پیار کی چنگاری
موسم نے ایک بار پھر انگڑائی لی ہے، موسم خزاں شروع، پیڑوں کے پتے بہار اور گرمی میں اپنی تمام تر رعنائیاں دکھانے کے بعد مختلف رنگوں میں تبدیل ہو کر پھر اپنی اپنی ٹہنیوں سے آئندہ بہار کی آمد تک پھر سے ملن اور وصل کے وعدہ کے بعد جدا، الوداع۔ شاہد یہ پیڑ بھی پکار پکار کے کہہ رہے ہوں، ”ہم تم سے جدا ہو کے مر جائیں گے رو رو کے۔“
1986 کے اوائل میں میں شکاگو سے مشی گن مقیم ہو گیا۔ اللہ نے جس مٹی جس سرزمین سے رزق لکھا ہو، جس مٹی میں پیوند خاک ہونا لکھا ہو وہاں پہنچا دیتا ہے۔ موسم بہار کا بگل بج چکا، ہم دونوں اپنے شہر سے چند میل دوری پر ایک مضافاتی ٹاؤن کی طرف جا رہے ہیں۔ ہر سو نئے پتوں کی ہریالی، رنگ برنگے پھول، فضا میں خوشی کے ترانے گاتے پکھیرو، طویل سردی اور برف باری کے بعد گھروں کے مکین اپنے اپنے لان کی نوک پلک سنوارنے میں مصروف۔ کوئی خزاں میں گرے سوکھے پتے اٹھا رہا ہے، تو کوئی جھاڑیوں اور پودوں کی تراش خراش میں مگن، کوئی گھاس کاٹ رہا ہے۔ گویا آمد بہار سے زندگی کی رونق عود آئی ہے۔ سنو سجنا پپیہے نے کہا سب سے پکار کے، سنبھل جاؤ چمن والو کہ آئے دن بہار کے۔
ہماری منزل ”چاچا“ کی رہائش گاہ تھی جو کہ ایک وسیع و عریض رقبہ ایک قدیم طرز تعمیر کا شاندار دو منزلہ مکان تھا۔ وہاں پہنچ کر گمان ہوا کہ پاکستان کے کسی خوبصورت گاؤں میں کسی وڈیرے کی حویلی میں آ گئے ہیں۔ گھر کے باہر دیسی مرغیاں دانہ دنکا چن رہی تھیں، دو خوبصورت بکریاں اپنی موج مستی میں گھاس چر رہی تھیں۔ گھر کے عقبی حصہ میں پارکنگ کا انتظام تھا۔ ہم نے پارکنگ والی جگہ پرکار پارک کی۔ پارکنگ کے ساتھ ہی وسیع رقبہ پر کھیتی باڑی بھی کر رکھی تھی جس میں ٹماٹر، ہری مرچ، کدو، خربوزہ، تربوز، وغیرہ کاشت کر رکھی تھیں۔
چاچا اور بے بے ( چاچا کی بیگم کو سب ”بے بے“ کہہ کر مخاطب کرتے تھے ) نے دروازے پر بہت پیار اور محبت سے ہمارا استقبال کیا۔ بے بے نے مادری شفقت کے روایتی انداز میں میرے سر پر دست شفقت رکھا۔ دعاؤں سے نوازا، میری بیگم کو گلے سے لگایا، اور چاچا نے روایتی انداز سے مجھے گلے لگا کر خیر مقدم کیا۔ چاچا ایک دراز قد خوبصورت جسامت عمر پچاس سے کم لگ رہی تھی جبکہ بے بے چہرے سے کچھ عمر رسیدہ لگ رہی تھی۔ امریکا میں اپنے دیسی روایتی کلچر کو دیکھ ایک گوناں خوشی اور طمانیت کا احساس ہوا۔
ہم دونوں میزبانوں کی ہمراہی میں گھر کے اندر داخل ہوئے اور مہمانوں کے روایتی کمرے کی بجائے جہاں اہل خانہ نشست و برخاست رکھتے ہیں وہیں بٹھایا گیا۔ یہ کمرہ سادگی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ نہ کوئی تصنع نہ بناوٹ نہ دکھاوا۔ کمرے کے دونوں جانب صوفے لگے ہوئے تھے اور چار کرسیاں رکھی تھیں۔ ہم دونوں ایک صوفے پر بیٹھ گئے۔
چاچا سے بہت جلد پنجاب کی روایتی بے تکلفی میں گفتگو شروع ہو گئی۔ اسی دوران بے بے گڑ کی بنی دودھ پتی والی ذائقہ دار چائے بنا کر لے آئی۔ باوجود کہ میں چائے نہیں پیتا لیکن چائے کی رنگت اور مہک سے بے بے کا خلوص اور اپنائیت چاہے سے زیادہ خوشگوار اور ایسے میں انکار بہت دشوار ہو گیا۔ باتوں میں وقت کتنے کا احساس بھی نہ ہو سکا۔ ہم نے جانے کی اجازت طلب کی تو بڑے پیار سے جھٹک دی گئی کہ لنچ کا وقت ہو رہا تھا۔ بغیر کھانے کے جانے دینا چاچا کی ڈکشنری میں نہیں تھا۔
فرشی دسترخوان سجا دیا گیا۔ بے بے کا بڑا بیٹا، بہو، بڑی بیٹی اور دونوں چھوٹی بیٹیاں بھی کھانے میں شامل ہو گئیں۔ بے بے نے گندلوں کا ساگ چنے کی دال کے ساتھ بنایا ہوا تھا، ساتھ میں کریلے کی سبزی اور بے بے کی ہاتھ کی تندوری روٹیاں۔ کھانے کی سوندھی مہک سے پنجاب کی یاد آ گئی۔ ساگ کھا کر اپنی ماں کی یاد قدرتی امر تھا۔ ہم نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا اور اس کے بعد سبز قہوہ۔ ہم نے اپنے میزبانوں کا دل سے شکریہ ادا کیا اور اپنے گھر کو لوٹ آئے۔ یہ دعوت شیراز مدتوں یاد رہے گی۔
وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا، گرمیوں میں چاچا کے گھر چکر لگ جاتا تھا۔ اسی اثنا میں ہمارے بچے بھی بڑے ہو گئے، اور چاچا کی بیٹیوں کی بھی شادی ہو گئی۔ اور پھر ایک دن اچانک یہ خبر ملی کہ چا چا نے بے بے کو طلاق دے دی۔ بڑھاپے میں جب ایک دوسرے کا ساتھ ضرورت سے بھی زیادہ ضروری ہوتا ہے ان کی طلاق سمجھ سے بالا تر تھی۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ان میں جدائی ہو گئی ہے۔
میری بیگم ہماری شادی سے پہلے سے ہی اپنی فیملی کی وجہ سے چاچا اور بے بے کے گھرانے سے واقفیت رکھتی تھی۔ میری بیگم نے بتانا شروع کیا۔
ہوا یوں کہ بے بے چاچا کی بڑی بھاوج تھی۔ یہ لوگ کوہاٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہائشی تھے۔ تھوڑی بہت زمین تھی۔ بہت اچھی گزر بسر ہو رہی تھی۔ گھر خوشیوں کا گہوارہ تھا۔ بے بے کا ایک بیٹا اور بیٹی جس سے گھر میں خوب رونق رہتی تھی۔ اور پھر ایک دن اس گھر کی خوشیوں کو نظر لگ گئی۔ چاچا کے بڑے بھائی کا اچانک انتقال ہو گیا۔ گھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ موت بڑی بے رحم، نہ عمر دیکھتی ہے نہ گھر نہ حالات۔ بے بے جوانی میں بیوہ ہو گئی تھی، اور دو چھوٹے بچوں کا ساتھ تھا۔
بے بے کی زندگی میں اندھیرا چھا چکا تھا۔ پہاڑ جیسی زندگی۔ گھر کے بڑے مل بیٹھے اور بے بے کے مستقبل کے بارے میں سوچ بچار شروع ہو چکی تھی۔ بہت سوچ بچار کے بعد بڑے اس نتیجہ پر پہنچے کے چاچا کا نکاح بے بے سے عدت کے بعد کر دیا جائے۔ دو چھوٹے بچے بھی تھے، کوئی دوسرا بچوں کو کیسے اپناتا۔ ادھر چاچا نے پہلے تو اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کیا۔ چاچا کی منگنی گاؤں کی نیک بہت ہی خوبصورت لڑکی سے طے پا چکی تھی۔ چاچا بھی اپنی بھر جوانی میں تھا، ایک خوبرو جوان۔
دونوں میں بہت پیار بھی تھا، اکثر گاؤں کے گھنے پیڑوں تلے ملتے بھی تھے۔ لبوں پر پیار کے ترانے، آنکھوں میں سپنے سہانے، اک دوجے کے پیار میں دیوانے۔ اور جوانی کے دن مستانے۔ ایسے میں چاچا کا انکار بہت فطری تھا۔ اپنی منگیتر سے جدا ہونے کا چاچا نے خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا، اور دوسری طرف اس کی منگیتر کا بھی غم سے برا حال، جدائی کے تصور سے بے ہوشی کی حالت، ملن کے سپنوں کا خون، ارمانوں کا قتل۔ تقدیر پر کس کا زور چلتا ہے۔
چاچا کو بچوں کا مستقبل اور بھاوج کی پہاڑ جیسی زندگی۔ بادل نخواستہ چاچا کو اپنے ارمانوں کا خون کرنا پڑا، اپنے پیار کی قربانی دے کر بچوں اور بھاوج کو اپنا لیا۔ چاچا کی منگیتر پر تو جیسے بجلیاں کوند گئیں۔ نجانے کیسے کیسے سپنے، ارمان، سب غم کی اندھی اور صدمے کے سیلاب میں کہیں بہہ گئے۔ ادھورے خواب سوکھے پتوں کی طرح بکھر گئے۔
دھڑکتے دل کا تھا بس یہی ارمان ساجن سنگ بیتے ہر صبح ہر شام
ہائے مگر یہ کیسی گرم ہوا چلی جل گیا آشیاں مرجھا گئی ہر کلی
کیا خبر تھی کہ یوں بچھڑ جایں گے خواب سہانے یوں بکھر جایں گے
گلشن بہاروں میں یوں اجڑ جایں گے سوکھے پتوں کی طرح یوں بکھر جایں گے
نہیں کسی کا دوش جب روٹھی تقدیر سچے تھے خواب مگر تھی جھوٹی تعبیر
محبت ہے یہاں کس کو آئی ہے راس کرتی ہے بیان طارق تربت رانجھا و ہیر
اس دوران کسی طرح چاچا کو امریکہ کا ویزہ مل گیا اور مشی گن میں فورڈ موٹر کمپنی میں نوکری مل گئی۔ پھر بیوی اور بچے بھی امریکہ آ گئے۔ وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا۔ اور پھر اچانک چاچا اور بے بے کی طلاق کی افسوس ناک خبر ملی۔
چاچا کی منگیتر کی شادی گاؤں میں کسی اور سے ہو گئی۔ دل میں چاچا کا پیار بسائے کسی اور کی شریک حیات بن گئی تھی۔ پیار کی چنگاری بھلا کب بجھتی ہے وہ بھی پہلے پیار کی۔
کس دن سے یہ کہتے ہو تمہیں دل سے بھلا دوں ہر روز تو یہ دنیا بسائی نہیں جاتی۔
اب حسن اتفاق کہ چاچا کی پہلی منگیتر کے شوہر کا امریکا کا ویزہ لگ گیا اور وہ بھی اپنی بیگم کو لے کر مشی گن میں ہی مقیم ہو گیا۔ چاچا کو بھی پتہ چل گیا کہ اس کی سابقہ منگیتر اسی شہر میں ہے، اور سابقہ منگیتر پہلے سے جانتی تھی کہ اس کا سابقہ منگیتر اسی شہر میں۔ کسی نہ کسی طرح دونوں کی ملاقات ہو گئی۔ اور پیار کی دبی چنگاری پھر سے سلگ اٹھی۔ دونوں نے ایک ہو جانے کا فیصلہ کر لیا۔ کئی سال بیت جانے کے باوجود دلوں میں پیار کا شعلہ بجھ نہ سکا، اک چنگاری بن کر سلگتا رہا۔ سابقہ منگیتر نے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر دیا، اور چاچا نے بڑھاپے میں بے بے کو طلاق دے دی۔ اور یوں دونوں رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔
کب کے بچھڑے کہاں آ کے ملے
بے بے طلاق کا غم برداشت نہ کر سکی اور اپنے سابقہ شوہر سے جا ملی۔ ایک طرف دو بچھڑی روحوں کا ملاپ ہو چکا تھا۔ دوسری طرف دو پیار کرنے والے دلوں کا ملاپ۔
اور پھر کچھ عرصہ بعد چاچا کے انتقال کی افسوس ناک خبر ملی۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
سوچا تھا کیا کیا ہو گیا
شاید دو پیار کرنے والوں کی ملاپ کی عمر بہت ہی مختصر
زندگی کیسی ہے پہیلی


