کبھی ہم بھی خوبصورت تھے: اندرون راولپنڈی اور گنگا جمنی تہذیب
تہذیب، تمدن، ادب، گنگا جمنی ماحول اور ایسے کئی الفاظ کا تعلق لاہور، دلی اور لکھنؤ سے تو بارہا جوڑا گیا مگر راولپنڈی کو ہمیشہ ادیب اور تاریخ دان ایک چھاؤنی کے طور پر ہی پرکھتے رہے۔ کسی قرۃ العین حیدر نے صرافہ بازار کے شیعہ کلچر اور محرم کے مہینوں کی پرسوز چہل پہل میں مختلف مذاہب کی ہم آہنگی کا ذکر نہیں کیا۔ کوئی انتظار حسین بنی اور کرتار پورہ کے مندروں کو دیو مالائی رنگ نہ دے سکا۔ یہ بیڑہ اٹھایا، کامسیٹس یونیورسٹی کے ایک نوجوان طالبعلم نے اندرون شہر کی خاک چھان کر، اس گنگا جمنی تہذیب کے اثرات ڈھونڈے، جس کو مٹے ابھی 80 سال بھی نہیں ہوئے۔ مغرب میں بیشتر اور ہمارے مشرق میں چند افراد کی اوسط عمر 80 سال سے زیادہ ہوتی ہے اور ایک عام انسان کی اوسط عمر کے اندر اندر ایک سینکڑوں سال سے پروان چڑھتی تہذیب، نفرت اور انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ کر فنا ہو گئی۔
گھر سے نکلتے وقت یہ اندازہ نہ تھا کہ دراصل آج کے ٹور کا حاصل کیا ہو گا۔ صرف نان چنوں کا ناشتا اور دیگر ممبران سے گپ شپ ہی ہو گی یا واقعی راولپنڈی کا تہذیبی ورثہ کھنگالا جائے گا۔ اختتام کے بعد احساس یہی تھا کہ ٹیکسلا یا گندھارا تہذیب کی طرح 1000 ہزاروں سال کا قصہ تو نہیں، مگر برس دو برس کی بات بھی بہرحال نہیں۔ تقسیم سے پہلے گنگا جمنی تہذیب کے رنگ اور ان رنگوں کا بدلنا اس ٹور کا بہترین حصہ تھا۔ اس وقت کی بین المذاہب ہم آہنگی اور تعمیری کشمکش بھی ان دو سے تین گھنٹوں میں بخوبی واضح ہوئی۔ چونکہ دو دن بعد جشن ولادت رسول ﷺ تھا، سو اندرون شہر کی رونق اپنے جوبن پر تھی۔
شروعات عصر حاضر کے شاہکار اور موجودہ ملکی صورت حال کے تناظر میں کچھ عجوبہ کے برابر، میٹرو بس کے تھانہ وارث سٹیشن کے نیچے سے ہوئی۔ مری روڈ پر ٹریفک کا شور۔ فٹ پاتھ پر بھی پیدل چلنے والوں کا ہجوم تھا۔ چونکہ اتوار کو مری روڈ کی دکانیں کھلی ہوتی ہیں لہٰذا رش حد سے سوا تھا۔ گروپ لیڈر نے اپنی لیڈرانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے گروپ کے ممبروں کو ایک ساتھ رکھنے کی کافی کوشش کی مگر کیبنٹ اور کابینہ کے ممبروں کی طرح گروپ ممبر بھی فاصلے پر ہی رہے۔ کسی کو ہر گلی اور چوبارے کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنا تھا تو کسی کو چائے کی طلب بار بار ہوتی تھی۔
مرکزی مری روڈ سے بائیں ہاتھ بنی چوک کی طرف مڑے تو راستے میں قندیل سکول برائے نابینا طلبہ کے آگے ٹھیکی لی۔ معلوم ہوا کہ تقسیم سے پہلے یہ جگہ لالہ کلیان داس سوری کی ملکیت تھی اور انہوں نے بھگوان کرشن کو دان کر دی اور ایک عظیم الشان مندر تعمیر کروا دیا۔ سیالکوٹ سے راولپنڈی کی مہاجر ہندو برہمن خاتون نے خود ہمارے گائیڈ کو اس مندر کی روداد سنائی۔ اس کرشنا مندر کی تعمیر لگ بھگ 1850 ء میں ہوئی اور اس وقت اس کا رقبہ تقریباً 250 کنال تھا اور سوری محل تک اس کے نشان جا پہنچتے تھے۔
دو سو سے زائد کمروں کے ہاسٹل بھی اس مندر سے ملحقہ تھے جن میں یاتری اور طلباء کا قیام ہو گا۔ کشمیر کو جانے والا راستہ بھی اس زمانے میں واحد یہی تھا، اس لئے امرناتھ یاترا پر جانے والے ادھر سے گزر کر جاتے تھے۔ 1946 ء کا سن، راوی ہمارے گائیڈ کی وہ ہندو برہمن خاتون ملاقاتی، تمام یاتری جمع، جذبۂ دینی سے سرشار، بھگوان کرشنا ساک شاتھ آسمانوں سے پدھارے اور تقسیم سے صرف ایک برس پہلے اس دھرتی کو اپنے درشن کرائے۔
راولپنڈی کی قدرے بے دین اور روکھی تاریخ میں ایک یہ روح پرور واقعہ تھا اور دوسرا شاید شاہ فیصل کا یہاں سے کچھ کلومیڑ دور فیصل مسجد بنوانا۔ بھگون کرشنا کے اجتماعی دیدار کو ابھی 75 سال بھی پورے نہیں ہوئے کہ ان کا مندر سمٹ کر کچھ سکوائر فیٹ پر آ گیا ہے اور ان لوگوں میں گھر گیا ہے جو شاید آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے اور ان کے حلقے سے باہر وہ لوگ ہیں جن کے دل کی آنکھ بند ہے۔ جب فیض صاحب دل کے رخسار پہ یاد کا ہاتھ رکھ سکتے ہیں تو ہم دل کی آنکھ بند ہونے کا شکوہ کیوں نہیں کر سکتے۔
وقت، قدرت اور زمانہ کتنا بے رحم ہوتا ہے، اس کا اندازہ مسجد قرطبہ سے لگائیں، ایتھنز کے کھنڈرات سے لگائیں یا کلیان داس سوری کے مندر سے لگائیں۔ یورپ کے کھنڈرات صدیوں پرانے ہیں مگر اس مندر کی شکست و ریخت تو نصف صدری ہی کا قصہ ہے۔ دل کی آنکھ بند ہے تو ان کو کھنڈرات بننے دیا اور اب بھی مزید کھنڈر کرنے کو تیار ہیں۔ میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ بحیثیت قوم امریکہ شاید دنیا میں ایٹم بم اور جنگوں کا داعی ہے تو اس کی وجہ اس علاقے میں تہذیبوں کی شکست و ریخت کے آثار کا فقدان ہے۔
اس دھرتی پہ شاید لوگ، عمارتیں، جگہیں وقت کے ہتھے نہیں چڑھیں سو ان کو اس تباہی کا اجتماعی شعور نہیں مگر ہماری سرزمین پر تو صدیاں بیتیں ہیں پھر ہمارے دلوں کی آنکھیں کیوں بند ہیں۔ وقت مذہب کے ٹھیکیداروں سے بھی عجب مذاق کرتا ہے۔ کوئی فاتح اپنے دین اور اپنے خدا کے لئے الگ زمین نہیں ڈھونڈتا بلکہ پچھلے خداؤں کو مسمار کرنے میں ہی اصلی فتح جانتا ہے۔ کون جانے آسمانوں کے اس بار خدا بھی خدا سے میٹنگ کرتا ہو اور یہ فیصلے وہاں ہوئے ہوں کہا اب کس کلیسا کو مندر اور کس مندر کو گوردوارہ بننا ہے اور یہ آپ ہم بس مہروں کے طور پر ہی کام کرتے ہوں۔
کلیان داس سوری کے مندر میں 1946 ء میں شاید بھگوان کرشن یہی پیغام لائے تھے کہ اوپر میٹنگ ہو گئی ہے اور مندر کا ہاسٹل اب مدرسے کے بچوں کا مسکن ٹھہرے گا۔ کوہاٹی بازار کے چوباروں سے تکنے والے بچے اور دکانوں پر بیٹھے مختلف رنگ و نسل کے لوگ اس بات سے یکسر انجان تھے کہ کچھ دہائیوں میں اس چھوٹے سے خطے میں کیا کیا ہو گیا۔ یا شاید کچھ بھی نہیں ہوا۔ تقسیم کا واقعہ جس میں واقعی سب کچھ تقسیم ہو گیا 75 سال بعد بھی ان لوگوں کی سیاسی، سماجی، معاشرتی، دینی اور تہذیبی زندگی پر اثر انداز ہے۔
مائی ویرو کی بنی اگلا پڑاؤ تھی۔ راوی ایک 86 سالہ فروٹ چاٹ فروش تھا جس نے ٹور گائیڈ کو بتایا کہ کچھ دہائیاں یا قریباً ایک صدی پہلے جب عمارات، گاڑیوں اور انسانوں کے جم غفیر نے راولپنڈی کے خد و خال کو بگاڑا نہیں تھا تو یہ مارگلہ پہاڑوں کی ملحقہ وادی تھی جس میں بے شمار ندی نالے پہاڑوں کا پانی لے کر آتے تھے۔ مائی ویرو نے بنی کے مقام پر یہ پانی کا حوض تعمیر کیا جس میں قدرتی چشمے کا پانی ایک طرف سے آتا اور دوسری طرف سے نکل جاتا تھا۔
یوں صفائی بھی برقرار رہتی اور پانی کی تبدیلی کا عمل بھی قدرت کے آسرے پر رہتا۔ مسافر اور مقامی لوگوں کے لئے مائی ویرو کا یہ انمول تحفہ تھا جس کے گرد اب گورنمنٹ نے دیوار چن دی ہے۔ چشمے، پانی اور ندی نالے تو اب شہر کے مکینوں کے لئے ویسے ہی خواب اور خیال ہو گئے ہیں۔ ہاں اس جگہ کے پاس پھولوں کے انبار شاید اب بھی مائی ویرو کے شکریے کا استعادہ ہیں۔ یہاں راولپنڈی کی پھولوں اور ہاروں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ پانی اور پھولوں کا تحفہ دے کر مائی ویرو بھی شاید تقسیم ہو گئی۔ کہانی اور بنی ادھر رہ گئی اور راکھ شاید لکیر کے اس پار چلی گئی۔ اس تقسیم کا درد سالوں بعد بھی راج کمار کیسوانی کی نظم میں موجود ہے۔
مجھے پتہ کہاں تھا تب
کہ میرے ماں باپ کو
کر دیا گیا تھا بے دخل
ان کی اپنی زمین میں سے
محض اس لیے کہ
نہرو اور جناح کی
بن نہیں پا رہی تھی آپس میں
اس علاقے میں سوری خاندان کی ایک حویلی اب بھی دروازے اور کچھ کھڑکیوں سے اپنے تابناک ماضی کی یاد لئے ایستادہ ہے۔ دروازے کے اوپر محراب میں تین سوریوں کے نام کنندہ ہیں۔ طول و عرض پر پھیلی حویلی کے حصے بخرے تقسیم کے بعد ہو گئے۔ تقسیم سب کچھ تقسیم کر گئی۔ مہاجروں کی تعداد اور کلیم اس قدر تھے کہ ہر شے کی تقسیم ضروری تھی۔ کچھ سال اور گزرے کہ ڈھاکہ، راولپنڈی اور دلی کا چاند بھی تقسیم کی زد میں آ گیا۔ ایک گلی میں کھانے پینے کی اشیاء کے عین وسط میں نوری محل ایستادہ تھا۔
گائیڈ نے جب یہ بتایا کہ سوری محل کو تقسیم کے بعد باقاعدہ کلمہ پڑھا کر نوری محل کیا گیا تو گردش رنگ چمن بغل میں دابے عینی بی بی ہماری نگاہوں کے آگے آن کھڑی ہوئیں۔ اندر کا ماہر نفسیات بھی جاگا کہ رات و رات سید اور کاشغری اور پٹھان ہونے والوں کی مری ہوئی سیلف اسٹیم پر تو ہم گھنٹوں بول سکتے اور عینی بی بی کی عمر اجازت دیتی تو اس عمل کی سائنسی توجہی بھی پیش کر سکتے مگر عمارتوں کی بھی کیا کوئی نفسیات ہوتی ہے۔
اینٹ، پتھر اور گارا، سیمنٹ بھی نام بدلنے پر اپنے مکینوں پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہو سکتے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب تو خیر یہاں دینا ممکن نہیں مگر ہمارے اندر کے پرانے مولانا کو بھی نوری محل مسلمان ہونے کے بعد کافی نورانی لگا۔ اس وقت کے مزدور نے لکڑی کے جھروکوں کی جگہ پتھر اور سیمنٹ کے جھروکے بنائے جو دیرپا ہوں گے مگر نام رہے اللہ کا۔ جھروکے تو کسی نہ کسی طور موجود ہیں مگر مکین اور ان کی نسلیں شاید ایک دہائی بھی سکون سے یہاں نہ بس سکے۔ عمارت کی پیشانی پر 1938 ء کی تاریخ اس بات کی چغلی کھاتی ہے کہ یہ محل زیادہ عرصہ اپنے بنانے والوں سے وفا نہ کر سکا۔
طویل رقبہ پر پھیلا یہ محل جو شاید کلیان داس سوری کے مندر سے جا ملتا تھا اب باقیات کے طور پر صرف پیشانی بچی ہے اور اندر گاڑیوں کی پارکنگ اور سروس سٹیشن۔ یہاں لوگ ہمیں غیر ملکی یا ہندوستانی سیاح سمجھ کر عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ 2005 ء اور 2008 ء میں سوری خاندان کے اس وقت کے انتہائی امیر چشم و چراغ اپنی حویلی کا دورہ کرنے آئے تھے اور ان کے ذہن میں کوئی پلان بھی تھا مگر پلان اپنے آباء کے ورثے کو آگے لے کر چلنا نہیں بلکہ ان کے نام کو کیش کر کے سرحد کے اس پار بھی اپنا موجودہ کاروبار چمکانا تھا۔ ان کی نیت اور دونوں ملکوں کے تعلقات نے اس کہانی کو آگے بڑھنے سے پہلے ہی انجام دے دیا۔ کلدیپ کمار نے اس درد کو اپنی نظم میں یوں سمویا ہے :
کیا مجھے بھنک بھی ہے کہ وہ دکان کہاں چلی گی
جہاں خریدتے تھے پتنگ
ان بڑے میاں پتنگ ساز کے گھر کا کیا ہوا
جو جل گیا تھا پچھلے دنگے میں
ان کا پورا ایک محلہ ہی تھا
یہ سب بڑی باتیں ہیں
مجھے تو یہ تک نہیں معلوم کہ
اب وہاں پہلے جیسی ربڑی کیوں نہیں بنتی
اور کیوں سون پاپڑی اب ویسی سونی نہیں رہی
اس ٹور کا سب سے تکلیف دہ پہلو پہ تھا کہ اشتہار اور پروگرام میں لکھا تھا کہ شروعات روایتی ناشتے سے ہو گی اور باقی تمام کارروائی اس کے بعد ، مگر ڈیڑھ گھنٹہ یا پیادہ خالی پیٹ تاریخ اور جغرافیہ ہضم کر کے ناشتے کا نمبر آیا۔ نان چھولے لذیذ اور راحت بخش آج سے پہلے شاید کبھی نہ لگے تھے۔ تیل میں تیرتے چھوٹے چنے اور تلوں والے نان بھی تاریخی اور تہذیبی پس منظر لئے تھے۔ معلوم ہوا کہ تقسیم کے بعد سرحد کے اس طرف سکھوں اور دیگر لوگوں نے پنڈی چھولے کے نام سے دکانیں کھول رکھی ہیں۔
اگلا پڑاؤ علاقے کی مشہور جامع مسجد تھی۔ بے انتہا رش والے بے ڈھنگے بازار سے گزر کر اس حسین عمارت کو کچھ دیر تو سب حیرانی سے دیکھا کیے ۔ کوئی بھی یہ توقع نہیں کر دیا تھا کہ اندرون شہر کے آلودہ اور بے ہنگم بازار کے وسط میں اتنی عالیشان مسجد ہو گی۔ اسلام آباد کی فیصل مسجد اور استنبول کی نیلی مسجد سے کسی طور بھی کم نہ تھی۔ گو خدا کے گھر میں مقابلے بازی کا سوال اٹھتا نہیں مگر ہمارے نا اہل اور خود پرست حکام بالا اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ جب یورپ، امریکہ میں چار پتھر جوڑ کر ٹورسٹ سپاٹ بنا کر لاکھوں روپے کمائے جاتے ہیں تو ہمارا اتنا حسین تاریخی ورثہ کیوں خود ہی اپنی حالت پہ ماتم کدہ ہے۔
مسجد کا سارا حسن اس کے نیلے رنگ کے آرٹ ورک میں تھا۔ ڈینگی سپرے چل رہا تھا اور نماز کا وقت نہیں تھا لہٰذا سکون سے مسجد کی خوبصورتی کو محسوس کیا۔ ہمارے ٹور میں شامل خواتین کو مسجد میں داخلے سے روک دیا گیا۔ دلچسپ قصہ جو ٹور گائیڈ نے بتایا وہ یہ تھا کہ یہ حسین خانۂ خدا بین المذاہب کشمکش کے نتیجے میں تعمیر ہوا۔ سکھوں اور ہندووں کی عالیشان عبادت گاہیں اس علاقے میں بکثرت تھیں چنانچہ مسلمانوں کا جذبۂ ایمانی مقابلے بازی کے لئے ہی سہی، بہرحال جاگا اور افغان شہزادے شاہ محمد ایوب شیراز حیدر کے مالی تعاون سے 1903 ء کے لگ بھگ اس مسجد کی تعمیر ہوئی۔
قریباً سوا سو سال پہلے ہم باعمل تعلیم اور تمدن میں شاید سوا سو گنا بہتر تھے اور مذہبی کشمکش میں تخریب، تنقید اور تذلیل کی بجائے تعمیر کا عنصر نمایاں تھا۔ کسی سے خود کو بہتر ثابت کرنے کے لئے اس پر خودکش حملے کے بجائے خود کو مزید نکھارنا زندگی کے اجتماعی فلسفے کا حصہ تھا جس کو وقت اور سازشوں کی گرد نے شاید دھندلا دیا ہے۔
چند گھنٹوں میں سکھ، ہندو اور سنی عمارات کے بعد اگلی منزل شیعہ تھی۔ کیا عمارتوں کا بھی دین، مذہب، فرقہ اور نسل ہوتی ہے؟ مسجد قرطبہ میں صلیبیوں اور منبر کا امتزاج دیکھے کئی برس ہو چکے تھے۔ کعبے، کلیسے کے چکر کو غالب نے 200 سال قبل انتہائی فصاحت و بلاغت سے اجاگر کیا تھا۔ عمارتوں کی نفسیات، عمارتوں کا دین، عمارتوں کی نسل ان کے بنانے والے اس پر مسلط کرتے ہیں یا یہ اینٹ پتھر کے کمرے اور دیواریں اپنے اندر بسنے والوں پر اثرانداز ہو کر ان کی نفسیات، دین اور نسل کا تعین کرتے ہیں۔
بھابھڑہ بازار کی امام بارگاہ اور شاہ چن چراغ کا مزار بھی تاریخی، سماجی اور روحانی طور پر مختلف تجربہ تھا۔ سنی اور قدرے دیوبندی خاندان سے تعلق ہونے کے ناتے روحانیت کا یہ راستہ ہم پر شاید ہوش سنبھالتے ہی بند کر دیا گیا تھا۔ مگر جس طرح انسانی جسم میں خون کی ایک بڑی شریان بند ہونے پر کئی نئی چھوٹی چھوٹی شریانیں جنم لے لیتی ہیں اور خون کی ترسیل کا کام کسی حد تک جاری رہتا ہے، اسی طرح ہماری روحانی زندگی کے اس بند راستے کے ساتھ کئی چھوٹے راستے کھلے تھے جو اس جگہ کو اندر تک محسوس کر سکتے تھے۔
ایک طرف بندھا تندرست و توانا دلدل جو مہنگائی کے اس دور میں بھی غریب فاقہ کش انسانوں کی روحانیت اور ضرورت کے سبب توانا تھا، کھانے میں مصروف تھا تو دوسری طرف قبرستان کے ساتھ ایک فقیر صوفیانہ کلام اور قوالیاں گانے میں مشغول تھا۔ ظاہری حالت چاہے فقیرانہ ہو، مگر سر کمال کا لگا رہا تھا اور ارد گرد آئے سائلوں اور سیاحوں کے کیمروں کا فوکس اس کے سر میں اور بھی جان ڈال رہا تھا۔ اس سر بکھیرتے فقیر کے پیچھے قبرستان تھا اور سامنے باب نجات۔ باب نجات کی کہانی یہ ہے کہ جو اس کے نیچے سے گزرے اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں۔ ہمیں ایک ساتھی سیاح نے الٹی طرف سے گزرنے کا مشورہ دیا جو ہم نے چنداں قبول نہ کیا کہ یہ نہ ہو کہ الٹا جانے سے دوسروں کے گناہ بھی ہمارے کھاتے میں آ جائیں۔
باب نجات کے ایک طرف سیاہ راکھ میں لپٹی قدرے تنور نما جگہ تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ شاہ چن چراغ کی چلہ گاہ تھی۔ چلہ گاہ کے پیچھے کافی پرشکوہ مزار ہے جس کے نیچے شاہ جی قیامت تک آرام کے ارادے سے لیٹے ہوئے ہیں۔ شاہ جی کا زمانہ 18 ویں صدی کے آس پاس کا ہے اور ان کی کرامات اور تعلیمات کے شیعہ اور سنی دونوں معقدی ہیں۔ یہاں متبرک نمک چکھنے کی بھی روایت ہے۔ صحن کے عین وسط میں علم گڑا ہے جس پر زائرین منت کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔
درگاہ کا متولی کم ایڈمنسٹریٹر، فیس وصولی اور دعائیں دینے کا کام بیک وقت کرتا ہے۔ آٹھ بچوں کی دعا دو سو روپے میں شکریہ کے ساتھ وصول کر کے باہر نکلے تو ارد گرد کی گلیوں کا ماحول بھی خاصا منفرد اور دلچسپ پایا۔ علم اور دیگر اشیاء جو فقہ جعفریہ کے جلوس میں استعمال ہوتی ہیں ان کی فیکٹری آؤٹ لیٹ کا سا سماں تھا۔ علم، انگوٹھیاں، چھلے، کڑے، حسنؓ، حسینؓ، زینب ؓکے نام کے سنہری، سلور اور ساہ ٹکڑے۔ روحانیت کا راستہ بھی ہرفقے میں بازار سے ہو کر ہی گزارتا ہے شاید۔
سکھ ناشتہ، سنی مسجد اور شیعہ امام بارگاہ کے بعد ایک بے نور، پرانا مندرہماری منزل تھا۔ وہ مندر جس کے بھگوان اور پیروکار دونوں ہی زمانے کی دھول میں شاید گم ہو گئے تھے۔ نجانے حقیقی دھول مٹی زیادہ ہے برصغیر پاک و ہند میں یا زمانے کی سختی شدید ہے۔ یورپ میں تو ہر آثار قدیمہ کا نام پتہ کھوج نکالا گیا ہے اور اس کو ٹکٹ لگا کر کیش کروایا جا رہا ہے اور یہ سب حکومتی سطح پر ہو رہا ہے۔ یونان کی حکومت نے غربت کی وجہ سے اس کھوج کا ٹھیکہ دوسرے لوگوں کو دیا، گو کافی معاملات طے کر کے دیا مگر پھر بھی جب ورثہ، تاریخ اور نوادرات کی چوری دیکھی تو فوراً اس عمل کو روک کر خود سب کچھ کھود نکالا اور اب دنیا کے سیاحوں کو بیچ کر اپنی مرتی ہوئی معیشت کو سہارا دیے ہوئے ہیں۔
بے نام اور بے نور مندر کھنڈر کی صورت میں اپنی تقدیر پر نوحہ کناں ہے۔ مندر کے احاطے کے داخلی دروازے پر ہندی میں ایک تحریر کندہ ہے جسے ہمارے گائیڈ نے ترجمہ کر کے یہ بتایا کہ یہ چندے کی اپیل اور وصولی کی سند ہے۔ شری مہراج گوپال داس جی نے 106 (اکائی نامعلوم کہ ٹکا یا روپیہ) دان کیے ۔ یہ دروازہ اپنے گروؤں کی یاد میں بنوایا۔ اس اجڑے بے نور مندر کی آہ و بکا کو جذب کر ہی رہے تھے کہ ہمارے ساڑھے چار سالہ فرزند ارجمند جو کہ ٹور کا فعال رکن تھا کو فطری ضرورت نے آ لیا۔
ہمیں معلوم تھا کہ گوروں کے دیس کی تربیت کے باعث جو بندوبست ضرورت پوری کرنے کا یہاں ہو گا وہ اس کے لئے قابل قبول نہ ہو گا، پھر بھی ٹور گائیڈ کے کہنے پر مندر سے منسلک ایک دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس گھر کے مکین گائیڈ سے بخوبی واقف تھے۔ ایک دراز قد خاتون نے دروازہ کھولا اور رہائش گاہ کے جغرافیے اور ارد گرد کے ماحول کے برعکس خاصے شائستہ انداز میں گفتگو کی اور بیت الخلاء استعمال کرنے کی اجازت دی۔ گو ہمارے فرزند ارجمند کو وہاں اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کی بجائے مزید مناسب جگہ کا انتظار بہتر لگا مگر اس کی بدولت اس علاقے کے گھروں اور مکینوں کو ہم نے قریب سے دیکھ لیا۔ ان بے نور مندروں کے اوپر گولیوں سے چھلنی سنہری علم نما نشانیاں اب بھی موجود ہیں۔ روایت ہے کہ انہیں گرا دو تو آنکھیں او ر ماحول بے نور ہوجاتا ہے۔ مگر ان کو گرائے بغیر بھی نور جاتا رہا ہے۔ کیا اچھا وقت تھا کہ دشمن بھی مقامی روایت کی پاسدرای کرتے تھے۔ خوف بھی سانجھا ہوتا تھا۔
ان گلیوں سے گزرتے ہوئے کیفیت انتظار حسین صاحب کی سی بھی ہوئی کہ نانی اماں بے حد یاد آئیں اور اپنے جوانمرگ ماموں بھی۔ بچپن کا وہ وقت جب خاندان میں کسی کی شادی ہوتی تھی تو خواتین موتی بازار، پرانا قلعہ اور صرافہ بازار کا رخ کرتیں۔ ہماری ہر جگہ ساتھ لے کر جانے والی نانی اماں بس وہاں ہی ہمیں لے کر نہ جاتی تھیں۔ مگر ان علاقوں اور گلیوں کا اتنا سن رکھا تھا کہ ان سے شناسائی سی محسوس ہوئی۔ چھوٹے ماموں بھی موٹر سائیکل سوار ہونے کی وجہ سے یہاں اکثر بھیجے جاتے تھے کہ گاڑیوں میں اس علاقے میں آنا دیوانے کا خواب ہی معلوم ہوتا ہے۔ صرافہ بازار میں تجوریوں کے برابر بیٹھے سنار بھی اسی گنگا جمنی تہذیب کے آخری نمائندے لکھتے جس میں ہندو بنیے اور سنا ر اپنی کنجوسی اور کاروباری رموز کے لئے مشہور تھے۔ پرانے قلعے میں عروسی ملبوسات کی دکانیں اور سلائی مشینوں کی قطار اندر قطار فروخت بھی مقامی سیاحوں کے لئے حیرت کا باعث تھیں۔
ان گلیوں اور ان کے گرد و نواح کے رہائشیوں کی اجتماعی حالت اور نفسیات بھی قابل غور چیز ہے۔ دکانوں کی اوپر نیچے اور درمیان بنے قدرے بے ڈھنگے گھر سالوں سے اپنے مکینوں کی زندگی اور خواب کو ڈھنگ اور قاعدے پر آنے نہیں دیتے۔ ان لوگوں کی قیمت شاید نسل در نسل ان دیواروں میں مفید ہے۔ تقسیم کا عمل، ارد گرد کی تہذیب کی شکست و ریخت شاید ان کی زندگی کی نس نس میں رچی ہے یا شاید بالکل ہی آزاد ہے۔ شاید اسی شکست و ریخت نے ان کی اجتماعی نفسیات کو جنم اور جلا دی ہے یا شاید ان کی زندگی اور نفسیات ازل سے ایسی ہی ہے اور ابد تک ایسے ہی رہے گی۔ ان گھروں میں رہنے والے بے حد عام لوگ شاید ہمیشہ عام ہی رہیں گے۔ سوری ہوں، سکھ ہوں یا شیخ۔ 19 ویں صدری ہو، 20 ویں یا 21 ویں ان کی زندگی پر چنداں فرق نہیں پڑا۔
ان ہی گلیوں میں بچوں، عورتوں، گدھوں اور ہر قسم کی مخلوق سے دامن بچاتے ہوئے سوجن سنگھ کی حویلی کے دروازے پر جا پہنچے۔ یہاں دراصل دو حویلیاں ایک دوسرے سے متصل ہیں اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، انہیں مقامی اور سیاح ایک ہی حویلی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایک حویلی سوجان سنگھ کے دادا بدھا سنگھ کی ہے اور زیادہ خستہ حالت میں ہے۔ یہاں اس وقت کوئی سوجان سنگھ یا بدھا سنگھ موجود نہیں جو حویلی کی حفاظت کر سکے یا سیاحوں کو اندر جانے سے روکے مگر محکمے کا تالہ اور عمارت کی شکست و ریخت اس کی حفاظت کے لئے بہت ہے۔ گو تعمیر کو صدیاں نہیں بیتی مگر جانے والے چلے گئے اور پیچھے رہ جانے والوں نے اپنی بے حسی سے ان عمارات کو کھنڈر بنا دیا۔ انسانی رویے انسانوں کو ہی ویران نہیں کرتے بلکہ عمارتوں کی روح کو بھی مار دینے کے لئے کافی ہوتے ہیں اور بے روح عمارت، مردہ عمارت کیا ہوتی ہے، آ کر اس حویلی کو دیکھ لو۔
گھر کبھی خالی نہیں رہتا
اس میں اکثر ہوتے ہیں
گھر والے
اور جب کبھی
وے جاتے ہیں باہر
وہ بھرا رہتا ہے
ان کے واپس آنے کی امیدوں سے
اس حویلی اور سوری خاندان کی کئی تعمیر کردہ عمارتوں کی خاص بات مغلیہ اور انگلستانی طرز تعمیر کا امتزاج ہے۔ ایک طرف مغلیہ حکومت کے زوال کی داستان سائے، جھروکے اور بارہ دریاں تو دوسری طرف کمپنی بہادر کے عروج کے قصے سناتے ملکہ وکٹوریہ کے مجسمے، کوئی آرکیٹکٹ لندن یا امریکہ کی کسی یونیورسٹی کا آئے اور ان مردہ عمارتوں میں جان ڈالے، کوئی ہمارے گائیڈ جیسا جنونی طالبعلم اس جاں بلب ورثے پر پی۔ ایچ۔ ڈی کر کے صفحہ قرطاس پر ہی سہی اس کو زندہ تو رکھے، لوگوں اور کم گنجائش والے بے ڈھنگے گھروں سے بھری ان گلیوں میں برصغیر کے ماضی قریب کی ان نشانیوں کو فنا ہونے سے پہلے اور کسی بلڈوزر کی زد میں آنے سے پہلے۔
ان تین گھنٹوں میں انسانوں، عمارتوں، روایتوں، رویوں، عبادت گاہوں، تہذیبوں اور قدروں کے بدلتے رنگ اس قدر شدت کے ساتھ محسوس کیے کہ شاید اس شدت سے لفظوں میں ڈھالنا ممکن نہیں مگر میرے پاس صرف لفظوں کی لیوی ہے جو شاید تقسیم کی اس دراڑ کو بھر سکے۔ جو انسانیت کے لبادے میں بے حسی کے گڑھے پڑ گئے ہیں، ان کو بھر سکے۔


