پنڈ سے پنڈی تک کا سفر


شعوری ہوش سنبھالنے سے پہلے میں اپنے گاؤں چک نمبر 270 لوریتو، لیہ سے کراچی آ چکا تھا اس لیے گاؤں کی بے شمار شخصیات سے لاعلم تھا۔ کچھ کے نام، کام اور مقام سے واقف تھا لیکن اس کا براہ راست تجربہ نہ ہوا تھا۔

دادا سے دوستی گہری ہوئی اور گاؤں میں اکثر آنا جانا شروع ہوا تو گاؤں کی شخصیات کے بارے میں اکثر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ خاص طور پر عہد حاضر میں وہ لوگ جو گاؤں کی خدمت اور گاؤں کا نام روشن کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، ان کا خاص ذکر ہوتا تھا۔ دادا ایک نام کا اکثر ذکر کرتے اور مجھے تلقین کرتے کہ میں ان سے ملوں۔

یہ نام مس مارگریٹ ڈینیل کا تھا جو اس وقت گاؤں میں نہیں بلکہ راولپنڈی میں مقیم ہیں۔ جہاں وہ عرصے دراز سے درس و تدریس کے ذریعے خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی بھرپور فعال ہیں۔ وہ جب بھی پنڈی سے گاؤں آتی ہیں تو بچوں کے ساتھ تعلیم و تربیت، نوجوان کے ساتھ مکالمہ اور بزرگوں کے ساتھ رفاقت ان کی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی عبادات اور پروگراموں میں بھرپور شرکت، نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ہنر کی باتیں، والدین کے ساتھ گفت و شنید اور مذہبی رہنماؤں سے ایک خاص تعلق ان کی شخصیت کا کمال ہے۔ ابھی چند دن قبل انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ گاوٴں میں مونٹیسوری سکول کا بھی آغاز کر رہی ہیں۔

میرا ان سے دوسرا تعارف یوں ہوا کہ انہوں نے گرمیوں کی چھٹیوں میں گاوٴں کے بچوں کے ساتھ دادا کا ایک سیشن رکھا جس میں دادا نے اپنے تجربات اور تعلیم کی اہمیت پر بچوں سے گفتگو کی۔

اس سیشن کی انہوں نے تصویریں کھینچیں اور مجھے فیس بک پر بھیجیں، میرے لیے یہ تصویریں کسی نایاب تحفے سے ہرگز کم نہ تھیں۔ اور خوشی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میرے دادا کو اس نظریے سے کوئی اور بھی دیکھتا ہے۔ خیر اس طرح ان سے بات چیت کے سلسلہ کا آغاز ہوا اور میں نے وعدہ کیا کہ میں جب بھی راولپنڈی آیا تو میں ان سے ضرور ملوں گا۔

2021 میں پہلی مرتبہ راولپنڈی ان کے گھر پر گیا، جس جوش اور خلوص کے ساتھ انہوں نے مجھے اپنے گھر پر ویلکم کیا وہ میرے لیے قابل دید تھا۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے میری مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ رکھ چھوڑی بلکہ ان سب سے بڑھ کر مجھے جو عزت اور مقام دیا وہ میرے لیے خوش گوار تجربہ تھا۔

میرے دل میں ان کے لیے عزت اور بھی بڑھ گئی جب انہوں نے میری گفتگو کو انتہائی شدت اور سلیقے کے ساتھ سنا اور مجھے دوسروں کے ساتھ متعارف کروایا۔

اس کے بعد یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دادا کے بعد اگر گاؤں کی کسی شخصیت نے میرے علمی قد اور مرتبے کی پہچان اور قدر کی ہے تو وہ مس مارگریٹ ڈٹینیل ہیں۔

جو میری صلاحیتوں کی مترادف ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو میرے کام سے روشناس کروانے میں بھی کوشاں رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ گاؤں کی بہتری کے لئے نوجوانوں سے مکالمے اور مختلف آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے مجھے تحریک دیتی ہیں۔ یہ تحریر ان کی میرے بارے رائے کے متعلق نہیں بلکہ

ان کی کہانی اور خاص طور پر گاؤں سے راولپنڈی میں ایک شاندار نام اور مقام بنانے کے سفر کی داستان ہے۔

یہ داستان عزم و ہمت اور علم کے حصول کی جستجو کی کہانی ہے۔ ایک ایسی استاد کی کہانی جس نے عملی طور پر تعلیم و تربیت اور درس و تدریس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔

20 جون 1965 کو ماسٹر ڈینیل اور سرداراں بی بی کے ہاں، شیخوپورہ کے ایک معروف مسیحی گاؤں مریم آباد میں کاتھولک مسیحی گھرانے میں پیدا ہونے والی مارگریٹ، بچپن سے ہی تعلیم کی بے حد شوقین تھیں جو اپنے والد سے جو کہ چک نمبر 270، لیہ میں 1970 میں زمین خرید چکے تھے، سے بہت متاثر تھیں۔ ان کے والد گاؤں کے پوسٹ ماسٹر تھے اور اس کے علاوہ ایک عالمگیر کاتھولک فلاحی تنظیم کاریتاس میں کام کرنے کے ساتھ ایک زمیندار بھی تھے۔

مارگریٹ اپنی ذہانت کی وجہ سے اپنے باپ کی لاڈلی تھیں۔ اکثر اپنے کلاس فیلوز کی پڑھائی میں بھی مدد کرتی تھیں۔ جب وہ پانچویں کلاس میں پڑھتی تھی تو وہ لالٹین لے کر اپنے والد کے ساتھ ان کے آفس کے کام میں ہاتھ بٹاتی تھیں۔ ان کی والدہ اکثر ان کے والد سے شکایت کرتی تھیں کہ اس نے سکول کا بھی کام کرنا ہے جس پر ان کے والد کہتے ہیں کہ جو یہ سکول سے پڑھ لیتی ہے اس کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔

ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مشن ہائی سکول لوریتو، لیہ، سے، انٹر میڈیٹ، راولپنڈی بورڈ سے، جبکہ گریجویشن پنجاب یونیورسٹی سے کی۔ پاکستان مونٹیسوری کونسل، اسلام آباد سے مونٹیسوری اساتذہ کی تربیت میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ 1985 میں بہتر تعلیم اور روزگار کے لئے گاوٴں سے راولپنڈی منتقل ہوئے۔ جہاں 1990 سے 2006 نامور اسکول، سینٹ پال کیمبرج سکول، سیٹلائٹ راولپنڈی میں بطور ٹیچر اپنی خدمات سر انجام دیتی رہیں۔ 2008 سے اب تک بطور ٹرینر مونٹیسوری سسٹم پڑھا رہی ہیں۔ ابھی تک پاکستان میں کئی سو اساتذہ کو مونٹیسوری ٹیچر ٹریننگ کروا چکی ہیں۔ پاکستان میں مونٹیسوری کے نظام کے فروغ کے لئے ایک متحرک اور سرگرم آواز ہیں۔ ان کی زندگی کا مشن، پاکستان میں مونٹیسوری نظام کے تحت، تمام بچوں کو تعلیم کی روشنی سے منور کرنا ہے۔

مس مارگریٹ ڈینیل کی زندگی کے بے شمار پہلو ہیں لیکن مجھے ان کی چند باتیں بہت متاثر کرتی ہیں۔ جس میں تعلیم کے لیے ہر ہمیشہ کوشاں رہنا، تمام بچوں کو ان کے پس منظر سے بالاتر ہو کر اہمیت دینا، اپنے اجداد کی قدروں کو زندہ رکھنا، اپنے گاؤں کی بہتری اور بھلائی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا اور نوجوانوں سے مکالمہ اور رشتہ قائم کرنا ہے۔ آج ان کے بے شمار سٹوڈنٹس دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ جن پر وہ ہمیشہ ناز کرتی ہیں۔

مس مارگریٹ ڈینیل کی زندگی ایک پھلدار اور بابرکت زندگی ہے، جنہوں نے ہمیشہ دوسروں کی بھلائی کے لیے اپنے فائدے کو بھی نظر انداز کیا ہے۔ میری نظر میں بے شک انہوں نے زندگی میں دولت کے انبار حاصل نہیں کیے لیکن عزت، وقار اور اخلاقی کردار کا وہ معیار حاصل کیا ہے جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔

مس مارگریٹ جیسے لوگ اس معاشرے میں بہت کم ہیں جو آج بھی دوسروں کی بھلائی اور بہتری پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی زندگی اس خدمت کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ ان کی آئیڈیل شخصیت مدر ٹریسا ہیں جبکہ وہ ماریہ مونٹیسوری کو بہت پسند کرتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مس مارگریٹ ڈینیل جیسی شخصیات کی خدمات کی پذیرائی ہونی چاہیے اور اس ضمن میں ان کی کاوشوں میں بھرپور معاونت کرنی چاہیے۔

کیونکہ ماریہ مونٹیسوری نے کہا تھا۔ ”ہمیں زندگی کے اس راستے پر اکٹھے چلنا چاہے، کیونکہ تمام چیزیں کائنات کا حصہ ہیں اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں تاکہ ہم ایک مکمل اتحاد قائم کر سکیں۔“

Facebook Comments HS