ہمارے بچے کنویں کے مینڈک
روس کے علاقے سائبیریا میں ایک چھوٹا سا گاؤں اویمیاکون جہاں عموماً درجہ حرارت منفی 40 ہوتا ہے۔ وہاں زندگی گزارنا انتہائی کٹھن ہے۔ اسی گاؤں میں ایرم تلق نامی خاتون صبح چھ بجے برف کو پگھلا رہی ہے اور ناشتہ تیار کر رہی ہے اپنے بیٹے الیوشا کے لیے۔ الیوشا آٹھ سال کا بچہ ہے۔ 50 پر الیوشاسکول ضرور جاتا ہے۔ ناشتہ کرنے کے بعد الیوشا چھ لیئرز کا جیکٹ پہنتا ہے۔ جو اون اور کھال سے بنا ہوتا ہے۔ سکول ایک کلومیٹر دور ہے۔ الیوشا ہانپتا کانپتا سکول کے لیے روانہ ہو جاتا ہے۔ ماں پریشان ہوتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب سخت سردی ہوتی ہے تو ہم اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجتے۔ کہتی ہے کہ منفی 56 یا منفی 55 درجہ حرارت ہو تو میں اسے سکول بھیجتی ہوں مگر جب منفی 60 ہو تو یہ سب سے خطرناک ہے پھر۔
الیوشا کے گھر سے سات کلومیٹر دور اس کی کلاس میٹ سیانا رہتی ہے۔ یہ سات سال کی بچی ہے منفی 52 درجہ حرارت میں سیانا اٹھتی ہے۔ اس کی ماں اس کے لیے کھانا تیا ر کرتی ہے اور یہ ننھی پری ناشتہ کر کے یونیفارم پہن کر دوسرے دوستوں کے ساتھ بس سٹاپ تک پہنچ جاتی ہے۔ جو تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ سیانا اپنے دوستوں کے ہمراہ بس کے انتظار میں پندرہ منٹ سے کھڑی ہے۔ سیانا کے والد فارم میں لکڑیاں توڑنے کا کام کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بغیر کام کیے زندہ رہنا یہاں مشکل ہے۔
اتنے میں بس آجاتی ہے۔ دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد آخرکار گریگوری پہنچتا ہے اور سات سالہ ننھی سیانا کو پک کرتا ہے۔ اٹھاون سالہ بس ڈرائیور گریگوری لنگڑاتے ہوئے بس کو کھڈوں پر سے گزارتا ہوا سکول کی طرف رخ کرتا ہے۔ گریگوری کا کہنا ہے کہ بسا اوقات بس میں خرابی پیدا ہوتی ہے یا میں بیمار ہوجاتا ہوں تو اس دن پچاس سے زیادہ بچے سکول نہیں جا پاتے۔
سکول کی پرنسپل کیٹرینہ سکول کے قریب ہی رہتی ہے۔ وہ سب سے پہلے آتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں پانچ سو رہائشی ہیں۔ پچیس کے قریب اساتذہ ایک سو اٹھارہ طالب علموں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ سکول کے اندر پچیس کلاس رومز ہیں۔ سب سے بڑی عمارت ہے اویمیاکون میں۔ تمام گھر لکڑی کے ہیں۔ کیٹرینہ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی چھٹی نہیں کرتا لیکن اگر زیادہ ٹھنڈ کی وجہ سے کوئی مسئلہ ہو تو سکول والے معلومات ضرور کرتے ہیں کہ کیا ہوا تھا۔
سکول ختم ہونے کے بعد سات سالہ سیانا بس میں اپنے گھر پہنچتی ہے اور کھانا وانا کھا کر سکول کے کام میں مصروف ہوجاتی ہے۔ سیانا کو پینٹنگ کا بھی شوق ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میری تمام سہیلیاں سارا دن ٹی وی یا کمپیوٹر کے سامنے وقت ضائع کرتی ہیں۔ جب کہ مجھے وہ تمام شوق پسند نہیں۔ اس لیے میں مصوری کرتی ہوں۔
نیپال میں چار ہزار میٹر سطح سمندر سے اوپر پہاڑی گاؤں کانپور جو صوبہ بھاگمتی میں واقع ہے۔ صبح کے چھ بج چکے ہیں۔ پندرہ سالہ اجیت اٹھتا ہے۔ والد کے ساتھ فارم میں آدھا گھنٹہ کام کرتا ہے۔ اجیت کے والد کبھی سکول نہیں گئے۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کا بیٹا پڑھے۔ ناشتہ کر کے اجیت اپنی بہن سپانا کے ساتھ سکول روانہ ہوجاتا ہے۔ اس کی ماں کو روزانہ ڈر رہتا ہے۔ دشوار راستے سے گزرتے ہوئے اجیت اور اس کی بہن کو بھی ڈر لگتا ہے۔ لومڑیوں، بندر اور شیر سے۔ لیکن وہ سکول جانا پسند کرتے ہیں۔
بالکل اسی طرح چار سو میٹر نیچے پہاڑی پر چھوٹی کبیتا جو مشکل سے چار سال کی ہے۔ اس کی ماں نرمیلا اسے سکول کے لیے تیار کرتی ہے۔ اجیت اسے راستے میں اپنے ساتھ ہو لیتا ہے اور ٹریشولی دریا کی طرف روانہ ہوجاتا ہے۔
اسی طرح سات سال کی ارمیتا ہے اور اس کی دو بہنیں وہ بھی سکول جاتی ہیں۔ ایک آٹھ سال کی امیتا اور دوسری چھ سال کی انیتا ہے۔ جو روزانہ خطرناک راستوں سے ٹریشولی دریا تک پہنچتے ہیں۔
نیپال میں اسی فیصد رہائشی بڑے شہروں سے باہر رہتے ہیں۔ صرف 2 / 3 بچے سکول اٹینڈ کرتے ہیں۔ ناخواندگی ریٹ نیپال میں پچاس فیصد سے اوپر ہے۔ قریباً آدھے سے زیادہ نیپالی چار ہزار سطح سمندر سے اوپر ہیں۔ سب سے خطرناک دریا ٹریشولی جس نے کانپور گاؤں کو چادر کی طرح لپیٹا ہوا ہے۔ یہ دریا ہمالیہ پہاڑی سے آیا ہوا ہے۔ یہ ساٹھ میٹرز چوڑا ہے۔ ایک ہی طریقے سے پار کیا جاسکتا ہے اور وہ ہے ”ٹوین“ ۔ ایک باسکٹ جو پرانی اور خراب تاروں پر سے گزارا جاتا ہے ۔ بہت سے حادثات ہوئے ہیں اس پر ۔ بہت سے بچے اس دریا میں گر کر مرے ہیں دوسری طرف جانے کی کوشش میں۔ اجیت کہتا ہے۔ مجھے تیرنا پسند ہے لیکن یہ دریا انتہائی خطرناک ہے۔
سب بچے ٹوین پر پہنچتے ہیں۔ دو گھنٹے ہیں سب کے پاس کیوں کہ دس بجے کلاس شروع ہوگی اور سکول شہر میں ہے۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ پیدا ہوا باسکٹ دریا کے اس پار تھا اور یہ دریا ٹریشولی صرف اسی خراب تاروں سے پار کیا جاسکتا ہے۔ بعض دفعہ بچے دو گھنٹے انتظار کرتے ہیں۔ ایک بچہ کہتا ہے کہ مجھے دکھ ہوتا ہے۔ جب ہم اس طرح سکول سے رہ جاتے ہیں اور دوسرے بچے سیکھتے ہیں۔ اجیت کہتا ہے کہ بعض دفع ٹیچر بہت غصہ کرتے ہیں۔ جب ہم لیٹ پہنچتے ہیں۔ ڈنڈوں سے مارتے ہیں اور بال نوچتے ہیں۔
بیس منٹ کے بعد ایک ویلج فارمر آتا ہے اور ان کا مسئلہ حل کر دیتا ہے۔ وہ ایک آلے کے ذریعے دوسرے پار جاتا ہے۔ گاؤں والے اس آلے کو کڑکڑی کہتے ہیں۔ باسکٹ سے پہلے گاؤں والے یہ استعمال کرتے تھے مگر آٹھ سال پہلے باسکٹ والا سلسلہ شروع ہوا۔
گاؤں میں ہر ایک دریا کو پار کرنے سے ڈرتا ہے۔ باسکٹ کا آئیڈیا اجیت کے باپ کا تھا۔ کنسٹرکشن میں اس نے یہ بنایا تھا۔
سب بچے باسکٹ میں بیٹھ جاتے ہیں۔ رابندرہ اور اجیت ٹوین کو روانہ کر دیتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ تین اوپر چار نیچے۔ اجیت اور رابندرہ تاروں پر چڑھتے ہیں۔ ناپائیدار چپل پہنے وائر پر پاؤں رکھ کر زور لگاتے ہیں۔ آٹھ سالہ پرانی ٹوین کو دریا کے اس پار لے جاتے ہیں۔ اجیت کہتا ہے۔ رابندرہ ایک دفعہ گرا تھا مگر بال بال بچا۔
گاؤں والے حکومت کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب ان کے لیے پل بنایا جائے۔ اجیت سوچتا ہے۔ جب وہ پائلٹ بنے گا تو سب سے پہلے پل بنائے گا۔
شری آدرشن سکول جس میں چھ سو پچاس طالب علم ہیں۔
اجیت کی ٹیچر بوانی شرما کلاس کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ وہ بھی امید رکھتی ہے کہ کانپور کے طالب علم مستقبل کے ہونہار بچے ہوں گے ۔ وہ کہتی ہے کہ ان کی ایک طالبہ تھی۔ جب وہ گری اور زخمی ہوئی ٹوین سے تو گورنمنٹ نے وہاں پھر پل بنا دیا۔ صرف بارہ بچے چھ سو پچاس طالب علموں میں دریا پار کرتے ہیں اور بوانی کہتی ہے کہ ان بارہ بچوں کا رزلٹ انتہائی برا ہوتا ہے بہ نسبت جو آسانی سے سکول آتے ہیں۔
سب بچے سلامت دوسرے پار چلے جاتے ہیں اور روڈ کی طرف رخ کرتے ہیں۔ جسے پرتھوی ہائی وے کہا جاتا ہے ویسٹرن نیپال میں۔
سکول شروع ہونے میں کم وقت باقی ہے۔ بچوں کے پاس اور کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ آج بچے خوش قسمت ہیں کہ ایمبولنس نے راستے میں ان کو اٹھالیا۔ یہ انھیں گجوری کی طرف روانہ کر دیتے ہیں۔ جو دس منٹ کے فاصلے پر ہے۔ گجوری سب سے بڑا ٹاؤن ہے اس خطے میں جو سات ہزار باشندگان پر مشتمل ہے۔ دس بجے سکول شروع ہوا۔ اجیت کا رول نمبر انتیس ہے۔ جس کا مطلب وہ سب سے نالائق بچہ ہے کلاس میں۔ اس کی وجہ اس کی ٹیچر کہتی ہے کہ وہ روزانہ دو گھنٹے کی مسافت طے کر کے سکول میں وہ سارا دن سوچتا ہے کہ واپس کیسے جائیں گے۔ واپسی پر یہ بچے اکثر ٹرک میں جاتے ہیں۔
تین بجے سکول ختم ہونے کے بعد شام کے وقت اجیت اپنی بہن کے ساتھ واپس اپنے گھر پہنچ جاتا ہے۔ کھانا وانا کھا کے وہ چاہتا ہے کہ پڑھے مگر وہ بہت تھکا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ سو جاتا ہے کیوں کہ اگلے دن پھر اسی طرح دشوار راستوں سے سکول بھی جانا ہوتا ہے۔
پاکستان کا رہائشی منا جس کی عمر تقریباً چار سال ہے۔ والدین اس کو سکول کے لیے اٹھاتے ہیں۔ یہ پہلے اٹھتا نہیں مگر جب اٹھتا ہے تو نخرے کرتا ہے۔ رونے لگتا ہے۔ ایک ہنگامہ برپا کر دیتا ہے۔ یہ منا صرف ایک نہیں بلکہ پاکستان کے تمام بچے منے کے ہم خیال ہیں۔ ان کی عمر چار سال سے پندرہ سال تک ہوتی ہے۔ یہ صبح سویرے اٹھتے ہیں اور بے شمار بہانے بناتے ہیں سکول نہ جانے کے لیے۔ مگر ان کے والدین ڈٹے رہتے ہیں۔ آخرکار منا سکول جاتا ہے۔ وہاں کی تعلیمی نظام سے مستفید ہو کر بھاری بھرکم بستے کے ساتھ واپس اپنے گھر آتا ہے اور کتابوں کا یہ دستہ ایک طرف پھینک کر کھانا وانا کھا کر موبائل، ٹی وی یا غیر ضروری خرافاتی آلات میں مصروف ہوجاتا ہے۔ صبح پھر وہی نخروں سے اٹھتا ہے اور بنا کھولے بستے سمیت سکول جاتا ہے۔
بہت سے بچے ایسے بھی ہیں جو واقعی میں سنجیدہ ہیں پڑھائی کے معاملے میں مگر بدقسمتی سے ان کی تعداد کم ہے۔ دیہاتی علاقوں میں بعض بچوں کے گھر ٹیکنالوجی نہیں ہے مگر وہ باہر کھیل کود میں اپنا وقت گزار دیتے ہیں۔ جو صحت کے لیے ضروری بھی ہے مگر کم مقدار میں۔ واپس آ کر یہ بچے اتنے تھکے ہوتے ہیں کہ پھر ان سے پڑھائی نہیں ہوتی۔
میرا چھوٹا بھائی دن رات پب جی میں لگا رہتا ہے اور بارڈر پر پاکستان کی خدمت کر رہا ہوتا ہے۔ اب اسے اتنی فرصت نہیں کہ کسی کا حال احوال پوچھے۔ کوئی اگر اسے گیم کے دوران تنگ کرے تو اس کی خیر نہیں۔ دروازے پر اگر گھنٹی بجتی ہو اور موصوف اس دوران گیم میں مصروف ہو تو گھر کا بڑا ہی دروازہ کھولے گا۔
ہمارا تعلیمی نظام کسی حد تک خراب بھی ہے۔ مجھے یاد ہے ہمارے ایک استاد ہم سے رٹے لگواتے اور جب ٹیسٹ دیتے تو ساتھ یہ بھی کہتے کہ اگر اس میں کا ، کی، کے کی غلطی بھی ہوئی تو ڈنڈے پڑیں گے۔
ایک استاد نے ہم سے کہا تھا کہ میں یہ جو مارپیٹ کر رہا ہوں۔ یہ آپ کی بھلائی کے لیے ہے۔ کل کو آپ کامیاب ہو کر مجھے دعائیں دیں گے۔ دعا تو چھوڑیے مجھے اس کا نام بھی یاد نہیں۔ جب کہ اس کے مقابلے میں وہ اساتذہ مجھے یاد ہیں۔ جنھوں نے پیار محبت سے پڑھایا تھا۔
ایک دفعہ استاد نے پورے کلاس کو چیلنج کیا کہ اگر کسی کی نوٹ بک میں ایک بھی غلطی نہ ہوئی تو میں اپنی گاڑی اس کے حوالے کردوں گا۔ یہ سن کر میں پوری رات جاگا اور نوٹ بک کو دلہن کی طرح سجا دیا اور اسلوب میں ایک غلطی کی گنجائش بھی نہ چھوڑی۔ صبح استاد محترم نے سب کے سامنے گاڑی کی چابی پکڑا دی اور میں پر امید تھا۔ چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ اس میں کسی قسم کی غلطی کی گنجائش نہیں۔ موصوف کے پاس دوسرا راستہ نہ بچا تو آخر کار اس نے زبر، زیر، پیش کی غلطیاں نکالی اور میں دس لاکھ کی گاڑی اعراب کی وجہ سے ہار گیا۔ خیر یہ تو ایک مضحکہ خیز بات تھی۔
بات میں یہ کر رہا تھا کہ ہم لوگ انہی باتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ باہر کے ممالک میں بچوں کو بچپن سے ہی تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا جاتا ہے۔ پریکٹیکل ان کو سمجھایا جاتا ہے۔ وہ بچے ریسرچ کرتے ہیں اور آخر میں پوری دنیا پر راج کرتے ہیں۔ جب کہ پاکستانی بچے مارپیٹ، رٹے، گیمنگ، سوشل میڈیا اور دوسرے خرافات میں لگے رہتے ہیں۔ مختصراً میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے بچے پڑھتے نہیں۔ ہمارے بچے کنویں کے مینڈک ہیں۔


