میاں صاحب- کاش آپ آئے ہوتے لائے نہ جاتے
نہ اس بات سے اختلاف ہے کہ آپ کو تین دفعہ حکومت نہیں کرنے دی گئی نہ اس بات پہ بحث کہ غیر جمہوری طاقتوں نے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے آپ کو کئی دفعہ حکومت سے نکالا۔ دھرنوں کے فیض آباد ہوئے، منصفوں کے فیصلے کہیں اور تحریر ہوئے، ایک فضول سے مقدمے میں سزا سنائی گئی (اصل مقدمے نہ ثابت ہوئے نہ ہوں گے کہ اس میں کئی پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں اور نظام انصاف ابھی یہاں اتنا جاندار نہیں ہوا) ۔
اس میں بھی شک نہیں کہ آپ کے دور میں ایٹمی دھماکے ہوئے اور امریکہ نے آپ کو باز رکھنے کی کوشش کی۔ یہ بھی غلط نہیں کہ آپ نے پہلی دفعہ موٹر ویز کی تعمیر کرائی جس کا فائدہ ملک کو ہوا اور ہو رہا ہے۔
اختلاف اور جھنجھلاہٹ اس بات پر شروع ہوتی ہے کہ آپ نے کچھ سیکھا نہیں۔ چار دہائیاں ہوتی ہیں آپ ایوان کی گردشوں میں رہے، ضیا کی گود سے مشرف کی جیل تک کیا کیا نہ دیکھا۔ بے نظیر بھٹو جیسی باوقار خاتون سے عمران خان جیسے کھلاڑی تک کس کس سے پالا نہ پڑا۔ غداری سے کفر تک کا کون سا فتوی نہ سہا۔ بھائی، بیٹے، بھتیجے، بیٹی، سمدھی، بھانجے کس کس نے آپ کے ساتھ اقتدار کے مزے نہیں لوٹے۔ ریلوے انجنوں کے پگھلانے سے بیرون ملک اثاثوں تک کون کون سا جائز ناجائز الزام نہیں لگا۔ مذہب کے سہارے سے لے کر مذہبیوں کے ہاتھوں ستائے جانے تک کیا کیا نہ دیکھا۔ بل کلنٹن سے لے کر مودی تک کس کس سے آپ کے تعلقات نہیں رہے۔ سعودی شیخوں سے لے کر لبنان کے حریریوں تک کون کون آپ پر عنایات لطف و کرم نہیں کرتا رہا۔
چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیا الحق، جنرل اسلم بیگ، جنرل آصف نواز، جنرل وحید کاکڑ، جنرل جہانگیر کرامت، جنرل مشرف، جنرل راحیل شریف، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جنرل قمر جاوید باجوہ، سے جنرل عاصم منیر تک کس کس سے آپ کا واسطہ نہیں پڑا۔ جونیجو کی برطرفی، ضیا کی موت، آئی جے آئی، اسحق خان کی چیرہ دستیاں، عدالتوں کے ریلیف، سپریم کورٹ پر چڑھائی، ججوں کو فون پر فیصلوں کی ڈکٹیشن، مشرف کے ہاتھوں غداری، بے نظیر کی شہادت، خادم رضوی کے فتوے، عمران خان کے دھرنے سب آپ کے دیکھے بھالے ہیں۔ گل پوشیوں سے جوتا پوشی تک اور خادم اعلی سے غدار اعلی تک سب آپ کے تجربے میں ہے۔
ایک انسان سیاسی طور پر اس سے زیادہ کیا تجربہ کار ہو سکتا ، اور دنیاوی طور پر کتنا خوش یا بدقسمت ہو سکتا ہے جتنے آپ ہیں۔ اس سے زیادہ کیا حاصل کر سکتا ہے کہ عرب و عجم، دیس ولایت میں ہر طرح کا سکھ میسر ہے، اس سے زیادہ کیا سیکھ سکتا ہے کہ آپ چوتھی، پانچویں دفعہ اقتدار کے سنگھاسن سے دو قدم دور ہیں۔
افسوس اور اختلاف ہے تو بس اتنا کہ آپ اس دفعہ بھی آئے نہیں لائے گئے ہیں۔ آج محتسب آپ پہ پھر مہرباں ہے اور دست قاتل کو ایک دفعہ پھر آپ پہ پیار آ چکا ہے۔ آپ نے جی ٹی روڈ سے لاہور سفر کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے سینے میں بہت سے راز دفن ہیں، میں بتا دوں گا۔ یہ راز اس قوم کی امانت تھے آپ بتا نہ پائے۔ آپ نے انگلستان جاکر کچھ لوگوں کے نام لئے تو سہی لیکن اب آپ کو منع کر دیا گیا کہ شجر ممنوعہ کے کسی پھول تو ایک طرف کانٹے پر بھی بات نہیں کرنی۔
آپ نے شجر و حضر کو اللہ کے حوالے کر دیا۔ آپ عوام کی طاقت یا اپنی جدوجہد پر بھروسا کرنے کی بجائے پھر انہی پر بھروسا کر بیٹھے جن کا بھروسا کبھی آپ کو راس نہیں آیا۔ آپ عوام کے کندھوں کی بجائے چور رستوں کی تلاش میں تھے جو آپ کو مل گئے۔ آپ آئے نہیں لائے گئے ہیں۔ خاکم بدہن لانے والوں کا دل بھر گیا تو آپ پھر اڈیالہ، سرور پیلس یا لندن ہوں گے۔ پھر کوئی اور رضوی کوئی اور قادری آپ کے خلاف فیض آباد کر کے بیٹھا ہو گا۔ پھر کوئی آپ کا ڈار آپ کے خلاف گواہی دے رہا ہو گا۔ پھر کوئی چور چور کی صدائیں دے رہا ہو گا۔ رہ گئے عوام تو وہ کسی اور تبدیلی کے پیچھے لگے ہوں گے اور کوئی نیا پاکستان بنا رہے ہوں گے۔ کوئی تبدیلی آئی رے، گا رہا ہو گا اور کوئی جہاز بھر بھر کے کسی نئی استحکام پارٹی کے لئے پھیرے لگا رہا ہو گا۔
کاش آپ خود آتے یہ ملک آپ کا تھا آپ کا گھر ہے، آپ کا حق ہے، کاش آپ آئے ہوتے، لائے نہ جاتے۔
سر اٹھایا تو سر رہے گا کیا
خوف یہ عمر بھر رہے گا کیا
وہ جو اک خواب ہم نے دیکھا تھا
خواب ہی عمر بھر رہے گا کیا
(رسا چغتائی)


