انڈیا کا تین دہائی پرانا سیکس سکینڈل، جس میں لڑکیوں کو ’شادی کا لالچ‘ دے کر ان کی برہنہ ویڈیوز بنائی گئیں

روہن جوشی - بی بی سی مراٹھی


انڈیا
’جلگاؤں سیکس سکینڈل‘ 1990 کی دھائی میں سامنے آنے والا ایک ایسا سنسنی خیز واقعہ تھا، جس نے نہ صرف انڈیا کی ریاست مہاراشٹر بلکہ پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔

چونکہ اُس وقت جلگاؤں مہاراشٹر کا کوئی بڑا یا مرکزی شہر تو نہیں تھا مگر وہاں کا سماجی ماحول کچھ مختلف ضرور تھا۔ لہذا تفتیشی افسر اور متاثرین کو اس معاملے کو سامنے لانے اور قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بہت جدوجہد کرنا پڑی۔

سابق آئی پی ایس افسر میرا بورونکر نے اپنی سوانح حیات ’میڈم کمشنر‘ میں اس واقعے کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔

میرا بورونکر کا شمار مہاراشٹر کے سب سے طاقتور پولیس افسران میں ہوتا ہے۔ ’جلگاؤں سیکس سکینڈل‘ ان کے کیریئر کا ایک بہت اہم واقعہ تھا۔

میرا بورونکر کی سوانح حیات میں ’جلگاؤں سیکس سکینڈل‘ پر خاص طور پر ایک باب موجود ہے۔ اجیت پوار اس معاملے کے چیف انویسٹیگیشن افسر تھے۔ یہ معاملہ مہاراشٹر کے لوگوں پر گہرے نقوش چھوڑنے والا تھا۔

’ڈی جی پی کی براہ راست کال‘

1994 میں میرا بورونکر پونے کے کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ میں کام کر رہی تھیں۔ ایک بار جب وہ اپنے دفتر میں بیٹھیں تھیں تو انھیں اس وقت کے ڈی جی پی شیوراج راؤ باروارکر کا فون آیا۔ میرا اس وقت جونیئر پولیس افسر تھیں۔ لہذا وہ اس حقیقت سے حیران تھیں کہ ڈی جی پی نے انھیں براہ راست نہ صرف فون کیا بلکہ بلاوا بھی بھیجا۔

باروارکر نے میرا بورونکر کو فوری طور پر جلگاؤں پہنچنے کی ہدایت کی۔ اس وقت انھیں اندازہ نہیں تھا کہ انھیں وہاں ایک سال تک رہنا پڑے گا۔

جولائی 1994 میں جلگاؤں میں انسانی سمگلنگ، عصمت دری اور جنسی ہراسانی کے بڑھتے واقعات پر بے پناہ شور مچا ہوا تھا۔ عالم یہ تھا کہ اُس وقت اُس قصبے میں نابالغوں سمیت بہت سی خواتین کو نشہ دیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اُن کی عصمت دری کی گئی۔

اس وقت اندازہ لگایا گیا تھا کہ اس واقعے میں 100 سے زائد لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جب یہ معاملہ اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے منظر عام پر آیا تو پورا جلگاؤں اس انکشاف سے لرز اٹھا۔

اس وقت کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اروند انعام دار اس معاملے سے متعلق ہونے والی تحقیقات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔

ڈی جی پی شیوراج راؤ باروارکر نے اس معاملے کی جانچ میرا بورونکر کو سونپنے کا فیصلہ کیا۔

تفتیش کی ابتدا اور علاقے میں نئے افسر کی تعیناتی

میرا بورونکر جب جلگاؤں پہنچیں تو ایسا لگا جیسے پورا شہر سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ان واقعات کی روک تھام اور قصورراروں کو سخت سزا دلوانے اور مظلوموں کو حق دلوانے کے لیے سراپا احتجاج تھی۔

مہاراشٹر حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے خواتین افسروں کی ایک کمیٹی تشکیل دی۔ ان میں لینا مہندلے، چندرا آئنگر اور میرا بورونکر بھی شامل تھیں۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ خبروں میں دکھائے گئے واقعات سچ ہیں اور اس واقعے کا شکار ہونے والی خواتین آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے نہایت ہمت کے ساتھ اپنے اُوپر ہونے والے ظلم کو بیان کرنے کے لیے آگے آرہی ہیں۔

بی بی سی مراٹھی نے یہ سارا معاملہ سمجھنے اور اُس وقت ہوا کیا تھا یہ جاننے کے لیے اُس کمیٹی کی اُس وقت کی چیئرمین لینا مہندلے سے بات کی۔ اس وقت وہ مرکز میں ڈیپوٹیشن پر تھیں اور اُن کا ناسک میں ڈویژنل کمشنر کے طور پر تبادلہ کیا گیا تھا۔

لینا مہندلے کہتی ہیں کہ ناسک پہنچنے کے بعد وہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے جلگاؤں پہنچی۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’اس گینگ میں کل چھ لوگ شامل تھے۔ بہت سی خواتین ہراسانی کے اس جال میں پھنس چُکی تھیں۔ لہٰذا ہمارا سب سے پہلا اور بنیادی کام یہ تھا کہ ہم ان خواتین کو اُن کے چُنگل سے آزاد کروا کر انھیں ذہنی طور پر پُر سکون کرنے کی کوشش کریں۔ تاہم اُن میں سے کچھ کو اس بات کا خدشہ تھا کہ جب یہ واقعہ سامنے آئے گا تو ان کی شناخت ظاہر ہوجائے گی۔ اس لیے ہمارے لیے ان کی عزت نفس کا خیال رکھنا بھی ضروری تھا۔‘

اس وقت کے اے ڈی جی پی اروند انعام دار بھی جلگاؤں پہنچے۔ وہاں انھوں نے شہریوں اور پولیس حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں اُنھیں اعتماد میں لیا تاہم افواہوں کی وجہ سے ایک تو کوئی متاثرہ شخص سامنے نہیں آرہا تھا اور دوسرا کیس کا مرکزی ملزم بھی مفرور تھا۔

اس وقت جلگاؤں میں خواتین پولیس افسروں کی تعداد بہت کم تھی۔ اس لیے آس پاس کے اضلاع سے خواتین افسروں کو مدد کے لیے بلایا گیا یا مجبور کیا گیا۔

انعام دار نے بورونکر سے کہا کہ وہ شہر سے باہر قیام کریں اور اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ زندہ بچ جانے والی خواتین ان کے پاس اپنی تکلیف کے بارے میں بات کرنے کے لیے شہر سے باہر جانے میں آسانی محسوس کریں اور بورونکر نے شہر سے باہر رہنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر کوئی متاثرہ خاتون اُن کے پاس اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بتایا چاہے تو وہ ملزم کی نظروں سے اوجھل رہ کر آسانی اور اطمینان کے ساتھ یہ کام کر سکیں۔

اس وجہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے میرا بورونکر نے شہر سے باہر رہنا شروع کر دیا۔ ان کے ساتھ ان کا ایک سال کا بیٹا بھی تھا تاہم ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس سے بہت فائدہ ہوا۔

انڈیا

تحقیقات میں حائل رکاوٹیں، مشکلات اور ’خط‘ سامنے آ گیا

ایک ایک کر کے اس پیچیدہ کیس کی کڑیاں ملتی گئیں اور اُلجھی ہوئی گُتھیاں سُلجھتی چلی گئیں۔

بورونکر اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ’آہستہ آہستہ لڑکیاں ہمارے پاس آنے لگیں۔ وہ بھری آنکھوں اور نم لہجے کے ساتھ اپنے اُوپر ہونے والے مظالم کی داستان سُناتیں۔ کچھ تو ایسی تھیں جو سُنانے تو اپنے غم آتیں تھیں مگر دل ہلکا ہو جانے کے بعد وہ میرے بیٹے کے ساتھ گھنٹوں تک کھیلتیں تھیں تاہم جو بات ان سب میں سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی وہ یہ کہ انھوں نے اس سلسلے میں مقدمہ درج کروانے سے انکار کر دیا۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ یہ لڑکیاں ہمارے ساتھ کھانا بھی کھاتیں تھیں اور ہنستی تھیں لیکن زیادہ تر کی ہمارے سے ملاقات آنسوں سے بھری ہوتی تھی۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’یہ لڑکیاں ہمیشہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتی تھیں۔ ایک عجیب سی نہ سمجھ میں آنے والی کیفیت یا الجھن کا شکار رہتی تھیں۔ کچھ عرصے بعد کچھ لڑکیوں نے مقدمہ درج کرانے پر آمادگی ظاہر کی لیکن پھر ان کے گھر والوں نے انکار کر دیا۔‘

ایک دن، بورونکر کو پاس کے ایک گاؤں کی ایک لڑکی کا خط ملا۔ انھوں نے لکھا کہ ’آپ نے میری برہنہ تصاویر اور ویڈیوز ضرور دیکھی ہوں گی۔ اب چونکہ میں شادی شدہ ہوں لہذا پولیس کو مجھ سے رابطہ نہیں کرنا چاہیے۔‘

متاثرہ خاتون نے اپنے اُس خط میں لکھا کہ ’اگر پولیس نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو وہ خودکشی کر لیں گی۔‘

تب بورونکر پر یہ بات مزید واضح ہو کر سامنے آئی کہ اس سارے معاملے میں بچ جانے والی خواتین کس ذہنی اذیت سے گُزر رہیں ہیں۔

اس معاملے میں سابق ایم ایل اے کے بیٹے سنجے پوار اور کارپوریٹر راجو تڈوائی اور پنڈت سپکلے کے خلاف وقتا فوقتا مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن جیسے ہی انھیں پولیس کی کارروائی کا احساس ہوا سبھی فرار ہو گئے۔

ملزموں کا سراغ لگانے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ پولیس نے اس کام کے لیے ضلع بھر میں تلاشی لی۔ اس گروہ کے ماسٹر مائنڈ پنڈت سپل کو آخر کار گجرات سے گرفتار کر لیا گیا۔

کمرہ نمبر 206، تروپتی ہوٹل، جلگاؤں

بورونکر کی سوانح حیات میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ’اس کے علاوہ اس گینگ کے ارکان طلبا کو پھنسانے کے لیے آس پاس کے کالجوں میں داخلہ لیتے تھے۔ یہ امیر اور سیاسی لوگ شادی کے نام پر لڑکیوں کو لالچ دیتے تھے۔ جس کے بعد ان کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرتے، ان کی ویڈیوز بناتے اور لڑکیوں کو بلیک میل کیا کرتے تھے۔‘

اس وقت پولیس کو شک تھا کہ یہ ویڈیو آس پاس کے اضلاع میں بھی فروخت ہوئیں۔ اس کام کے لیے جلگاؤں کے تروپتی ہوٹل کا ’کمرہ نمبر 206‘ استعمال کیا گیا تھا۔ اس کمرے میں ایک خفیہ کیمرہ نصب تھا۔

کتاب میں لکھا ہے کہ ایک بار جب لڑکی ان کے جال میں پھنس جاتی تو ملزم لڑکی کو اس کے دوستوں کے ساتھ بھی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرتے۔ نوجوان لڑکیاں اُن کے دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیتیں تاکہ ان کے والدین کو اس بات کا علم نہ ہو۔

’اس سب سے تنگ آکر، تین لڑکیوں نے آخر کار پولیس میں شکایت درج کرائی۔ انھوں نے اس بارے میں بات کی کہ وہ کس طرح ان افراد کے امیر ہونے سے متاثر ہوئیں، جس کی انھیں بھاری قیمت چکانی پڑی۔ یہ لوگ شہر میں بہت بڑے اور بااثر عہدوں پر فائز تھے۔

معاملہ عدالت میں پہنچ گیا

اروند انعام دار نے اس معاملے کے لیے حکومت کی طرف سے ایک اچھا وکیل رکھنے کی کوشش کی۔ انھوں نے ممبئی سے ایک ماہر وکیل کو بلایا لیکن وہ ایک بہت ہی نظم و ضبط والے شخص تھے۔ تفتیشی افسران کے ساتھ ان کے اختلافات تھے۔ تمام افسران نے ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کی وجہ سے اروند انعام دار بہت پریشان ہوئے۔ بعد ازاں اس کیس میں ایک اور ماہر وکیل مقرر کیے گئے۔

بورونکر نے کہا کہ ’یہ بھی ایک بڑا چیلنج تھا جہاں اس معاملے میں ٹرائل کو آگے بڑھایا جائے۔‘

مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے یہ خدشہ تھا کہ ملزم کو فوری طور پر ضمانت مل جائے گی اور پھر متاثرین کو دوبارہ بلیک میل کیا جائے گا۔

اس لیے اس معاملے کے لیے پونے میں ایک خصوصی عدالت قائم کی گئی اور مردولا بھاٹکر کو اس میں جج مقرر کیا گیا۔

جب کیس میں عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو پہلے دو شکایت کنندگان نے اپنی شکایات واپس لے لیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ شکایت کنندگان نے پولیس پر مقدمہ درج کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا۔ اس سے اس معاملے میں سرکاری پارٹی کو شدید دھچکہ لگا۔

مقدمے کی عدالتی کارروائی میں ایک واقعہ بھی پیش آیا جب زندہ بچ جانے والی ایک لڑکی کی ماں کو گواہی دینی تھی۔

وکلا نے محسوس کیا کہ اگر ماں اس معاملے میں سچ بولتی ہے تو اس سے لڑکی کی ہمت بڑھے گی لیکن اس کے برعکس ہوا۔ اس سے لڑکی کو بہت غصہ آیا۔

ایسے چھ معاملے تھے جن میں ملزمان کو سزا دی گئی تھی لیکن سنہ 2000 میں اس معاملے کے مرکزی ملزم پنڈت سپکلے کی سزا کو خارج کر دیا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ان کے خلاف ثبوت قابل اعتبار نہیں۔

میرا بورونکر کی زندگی میں یہ کیس بہت اہم تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

سال 2018 میں میرا بورونکر ایک لیکچر کے لیے جلگاؤں پہنچی تھیں۔ یہ پروگرام ایک چھوٹے سے ہال میں منعقد ہوا۔ منتظمین نے انھیں بتایا کہ انھیں ایک اچھا بڑا ہال مل گیا ہے لیکن انھوں نے بکنگ منسوخ کر دی کیونکہ اس کا مالک جلگاؤں سیکس سکینڈل کا ملزم تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 31977 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments