سے روانگی ہے، اس ملک سے جس سے اسے بے انتہا پیار رہا، اس ملک سے جس کا مقابلے کا امتحان اس نے دو مرتبہ پاس کیا، اس ملک سے جس کی مٹی میں اس کے اپنے دفن ہیں۔ جب وطن نے سولہ ملکوں میں تقریری مقابلے جیتنے والے نوجوان کو اس کی محنت کا صلہ نہ دیا تو اس نے پردیس کے لیے رخت سفر باندھ لیا، ولی برانڈٹ سکول آف پبلک پالیسی میں ہر سال دنیا بھر سے فقط پچیس بچے لیے جاتے ہیں، اور امسال پاکستان سے جانے والا وہ واحد لڑکا ہے۔

گزشتہ چند دنوں سے سفر کی تیاریاں عروج پر ہیں، کبھی خریداریاں کی جا رہی ہیں تو کبھی سامان پیک کیا جا رہا ہے۔ اور چند دنوں میں وہ یہاں سے چلا جائے گا، عین ممکن ہے کہ اب وہ زندگی وہیں بنائے گا، موہوم سا امکان یہ بھی ہے کہ کچھ سالوں میں وطن لوٹ کر پالیسی میکنگ کرے۔ لیکن میری دلی خواہش ہے کہ وہ یو این میں پہنچ جائے، اور جتنی اس شخص کی قابلیت ہے وہ ویسی ہی کسی جگہ پہ جچے گا۔

لیکن یہاں سوال فقط اس ایک جوان کا نہیں ہے، یہاں ان ہزاروں لاکھوں جوانوں کے مستقبل کا سوال ہے، ہم ہمیشہ یہ بحث بہت شوق سے کرتے ہیں کہ ہم نے ملک کو کیا دیا؟ سوال یہ ہے کہ جنہوں نے حقیقتً ملک کو اپنی جوانی کے بہترین سال دیے، نام دیا، شہرت دی، انہیں ملک نے کیا دیا؟ میرے حلقہ احباب میں جتنی تعداد امتحان پاس کر کے افسر لگنے والوں کی ہے شاید اس سے زیادہ امتحان پاس کر کے بھرتی نہ ہونے والوں کی ہے، جب ایک نوجوان چار پانچ سال کی محنت کے بعد امتحان پاس کر لیتا ہے اور سیٹوں کی کمی کے باعث اسے بھرتی نہیں کیا جاتا تو سٹیٹ کی ذمہ داری ہے اس کے مستقبل کی ضمانت لے، جب سٹیٹ پاس کرنے والوں اور فیل ہو جانے والوں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کرے، سفارش اور پیسوں کے عوض گدھے بھرتی کرے تو وہ اسی قابل رہ جاتی ہے کہ ٹیلنٹ ایک ٹکٹ کروائے اور کسی ایسے دیس نکل جائے جہاں ٹیلنٹ کی قدر ہو، جہاں محنت کا ثمر ہو۔

اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس جوان نے اس ملک کو چھوڑنے کا بہت اچھا فیصلہ کیا ہے، ایسے فیصلے ہم میں سے ہر ایک کو بروقت کرنے چاہیں۔ کہ زندگی انسان کو ایک ہی دفعہ ملتی ہے، اسے کسی ایسے ملک کے لیے ضائع نہیں کرنا چاہیے جس کے ایوانوں میں گدھ بیٹھتے ہوں، اور دفاتر میں گدھے! بحیثیت قلم کار میرا تمام قارئین سے یہی اک سوال ہے کہ اس برین ڈرین کی وجوہات کو فراموش کرنے سے گریز کریں، کسی کاغذ پہ ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی“ لکھیں، اسے پھاڑ کر پھینک دیں، پھر جلا ڈالیں، سوال کریں اس ملک کا نظام چلانے والوں سے کہ ان کے جو حقوق آئین کے دوسرے باب میں لکھے پڑے ہیں ان پہ کس تعلیم یافتہ ریڑھی بان سے پکوڑے لے کر رکھ کر کھائے جائیں؟

Facebook Comments HS