شعبہ صحافت میں خواتین کی نمائندگی انتہائی کم کیوں؟
پاکستان پنجاب اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں خواتین صحافت سے دور کیوں ہیں؟ چھوٹے شہروں میں خواتین صحافیوں کو درپیش مشکلات کیا ہیں؟ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں صرف ایک خاتون مقامی صحافی ہیں اور یہ تعداد ٹوبہ ٹیک سنگھ اور اس کی تحصیل گوجرہ، پیر محل، کمالیہ میں مرد صحافیوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں سماجی پابندیاں، صحافت کے شعبے میں زوال اور خواتین میں اس شعبے میں آنے میں دلچسپی کی کمی شامل ہیں۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی خورشید انصاری شعبہ صحافت سے گزشتہ 20 سال سے وابستہ ہیں اور ان کی تعلیم میٹرک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کمزور اور محروم طبقہ کی آواز بننا چاہتی تھی۔ اس لئے شعبہ صحافت سے منسلک ہوئیں ان کا کہنا ہے کہ دوران رپورٹنگ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرے والد صاحب نے مجھے بہت حوصلہ دیا کہا کہ میری بیٹی میرا بیٹا ہی ہے اور مجھے کہا کہ صحافت کرنی ہے تو گھر سے مرد بن کر نکلنا تو انہوں نے مجھے صحافت کرنے کی اجازت دی تو میرے بھائیوں میں سے ایک بھائی کو اچھا محسوس نہیں ہوا تو اس نے شکوہ کیا برادری کے بہت سے لوگوں نے اعتراض بھی کیا کہ میں تھانہ کچہریوں میں جاتی ہوں جہاں مرد ہوتے ہیں۔ برادری نے مخالفت بھی کی لیکن آہستہ آہستہ برادری کے لوگوں نے ذہنی طور پر قبول کر لیا برادری کے وہی لوگ اپنے کاموں کے سلسلہ میں میرے گھر آنا شروع ہو گئے میرے خاوند کا نام حاجی غلام فرید ہے اور ہم نے اپنی گزر بسر کے لئے ایک چھوٹا سا کیٹل فارم بنا رکھا ہے۔
میں گھر سے مرد بن کر نکلی تو معاشرے کے مردوں کا مقابلہ کیا بہت ساری خواتین کو انصاف دلایا بہت ساری خواتین میں یہ صلاحیت اور شوق موجود ہے۔ مگر معاشرے کا رویہ دیکھ کر اور صحافت کے مسائل دیکھ کر خواتین اگر اس شعبہ میں قدم رکھ بھی لیں تو کچھ عرصہ بعد ہی اس شعبہ کو خیر باد کہہ دیتی ہیں۔ خورشید انصاری ٹوبہ ٹیک سنگھ پریس کلب کی صدر خواتین ونگ ہیں۔ روزنامہ جہاں تاب لاہور، روزنامہ بی بی سی لاہور سے رپورٹنگ کرتی ہیں اور انہیں کوئی تنخواہ نہیں ملتی البتہ اشتہارات کی مد میں کمیشن ضرور ملتا ہے جس سے کچھ آمدن ہو جاتی ہے جو گزر بسر کے لئے ناکافی ہے۔ مگر خورشید انصاری کہتی ہیں کہ اگر میں اسے آمدن کا ذریعہ سمجھ کر کر رہی ہوتی تو کب کا چھوڑ چکی ہوتی۔ یہ میرا شوق ہے اور میں اسے انسانی خدمت کے جذبہ سے کر رہی ہوں۔ جب میں نے ورکنگ جرنلسٹ کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تو اس وقت وہ برقعہ پہن کر نقاب کرتی اور زیادہ ہجوم میں خوفزدہ بھی ہوجاتی تو اکثر انہیں کہا جاتا کہ وہ نقاب اتار کر اپنا تعارف کروائیں اس مشکل کے حل کے لئے مجھے اپنے والد محترم سے اجازت لینا پڑی جنہوں نے مجھے اجازت بھی دی اور حوصلہ بھی دیا کہ میں فیلڈ میں جا کر بہادری اور جرات سے کام کروں۔ جب لوگ متعارف ہو گئے تو پھر کسی نے نہیں کہا مجھے اتنا اعتماد ہو گیا کہ پھر کسی کو کہنے کی جرات نہیں ہوئی کسی سے زیادہ فرینک نہ ہوں تو کسی کو جرات نہیں ہوتی۔
مرد سگریٹ پی کر اس کا دھواں دوسرے کی طرف چھوڑتے ہیں اور پان کھا کر تھوکتے ہیں جب فیلڈ میں گئے تو کئی پبلک مقامات پر بھی ایسا ہی کچھ سامنے آیا مگر حالات کا مقابلہ کیا۔ صنف نازک سے صنف آہن بننے کا سفر مشکل تو تھا۔ مگر اللہ نے مدد کی اور کئی خواتین کی مدد کے قابل بنا دیا۔
خورشید انصاری نے اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا اگر خاتون نے پردہ یا نقاب کیا ہو تو مرد کہتے ہیں کہ چہرے سے نقاب اٹھائیں بغیر وجہ کے گھورتے رہتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود مجھے رپورٹنگ کرتے وقت متاثرہ خواتین اور خواتین سے متعلقہ ایشوز کے متعلقہ معلومات لیتے ہوئے زیادہ مشکل کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا کیونکہ چھوٹے چھوٹے شہروں میں ابھی تک خواتین کافی سماجی پابندیوں کا شکار ہیں اور اس شعبہ میں آنے والی خواتین کو بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا مگر صحافت ایک مشن ہے اور میں عوام کے مسائل اور خاص طور پر خواتین کے مسائل کو ایک صحافی کے طور پر اجاگر کرتی ہوں۔ معاشرے کے کمزور طبقہ کی آواز بنتی ہوں اور خواتین کے حقوق کے لئے اپنی معاشرتی جنگ جاری رکھوں گی اور میں اس حوالہ سے نوجوان لڑکیوں کو بھی کہوں گی کہ وہ اس شعبہ میں آئیں اور اسے ایک مشن کی طرح اپنائیں تاکہ خواتین اپنے مسائل اور اپنے حقوق کی خود ہی آواز بنیں کیونکہ جس پر گزرتی ہے۔ اسے بیان کرنے میں دشواری نہیں ہوتی۔ پانچ بیٹیوں اور ایک بیٹے کی والدہ ہوں بیٹا ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں کام کرتا ہے۔ میڈیا کے کام میں میرا ہاتھ بھی بٹاتا ہے۔ اپنی بیٹیوں کو بھی کہتی ہوں کہ انسان خود اچھا یا برا ہوتا ہے اور خود ہی اپنی حفاظت کرنا ہوتی ہے۔ کہنے والے بہت کچھ کہتے ہیں لیکن کوئی کسی کو کھانے کو نہیں دیتا راستہ بتانے والے راستہ بتاتے ہیں لیکن سفر میں ساتھ کوئی نہیں دیتا کامیابی دیکھ کر ساتھ دینے والے بہت ہوتے ہیں۔ ناکامی پر کوئی ناکامی کی وجہ بننا پسند نہیں کرتا۔
خواتین کہتی ہیں کہ ہم مردوں کے برابر ہیں۔ اس لئے ہمیں برابری کی سطح پر حقوق ملنے چاہیے اور یہ بات اگر آبادی کے اعداد و شمار کے مطابق سمجھی جائے تو واقعی ہی پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس سے 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں خواتین کی آبادی 6۔49 فیصد کے لگ بھگ ہے جب کہ مردوں کی آبادی 4۔50 فیصد کے لگ بھگ ہے جو کہ اتنا بڑا فرق نہیں ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 49.7 فیصد خواتین اور 50.2 فیصد مرد ہیں۔ جب کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس سے 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 49.6 فیصد خواتین 50.1 فیصد مرد ہیں۔
الیکشن کمیشن کے 2023 کے دیے گئے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ڈیٹا کے مطابق 15 لاکھ کی آبادی میں 53 فیصد مرد ووٹرز اور 46 فیصد خواتین رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ اور گوجرہ میں لٹریسی کی شرح 67 فیصد ہے۔
ڈسٹرکٹ انفارمیشن افسر ٹوبہ ٹیک سنگھ محمد شہباز انصاری کے مطابق ضلع بھر میں 300 سے زائد مرد صحافی ہیں۔ مگر خواتین کی نمائندگی ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی صحافت میں انتہائی کم ہے۔
پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج گوجرہ محمد الطاف کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالجز گوجرہ میں بھی اس مضمون میں کوئی طالبہ / طالب علم داخلہ نہیں لیتا اور اس وجہ سے بھی خواتین اب اس شعبہ کا انتخاب نہیں کرتیں البتہ خواتین کے اس شعبہ میں آنے کی وجہ سے خواتین کے ہی مسائل کا حل ہو گا جب خواتین خود اپنے مسائل کی ترجمانی کریں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زیادہ تر طالب علم اور طالبات میڈیکل انجینئرنگ اور آئی ٹی کے شعبوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس لئے ان شعبہ جات میں ہی داخلے ہوتے ہیں اور اب جرنلزم کا مضمون بھی کالج میں پڑھایا نہیں جاتا کیونکہ اس شعبہ میں داخلہ لینے کے خواہشمند امیدوار کی تعداد اب صفر کے برابر ہے البتہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں فیکلٹی موجود ہے۔ کیونکہ ان کے مطابق ان شعبوں میں جاب یا بزنس کے مواقع زیادہ ہیں جب کہ میڈیا زوال کا شکار ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ خواتین صحافیوں کی حفاظت، ان کی ٹریننگ اور ان کی فیملیز کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرے۔ حکومت کو میڈیا کے مضامین کو یونیورسٹی لیول تک رائج کر کے اور ٹیکنیکل کالجز میں بھی خواتین کے لیے اس تعلیم کو عام کرنا چاہیے۔
پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کی ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری سابق صوبائی وزیر مسز نیلم جبار چوہدری جو کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے سابق رکن صوبائی اسمبلی بھی ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارا تبادلہ خیال ہوا تو انہوں نے کہا کہ اب خواتین زندگی کے ہر شعبہ میں موجود ہیں اور خواتین کو صحافت کے شعبہ میں آنا چاہیے لیکن خواتین معاشرتی دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر انہیں اختیارات ملے تو وہ خواتین کے لئے میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا / ڈیجیٹل میڈیا کی ٹریننگ کے حوالہ سے اور خواتین کے لئے دوسرے تمام شعبوں میں ملازمتوں کی فراہمی کی کوشش ضرور کریں گی۔ ویسے بھی پاکستان پیپلز پارٹی محترمہ بینظیر بھٹو کی پارٹی ہے جو ایک خاتون تھیں میں بھی ایک خاتون ہوں اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی خواتین کے لئے ہی بنایا گیا تھا اور اب بھی وہ خواتین کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ اس لئے خواتین کے روزگار کے لئے مواقع فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ جرنلزم اور ماس کمیونیکیشن کی تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کے والدین کو ان کی لڑکیوں کو میڈیا کے میدان میں آنے کے لیے مشورہ دینے کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور مشیران کو چاہیے کہ وہ خواتین کو اس حوالہ سے رہنمائی فراہم کریں۔
سابق تحصیل کونسلر گوجرہ اور کنزیومر پروٹیکشن کونسل کی ممبر صائمہ تحسین نے کہا کہ یہاں خاتون کو بولنے کی آزادی ہی نہیں ہے اور صحافی کا اصل کام سچ بولنا ہے۔ لہذا کسی خاتون کا سچ بولنا کیسے معاشرے کو برداشت ہو سکتا ہے اور اگر کوئی خاتون ہمت مند بھی ہو تو اسے اس کے حقوق ہی نہیں دیے جاتے تعلیم کی کمی، سماجی پابندیاں خواتین کو اس شعبہ سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی ایک خاتون ہمت بھی کرے تو اسے مردوں کے معاشرے میں سکینڈلائز کر دیا جاتا ہے اور پھر خواتین کو تحفظ اور ان کو برابری کے حقوق چاہیے جو کہ قانونی ادارے فراہم کریں لیکن یہاں تحفظ گھریلو خواتین کو نہیں مل رہا تو گھر سے باہر نکلنے کی ہمت کرنے والی خواتین کو کہاں ملے گا اور شاید اسی وجہ سے پاکستان میں نیوز چینل کے مالکان میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔ مگر پھر بھی خواتین کو پیغام دیتی ہوں کہ وہ ہمت کریں آگے بڑھیں اور اس شعبہ میں آ کر اپنی آواز خود بنیں۔
رابرٹ ایم ہیتھ وے ڈائریکٹر، ایشیا پروگرام ووڈرو ولسن انٹرنیشنل سینٹر فار سکالرز واشنگٹن، ڈی سی اپنی ریسرچ رپورٹ، ”میڈیا میں زیادہ خواتین: آگے بڑھنے کا راستہ“ ، میں جو یوکے ریسرچ سینٹر آن ویمن اینڈ میڈیا کی جانب سے کی گئی تحقیق ہے اور اس کے سفارشات کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ صنفی رکاوٹوں کو توڑنا اور خواتین کو با اختیار بنانا مضبوط معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں خواتین کی حیثیت انتہائی پست ہے۔ صرف 36 فیصد پاکستانی خواتین خواندہ ہیں۔ اور کام کرنے کی عمر کی پاکستانی خواتین کا صرف پانچواں حصہ افرادی قوت کی رکن ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2023 میں پاکستان 134 ممالک میں 132 ویں نمبر پر ہے۔ یہ قابل رحم درجہ بندی محض قومی شرمندگی نہیں بلکہ پاکستان کی ترقی میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں خواتین کی حیثیت کو بہتر بنانا ایک قابل قبول مقصد ہے۔ تاہم، پاکستان کا متحرک میڈیا اس کوشش میں ایک اہم اتحادی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں میڈیا، خاص طور پر پاکستان کا رواں ٹیلی ویژن پروگرامنگ کے خاطر خواہ رائے سازی کے کردار کے پیش نظر۔ پاکستان کی 5 فیصد سے بھی کم صحافی خواتین ہیں۔ اس کے باوجود ملک کے چند نامور میڈیا اینکرز اور تجزیہ کار خواتین ہیں۔ ایسی خواتین رول ماڈل کے طور پر کام کر سکتی ہیں اور پاکستان میں تبدیلی کا محرک بن سکتی ہیں۔
ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2023 کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ صنفی فرق سیاسی با اختیاریت ( 15.2 %) پر ہے۔ اس میں گزشتہ 50 سالوں میں سے 4.7 سال تک ایک خاتون بینظیر بھٹو سربراہ مملکت رہی ہیں۔ اور وزراء کا دسواں حصہ اور ارکان پارلیمنٹ کا پانچواں حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔
بنگلہ دیش، بھوٹان اور سری لنکا علاقے میں خواتین کے حوالہ سے بہترین کارکردگی کے حامل ممالک ہیں۔ جبکہ پاکستان، ایران اور افغانستان علاقائی اور عالمی رینکنگ کی جدولوں کے نیچے ہیں۔ موجودہ رفتار پر، اس علاقے میں پوری جنسی برابری 149 سال میں حاصل ہوگی۔
خورشید انصاری کی مثال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خواتین میں صحافت کے شعبے میں آنے کی صلاحیت اور ہمت موجود ہے۔ اگر حکومت اور عوام خواتین کی حوصلہ افزائی کریں، تو وہ صحافت کے شعبے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں۔


