ریوینج پورن – سابق ساتھی سے انتقام لینے کی خاطر اس کی ویڈیو کی شیئرنگ


میرا پہلا آرٹیکل خواتین کے ساتھ ہراسانی کے موضوع پہ تھا جس میں ایک واضح نکتہ revenge porn کا تھا۔ ریوینج پورن یعنی عام طور پر کسی کے سابق ساتھی یا شریک حیات کی طرف سے اس کی جنسی طور پر واضح تصاویر یا ویڈیوز کی غیر متفقہ شیئرنگ ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جو ریاستی قوانین کے تحت قابل سزا ہے اور مجرم کے لیے سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ کسی بھی انسان کی نازیبا تصاویر اس کی مرضی کے خلاف نکالنا اسی ہراسانی زمرے میں آتا ہے اور بشمول پاکستان کئی ملکوں میں قابل سزا جرم ہے۔ حال ہی میں ایک سوشل میڈیا سٹار کی ویڈیو عام ہوئی ہے اور اس سے پہلے بھی ایسا کئی بار ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ آئے دن لڑکیاں پریشان ہوتی ہیں کہ ان کے سابقہ دوست نے دھمکی لگائی ہے کہ تعلق ختم کرنے پہ ان کی ویڈیو یا تصاویر عام کر دے گا۔

ایسے واقعات پہ لوگوں کا عمومی رویہ وکٹم شیمنگ اور الزام تراشی کا دیکھنے میں آتا ہے کہ آخر لڑکی نے ایسا کیا کیوں؟

جہاں تک علیزے سحر کی ویڈیو کا تعلق ہے تو وہ ویڈیو ان کی اپنی ریکارڈنگ نہیں معلوم ہوتی بلکہ ویڈیو کال کی ریکارڈنگ معلوم ہوتی ہے جو عین ممکن ہے کہ ایک خبیث انسان نے ان سے پوچھے بغیر ریکارڈ کی اور پھر نشر کی۔ دونوں ہی باتیں قابل سزا جرائم ہیں : بنا اجازت کال ریکارڈ کرنا اور پھر اس کی تشہیر کرنا۔

علیزے کے ویلاگ میں اس بات کا اعلان کہ وہ ڈٹ کر اس کا مقابلہ کریں گی، آنے والی نسلوں کے لئے مثال ہے۔ اس سے پہلے ہر لڑکی یا سٹار نے معافی تلافی خود ہی کر کے کنارہ کشی اختیار کی ہے۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کسی نے کھل کر اپنے خلاف ہونے والے ظلم کی مذمت کی ہو۔ علیزے کا کھل کر اس واقعے کے خلاف احتجاج نہ صرف ان کے کردار کی مضبوطی بلکہ بطور انسان فولادی آہنگ کی دلیل ہے۔

اب آتے ہیں اگلے پہلو کی طرف۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پہ کسی نہ کسی تعلق میں ایسی تصاویر یا ویڈیوز بنائی بھی ہوں گی اور شیئر بھی کی ہوں گی۔ (اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو یقیناً آپ بہت عقلمند ہیں ) تو کیا اپنی مرضی سے ویڈیو بنا کر ایک انسان کے ساتھ شیئر کرنا اور اس انسان کا آگے دس لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا، برابر ہیں؟

خاص کر پاکستان جیسے ملک میں جہاں ماحول ہی اس طرح کا ہے کہ لوگ، گھر والے اور رشتہ دار مظلوم کو ہی مورد الزام ٹھہرائیں۔ اخلاقی اور قانونی ہر اعتبار سے یہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ کسی کی تصویر یا ویڈیو یا ذاتی نوعیت کا کوئی بھی مواد اس کی اجازت کے بنا تشہیر کرنا قانونی طور پر قابل سزا جرم ہے۔

اب اگلے پہلو کی طرف آتے ہیں اور وہ ہے لوگوں کا رویہ۔ لوگ جو خود بھی ایسے یا اس سے ملتے جلتے حالات سے گزرتے ہیں لیکن دوسرے کا دکھ اس کی تکلیف سمجھ نہیں پاتے۔ لوگ جو کہتے ہیں ایسا کیا ہی کیوں۔ لوگ جو کہتے ہیں کہ دوستی انسان دیکھ کر کرنی چاہیے اور نجانے کیا کیا باتیں۔ میں بالکل سمجھ نہیں پاتی کہ ایسی حساس باتوں میں لوگوں کی انسانیت کہاں چلی جاتی ہے؟ ہونا تو چاہیے کہ تمام لوگ یکجا ہو کر اس جرم کے خلاف آواز اٹھائیں اور ایک خبیث انسان کو قانون کے مطابق کڑی سزا دلوائیں تاکہ آئندہ کسی فضول انسان میں یہ جُراَت نہ ہو کسی کی تصویر یا ویڈیو عام کرنے کی لیکن ہمارے یہاں گنگا میلی بھی ہے اور الٹی بھی بہتی ہے۔ ہم کسی کی کردار کشی اور اس کی خودکشی پہ تو راضی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہوئے ظلم کو نہ صرف نظرانداز کرتے ہیں بلکہ ظالم کا ساتھ بھی دیتے ہیں۔

خدارا آنکھیں کھولنے کا اور ہوش کے ناخن لینے کا وقت ہے۔ آواز اٹھائیے اور ظالم کو سزا دلوائیے اس پہلے کہ اگلا شکار آپ کے ہی گھر کی کوئی عورت ہو۔

سوشل میڈیا پر خواتین سے رابطے کے آداب

Facebook Comments HS